سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ: السَّلْقِ
باب: میت پر رونا چلانا اور واویلا کرنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 1862
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ خَالِدٍ الْأَحْدَبِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، قَالَ: أُغْمِيَ عَلَى أَبِي مُوسَى فَبَكَوْا عَلَيْهِ، فَقَالَ: أَبْرَأُ إِلَيْكُمْ كَمَا بَرِئَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ حَلَقَ , وَلَا خَرَقَ , وَلَا سَلَقَ".
صفوان بن محرز کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری پر بے ہوشی طاری ہو گئی، لوگ ان پر رونے لگے، تو انہوں نے کہا: میں تم سے اپنی برات کا اظہار کرتا ہوں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ کہہ کر برات کا اظہار کیا تھا کہ جو سر منڈائے کپڑے پھاڑے، واویلا کرے ہم میں سے نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1862]
حضرت صفوان بن محرز رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بے ہوش ہو گئے تو گھر والے ان پر رونے لگ گئے۔ (ہوش میں آنے کے بعد) انہوں نے فرمایا: میں تمہارے اس فعل سے براءت کا اظہار کرتا ہوں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اس سے براءت فرمائی تھی: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں جو (مصیبت کے موقع پر) بال منڈوائے، کپڑے پھاڑے اور چیخ و پکار کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1862]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 44 (104)، (تحفة الأشراف: 9004)، سنن ابی داود/الجنائز 29 (3130)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 52 (1586)، مسند احمد 4/396، 404، 405، 416 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی مصیبت کے موقع پر سر منڈائے جیسے ہندو منڈواتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم