سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. بَابُ: غَسْلِ الْمَيِّتِ وَتْرًا
باب: میت کو طاق بار غسل دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1886
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا حَفْصَةُ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ , قَالَتْ: مَاتَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا، فَقَالَ:" اغْسِلْنَهَا بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ" وَمَشَطْنَاهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ وَأَلْقَيْنَاهَا مِنْ خَلْفِهَا.
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی انتقال کر گئیں، تو آپ نے ہمیں بلا بھیجا اور فرمایا: ”اسے پانی اور بیر کے پتوں سے غسل دینا، اور طاق بار یعنی تین بار، یا پانچ بار غسل دینا، اگر ضرورت سمجھو تو سات بار دینا، اور آخری بار تھوڑا کافور ملا لینا (اور) جب تم فارغ ہو چکو تو مجھے خبر کرنا“، تو جب ہم (نہلا کر) فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہبند ہماری طرف پھینکا، اور فرمایا: ”اسے (ان کے جسم پہ) لپیٹ دو“، (پھر) ہم نے ان کی تین چوٹیاں کیں، اور انہیں ان کے پیچھے ڈال دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1886]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی فوت ہو گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (غسل دینے کے لیے) بلا بھیجا، پھر فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دینا اور اسے تین مرتبہ یا اگر ضرورت محسوس کرو تو پانچ مرتبہ یا سات مرتبہ طاق دفعہ غسل دینا اور آخری دفعہ کچھ کافور بھی ڈال لینا، پھر جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع کرنا۔“ ہم جب فارغ ہوئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اپنا تہ بند پھینکا اور فرمایا: ”(کفن سے پہلے) اس کو اس میں لپیٹ دینا۔“ ہم نے ان کے بالوں کی تین مینڈھیاں کنگھی سے بنائیں اور ان کو ان کے پیچھے ڈال دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1886]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 17 (1263)، صحیح مسلم/الجنائز 12 (939)، سنن الترمذی/الجنائز 15 (990)، (تحفة الأشراف: 18135)، مسند احمد 6/407، 408 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه