🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

34. بَابُ: غَسْلِ الْمَيِّتِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعَةٍ
باب: میت کو سات بار سے زیادہ غسل دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1888
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا، فَقَالَ:" اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ , وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ" ‏.
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی کی وفات ہو گئی، تو آپ نے ہمیں بلوایا (اور) فرمایا: اسے پانی اور بیر (کے پتوں) سے تین یا پانچ بار غسل دو، یا اس سے زیادہ اگر مناسب سمجھو، اور آخری بار کچھ کافور یا کافور کی کچھ (مقدار) ملا لینا، اور جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر کرو۔ تو جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر کی، آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا: اسے (اس کے جسم سے) لپیٹ دو۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1888]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی وفات پا گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلا بھیجا اور فرمایا: اسے تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا اس سے زائد دفعہ، اگر ضرورت محسوس کرو، پانی اور بیری سے غسل دینا اور آخری دفعہ کافور ڈال دینا یا تھوڑا سا کافور (پانی میں) ملا لینا، پھر جب تم فارغ ہو تو مجھے اطلاع کرنا۔ جب ہم فارغ ہوئیں تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اپنا تہ بند پھینکا اور فرمایا: (کفن دینے سے پہلے) اس میں اس کو لپیٹ دینا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1888]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1882 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1889
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ:" ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ".
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، مگر (اس میں یہ الفاظ ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں تین بار یا پانچ بار یا سات بار غسل دو، یا اس سے زیادہ اگر اس کی ضرورت سمجھو۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1889]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے اس جیسی روایت آتی ہے مگر اس میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا سات مرتبہ یا اس سے زیادہ مرتبہ اگر تم ضرورت محسوس کرو تو غسل دو۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1889]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 9 (1254)، 13 (1258)، صحیح مسلم/الجنائز 12 (939)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 8 (1459)، (تحفة الأشراف: 18115) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1890
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ بَعْضِ إِخْوَتِهِ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: تُوُفِّيَتِ ابْنَةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنَا بِغَسْلِهَا، فَقَالَ:" اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ" , قَالَتْ: قُلْتُ: وِتْرًا، قَالَ:" نَعَمْ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَعْطَانَا حِقْوَهُ , وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ".
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی کی وفات ہو گئی، تو آپ نے مجھے انہیں نہلانے کا حکم دیا اور فرمایا: تین بار، یا پانچ بار، یا سات بار غسل دو، یا اس سے زیادہ اگر ضرورت سمجھو، تو میں نے کہا: طاق بار؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اور آخری مرتبہ کچھ کافور یا کافور کی کچھ مقدار ملا لو، (اور) جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے باخبر کرنا، چنانچہ جب ہم فارغ ہوئے، ہم نے آپ کو خبر کی تو آپ نے ہمیں اپنا تہبند دیا، اور فرمایا: اسے (اس کے جسم سے) لپیٹ دو۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1890]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی فوت ہو گئیں تو آپ نے ہمیں انھیں غسل دینے کا حکم دیا اور فرمایا: اسے تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا سات مرتبہ یا اس سے بھی زائد دفعہ، اگر ضرورت محسوس کرو تو غسل دینا۔ میں نے کہا: جی طاق؟ آپ نے فرمایا: ہاں، اور آخری دفعہ کافور ڈال لینا۔ یا کچھ کافور (پانی میں) ملا لینا، پھر جب فارغ ہونا تو مجھے اطلاع کرنا۔ جب ہم (غسل سے) فارغ ہو گئیں تو ہم نے آپ کو اطلاع کی۔ آپ نے اپنا تہ بند ہمیں دیا اور فرمایا: (سب سے پہلے) اسے اس میں لپیٹو۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1890]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18143) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں