🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

36. بَابُ: الإِشْعَارِ
باب: میت کے بدن پر کپڑا لپیٹنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1894
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ بْنُ أَبِي تَمِيمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ، يَقُولُ: كَانَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَدِمَتْ تُبَادِرُ ابْنًا لَهَا فَلَمْ تُدْرِكْهُ، حَدَّثَتْنَا، قَالَتْ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ فَقَالَ:" اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا أَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ" , وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ , قَالَ: لَا أَدْرِي أَيُّ بَنَاتِهِ , قَالَ: قُلْتُ: مَا قَوْلُهُ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ أَتُؤَزَّرُ بِهِ؟ قَالَ: لَا أُرَاهُ إِلَّا أَنْ يَقُولَ:" الْفُفْنَهَا فِيهِ".
محمد بن سیرین کہتے ہیں ام عطیہ رضی اللہ عنہا ایک انصاری عورت تھیں، وہ (بصرہ) آئیں، اپنے بیٹے سے جلد ملنا چاہ رہی تھیں لیکن وہ اسے نہیں پا سکیں، انہوں نے ہم سے حدیث بیان کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم آپ کی بیٹی کو غسل دے رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں پانی اور بیر (کی پتیوں) سے تین بار، یا پانچ بار غسل دو، یا اس سے زیادہ بار اگر ضرورت سمجھو، اور آخر میں کافور یا کافور کی کچھ مقدار ملا لینا (اور) جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتاؤ، تو جب ہم فارغ ہوئے تو آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا: اسے ان کے بدن پر لپیٹ دو، اور اس سے زیادہ نہیں فرمایا۔ (ایوب نے) کہا: میں نہیں جانتا کہ یہ آپ کی کون سی بیٹی تھی ں، راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا اشعار سے کیا مراد ہے؟ کیا ازار (تہبند) پہنانا مقصود ہے؟ ایوب نے کہا: میں یہی سمجھتا ہوں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اسے ان کے جسم پر لپیٹ دو۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1894]
حضرت ایوب بن ابی تمیمہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ کو کہتے ہوئے سنا کہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا جو کہ انصار میں سے تھیں، اپنے ایک بیٹے کی خبر لینے کے لیے آئی تھیں مگر اسے (زندہ) نہ پایا۔ انھوں نے بیان فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم آپ کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا اس سے زائد مرتبہ، اگر ضرورت سمجھو تو، پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور آخری مرتبہ کافور بھی ڈال دو یا تھوڑا سا کافور شامل کر دو۔ اور جب غسل سے فارغ ہو تو مجھے اطلاع کرنا۔ جب ہم فارغ ہوئیں (اور ہم نے آپ کو اطلاع کی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اپنا تہ بند پھینکا اور فرمایا: اسے اس میں لپیٹ دو۔ اس سے زائد کچھ نہ فرمایا۔ (راویٔ حدیث) ایوب نے کہا: میں نہیں جانتا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بیٹی تھیں؟ (راویٔ حدیث) ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے (ایوب بن ابی تیمیہ سے) پوچھا: آپ کے فرمان «أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ» اسے اس میں لپیٹ دو کا مطلب کیا ہے؟ کیا اسے اس کا ازار بنایا جائے گا؟ انہوں نے فرمایا: میرا خیال ہے آپ کا مطلب یہ تھا کہ اسے اس میں لپیٹ دو۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1894]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1882 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1895
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ النَّسَائِيُّ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: تُوُفِّيَ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ وَاغْسِلْنَهَا بِالسِّدْرِ وَالْمَاءِ , وَاجْعَلْنَ فِي آخِرِ ذَلِكِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي قَالَتْ: فَآذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ فَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ".
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کی موت ہو گئی تو آپ نے فرمایا: انہیں تین یا پانچ بار غسل دو، یا اس سے زیادہ اگر ضرورت سمجھو، اور انہیں بیر (کے پتوں) اور پانی سے غسل دو، اور کچھ کافور ملا لو، اور جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر کرو، وہ کہتی ہیں: میں نے آپ کو خبر کیا، تو آپ نے ہماری طرف اپنی لنگی پھینکی اور فرمایا: اسے (ان کے جسم سے) لپیٹ دو۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1895]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی فوت ہو گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا اس سے زائد مرتبہ، اگر ضرورت سمجھو تو، غسل دو۔ اور اسے پانی اور بیری (کے پتوں) سے غسل دو اور آخری مرتبہ کافور ڈال دو یا کچھ کافور ڈالو۔ جب تم فارغ ہو تو مجھے اطلاع کرنا۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہ بند ہماری طرف پھینکا اور فرمایا: اس کے بدن پر اسے لپیٹ دو۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1895]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 12 (1257)، (تحفة الأشراف: 18104) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں