🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

41. بَابُ: كَيْفَ يُكَفَّنُ الْمُحْرِمُ إِذَا مَاتَ
باب: محرم جب مر جائے تو اس کی تکفین کیسے کی جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1905
أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوا الْمُحْرِمَ فِي ثَوْبَيْهِ اللَّذَيْنِ أَحْرَمَ فِيهِمَا , وَاغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ , وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلَا تُمِسُّوهُ بِطِيبٍ , وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُحْرِمًا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محرم کو اس کے ان ہی دونوں کپڑوں میں غسل دو جن میں وہ احرام باندھے ہوئے تھا، اور اسے پانی اور بیر (کے پتوں) سے نہلاؤ، اور اسے اس کے دونوں کپڑوں ہی میں کفناؤ، نہ اسے خوشبو لگاؤ، اور نہ ہی اس کا سر ڈھکو، کیونکہ وہ قیامت کے دن احرام باندھے ہوئے اٹھے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1905]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محرم کو اس کے انہی دو کپڑوں میں غسل دو جن میں اس نے احرام باندھا تھا اور اسے پانی اور بیری (کے پتوں) سے غسل دو، اس کو انہی دو کپڑوں میں کفن دو اور اسے خوشبو نہ لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن احرام کی حالت میں اٹھایا جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1905]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 21 (1268)، وجزاء الصید 13 (1839)، 20 (1849)، 21 (1851)، صحیح مسلم/الحج 14 (1206)، سنن ابی داود/الجنائز 84 (3238، 3239)، سنن الترمذی/الحج 105 (951)، سنن ابن ماجہ/الحج 89 (3084)، (تحفة الأشراف: 5582)، مسند احمد 1/215، 220، 266، 286، 346، سنن الدارمی/المناسک 35 (1894)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 2715، 2861 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں