🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

43. بَابُ: الإِذْنِ بِالْجَنَازَةِ
باب: جنازہ کی خبر دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1908
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ مِسْكِينَةً مَرِضَتْ فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَرَضِهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ الْمَسَاكِينَ وَيَسْأَلُ عَنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا مَاتَتْ فَآذِنُونِي" , فَأُخْرِجَ بِجَنَازَتِهَا لَيْلًا وَكَرِهُوا أَنْ يُوقِظُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَ بِالَّذِي كَانَ مِنْهَا فَقَالَ:" أَلَمْ آمُرْكُمْ أَنْ تُؤْذِنُونِي بِهَا" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ لَيْلًا، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى صَفَّ بِالنَّاسِ عَلَى قَبْرِهَا وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ.
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک مسکین عورت بیمار ہو گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی بیماری کی خبر دی گئی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکینوں اور غریبوں کی بیمار پرسی کرتے اور ان کے بارے میں پوچھتے رہتے تھے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب یہ مر جائے تو مجھے خبر کرنا، رات میں اس کا جنازہ لے جایا گیا (تو) لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار کرنا مناسب نہ جانا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی تو (رات میں) جو کچھ ہوا تھا آپ کو اس کی خبر دی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے تمہیں حکم نہیں دیا تھا کہ مجھے اس کی خبر کرنا؟ تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو رات میں جگانا نا مناسب سمجھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اپنے صحابہ کے ساتھ) نکلے یہاں تک کہ اس کی قبر پہ لوگوں کی صف بندی ۱؎ کی اور چار تکبیریں کہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1908]
حضرت ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک مسکین عورت بیمار ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی بیماری کی خبر دی گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکین لوگوں کی بیمار پرسی اور خبر گیری فرمایا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب یہ فوت ہو جائے تو مجھے اطلاع کرنا۔ اس کا جنازہ رات کو لے جایا گیا اور صحابہ نے پسند نہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جگائیں۔ جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے کی خبر دی گئی۔ آپ نے فرمایا: میں نے تمھیں کہا نہیں تھا کہ مجھے اس کی اطلاع دینا؟ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے رات کے وقت آپ کو جگانا مناسب نہ سمجھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان کی طرف چلے اور اس کی قبر پر لوگوں کی صفیں بنائیں اور چار تکبیریں کہیں۔ (یعنی جنازہ پڑھا۔) [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1908]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 137)، موطا امام مالک/الجنائز 5 (15)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1971، 1983 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس میں قبر پر دوبارہ نماز پڑھنے کے جواز کی دلیل ہے، جو لوگ اس کے قائل نہیں ہیں وہ اسے اسی عورت کے ساتھ خاص مانتے ہیں لیکن یہ دعویٰ محتاج دلیل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں