سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
81. بَابُ: الْوُقُوفِ لِلْجَنَائِزِ
باب: جنازے کے لیے کھڑے ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2001
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ وَاقِدٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ ذُكِرَ الْقِيَامُ عَلَى الْجَنَازَةِ حَتَّى تُوضَعَ , فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ:" قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَعَدَ".
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان سے جنازے کے لیے جب تک رکھ نہ دیا جائے کھڑے رہنے کا ذکر کیا گیا، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (پہلے) کھڑے رہتے تھے پھر بیٹھنے لگے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2001]
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے جنازہ (زمین پر) رکھے جانے تک کھڑے رہنے کا ذکر کیا گیا تو حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”(پہلے) کھڑے رہتے تھے، مگر بعد میں بیٹھے رہتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2001]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 25 (962)، سنن ابی داود/الجنائز 47 (3175)، سنن الترمذی/الجنائز 52 (1044)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 35 (1544)، (تحفة الأشراف: 10276)، موطا امام مالک/الجنائز 11 (33)، حصحیح مسلم/82، 83، 131، 138 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2002
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيٍّ، قال:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَقُمْنَا وَرَأَيْنَاهُ قَعَدَ فَقَعَدْنَا".
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے دیکھا آپ کھڑے ہوئے تو ہم (بھی) کھڑے ہوئے، اور بیٹھتے دیکھا تو ہم (بھی) بیٹھنے لگے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2002]
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہوتے دیکھا تو ہم بھی کھڑے رہے، پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھے دیکھا تو ہم بھی بیٹھے رہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2002]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2003
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قال:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ وَلَمْ يُلْحَدْ فَجَلَسَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرَ".
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں نکلے، جب ہم قبر کے پاس پہنچے تو وہ تیار نہیں ہوئی تھی، چنانچہ آپ بیٹھ گئے تو ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے، گویا ہمارے سر پر پرندے بیٹھے ہوئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2003]
حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں گئے۔ جب ہم قبر کے پاس پہنچے تو (دیکھا کہ) قبر تیار نہیں ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور ہم آپ کے ارد گرد بیٹھ گئے (بغیر کسی حرکت و آواز کے) گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2003]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز 68 (3211، 3212)، والسنة 27 (4753، 4754)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 37 (1548)، (تحفة الأشراف: 1758)، مسند احمد 4/287، 288، 297، 295 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن