مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
674. حَدِيثُ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 18723
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ نُبَيْطٍ ، قَالَ: كَانَ أَبِي وَجَدِّي وَعَمِّي مع النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ" .
حضرت نبی ط رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا تھا " کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفہ کے دن اپنے سرخ اونٹ پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18723]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 18723
قَالَ: قَالَ سَلَمَةُ: قَالَ: قَالَ سَلَمَةُ: أَوْصَانِي أَبِي بِصلَاةِ السَّحَرِ، قُلْتُ: يَا أبةِ، إِنِّي لَا أُطِيقُهَا، قَالَ: " فَانْظُرْ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، فَلاَ تَدَعَنَّهُمَا، وَلَا تَشْخَصَنَّ فِي الْفِتْنَةِ" .
ترجمہ موجود نہیں [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18723]
حدیث نمبر: 18724
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا رَافِعُ بْنُ سَلَمَةَ يَعْنِي الْأَشْجَعِيَّ ، وَسَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ نُبَيْطٍ الْأَشْجَعِيُّ ، أَنَّ أَبَاهُ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ رِدْفًا خَلْفَ أَبِيهِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ. قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَبةَ، أَرِنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُمْ، فَخُذْ بِوَاسِطَةِ الرَّحْلِ، قَالَ: فَقُمْتُ، فَأَخَذْتُ بِوَاسِطَةِ الرَّحْلِ، فَقَالَ: انْظُرْ إِلَى صَاحِبِ الْجَمَلِ اْلأَحْمَرِ الَّذِي يُومِئُ بِيَدِهِ، فِي يَدِهِ الْقَضِيبُ" .
حضرت نبی ط رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر میں اپنے والد صاحب کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا میں نے اپنے والد صاحب سے کہا اباجان! مجھے دکھائیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کون سے ہیں؟ انہوں نے کہا کھڑے ہو کر کجاوے کو پکڑ لو چناچہ میں نے ایسا ہی کیا انہوں نے کہا کہ اس سرخ اونٹ والے کو دیکھو جو اپنے ہاتھ سے اشارے کررہا ہے اور اس کے ہاتھ میں چھڑی بھی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18724]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه
675. حَدِيثُ أَبِي كَاهِلٍ وَاسْمُهُ قَيْسٌ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 18725
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنْ أَبِي كَاهِلٍ ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ: قَدْ رَأَيْتُ أَبَا كَاهِلٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ عِيدٍ عَلَى نَاقَةٍ خَرْمَاءَ، وَحَبَشِيٌّ مُمْسِكٌ بِخِطَامِهَا" .
حضرت ابو کاہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسی اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا جس کا کان چھدا ہوا تھا اور ایک حبشی نے اس کی لگام تھام رکھی تھی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18725]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أخو إسماعيل بن خالد هو سعيد بن أبى خالد أو أشعث بن أبى خالد، وكلاهما مجهول الحال
676. حَدِيثُ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 18726
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " تَصَدَّقُوا، فَيُوشِكُ الرَّجُلُ يَمْشِي بِصَدَقَتِهِ، فَيَقُولُ الَّذِي أُعْطِيَهَا: لَوْ جِئْتَ بِهَا بِالْأَمْسِ، قَبِلْتُهَا، وَأَمَّا الْآنَ، فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهَا، فَلَا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا" .
حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے صدقہ خیرات کیا کرو، کیونکہ عنقریب ایسا وقت بھی آئے گا کہ ایک آدمی صدقہ کی چیز لے کر نکلے گا جسے دے گا وہ کہے گا کہ اگر تم یہ کل لے کر آئے ہوتے تو میں اسے قبول کرلیتا لیکن اب مجھے اس کی ضرورت نہیں رہی چناچہ اسے کوئی آدمی ایسا نہیں ملے گا جو اس کا صدقہ قبول کرلے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18726]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1411، م: 1011
حدیث نمبر: 18727
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ بِمِنًى أَكْثَرَ مَا كَانَ النَّاسُ وَآمَنَهُ رَكْعَتَيْنِ" .
حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے لوگوں کی کثرت اور امن کے زمانے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان منٰی میں ظہر اور عصر کی دو دو رکعتیں پڑھی ہیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18727]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1083، م: 696
حدیث نمبر: 18728
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أََلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعَّفٍ لَوْ يُقْسِمُ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ جَوَّاظٍ جَعْظَرِيٍّ مُسْتَكْبِرٍ" .
حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اہل جنت کے متعلق نہ بتاؤں؟ ہر وہ آدمی جو کمزور ہوا سے دبایا جاتا ہو لیکن اگر وہ اللہ کے نام کی قسم کھالے تو اللہ اس کی قسم کو پورا کردے کیا میں تمہیں اہل جہنم کے متعلق نہ بتاؤں؟ ہر وہ بدخلق آدمی جو کینہ پرور اور متکبر ہو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18728]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6071، م: 2853
حدیث نمبر: 18729
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَصَدَّقُوا، فَإِنَّهُ يُوشِكُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَخْرُجَ بِصَدَقَتِهِ فَلَا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا مِنْهُ" .
حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے صدقہ خیرات کیا کرو کیونکہ عنقریب ایساوقت بھی آئے گا کہ ایک آدمی صدقہ کی چیزلے کر نکلے گا لیکن اسے کوئی آدمی ایسا نہیں ملے گا جو اس کا صدقہ قبول کرلے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18729]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1411، م: 1011
حدیث نمبر: 18730
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ألَاَ أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعَّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأََبَرَّهُ، أَلَاَ أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ" .
حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اہل جنت کے متعلق نہ بتاؤں؟ ہر وہ آدمی جو کمزور ہوا سے دبایا جاتا ہو لیکن اگر وہ اللہ کے نام کی قسم کھالے تو اللہ اس کی قسم کو پورا کردے کیا میں تمہیں اہل جہنم کے متعلق نہ بتاؤں؟ ہر وہ بدخلق آدمی جو کینہ پرور اور متکبر ہو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18730]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6071، م: 2853
حدیث نمبر: 18731
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مَا كُنَّا وَآمَنَهُ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ" ..
حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے لوگوں کی کثرت اور امن زمانے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان منٰی میں ظہر اور عصر کی دو دو رکعتیں پڑھی ہیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18731]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1083، م: 696