مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
(احرام میں نکاح اور پیغام کی ممانعت کا حکم)
حدیث نمبر: 33
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نُبَيْهُ بْنُ وَهْبٍ الْحَجَبِيّ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُحْرِمُ لا يَنْكِحُ , وَلا يَخْطُبُ" .
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ابان اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”احرام والا شخص نکاح نہیں کر سکتا اور نکاح کا پیغام بھی نہیں بھیج سکتا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 33]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1409، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2649، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4123، 4124، 4125، 4126، 4127، 4128، 4139، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2842، 2843، 2844، 3275، 3276، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3811، 3812، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1841 والترمذي فى «جامعه» برقم: 840، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1864، 2244، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1966، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 9243، 9244، وأحمد فى «مسنده» برقم: 408، 469، 473، 499»
(احرام میں آنکھوں کے علاج کے لیے صبر کے لیپ کی ہدایت)
حدیث نمبر: 34
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، حَدَّثنا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نُبَيْهُ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: اشْتَكَى عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ عَيْنَيْهُ بِمَلَلٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ يَسْأَلُهُ بِأَيِّ شَيْءٍ يُعَالِجُهُ، فَقَالَ لَهُ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ: اضْمُدْهُمَا بِالصَّبِرِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يُخْبِرُ بِذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" يُضَمِّدُهَا بِالصَّبِرِ" .
نبیہ بن وہب بیان کرتے ہیں: ”ملل“ کے مقام پر عمر بن عبید اللہ کی آنکھیں دکھنے آگئیں وہ احرام باندھے ہوئے تھے۔ انہوں نے ابان بن عثمان کو پیغام بھیجا اور ان سے دریافت کیا: انہیں کس چیز کے ذریعے علاج کرنا چاہئے؟ تو ابان بن عثمان نے کہا: تم اس پر صبر (مخصوص قسم کی بوٹی) کا لیپ کرو، کیونکہ میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آدمی اس پر صبر (مخصوص قسم کی بوٹی) کا لیپ کرے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 34]
تخریج الحدیث: «إسناد صحيح، أخرجه ابن ابي شيبه برقم 109، وأحمد 68/1، ومسلم: 1204، والترمذي: 952، والنسائي: 143/5، والدارمي: 71/2»
(مقاعد پر تین مرتبہ وضو اور گناہوں کی مغفرت کی بشارت)
حدیث نمبر: 35
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ، قَالَ: تَوَضَّأَ عُثْمَانُ عَلَى الْمَقَاعِدِ ثَلاثًا ثَلاثًا، قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ رَجُلٍ يَتَوَضَّأُ، فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ , ثُمَّ يُصَلِّي، إِلا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلاةِ الأُخْرَى حَتَّى يُصَلِّيَهَا" .
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے غلام حمران بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ”مقاعد“ کے مقام پر تین، تین مرتبہ وضو کیا اور یہ بات بیان کی: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا، پھر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بتایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے، پھر نماز ادا کرے، تو اللہ تعالیٰ اس نماز اور اس کے بعد والی نماز، جب تک وہ اسے ادا نہیں کر لیتا، ان کے درمیان کے اس کے گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 35]
تخریج الحدیث: «إسناد صحيح، وأخرجه البخاري: 160، ومسلم: 227، وابن حبان فى صحيحه: 1041، عبدالرزاق: 141، والطيالسي: 48/1 برقم: 141، وأحمد: 57/1 والبغوي فى شرح السنة: 324/1 برقم: 152، وابن خزيمة 4/1 برقم: 2»
(منیٰ میں چار رکعات نماز اور مقیم کی نماز کا حکم)
حدیث نمبر: 36
حَدَّثنا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثنا عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى بِأَهْلِ مِنًى أَرْبَعًا، فَأَنْكَرَ النَّاسُ عَلَيْهِ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنِّي تَأَهَّلْتُ بِأَهْلِي بِهَا لَمَّا قَدِمْتُ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا تَأَهَّلَ الرَّجُلُ فِي بَلَدٍ، فَلْيُصَلِّ بِهِ صَلاةَ الْمُقِيمِ" .
ابن ابوذباب اپنے والد کے حوالے سے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: ان کے والد کہتے ہیں: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعات نماز پڑھائی تو لوگوں نے ان پر اعتراض کیا، تو وہ بولے: جب میں یہاں آیا تو میں نے اپنی بیوی کی وجہ سے اسے بھی اپنا وطن بنا لیا ہے، اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب آدمی کسی شہر میں شادی کر لے، تو اسے وہاں مقیم شخص کی سی نماز ادا کرنی چاہئے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 36]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف وقد فلصلنا الكلام فيه فى مجمع الزوائد برقم 2974»