🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
(نماز میں کنکریوں پر ہاتھ نہ پھیرنے کی ہدایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 128
حَدَّثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الأَحْوَصِ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلاةِ، فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُواجِهُهُ , فَلا يَمْسَحِ الْحَصَى" . قَالَ سُفْيَانُ: فَقَالَ لَهُ سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ: مَنْ أَبُو الأَحْوَصِ؟ كَالْمُغْضَبِ عَلَيْهِ حِينَ حَدَّثَ عَنْ رَجُلٍ مَجْهُولٍ لا يَعْرِفُهُ، فَقَالَ لَهُ الزُّهْرِيُّ: أَمَا تَعْرِفُ الشَّيْخَ مَوْلَى بَنِي غِفَارٍ الَّذِي كَانَ يُصَلِّي فِي الرَّوْضَةِ؟ وَجَعَلَ يَصِفُهُ لَهُ , وَسَعْدٌ لا يَعْرِفُهُ.
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو تو، رحمت اس کے مدمقابل ہوتی ہے، تو وہ کنکریوں پر ہاتھ نہ پھیرے۔ سفیان کہتے ہیں: سعد بن ابراہیم نے ان سے دریافت کیا: ابوالاحوص کون ہیں؟ گویا سعد نے زہری پر ناراضگی کا اظہار کیا، کہ انہوں نے ایک مجہول شخص کے حوالے سے حدیث بیان کی ہے، جس سے وہ واقف نہیں ہیں، تو زہری نے ان سے کہا: کیا آپ بنو غفار کے اس عمر رسیدہ غلام سے واقف نہیں ہیں؟ جو باغ میں نماز ادا کیا کرتا تھا، تو زہری اس کا تعارف بیان کرتے رہے، لیکن سعد بن ابراہیم اس کو نہیں پہچان سکے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 128]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده جيد، وأخرجه ابن حبان فى ”صحيحه“، برقم: 2273، 2274، وابن خزيمة فى ”صحيحه“ برقم: 913، 914، وأحمد فى ”مسنده“، برقم: 21725»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(جنت کی ہوا اور ازیب کی تیزی کی روایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 129
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ جُعْدُبَةَ اللَّيْثِيُّ , أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مِخْرَاقٍ يَحَدِّثُ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ فِي الْجَنَّةِ رِيحًا بَعْدَ الرِّيحِ بِسَبْعِ سِنِينَ، وَإِنَّ مِنْ دُونِهَا بَابًا مُغْلَقًا، وَإِنَّمَا يَأْتِيكُمُ الرِّيحُ مِنْ خَلَلِ ذَلِكَ الْبَابِ، وَلَوْ فُتِحَ لأَذْرَتْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ , وَهِيَ عِنْدَ اللَّهِ: الأَزْيَبُ، وَهِيَ فِيكُمُ: الْجَنُوبُ" .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: بے شک اللہ تعالیٰ نے جنت میں ہوا کو پیدا کرنے کے سات سال بعد جنت میں ایک بو پیدا کی ہے اس کے آگے ایک بند دروازہ ہے یہ ہوا تمہارے پاس اس دروازے میں موجود دروازے کے درمیان کشادہ جگہ سے آتی ہے۔ اگر اس دروازے کو کھول دیا جائے، تو یہ ہوا آسمان اور زمین میں موجود ہر چیز تک پہنچ جائے۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ازیب (یعنی تیزی سے چلنے والی ہوا) ہے۔ تمہارے درمیان یہ جنوب سے آنے والی ہوا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 129]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، يزيد ضعيف وعامة ما يرويه غير محفوظ،وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 6584، والبزار فى «مسنده» برقم: 4063، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 3429، 3429»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(جنت کے خزانے کی طرف لا حول ولا قوۃ کی ہدایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 130
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: قُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ بَرَكَةَ : هَلْ رَأَيْتَ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ الأَوْدِيَّ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، كَانَ يَنْزِلُ عَلَيْنَا، فَقُلْتُ: هَلْ سَمِعْتَ مِنْهُ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ: كُنْتُ أَمْشِي خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي:" يَا أَبَا ذَرٍّ , أَلا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟" , فَقُلْتُ: بَلَى! يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ" .
عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلتا ہوا جا رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابوذر! کیا میں تمہاری رہنمائی جنت کے خزانے کی طرف نہ کروں؟ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ یہ ہے «لا حول ولا قوة إلا بالله» اللہ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 130]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن حبان فى ”صحيحه“ برقم: 361، 449، 820،وأحمد فى ”مسنده“، برقم: 21693»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(فضیلت والے عمل اور غلام کی مدد کی روایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 131
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" إِيمَانُ بِاللَّهِ , وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ"، قَالَ: قُلْتُ: فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" أَغْلاهَا أَثْمَانًا وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا"، قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَقْدِرْ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ:" فَتُعِينُ صَانِعًا , أَوْ تَصْنَعُ لأَخْرَقَ"، قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ ذَلِكَ؟ قَالَ:" فَتَكُفُّ أَذَاكَ عَنِ النَّاسِ فَإِنَّهَا صَدَقَةُ تَصَّدَّقُ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ" .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: کون سا غلام زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی قیمت زیادہ ہو جو اپنے مالک کے نزدیک عمدہ ہو۔ میں نے عرض کی: اگر میں اس کی قدرت نہ رکھوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم کسی کام کرنے والے کی مدد کر دو یا کسی جاہل یا (اپاہج) کے لیے کوئی کام کر دو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 131]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 2518، ومسلم: 84، وابن حبان فى ”صحيحه“ برقم: 152، 4310، 4596، وأحمد فى ”مسنده“، برقم: 21726»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(حج تمتع کے فسخ کے مخصوص حکم کی روایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 132
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الْمُرَقَّعِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ , قَالَ:" إِنَّمَا كَانَ فَسْخُ الْحَجِّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَا خَاصَّةً" .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حج کو فسخ (حج تمتع) کرنے کا حکم ہمارے لیے مخصوص تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 132]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏أسناده صحيح، أخرجه مسلم 1224 ومعجم شيوخ ابي يعلي: 29، والبيهقي فى "سننه الكبير"، برقم: 8825» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(نماز کے بعد تسبیح سے سبقت لینے کی ہدایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 133
حَدَّثنا بِشْرُ بْنُ عَاصِمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! سَبَقَ أَهْلُ الأَمْوَالِ الدَّثْرِ بِالأَجْرِ يَقُولُونَ كَمَا نَقُولُ، وَيُنْفِقُونَ وَلا نُنْفِقُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفَلا أَدُلُّكَ عَلَى عَمَلٍ إِذَا أَنْتَ قُلْتَهُ أَدْرَكْتَ مَنْ قَبْلَكَ , وَفُتُّ مَنْ بَعْدَكَ، إِلا مَنْ قَالَ مِثْلَ قَوْلِكَ؟ تُسَبِّحُ دُبُرَ كُلِّ صَلاةٍ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ، وَتَحْمَدُ اللَّهَ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ، وَتُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلاثِينَ" . قَالَ سُفْيَانُ: إِحْدَاهُنَّ أَرْبَعٌ وَثَلاثُونَ، وَعِنْدَ مَنَامِكَ مِثْلُ ذَلِكَ.
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مالدار لوگ اجر حاصل کرنے میں سبقت لے گئے ہیں، وہ اس طرح پڑھتے ہیں جس طرح ہم پڑھتے ہیں، لیکن وہ خرچ کرتے ہیں اور ہم خرچ نہیں کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہاری رہنمائی ایسے عمل کی طرف نہ کروں کہ جب تم اسے پڑھ لو گے تو تم اپنے سے آگے والے تک پہنچ جاؤ گے اور اپنے پیچھے والے سے آگے نکل جاؤ گے، ماسوائے اس شخص کے، جو تمہارے اس پڑھنے کی مانند پڑھ لے۔ تم ہر نماز کے بعد 33 مرتبہ سبحان اللہ، 33 مرتبہ الحمدللہ، اور 34 مرتبہ اللہ اکبر پڑھو۔ حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان نے یہ بات بیان کی ہے ان میں سے ایک کلمہ 34 مرتبہ ہے۔ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یا شاید راوی نے یہ بات بیان کی ہے:) تم نے سوتے وقت بھی اس کے مانند عمل کرنا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 133]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح، وأخرجه مسلم 595، وابن حبان فى ”صحيحه“: 838» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(مسجد حرام اور اقصیٰ کے بننے کی روایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 134
حَدَّثنا سُفْيَانُ , قَالَ: حَدَّثنا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، قَالَ: كُنُتُ أَمْشِي مَعَ أَبِي , فَقَرَأَ السَّجْدَةَ، فَسَجَدَ , ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ أَوَّلُ؟ قَالَ:" الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ"، قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ:" الْمَسْجِدُ الأَقْصَى"، قُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ:" أَرْبَعُونَ سَنَةً،" , قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ:" ثُمَّ حَيْثُ أَدْرَكَتْكَ الصَّلاةُ فَصَلِّ , فَإِنَّ الأَرْضَ كُلَّهَا مَسْجِدٌ" .
ابراہیم تیمی بیان کرتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ جا رہا تھا، انہوں نے سجدے سے متعلق آیت تلاوت کی اور سجدہ کیا، پھر انہوں نے فرمایا: میں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! روئے زمین پر کون سی مسجد پہلے بنائی گئی تھی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد حرام۔ میں نے عرض کیا: پھر کون سی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد اقصیٰ۔ میں نے دریافت کیا: ان دونوں کے درمیان کتنا فرق ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس سال کا۔ میں نے عرض کی: پھر کون سی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تمہیں جہاں نماز کا وقت آ جائے تم نماز ادا کر لو، کیونکہ تمام روئے زمین نماز ادا کرنے کی جگہ ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 134]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى ”صحيحه“ برقم: 3366، 3425، ومسلم فى ”صحيحه“ 520، وابن خزيمة فى ”صحيحه“ برقم: 787، 1290، وابن حبان فى ”صحيحه“: برقم: 1598،6228، وأحمد فى "مسنده"، برقم: 21728»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(حج تمتع کے فسخ کے مخصوص حکم کی دوسری روایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 135
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الْمُرَقَّعِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ , أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّمَا كَانَ فَسْخُ الْحَجِّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَا خَاصَّةً" .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حج کو فسخ (حج تمتع) کرنے کا حکم ہمارے لیے مخصوص تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 135]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏أسناده صحيح، أخرجه مسلم 1224، ومعجم شيوخ ابي يعلي: 29، والبيهقي فى سننه الكبير، برقم: 8825، والحميدي فى ”مسنده“، برقم: 132»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(خرگوش کے خون اور چمکدار دنوں کے روزوں کی روایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 136
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، وَحَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ سَمِعَاهُ مِنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ , أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلا مِنْ أَخْوَالِهِ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، يُقَالَ لَهُ ابْنُ الْحَوْتَكِيَّةِ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: مَنْ حَاضَرَنَا يَوْمَ الْقَاحَةِ إِذْ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ : أَنَا , أَتَى أَعْرَابِيٌّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي رَأَيْتُهَا تَدْمَا، قَالَ: فَكَفَّ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَأْكُلْ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَأْكُلُوا، وَاعْتَزَلَ الأَعْرَابِيُّ فَلَمْ يَطْعَمُ، َقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَمَا صَوْمُكَ؟" , قَالَ: ثَلاثٌ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، فَقَالَ:" أَيْنَ أَنْتَ عَنِ الْبِيضِ الْغُرِّ: ثَلاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ" .
ابو حوتکیہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قاحہ (ایک مخصوص وادی کا نام ہے) کے دن کون ہمارے ساتھ موجود تھا؟ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خرگوش پیش کیا گیا تھا، تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں۔ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خرگوش لے کر آیا، اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اسے دیکھا ہے کہ اس کا خون نکلتا ہے (یعنی اسے حیض آتا ہے)۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ہاتھ روک لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں کھایا اور اپنے اصحاب کو یہ ہدایت کی کہ وہ اسے کھا لیں۔ وہ دیہاتی بھی پیچھے ہٹ گیا، اس نے بھی نہیں کھایا۔ اس نے عرض کیا: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم کس حساب سے روزہ رکھتے ہو؟ اس نے جواب دیا: ہر مہینے میں تین دن۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم چمکدار دنوں میں روزہ کیوں نہیں رکھتے؟ تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 136]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد، وأخرجه ابن حبان فى ”صحيحه“: 3655، 3656، وأحمد فى ”مسنده“، برقم: 21729، و ابن خزيمة فى ”صحيحه“ برقم: 2127»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(خرگوش کے واقعے کی دوسری سند کی روایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 137
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ , وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ ابْنَ الْحَوْتَكِيَّةِ.
مندرجہ بالا روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں ابن حوتکیہ کا تذکرہ نہیں ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 137]
تخریج الحدیث: «إسناده صحیح، وأخرجه ابن حبان فى ”صحيحه“: 3655، 3656، وأحمد فى ”مسنده“، برقم: 21729، و ابن خزيمة فى ”صحيحه“ برقم: 2127»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12»