🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
(زاد سفر کی مقدار اور دنیا کی کمی کی روایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 151
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، قَالَ: دَخَلَ نَاسٌ عَلَى خَبَّابٍ يَعُودُونَهُ، فَقَالُوا: أَبْشِرْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ تَرِدُ عَلَى مُحَمَّدٍ الْحَوْضَ، فَقَالَ: فَكَيْفَ بِهَذَا وَهَذَا؟ وَأَشَارَ إِلَى بُنْيَانِهِ وَإِلَى سَقْفِ الْبَيْتِ , وَجَانِبَيهِ، وَقَالَ: وَكَيْفَ بِهَذَا؟ وَقَدْ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا كَانَ يَكْفِي أَحَدَكُمْ مِنَ الدُّنْيَا مِثْلُ زَادِ الرَّاكِبِ" .
یحییٰ بن جمرد بیان کرتے ہیں: کچھ لوگ سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ان کی عیادت کرنے کے لیے حاضر ہوئے، انہوں نے کہا: اے ابوعبداللہ! آپ کو مبارک ہو، آپ کی حوض پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہو گی، تو وہ بولے: اس کی اور اس کی موجودگی میں کیسے ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اپنی عمارت کی طرف، گھر کی چھت اور اس کے دونوں کناروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بات کہی کہ اس کی موجودگی میں کیسے ہو سکتی ہے؟ جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ فرمایا تھا: تم میں سے کسی ایک شخص کے لیے دنیا میں سے اتنی ہی چیز کافی ہے جتنا کسی سوار کا زاد سفر ہوتا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 151]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: 7214، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ”مصنفه“، برقم: 35450»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(گرمی کی شدت کی شکایت پر جواب نہ ملنے کی روایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 152
حَدَّثنا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ: " شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّ الرَّمْضَاءِ، فَلَمْ يُشْكِنَا" .
سعید بن وہب، سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گرمی کی شدت کی شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی جواب نہیں دیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 152]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم 619، وابن حبان فى ”صحيحه“: 1480 وأحمد فى ”مسنده“، برقم: 21437»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(گرمی کی شدت کی شکایت پر جواب نہ دینے کی دوسری روایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 153
حَدَّثنا وَكِيعُ ، قَالَ: حَدَّثنا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، عَنْ خَبَّابٍ ، قَالَ: " شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّمْضَاءَ , فَلَمْ يُشْكِنَا" .
سیدنا خباب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گرمی کی شدت کی شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی جواب نہیں دیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 153]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم 619، وابن حبان فى ”صحيحه“: 1480 وأحمد فى ”مسنده“، برقم: 21437»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(موت کی دعا سے منع اور دنیا کے خرچ کی روایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 154
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثنا قَيْسٌ ، قَالَ: عُدْنَا خَبَّابًا وَقَدِ اكْتَوَى فِي بَطْنِهِ سَبْعًا، فَقَالَ:" لَوْلا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ لَدَعَوْتُ بِهِ" . ثُمَّ ثُمَّ قَالَ: " فَإِنَّهُ قَدْ مَضَى قَبْلَنَا أَقْوَامٌ لَمْ يَنَالُوا مِنَ الدُّنْيَا شَيْئًا، وَإِنَّا بَقِينَا بَعْدَهُمْ حَتَّى نِلْنَا مِنَ الدُّنْيَا مَا لا يَدْرِي أَحَدُنَا فِي أَيِّ شَيْءٍ يَضَعُهُ إِلا فِي التُّرَابِ، وَإِنَّ الْمُسْلِمَ يُؤْجَرُ فِي كُلِّ شَيْءٍ يُنْفِقُهُ، إِلا فِيمَا أَنْفَقَ فِي التُّرَابِ" .
قیس نامی راوی بیان کرتے ہیں: ہم سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لیے گئے انہوں نے اپنے پیٹ میں سات داغ لگوائے تھے۔ انہوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا، تو میں اس کی دعا کرتا۔ پھر انہوں نے فرمایا: ہم سے پہلے کچھ ایسے لوگ (دنیا سے) رخصت ہو چکے ہیں، جنہوں نے دنیا میں سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا ان کے بعد ہم باقی رہ گئے یہاں تک کہ ہمیں دنیا بھی نصیب ہوئی اور اتنی ملی کہ ہم میں سے کسی ایک کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ وہ اس کا کیا کرے؟ صرف اسے مٹی میں ہی ڈال سکتا تھا (یعنی اس سے یہ تعمیرات کر سکتا تھا) حالانکہ مسلمان جس بھی چیز کو خرچ کرتا ہے، اسے ہر چیز میں اجر ملے گا، ماسوائے اس کے جسے وہ مٹی میں خرچ کرتا ہے (یعنی جو تعمیر کرتا ہے)۔ [مسند الحميدي/حدیث: 154]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح، أخرجه البخاري فى صحيحه برقم: 5672، 6349، 6350، 6430، 6431،7234، ومسلم فى ”صحيحه“ برقم: 2681، وابن حبان فى ”صحيحه:“ برقم: 2999، وأحمد فى ”مسنده“، برقم: 21439»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(ہجرت پر اجر اور شہادت کے بعد اذخر کی روایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 155
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الأَعْمَشُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، يَقُولُ: أَتَيْنَا خَبَّابًا نَعُوُدُهُ، فَقَالَ:" إِنَّا هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُرِيدُ وَجْهَ اللَّهِ، فَوَقَعَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ، فَمِنَّا مَنْ مَضَى لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرِ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ نَمِرَةً، فَكُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ بَدَا رَأْسُهُ، وَإِذَا غَطَّيْنَا رَأْسَهُ بَدَتْ رِجْلاهُ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُغَطِّيَ رَأْسَهُ , وَأَنْ نَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ شَيْئًا مِنْ إِذْخَرٍ، وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ , فَهُوَ يَهْدِبُهَا" .
ابووائل بیان کرتے ہیں: ہم سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے فرمایا: بے شک ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی ہمارا مقصد اللہ کی رضا کا حصول تھا، تو ہمارا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ لازم ہو گیا، ہم میں سے کچھ لوگ (دنیا سے) رخصت ہو گئے، انہوں نے اپنے اجر میں سے کچھ بھی نہیں حاصل کیا، ان میں سے ایک سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ تھے جو غزوہ احد کے دن شہید ہوئے تھے۔ انہوں نے ایک چادر چھوڑی تھی جب ان کے پاؤں ڈھانپتے تھے، تو ان کا سر ظاہر ہو جاتا تھا اور اگر ان کا سر ڈھانپتے تھے، تو پاؤں ظاہر ہو جاتے تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہدایت کی کہ ہم ان کے سر کو ڈھانپ دیں اور ان کے پاؤں پر تھوڑی سی اذخر رکھ دیں جبکہ ہم میں سے بعض لوگ وہ ہیں، جن کا پھل تیار ہو چکا ہے اور وہ اسے چن رہے ہیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 155]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح، أخرجه البخاري برقم: 1276،3897،3913،3914، 4047، 4082، 6432،6448، ومسلم: برقم: 940 وابن حبان فى ”صحيحه“ برقم: 7019»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(ظہر اور عصر میں تلاوت اور داڑھی کے ہلنے کی روایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 156
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، قَالَ: سَأَلْنَا خَبَّابًا :" هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقُلْنَا: بِأَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ ذَلِكَ؟ قَالَ: بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ" .
ابومعمر بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا خباب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نماز میں تلاوت کیا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ ہم نے دریافت کیا: آپ کو اس بات کا کیسے پتہ چلتا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کے ہلنے کی وجہ سے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 156]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري: رقم: 746، 760، 761، 777، وابن حبان فى ”صحيحه“ برقم: 1826، 1830، وابن خزيمة فى ”صحيحه“، برقم: 505، 506»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(مشرکین کی تکالیف پر صبر اور دین کی حفاظت کی روایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 157
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا بَيَانُ بْنُ بِشْرٍ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَالا: سَمِعْنَا قَيْسًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ خَبَّابًا ، يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَهُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، وَقَدْ لَقِينَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ شِدَّةً شَدِيدَةً، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَلا تَدْعُو اللَّهَ لَنَا؟ فَقَعَدَ وَهُوَ مُحْمَرٌّ وَجْهُهُ , فَقَالَ: " إِنْ كَانَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لَيُمْشَطُ أَحَدُهُمْ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ مَا دُونَ عَظْمِهِ مِنْ لَحْمٍ , أَوْ عَصَبٍ مَا يَصْرِفُهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ، وَيُوضَعُ الْمِنْشَارُ عَلَى مَفْرِقِ رَأْسِهِ، فَيُشَقُّ بِاثْنَيْنِ مَا يَصْرِفُهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ، وَلَيُتِمَّنَّ اللَّهُ هَذَا الأَمْرَ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ لا يَخَافُ إِلا اللَّهَ" , زَادَ بَيَانٌ: وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ.
قیس بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر کے ساتھ ٹیک لگا کر خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے، ہمیں مشرکین کی طرف سے شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑا تھا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ہمارے لیے دعا کیوں نہیں کرتے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم سے پہلے ایسے لوگ بھی تھے جن میں سے کسی ایک پر لوہے کی کنگھی پھیری گئی، جو اس کے گوشت اور پٹھوں سے ہو کر ہڈی تک پہنچی لیکن اس چیز نے بھی انہیں ان کے دین سے نہیں پھیرا، کسی شخص کے سر پر آری رکھ کر اسے دو ٹکڑوں میں کاٹ دیا گیا، تو اس چیز نے بھی انہیں ان کے دین سے نہیں پھیرا، اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ضرور مکمل کرے گا، یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے چل کر حضرموت تک جائے گا اور اسے صرف اللہ کا خوف ہو گا۔ بیان نامی راوی نے یہ الفاظ اضافی نقل کیے ہیں: اور اسے اپنی بکریوں کے حوالے سے بھیڑیے کا خوف ہو گا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 157]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح، وأخرجه البخاري: 3852، 3612، 6943، وابن حبان فى ”صحيحه“ برقم: 2897، 6698، وأبو يعلى فى ”مسنده“: برقم: 7213»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
(حوض کوثر پر ملاقات اور دنیا کے اندیشے کی روایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 158
حَدَّثنا حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: عَادَتْ خَبَّابًا بَقَايَا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: أَبْشِرْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، تَرِدُ عَلَى إِخْوَانِكَ الْحَوْضَ، فَقَالَ:" وَعَلَيْهَا رِجَالٌ إِنَّكُمْ ذَكَرْتُمْ لِي أَقْوَامًا، وَسَمَّيْتُمْ لِي إِخْوَانًا مَضَوْا لَمْ يَنَالُوا مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَإِنَّا بَقِينَا بَعْدَهُمْ حَتَّى نِلْنَا مِنَ الدُّنْيَا مَا نَخَافُ أَنْ يَكُونَ ثَوَابُنَا لِتِلْكَ الأَعْمَالِ" .
طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لیے آئے، انہوں نے کہا: اے ابوعبداللہ آپ کو مبارک ہو کہ آپ حوض کوثر پر اپنے بھائیوں سے مل لیں گے، تو انہوں نے فرمایا: اس پر کئی لوگ ہوں گے تم نے میرے سامنے کچھ لوگوں کا تذکرہ کیا ہے تم نے انہیں میرا بھائی قرار دیا ہے، حالانکہ وہ لوگ (دنیا سے) رخصت ہو گئے اور انہوں نے اپنے اجر میں سے کوئی بھی چیز حاصل نہیں کی ان کے بعد ہم باقی رہ گئے ہم نے دنیا بھی حاصل کی جس کے نتیجے میں ہمیں یہ اندیشہ ہے، کہیں یہ (ملنے والی دنیا) ہمارے ان اعمال کا بدلہ نہ ہو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 158]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:7214، والطبراني فى ”الكبير“، برقم: 3616»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں