مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
(حیض کی حالت میں تلاوت کی روایت)
حدیث نمبر: 169
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي أُمِّي صَفِيَّةُ بِنْتُ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ:" إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِ إِحْدَانَا، فَيَتْلُوَ الْقُرْآنَ وَهِيَ حَائِضٌ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک ہم میں سے کسی ایک (زوجہ محترمہ) کی گود میں رکھ لیتے تھے اور قرآن پاک کی تلاوت کر لیتے تھے حالانکہ وہ خاتون اس وقت حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 169]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه وأخرجه البخاري 297، ومسلم: 301، وابن حبان فى ”صحيحه“: 798، 1366، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:4727»
(عصر کی نماز سورج بلند ہونے پر ادا کرنے کی روایت)
حدیث نمبر: 170
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: وأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ طَالِعَةٌ فِي حُجْرَتِي , لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ عَلَيْهَا بَعْدُ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا کر لیتے تھے حالانکہ سورج ابھی میرے حجرے میں بلند ہوتا تھا اور سایہ ظاہر نہیں ہوا ہوتا تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 170]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، أخرجه البخاري 522، ومسلم: 611، وابن حبان فى ”صحيحه“: 1521، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:4420»
(رات کے نوافل اور جنازے کی طرح لیٹنے کی روایت)
حدیث نمبر: 171
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلاتَهُ مِنَ اللَّيْلِ، وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ كَاعْتِرَاضِ الْجِنَازَةِ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نوافل ادا کیا کرتے تھے حالانکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیان چوڑائی کی سمت میں یوں لیٹی ہوتی تھی جس طرح جنازہ رکھا جاتا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 171]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، وأخرجه البخاري 382، ومسلم: 512 وابن حبان فى ”صحيحه“: برقم: 2341-2348، 2390، وأبو يعلى فى ”مسنده“: برقم: 4490، 4491،4820، 4888»
(نقش و نگار والی چادر سے توجہ منتشر ہونے کی روایت)
حدیث نمبر: 172
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلامٌ، فَقَالَ:" شَغَلَتْنِي أَعْلامُ هَذِهِ، فَاذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَائْتُوني" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی چادر اوڑھ کر نماز ادا کی جس پر نقش و نگار بنے ہوئے تھے (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس کے نقش و نگار نے میری توجہ منتشر کرنے کی کوشش کی تھی، تو تم اسے لے کر ابوجہم کے پاس جاؤ اور اس کی انبجانیہ والی چادر میرے پاس لے آؤ۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 172]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، وأخرجه البخاري 373، ومسلم: 556، وابن حبان فى ”صحيحه“: 2337, وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:4414»
(شعبان کے نفلی روزوں اور تیرہ رکعات کی روایت)
حدیث نمبر: 173
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي لَبِيدٍ ، وَكَانَ مِنْ عُبَّادِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ: أَيْ أُمَّهْ! أَخْبِرِينِي عَنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ , وَعَنْ صِيَامِهِ، فَقَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ، وَمَا رَأَيْتُهُ صَائِمًا فِي شَهْرٍ قَطُّ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ فِي شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ، بَلْ كَانَ يَصُومُهُ إِلا قَلِيلا، وَكَانَتْ صَلاتُهُ بِاللَّيْلِ فِي رَمَضَانَ وَغَيْرِهِ ثَلاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنْهَا رَكْعَتَا الْفَجْرِ" .
ابوسلمہ بن عبدالرحمان بیان کرتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے ان سے کہا: امی جان! آپ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نفل نماز کے بارے میں بتائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نفلی روزوں کے بارے میں بتائیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نفلی روزے رکھا کرتے تھے یہاں تک کہ ہم یہ سوچتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل نفلی روزے رکھتے رہیں گے، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل نفلی روزے ترک کر دیتے تھے یہاں تک کہ ہم یہ سوچتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نفلی روزہ نہیں رکھیں گے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بھی مہینے میں شعبان کے مہینے سے زیادہ نفلی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تقریباً پورا مہینہ روزے رکھا کرتے تھے صرف چند دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے روزے نہیں رکھتے تھے اور رمضان میں اور غیر رمضان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز تیرہ رکعات ہوتی تھی جس میں فجر کی دو رکعات (سنت) بھی شامل ہوتی تھیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 173]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم 738، وابن حبان فى ”صحيحه“ برقم: 353، 1578، 2430، 2571، 2613، 2616،2634، 3516، 3637، 3648،6385، وأحمد فى ”مسنده“:، برقم: 24707، وأبو يعلى فى ”مسنده“ برقم: 4533،4633،4650، 4786، 4788، 4860»
(فجر کی نماز میں مؤمن خواتین کی شناخت نہ ہونے کی روایت)
حدیث نمبر: 174
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كُنَّ نِسَاءٌ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ يُصَلِّينَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ، وَهُنَّ مُتَلَفِّعَاتٌ بِمُرُوطِهِنَّ , ثُمَّ يَرْجِعْنَ إِلَى أَهْلِيهِنَّ وَمَا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْغَلَسِ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: مؤمن خواتین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں فجر کی نماز ادا کرتی تھیں انہوں نے اپنی چادریں لپیٹی ہوئی ہوتی تھیں پھر (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) وہ اپنے گھر واپس چلی جاتی تھیں اور اندھیرے کی وجہ سے کوئی شخص ان کی شناخت نہیں کر سکتا تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 174]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، وأخرجه البخاري برقم: 372، 578، 867،872، ومسلم فى ”صحيحه“ برقم: 645، وابن حبان فى ”صحيحه“: برقم: 1498،1499، 1500، 1501 وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:4415، 4416»
(فجر کی دو رکعات اور بات چیت کی روایت)
حدیث نمبر: 175
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي، وَإِلا اضْطَجَعَ حَتَّى يَقُومَ إِلَى الصَّلاةِ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعات ادا کیا کرتے تھے (یعنی سنتیں ادا کرتے تھے) اگر میں جاگ رہی ہوتی تھی، تو آپ میرے ساتھ بات چیت کر لیتے تھے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ جاتے تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز (فجر باجماعت) ادا کرنے کے لیے تشریف لے جاتے تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 175]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، وأخرجه البخاري 372، 578، 867، 872 ومسلم: 645، 731، 732، 743 وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:4630»
(فجر کی سنت اور بات چیت کی دوسری سند کی روایت)
حدیث نمبر: 176
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَتَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلِهِ.
مندرجہ بالا روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 176]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وانظر حديث سابق»
(وتر کے لیے حرکت دینے اور رات کی نماز کی روایت)
حدیث نمبر: 177
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلاتَهُ مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ حَرَّكَنِي بِرِجْلِهِ، وَكَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ، فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي، وَإِلا اضْطَجَعَ حَتَّى يَقُومَ إِلَى الصَّلاةِ" , وَكَانَ سُفْيَانُ يَشُكُّ فِي حَدِيثِ أَبِي النَّضْرِ يَضْطَرِبُ فِيهِ، وَرُبَّمَا شَكَّ فِي حَدِيثِ زِيَادٍ، وَيَقُولُ: يَخْتَلِطُ عَلَيَّ، ثُمَّ قَالَ لَنَا غَيْرَ مَرَّةٍ: حَدِيثُ أَبِي النَّضْرِ كَذَا، وَحَدِيثُ زِيَادٍ كَذَا، وَحَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ كَذَا عَلَى مَا ذَكَرْتُ كُلَّ ذَلِكَ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نفل نماز ادا کیا کرتے تھے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیان چوڑائی کی سمت میں لیٹی ہوتی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وتر ادا کرنے ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پاؤں کے ذریعہ مجھے حرکت دیتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعات نماز ادا کرتے تھے اگر میں جاگ رہی ہوتی، تو میرے ساتھ بات چیت کر لیتے تھے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ جاتے تھے، پھر (تھوڑی دیر بعد) نماز (فجر باجماعت ادا کرنے کے لیے) تشریف لے جاتے تھے۔ سفیان نامی راوی نے نضر کے حوالے سے منقول روایت میں شک کا بھی اظہار کیا ہے اور اضطراب بھی ظاہر کیا ہے بعض اوقات وہ زیادہ سے بھی منقول روایت میں شک کا اظہار کر دیتے ہیں، وہ یہ کہتے ہیں: یہ روایت مجھ سے خلط ملط ہو گئی ہے، پھر انہوں نے کئی مرتبہ ہم سے یہ کہا: ابونظر کی حدیث اس طرح ہے، جبکہ زیادہ منقول روایت اس طرح ہے اور محمد بن عمرو کے حوالے سے منقول روایت اس طرح ہے۔
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے میں نے ذکر کر دیا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 177]
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے میں نے ذکر کر دیا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 177]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه البخاري 384، 512 ومسلم: 512، وابن حبان فى ”صحيحه“ برقم: 2341، 2342، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: 4490، 4491، 4820، 4888»
(جمعہ کے دن غسل کی بہتری کی ہدایت کی روایت)
حدیث نمبر: 178
حَدَّثنا حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ مَا لا أُحْصِي عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ النَّاسُ عُمَّالَ أَنْفُسِهِمْ، فَكَانُوا يَرُوحُونَ بِهَيْئَتِهِمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقِيلَ لَهُمْ: لَوِ اغْتَسَلْتُمْ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پہلے لوگ خود کام کاج کیا کرتے تھے، تو جمعہ کے دن وہ اسی حالت میں آ جایا کرتے تھے، تو انہیں یہ کہا گیا: اگر تم غسل کر لو (تو یہ بہتر ہو گا)۔ [مسند الحميدي/حدیث: 178]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى ”صحيحه“ برقم: 903، 2071، ومسلم فى ”صحيحه“ برقم: 847، وابن خزيمة فى ”صحيحه“: برقم: 1753، وابن حبان فى ”صحيحه“: برقم: 1236»