🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 330
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 330
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قالَ: أَخْبَرُونِي عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مَعِيطٍ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ" . قَالَ سُفْيَانُ: وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: الْكَاشِحُ: الْعَدَوُّ.
سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: سب سے افضل صدقہ وہ ہے، جو دشمنی رکھنے والے رشتے دار پر کیا جائے۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے یہ روایت زہری سے نہیں سنی ہے۔
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: (روایت کے متن میں استعمال ہونے والے لفظ) «كاشح» کا مطلب دشمن ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 330]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده ضعيف وهو حديث صحيح أخرجه ابن خزيمة في «صحيحه» ، برقم: 2386، والحاكم فى «مستدركه» ، برقم: 1480، والبيهقي فى «سننه الكبير» ، برقم: 13347، وأورده ابن حجر فى «المطالب العالية» ، برقم: 971، وأخرجه الطبراني فى «الكبير» ، برقم: 204»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 331
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 331
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ، هَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ أَكْذِبَ أَهْلِي؟ قَالَ:" لا، فَلا يُحِبُّ اللَّهُ الْكَذِبَ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَسْتَصْلِحُهَا وَأَسْتَطِيبُ نَفْسَهَا؟ قَالَ:" لا جُنَاحَ عَلَيْكَ" .
عطاء بن یسار بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمت نازل کرے، مجھے کوئی گناہ ہو گا اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ جھوٹ بولتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں! لیکن اللہ جھوٹ کو پسند نہیں کرتا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں اس کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے ایسا کرتا ہوں، یا خوش کرنے کے لیے ایسا کرتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تمہیں کوئی گناہ نہیں ہو گا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 331]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح إلى عطاء بن يسار، وهو مرسل انفرد به المصنف من هذا الطريق ولكن أخرجه البخاري فى الصلح 2692، ومسلم فى البر والصلة 2605، وقد استوفينا تخريج هذه الرواية في «صحيح ابن حبان» برقم 5733،. وانظر فتح الباري:300/5»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں