🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 375
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 375
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، قَالَ: قُلْتُ لابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ نَوْفًا الْبَكَالِيَّ يَزْعُمُ أَنَّ مُوسَى صَاحِبَ الْخَضِرِ لَيْسَ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، إِنَّمَا هُوَ مُوسَى آخَرُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" قَامَ مُوسَى خَطِيبًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَسُئِلَ: أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ؟ فَقَالَ: أَنَا أَعْلَمُ، فَعَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ إِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: إِنَّ لِي عَبْدًا بِمَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ، قَالَ مُوسَى: أَيْ رَبِّ! فَكَيْفَ لِي بِهِ؟ قَالَ: تَأْخُذُ حُوتًا، فَتَجْعَلَهُ فِي مِكْتَلٍ , ثُمَّ تَنْطَلِقُ، فَحَيْثُ مَا فَقَدْتَ الْحُوتَ فَهُو ثَمَّ , فَأَخَذَ حُوتًا فَجَعَلَهُ فِي مِكْتَلٍ، ثُمَّ انْطَلَقَ وَانْطَلَقَ مَعَهُ , فَتَاهُ يُوشَعُ بْنُ نُونٍ حَتَّى إِذَا انْتَهَى إِلَى الصَّخْرَةِ وَضَعَا رُءُوسَهُمَا، فَنَامَا فَاضْطَرَبَ الْحُوتُ فِي الْمِكْتَلِ فَخَرَجَ مِنْهُ، فَسَقَطَ فِي الْبَحْرِ: فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا سورة الكهف آية 61 وَأَمْسَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنِ الْحُوتِ جَرْيَةَ الْمَاءِ، فَصَارَ عَلَيْهِ مِثْلَ الطَّاقِ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ مُوسَى، نَسِيَ صَاحِبُهُ أَنْ يُخْبِرَهُ بِالْحُوتِ، فَانْطَلَقَا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمَا وَلَيِلَتِهِمَا حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ، قَالَ مُوسَى لِفَتَاهُ: آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا سورة الكهف آية 62
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: نوف بکالی یہ کہتا ہے کہ جن سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی سیدنا خضر علیہ السلام کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی۔ وہ بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے سیدنا موسیٰ علیہ السلام نہیں ہیں بلکہ یہ کوئی دوسرے سیدنا موسیٰ علیہ السلام ہیں تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کے دشمن نے جھوٹ کہا ہے۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ایک مرتبہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل میں کھڑے خطبہ دے رہے تھے ان سے سوال کیا گیا لوگوں میں سے سب سے زیادہ علم کس کے پاس ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں تو اس بات پر اللہ تعالیٰ نے ان پر ناراضگی کا اظہار کیا کہ انہوں نے اس علم کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کیوں نہیں کی (یعنی اللہ بہتر جانتا ہے کہ کون زیادہ علم رکھتا ہے) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: دو سمندروں کی جگہ پر میرا ایک بندہ ہے جو تم سے زیادہ علم رکھتا ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے پروردگار! میں اس تک کیسے پہنچ سکتا ہوں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم ایک مچھلی لو اسے ایک برتن میں رکھو اور پھر چل پڑو جہاں تم مچھلی کو کھو دو گے وہی جگہ ہو گی۔ تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے مچھلی لی اسے ایک برتن میں رکھا اور روانہ ہو گئے۔ ان کے ساتھ ان کے نوجوان ساتھی سیدنا یوشع بن نون علیہ السلام بھی تھے۔ یہاں تک کہ جب وہ چٹان کے پاس پہنچے تو ان دونوں حضرات نے اپنا سر رکھا اور سو گئے وہ مچھلی بھی اس برتن میں مضطرب ہوئی اور اس سے نکلی اور سمندر میں گر گئی۔ جس کا تذکرہ قرآن نے ان الفاظ میں کیا ہے: تو اس نے سمندر میں اپنا راستہ بنا لیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مچھلی کے لیے پانی کے بہاؤ کو روک دیا اور وہ سمندر اس کے لیے طاق کی مانند ہو گیا۔ جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام بیدار ہوئے تو ان کے ساتھی انہیں مچھلی کے بارے میں بتانا بھول گئے کہ دونوں حضرات اس دن کا بقیہ حصہ اور آگے آنے والی رات بھر تک چلتے رہے۔ یہاں تک کہ جب اگلا دن آیا تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھی سے کہا: (جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے) تم ہمارا کھانا لے کر آؤ ہمیں اپنے اس سفر سے بڑی مشقت کا سامنا کرنا پڑا ہے (یا تھکاوٹ لاحق ہو گئی ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: حالانکہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے تھکاوٹ اس وقت تک محسوس نہیں کی جب تک وہ اس مقام سے آگے نہیں گزر گئے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا۔ تو ان کے ساتھی نے ان سے گزارش کی (جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے) آپ نے ملاحظہ فرمایا جب ہم چٹان کے پاس آئے تھے تو وہاں میں مچھلی بھول گیا تھا اور یہ بات شیطان نے مجھے بھلائی تھی کہ میں اس کا تذکرہ کرتا۔ اس نے حیران کن طریقے سے سمندر میں راستہ بنا لیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: مچھلی کے لیے یہ راستہ تھا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے لیے اور ان کے ساتھی کے لیے یہ حیران کن بات تھی۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: (جس کا ذکر قرآن میں ہے) ہم وہی تو چاہتے تھے، تو یہ دونوں الٹے قدموں وہاں سے واپس آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: یہ دونوں حضرات اپنے قدموں کے نشانات دیکھتے ہوئے واپس لوٹے اور اس چٹان تک آ گئے تو وہاں ایک شخص موجود تھا جس نے اپنے اوپر چادر تانی ہوئی تھی۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اسے سلام کیا تو سیدنا خضر علیہ السلام بولے: تمہاری اس جگہ یہ سلام کہاں سے آ گیا؟ سیدنا موسیٰ علیہ السلام بولے: میں موسیٰ (علیہ السلام) ہوں۔ انہوں نے دریافت کیا: بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے سیدنا موسیٰ علیہ السلام؟ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا: ہاں۔ میں آپ کے پاس اس لیے آیا ہوں تاکہ آپ مجھے اس چیز کی تعلیم دیں جس بھلائی کی آپ کو تعلیم دی گئی ہے۔ تو سیدنا خضر علیہ السلام بولے: (جس کا ذکر قرآن میں ہے) آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکیں گے۔ اے موسیٰ (علیہ السلام)! مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا علم عطا کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے۔ آپ اس سے واقف نہیں ہیں اور آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا علم عطا کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: (جس کا ذکر قرآن میں ہے) اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور میں کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ تو سیدنا خضر علیہ السلام بولے: (جس کا ذکر قرآن میں ہے) اگر آپ نے میرے ساتھ رہنا ہے تو پھر آپ نے کسی چیز کے بارے میں مجھ سے سوال نہیں کرنا جب تک میں خود اس کے بارے میں آپ کو بیان نہیں کر دیتا۔ دونوں حضرات سمندر کے کنارے چلے ہوئے روانہ ہوئے۔ ان کے پاس سے ایک کشتی گزری ان حضرات نے کشتی والوں سے بات چیت کی کہ وہ انہیں بھی سوار کر لیں تو وہ سیدنا خضر علیہ السلام کو پہچان گئے اور کسی معاوضے کے بغیر انہوں نے ان حضرات کو سوار کر لیا۔ جب یہ دونوں حضرات سوار ہوئے تو اس کے تھوڑی دیر بعد سیدنا خضر علیہ السلام نے ایک کلہاڑی کے ذریعے کشتی کی ایک تختی کو توڑ دیا تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام بولے: ان لوگوں نے کسی معاوضے کے بغیر ہمیں سوار کیا ہے اور آپ نے ان کی کشتی کو توڑ دیا ہے؟ (آگے کے الفاظ قرآن کے ہیں) تاکہ آپ ان کشتی والوں کو ڈبو دیں۔ آپ نے ایک غلط حرکت کی ہے۔ سیدنا خضر علیہ السلام بولے: (جس کا ذکر قرآن میں ہے) کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر سے کام نہیں لے سکیں گے؟ تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: (جس کا ذکر قرآن میں ہے) میں جو بات بھول گیا تھا آپ اس پر میرا مواخذہ نہ کریں اور میرے معاملے کو تنگی کا شکار نہ کریں۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے پہلی بھول تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسی دوران ایک چڑیا آئی اور کشتی کے کنارے پر آ کر بیٹھ گئی اس نے سمندر میں سے ایک چونچ میں پانی لیا تو سیدنا خضر علیہ السلام نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے کہا: میرا علم اور آپ کا علم اللہ تعالیٰ کے علم میں وہ کمی بھی نہیں کرتا جو اس چڑیا نے اس سمندر میں کی ہے۔ یہ دونوں حضرات کشتی سے نکلے اور یہ دونوں حضرات ساحل پر چلتے ہوئے جا رہے تھے تو اس دوران سیدنا خضر علیہ السلام نے ایک لڑکے کو دیکھا جو دوسرے لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ سیدنا خضر علیہ السلام نے اس کا سر پکڑا اور اپنے ہاتھوں کے ذریعے اس کا سر مروڑ کے اسے قتل کر دیا۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: (جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے) کیا آپ نے ایک بے گناہ وجود کو کسی جان کے بدلے کے بغیر قتل کر دیا ہے آپ نے ایک قابل انکار حرکت کی ہے۔ تو سیدنا خضر علیہ السلام بولے: کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: یہ تنبیہ پہلی کے مقابلے میں زیادہ شدید تھی، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام بولے: (جس کا ذکر قرآن میں ہے) اگر میں نے اس کے بعد آپ سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا تو آپ میرے ساتھ نہ رہیں گا۔ میری طرف سے آپ کو عذر پہنچ گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: تو یہ دونوں چلتے ہوئے ایک بستی تک آئے اور انہوں نے ان سے کھانے کے لیے کچھ مانگا تو انہوں نے انہیں مہمان بنانے سے انکار کر دیا ان دونوں نے اس میں ایک دیوار پائی جو گرنے کے قریب تھی راوی کہتے ہیں: اس سے مراد یہ ہے کہ (وہ گرنے والی تھی) تو خضر علیہ السلام نے اپنے ہاتھ کے ساتھ اس طرح کیا اور اسے کھڑا کر دیا تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام بولے: یہ ایسے لوگ ہیں کہ ہم ان کے پاس آئے لیکن انہوں نے ہمیں کھانا نہیں کھلایا اور ہمیں مہمان نہیں بنایا۔ (اگلے الفاظ قرآن کے ہیں) اگر آپ چاہیں تو اس پر ان سے معاوضہ وصول کر سکتے ہیں۔ تو سیدنا خضر علیہ السلام بولے: (جس کا ذکر قرآن میں ہے) میرے اور آپ کے درمیان فرق ہے جن کاموں پر آپ صبر نہیں کر سکے میں ان کی حقیقت آپ کو بتاتا ہوں۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہماری خواہش یہ تھی کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام صبر سے کام لیتے تاکہ ان دونوں واقعات کی مزید تفصیلات سامنے آ جاتیں۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یہ تلاوت کیا کرتے تھے۔ اس سے پرے ایک بادشاہ تھا جو ٹھیک کشتی کو غصب کر لیا کرتا تھا۔ انہوں نے یہ بھی پڑھا۔ جہاں تک لڑکے کا معاملہ ہے وہ کافر تھا اور اس کے ماں باپ مومن تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 375]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه:أخرجه البخاري فى «العلم» برقم: 74، 78،122، 2267،2728،3278، 3400، 3401، 4725،4726، 4727، 6672،7478، ومسلم فى «فضائل الخضر عليه السلام» برقم: 2380، 2661، وابن حبان في «صحيحه» برقم: 102، 988،6220، 6221، والحاكم في «مستدركه» ، برقم: 3414، والنسائي فى «الكبرى» ، برقم: 5813، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3984، 4705،4706، 4707، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3149، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 21497، وعبد الله بن أحمد بن حنبل فى زوائده على «مسند أحمد» ، برقم: 21502»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 364
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: M375
قَالَ: وَلَمْ يَجِدْ مُوسَى النَّصَبَ حَتَّى جَاوَزَ الْمَكَانَ الَّذِي أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ، فَقَالَ لَهُ فَتَاهُ: أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَبًا سورة الكهف آية 63 قَالَ: وَكَانَ لِلْحُوتِ سَرَبًا , وَلِمُوسَى وَفَتَاهُ عَجَبًا، فَقَالَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ: ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا سورة الكهف آية 64 قَالَ: رَجِعَا يَقُصَّانِ آثَارَهُمَا حَتَّى إِذَا انْتَهَيَا إِلَى الصَّخْرَةِ، فَإِذَا رَجُلٌ مُسَجًّى ثَوْبًا، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ مُوسَى، فَقَالَ الْخَضِرِ: وَأَنَّى بِأَرِضِكَ السَّلامُ؟ قَالَ: أَنَا مُوسَى، قَالَ: مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَتَيْتُكَ لِتُعَلِّمَنِي مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا، قَالَ الْخَضِرِ: إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا سورة الكهف آية 67 يَا مُوسَى إِنِّي عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَّمَنِيهِ لا تَعْلَمُهُ، وَأَنْتَ عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَّمَكَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لا أَعْلَمُهُ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا سورة الكهف آية 69 قَالَ الْخَضِرُ: فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا سورة الكهف آية 70 فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ، فَمَرَّتْ بِهِمْ سَفِينَةٌ، فَكَلَّمُوهُمْ أَنْ يَحْمِلُوهُمْ، فَعَرَفُوا الْخَضِرَ، فَحَمَلُوهُمْ بِغَيْرِ نَوْلٍ، فَلَمَّا رَكِبَا السَّفِينَةَ لَمْ يُفْجَأْ مُوسَى إِلا وَالْخَضِرُ قَدْ قَلَعَ لَوْحًا مِنْ أَلْوَاحِ السَّفِينَةِ بِالْقَدُّومِ، فَقَالَ مُوسَى: قَوْمٌ حَمَلُونَا بِغَيْرِ نَوْلٍ عَمَدْتَ إِلَى سَفِينَتِهِمْ، فَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا سورة الكهف آية 71 قَالَ الْخَضِرُ: أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا سورة الكهف آية 72
تخریج الحدیث:

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 365
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: M375
قَالَ لَهُ مُوسَى: لا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا سورة الكهف آية 73 قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَكَانَتِ الأُولَى مِنْ مُوسَى نِسْيَانًا، قَالَ: وَجَاءَ عُصْفُورٌ فَوَقَعَ عَلَى حَرْفِ السَّفِينَةِ، فَنَقَرَ فِي الْبَحْرِ نَقْرَةً، فَقَالَ لَهُ الْخَضِرُ: مَا نَقَصَ عِلْمِي وَعِلْمِكَ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ إِلا مِثْلُ مَا نَقَصَ الْعُصْفُورُ مِنْ هَذَا الْبَحْرِ، ثُمَّ خَرَجَا مِنَ السَّفِينَةِ، فَبَيْنَمَا يَمْشِيَانِ عَلَى السَّاحِلِ إِذْ أَبْصَرَ الْخَضِرُ غُلامًا يَلْعَبُ فِي الْغِلْمَانِ، فَأَخَذَ الْخَضِرُ بِرَأْسِهِ , فَاقْتَلَعَهُ بِيَدِهِ , فَقَتَلَهُ، قَالَ لَهُ مُوسَى: أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا {74} قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا سورة الكهف آية 74-75 قَالَ: وَهَذِهِ أَشَدُّ مِنَ الأُولَى، قَالَ: إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا سورة الكهف آية 76 قَالَ: فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ سورة الكهف آية 77 قَالَ: مَائِلٌ، فَقَالَ الْخَضِرُ بِيَدِهِ هَكَذَا فَأَقَامَهُ فَقَالَ مُوسَى: قَوْمٌ أَتَيْنَاهُمْ وَلَمْ يُطْعِمُونَا , وَلَمْ يُضَيِّفُونَا لَوْ شِئْتَ لاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا سورة الكهف آية 77 قَالَ: هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا سورة الكهف آية 78 قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَدِدْنَا أَنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ كَانَ صَبَرَ حَتَّى يَقُصَّ عَلَيْنَا مِنْ خَبَرِهِمَا" . قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقْرَأُ: وَكَانَ أَمَامَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ صَالِحَةٍ غَصْبًا وَكَانَ يَقْرَأُ: وَأَمَّا الْغُلامُ فَكَانَ كَافِرًا وَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ.
تخریج الحدیث:

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 376
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 376
حَدَّثنا حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ الزَّرَّادِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا سورة الكهف آية 82، قَالَ:" حَفِظَهُمَا بِصَلاحِ أَبِيهِمَا مَا ذَكَرَ مِنْهُمَا صَلاحًا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں: «وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا» (18-الكهف:82) ان دونوں کا باپ نیک آدمی تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا خضر علیہ السلام نے ان بچوں کے باپ کی نیکی کی وجہ سے ان دونوں کی حفاظت کی تھی۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ ذکر نہیں کیا، وہ دونوں بچے نیک ہیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 376]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه الضياء المقدسي في «الأحاديث المختارة» ، برقم: 243، والحاكم في «مستدركه» ، برقم: 3415، والنسائي فى «الكبرى» ، برقم: 11838»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 377
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 377
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَحْفَظُ بِحِفْظِ الرَّجُلِ الصَّالِحِ وَلَدَهُ , وَوَلَدَ وَلَدِهِ، وَدُوَيْرَتَهُ الَّتِي فِيهَا , وَالدُّوَيْرَاتِ حَوْلَهُ، فَمَا يَزَالُونَ فِي حِفْظٍ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" . قَالَ سُفْيَانُ: وَزَادَنِي فِيهِ: وَسِتْرٍ.
محمد بن منکدر بیان کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ کسی نیک آدمی کی وجہ سے اس کی اولاد، اور اس کی اولاد کی اولاد، اس کے گھر کو، اس کے آس پاس کے گھروں کو محفوظ رکھتا ہے۔ اور وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حفاظت میں ہوتے ہیں۔ سفیان کہتے ہیں: میرے استاد نے میرے سامنے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں: اور وہ پردے میں ہوتے ہیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 377]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه النسائي فى «الكبرى» برقم: 11866، وأورده ابن حجر فى «المطالب العالية» ، برقم: 3199، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» ، برقم: 36564»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 378
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 378
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ ، وَعَاصِمُ ابْنُ بَهْدَلَةَ , أَنَّهُمَا سَمِعَا زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ ، يَقُولُ: سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ عَنِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ! إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُودٍ يَحْكِهِمَا مِنَ الْمُصْحَفِ، قَالَ: إِنِّي سَأَلَتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قِيلَ لِي: قُلْ، فَقُلْتُ، فَنَحْنُ نَقُولُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
زر بن حبیش کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے معوذتین کے بارے میں دریافت کیا: میں نے کہا: اے اباالمنذر! آپ کے بھائی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سورتوں کو قرآن سے نکال دیا ہے تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے یہ کہا گیا ہے، تم پڑھو تو میں نے پڑھ لیا۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم ویسا ہی کہیں گے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 378]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري برقم: 4976،4977، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 797،4429، والنسائي فى «الكبرى» برقم: 11653، والبيهقي فى «سننه الكبير» ، برقم: 4114، وأحمد في «مسنده» ، برقم: 21571، وعبد الله بن أحمد بن حنبل فى زوائده على «مسند أحمد» ، برقم: 21579، والطيالسي فى «مسنده» ، برقم: 543، وعبد الرزاق في «مصنفه» برقم: 6040، وابن أبى شيبة فى مصنفه، برقم: 30828، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» ، برقم: 118، والطبراني في «الأوسط» ، برقم: 1121»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 379
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 379
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ ، وَعَاصِمُ ابْنُ بَهْدَلَةَ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ ، يَقُولُ: قُلْتُ لأُبَيٍّ : إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولَ:" مَنْ يَقُمِ الْحَوْلَ يُصِبْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ؟ فَقَالَ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّمَا أَرَادَ أَنْ لا يَتَّكِلَ النَّاسُ، وَلَقَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، وَأَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، ثُمَّ حَلَفَ أُبَيٌّ لا يسْتَثْنِي أَنَّهَا لَلَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، فَقُلْنَا لَهُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ! بِأَيِّ شَيْءٍ عَلَّمْتَهُ؟ قَالَ: بِالآيَةِ , أَوْ بِالْعَلامَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَنَا أَنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ صَبِيحَةَ ذَلِكَ الْيَوْمِ , وَلا شُعَاعَ لَهَا" .
زر بن حبیش کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کے بھائی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ فرماتے ہیں: جو شخص سال بھر نوافل ادا کرتا رہے، وہی شب قدر کو پا سکتا ہے، تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن پر رحم کرے ان کا مقصد یہ ہے کہ لوگ (کسی ایک متعین رات) پر بھروسہ کر کے نہ بیٹھ جائیں، ورنہ وہ بھی یہ بات جانتے ہیں کہ یہ رمضان کے آخری عشرے میں ہوتی ہے، اور یہ ستائیسویں رات ہے، پھر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کسی استثناء کے بغیر قسم اٹھا کر یہ بات بیان کی کہ یہ ستائیسویں رات ہوتی ہے۔ ہم نے ان سے گزارش کی: ابے ابوالمنذر! آپ کو اس بات کا کیسے پتہ چلا، تو انہوں نے فرمایا: اس نشانی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) علامت کی وجہ سے جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے کہ اس رات کو صبح جب سورج نکلتا ہے، تو اس میں شعاع نہیں ہوتی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 379]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «"الترغيب فِي قيام رمضان وهو التراويح"» برقم: 762، وابن الجارود في «المنتقى» ، برقم: 446، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2187، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3689، 3690، 3691، والحاكم فى «مستدركه» ، برقم: 5357، والنسائي في «الكبرى» برقم: 3392، وأبو داود برقم: 1378، والترمذي فى «جامعه» برقم: 793،3351، والبيهقي في «سننه الكبير» ، برقم: 8643، 8644، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 21581»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 380
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 380
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: كَانَ لِي ابْنُ عَمٍّ شَاسِعُ الدَّارِ، فَقُلْتُ: لَوِ اتَّخَذْتَ بَيْتًا قَرِيبًا مْنَ الْمَسْجِدِ , أَوْ حِمَارًا؟ قَالَ: مَا أُحِبُّ أَنَّ بَيْتِيَ مُطْنَبًا بِبَيْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً مُنْذُ أَسْلَمَ كَانَتْ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْهَا، فَإِذَا هُوَ يَذْكُرُ الْخَطَأَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ: " إِنَّ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةِ يَخْطُوهَا إِلَى الْمَسْجِدِ دَرَجَةً" .
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرا ایک چچا زاد تھا جس کا گھر بہت دور تھا، میں نے اس سے کہا: اگر تم مسجد کے قریب کوئی گھر لے لو یا کوئی گدھا لے لو، تو یہ مناسب ہو گا۔ تو وہ بولا: مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میرا گھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کے درمیان ہو۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب سے اس نے اسلام قبول کیا تھا اس کی زبانی میں نے ایسی کوئی بات نہیں سنی تھی جو مجھے اس سے زیادہ بری لگی ہو۔ اور اب وہ پیدل چل کر آنے کا ذکر کر رہا تھا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسجد کی طرف چل کر آتے ہوئے وہ جتنے قدم اٹھائے گا اس کے ہر ایک قدم کے عوض میں اسے ایک درجہ ملے گا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 380]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مسلم 663، أخرجه أحمد في «مسنده» ، برقم: 21603، 21604 وابن حبان فى ”صحيحه“: 2040، 2041» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں