🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 395
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 395
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رَفِيعٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحْ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ {63} لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة يونس آية 63 64، فَقَالَ: مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا غَيْرُكَ، إِلا رَجُلا وَاحِدًا , سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا , فَقَالَ:" مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ مُنْذُ أُنْزِلَتْ غَيْرُكَ، إِلا رَجُلا وَاحِدًا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ" .
عطاء بن یسار مصر سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کا بیان نقل کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا۔ «لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا» وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے پرہیزگاری اختیار کی ان کے لیے دنیاوی زندگی اور آخرت میں خوشخبری ہے۔ (10-یونس:64) تو سیدنا ابودرداء بولے: جب سے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا ہے، اس وقت سے لے کر اب تک کسی نے تمہارے علاوہ مجھ سے اس بارے میں دریافت نہیں کیا۔ صرف ایک اور شخص نے یہ سوال کیا تھا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں یہ دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے اس وقت سے لے کر اب تک تمہارے علاوہ اور کسی نے بھی اس کے بارے میں مجھ سے سوال نہیں کیا۔ صرف ایک شخص نے کیا ہے (اس سے مراد) وہ سچے خواب ہیں، جنہیں کوئی مسلمان دیکھتا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جو کسی مسلمان کو دکھائے جاتے ہیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 395]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف أخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 8272، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2273، 3106، وأحمد فى مسنده برقم: 28158 وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31092»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 396
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 396
قَالَ سُفْيَانُ : ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ رَفِيعٍ ، فَحَدَّثَنِيهِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابودرداء کے حوالے سے منقول ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 396]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده ضعيف وأخرجه أحمد فى مسنده، برقم: 28158، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» ، برقم: 31092»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 397
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 397
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلك ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ , فَقَدْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الْخَيْرِ، وَمَنْ حُرِمَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ , فَقَدْ حُرِمَ حَظَّهُ مِنَ الْخَيْرِ" .
سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا، سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جسے نرمی میں حصہ عطا کیا گیا، اسے بھلائی میں سے حصہ عطا کیا گیا اور جو شخص نرمی میں سے حصے سے محروم رہا وہ بھلائی میں حصے سے محروم رہا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 397]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده جيد: وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 481،5693،5695، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4799، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2002،2003،2013، والبيهقي في «سننه الكبير» برقم: 20855، وأحمد فى «مسنده» برقم: 28142»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 398
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 398
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلك ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاء ِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَثْقَلَ شَيْءٍ فِي الْمِيزَانِ خُلُقٌ حَسَنٌ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِئَ" .
سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا، سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: میزان میں سب سے وزنی چیز اچھے اخلاق ہیں، اور اللہ تعالیٰ برے اخلاق کے مالک بدزبان شخص کو ناپسند کرتا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 398]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد: وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» ، برقم: 481، برقم: 5693، برقم: 5695، وأبو داود فى «سننه» ، برقم: 4799، والترمذي فى «جامعه» ، برقم: 2002»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 399
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 399
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَجُلا أَتَاهُ، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ أَبِي يَأْمُرُنِي بِطَلاقِهَا، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، أَوْ فَأَضِعْ ذَلِكَ , أَوِ احْفَظْهُ" . وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: إِنَّ أُمِّي، وَرُبَّمَا قَالَ: إِنَّ أُمِّي وَأَبِي.
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے: ایک شخص ان کے پاس آیا اور ان سے کہا: میرے والد مجھے یہ حکم دے رہے ہیں کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: والد جنت کا درمیانی دروازہ ہے۔ (یہ تمہاری مرضی ہے) کہ تم اسے ضائع کرتے ہو یا اس کی حفاظت کرتے ہو۔ سفیان نامی راوی نے بعض اوقات یہ الفاظ نقل کئے ہیں: میری والدہ نے مجھے یہ حکم دیا ہے، اور بعض اوقات انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں: میری والدہ نے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) میرے والد نے مجھے یہ حکم دیا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 399]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح: أخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 425، والحاكم فى «مستدركه» ، برقم: 2815،7344،7345، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1900، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2089، برقم: 3663، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 22131»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 400
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 400
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ:" قَرَأْتُ بِالشَّامِ: وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى، قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: هَكَذَا سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ يَقْرَؤُهَا؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: هُوَ يَشْهَدُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُهَا كَذَلِكَ: وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى" .
علقمہ بیان کرتے ہیں: میں نے شام میں یہ آیت تلاوت کی: «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى»، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا تم نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ آیت اسی طرح تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! تو وہ بولے: اور انہوں نے گواہی دے کر یہ بات بیان کی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیت اس طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے: «وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى» [مسند الحميدي/حدیث: 400]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «تفسير سورة الليل» برقم: 3287،3742،3743،3761،4943،4944،6278، ومسلم فى «صلاة المسافرين» برقم: 824،وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6330،6331،7127، والحاكم في «مستدركه» برقم: 5424، والنسائي فى «الكبرى» برقم: 8241، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2939، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 28182»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 401
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 401
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ السَّعْدِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَكْلِ الضَّبُعِ، فَقَالَ: أَوَ يَأْكُلُهَا أَحَدٌ؟ فَقُلْتُ: إِنَّ نَاسًا مِنْ قَوْمِي يَتَحَبَّلُونَهَا فَيَأْكُلُونَهَا، فَقَالَ سَعِيدٌ: إِنَّهُ لا يَصْلُحُ أَكْلُهَا، فَقَالَ شَيْخٌ عِنْدَهُ: أَلا أُخْبِرُكَ مِمَّا سَمِعْتُ مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ نُهْبَةٍ، وَعَنْ كُلِّ خَطْفَةٍ، وَعَنِ الْمُجَثَّمَةِ، وَعَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ" ، فَقَالَ سَعِيدٌ: صَدَقْتَ.
عبداللہ بن یزید سعدی بیان کرتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب سے بجو کھانے کے بارے میں دریافت کیا، تو وہ بولے: کیا کوئی شخص اسے کھا سکتا ہے؟ میں نے کہا: میری قوم سے تعلق رکھنے والے لوگ اس کا شکار کر کے اسے کھاتے ہیں، تو سعید بولے: اسے کھانا درست نہیں ہے، تو ان کے پاس موجود ایک عمر رسیدہ صاحب نے کہا: کیا میں آپ کو اس چیز کے بارے میں بتاؤں، جو میں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کی زبانی سنی ہے۔ میں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زندہ جانور سے کاٹے جانے والے عضو اور نشانہ بنا کر مارے جانے والے جانور، ہر نوکیلے دانتوں والے جانور کو کھانے سے منع کیا ہے۔ تو سعید نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 401]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده جيد: أخرجه الترمذي في «جامعه» برقم: 1473، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 22120، برقم: 28160، والبزار فى «مسنده» ، برقم: 4091، وعبد الرزاق فى «مصنفه» ، برقم: 8687،8688»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں