🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 468
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 468
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" كُنْتُ فِيمَنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى مِنًى" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں ان لوگوں میں شامل تھا، جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے کمزور افراد کے ہمراہ مزدلفہ سے منیٰ جلدی روانہ کر دیا تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 468]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1677، 1678، 1856، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1293، 1294، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2870، 2872، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3862، 3863، 3865، 3869، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3032، 3033، 3048، 3064، 3065، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4021، 4022، 4041، 4056، 4057، 4169، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1939، 1940، 1941، والترمذي فى «جامعه» برقم: 892، 893، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3025، 3026»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 469
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 469
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرٌو ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے مندرجہ بالا روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 469]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1677، 1678، 1856، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1293، 1294، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2870، 2872، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3862، 3863، 3865، 3869، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3032، 3033، 3048، 3064، 3065، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4021، 4022، 4041، 4056، 4057، 4169، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1939، 1940، 1941، والترمذي فى «جامعه» برقم: 892، 893، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3025، 3026»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 470
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 470
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مِسْعَرٌ ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، وَغَيْرُهُمَا عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَّمَ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى مِنًى، وَجَعَلَ يَلْطَحُ أَفْخَاذَنَا وَيَقُولُ: " أُبَيْنيَّ لا تَرْمُوا جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدالمطلب سے تعلق رکھنے والے کم سن لڑکوں کو مزدلفہ سے منیٰ (لوگوں سے) پہلے روانہ کر دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے زانوں پر نرمی سے ہاتھ مارتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے میرے چھوٹے بچوں! تم لوگ جمرہ عقبیٰ کی رمی اس وقت تک نہ کرنا جب تک سورج نہ نکل آئے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 470]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1677، 1678، 1856، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1293، 1294، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2870، 2872، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3862، 3863، 3865، 3869، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3032، 3033، 3048، 3064، 3065، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4021، 4022، 4041، 4056، 4057، 4169، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1939، 1940، 1941، والترمذي فى «جامعه» برقم: 892، 893، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3025، 3026»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 471
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 471
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَخَرَّ رَجُلٌ عَنْ بَعِيرِهِ، فَوُقِصَ فَمَاتَ وَهُوَ مُحْرِمُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُهِلُّ، أَوْ قَالَ: يُلَبِّي" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر کر رہے تھے، ایک شخص اپنے اونٹ سے گرا، اس کی گردن کی ہڈی ٹوٹی اور وہ انتقال کر گیا۔ وہ احرام باندھے ہوئے تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے غسل دو اور اسے اس کے دو کپڑوں میں کفن دو، تم اس کے سر کو نہ ڈھانپنا، کیونکہ قیامت کے دن اسے تلبیہ پڑھتے ہوئے زندہ کیا جائے گا۔ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)۔ [مسند الحميدي/حدیث: 471]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1265، 1266، 1267، 1268، 1839، 1849، 1850، 1851، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1206، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3957، 3958، 3959، 3960، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1903، 2712، 2713، 2853، 2854، 2855، 2856، 2857، 2858، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2042، 3679، 3680، 3822، 3823، 3824، 3825، 3826، 3827، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3238، 3241، والترمذي فى «جامعه» برقم: 951، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1894، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3084»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 472
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 472
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي حُرَّةَ النَّصِيبِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، وَزَادَ فِيهِ:" وَلا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا".
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: اسے خوشبو نہ لگانا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 472]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه وانظر التعليق السابق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 473
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 473
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرٌو ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو مَعْبَدٍ ، وَكَانَ مِنْ أَصْدَقِ مَوَالِي ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، وَهُوَ يَقُولُ: " لا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ، وَلا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ أَنْ تُسَافِرَ إِلا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ"، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي اكْتَتَبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا، وَإِنَّ امْرَأَتِي انْطَلَقَتْ حَاجَّةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْطَلِقْ فَاحْجُجْ مَعَ امْرَأَتِكَ" . قَالَ سُفْيَانُ: كَانَ الْكُوفِيُّونَ يَأْتُونَ أَبَدًا عُمَرَ، وَيَسْأَلُونَهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، يَقُولُونَ: كَيْفَ حَدِيثُ اكْتَتَبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا؟.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہوئے سنا: کوئی مرد کسی عورت سے تنہا ہرگز نہ رہے، اور کسی بھی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ سفر پر جائے ماسوائے اس کے کہ اس کے ساتھ کوئی محرم عزیز ہونا چاہئے۔ ایک صاحب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھڑے ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرا نام فلاں، فلاں جنگ میں حصہ لینے کے لیے درج کر لیا گیا ہے، اور میری بیوی حج کرنے کے لیے جا رہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جاؤ اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: کوفہ سے تعلق رکھنے والے لوگ (میرے استاد) عمرو بن دینار مکی کی خدمت میں آیا کرتے تھے اور ان سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کرتے تھے۔ وہ یہ کہتے تھے، وہ حدیث کیسی ہے، جس میں یہ ہے کہ میرا نام فلاں فلاں جنگ میں حصہ لینے کے لیے لکھا گیا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 473]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1862، 3006، 3061، 5233، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1341، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2529، 2530، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2731، 3756،3757، 5589، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 9174، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2900، وأحمد فى «مسنده» برقم: 1959، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2391، 2516»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 474
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 474
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الشَّعْثَاءِ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْعَبَّاسِ يَقُولُ: قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ، فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا، فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ" يَعْنِي وَهُوَ مُحْرِمٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: (احرام والے) جس شخص کو جوتے نہیں ملتے وہ موزے پہن لے، جسے تہبند نہیں ملتا، وہ شلوار پہن لے (راوی کہتے ہیں: یعنی احرام والا شخص)۔ [مسند الحميدي/حدیث: 474]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1740، 1841، 1843، 5804، 5853، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1178، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2681، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3781، 3782، 3785،3786، 3789، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2670، 2671،2678، 5340، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3637، 3638، 3645، 9596، 9597، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1829، والترمذي فى «جامعه» برقم: 834، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1840، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2931»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 475
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 475
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ , أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ ثَمَانِيًا جَمِيعًا , وَسَبْعًا جَمِيعًا، فَقُلْتُ: لَهُ يَا أَبَا الشَّعْثَاءِ! أَظُنُّهُ أَخَّرَ الظُّهْرَ، وَعَجَّلَ الْعَصْرَ، وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ، وَعَجَّلَ الْعِشَاءَ، فَقَالَ: وَأَنَا أَظُنُّ ذَلِكَ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں مدینہ منورہ میں آٹھ رکعات ایک ساتھ اور سات رکعات ایک ساتھ ادا کی ہیں۔ عمرو بن دینار مکی نامی راوی کہتے ہیں: میں نے (اپنے استاد) جابر بن زید سے دریافت کیا: اے ابوشعثاء! میرا خیال ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز تاخیر سے ادا کی ہو گی اور عصر کی نماز جلدی ادا کر لی ہو گی اور مغرب کی تاخیر سے ادا کی ہو گی، اور عشاء کی نماز جلدی ادا کر لی ہو گی، تو وہ بولے: میرا بھی یہی خیال ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 475]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 543، 562، 1174، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 705، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 967، 971، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1596، 1597، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 375، 381، 382، 1578، 1586، 1587، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1210، 1211، 1214، والترمذي فى «جامعه» برقم: 187، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1069، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 1899 برقم: 1943، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2394، 2401، 2531، 2678»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 476
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 476
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابِنْ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ مِنْ غَيْرِ سَفَرٍ وَلا خَوْفٍ ثَمَانِيًا جَمِيعًا , وَسَبْعًا جَمِيعًا، قُلْتُ: لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: أَرَادَ أَنْ لا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں کسی سفر کے علاوہ (یعنی حضر کی حالت میں) اور خوف کے بغیر آٹھ رکعات ایک ساتھ اور سات رکعات ایک ساتھ ادا کی ہیں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے اپنے استاد سے دریافت کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا تھا؟ تو انہوں نے جواب دیا: میرا خیال ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو حرج میں مبتلا نہ کریں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 476]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 543، 562، 1174، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 705، ومالك فى «الموطأ» برقم: 480، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 967، 971، 972، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1596، 1597، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 588، 590، 600، 601، 602، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 375، 381، 382، 1578، 1586، 1587، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1210، 1211، 1214، والترمذي فى «جامعه» برقم: 187، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1069»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 477
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 477
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنٍّ مُعَلَّقٍ وُضُوءًا خَفِيفًا، وَجَعَلَ يَصِفُهُ وَيُقَلِّلُهُ، فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ الَّذِي صَنَعَ ثُمَّ جِئْتُ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخْلَفَنِي، فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ أَتَاهُ بِلالٌ، فَآذَنَهُ بِالصَّلاةِ، فَخَرَجَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں رات کے وقت اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ٹھہر گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت بیدار ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لٹکے ہوئے مشکیزے سے وضو کیا، جو مختصر تھا۔ پھر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کی صفت بیان کرتے ہوئے بتایا: وہ تھوڑا سا تھا، تو میں بھی اٹھا، اور میں نے بھی اسی طرح کیا، جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، پھر میں آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے سے گزار کر اپنے دائیں طرف کھڑا کر لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے اور سو گئے، یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے۔ پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے لیے بلایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی اور از سر نو وضو نہیں کیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 477]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 117، 138، 183، 697، 698، 699، 726، 728، 859، 992، 1198، 4569، 4570، 4571، 4572، 5919، 6215، 6316، 7452، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 256، 304، 763، ومالك فى «الموطأ» برقم: 120، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 127، 448، 449، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1445، 2196، 2579، 2592، 2626، 2627، 2636،وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2465، 2545، 2570»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں