مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 591
حدیث نمبر: 591
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عِيسَى بْنَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ , أَنَّ رَجُلا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ:" ارْمِ وَلا حَرَجَ"، وَقَالَ آخَرُ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْبَحْ وَلا حَرَجَ" . فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: هَذَا مِمَّا حَفِظْتَ مِنَ الزُّهْرِيِّ، فَقَالَ: نَعَمْ، كَأَنَّهُ يَسْمَعُهُ إِلا أَنَّهُ طَوِيلٌ، فَحَفِظْتُ هَذَا مِنْهُ، فَقَالَ لَهُ بُلَيْلٌ: فَإِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ يُحَدِّثُ عَنْكَ أَنَّكَ قُلْتَ لَمْ أَحْفَظْهُ، فَقَالَ: صَدَقَ لَمْ أَحْفَظْهُ كُلَّهُ، وَأَمَّا هَذَا فَقَدْ أَتْقَنْتُهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے رمی کرنے سے پہلے قربانی کر لی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اب رمی کر لو۔ کوئی حرج نہیں ہے۔“ ایک اور صاحب آئے انہوں نے عرض کی: میں نے قربانی سے پہلے سر منڈوا لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اب قربانی کر لو۔ کوئی حرج نہیں ہے۔“ سفیان سے یہ کہا گیا: آپ نے زہری کی زبانی یہ روایت یاد کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! گویا کہ وہ اس وقت بھی اسے سن رہے تھے۔ تاہم یہ روایت طویل ہے۔ میں نے اس میں سے صرف اس حصے کو یاد رکھا ہے۔ تو بلبل نے ان سے کہا: (ایک قول کے مطابق اس کا نام بلیل بن حرب ہے) عبدالرحمن بن مہدی تو آپ کے حوالے سے یہ کہتے ہیں، آپ نے یہ بات بیان کی ہے، مجھے یہ روایت مکمل طور پر یاد نہیں ہے، تاہم جہاں تک اس حصے کا تعلق ہے، تو یہ مجھے یقینی طور پر یاد ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 591]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 83، 124، 1736، 1737، 1738، 6665، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1306، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2949، 2951، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3877، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2014، والترمذي فى «جامعه» برقم: 916، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1948، 1949، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3051، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 9713، 9714، 9722، 9723، 9724، 9725،وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 6595»
حدیث نمبر 592
حدیث نمبر: 592
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْزِعُهُ مِنْ قُلُوبِ الرِّجَالِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُهُ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ، فَإِذَا لَمْ يَتْرُكْ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالا، فَسَأَلُوهُمْ فَأَفْتَوْهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا" . قَالَ عُرْوَةُ: ثُمَّ لَبِثْتُ سَنَةً، ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فِي الطَّوَافِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ فَأَخْبَرَنِي بِهِ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ اس علم کو یوں قبض نہیں کرے گا کہ اسے لوگوں کے دلوں میں سے نکال لے گا بلکہ وہ اسے علماء کو قبض کر کے قبض کرے گا، پھر وہ کسی عالم کو باقی نہیں رہنے دے گا، تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنا لیں گے۔ وہ ان سے مسائل دریافت کریں گے، تو وہ لوگ علم نہ ہونے کے باوجود انہیں جواب دیں گے۔ وہ لوگ خود گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔“ عروہ کہتے ہیں: پھر کئی سال گزر گئے پھر میری ملاقات طواف کے دوران سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ میں نے ان سے اس روایت کے بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے مجھے اس کے بارے میں بتایا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 592]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 100، 7307، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2673، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4571، 6719، 6723، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5876، 5877، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2652، والدارمي فى «مسنده» برقم: 245، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 52، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 20411، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 6622»
حدیث نمبر 593
حدیث نمبر: 593
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا سُلَيْمَانُ الأَحْوَلُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: " لَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الأَوْعِيَةِ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّهُ لَيْسَ كُلُّ النَّاسِ يَجِدُ سِقَاءً، فَرَخَّصَ لَهُمْ فِي الْجَرِّ غَيْرِ الْمُزَفَّتِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مخصوص برتنوں سے منع کر دیا، تو عرض کی گئی: یا رسول اللہ! ہر شخص کے پاس مشکیزہ نہیں ہوتا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایسا مٹکا استعمال کرنے کی اجازت دی جو مزفت نہ ہو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 593]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5593، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2000، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 5661، 5666، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5140، 6812، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3700، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17562، 17563، والدارقطني فى «سننه» برقم: 4673، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 6608»
حدیث نمبر 594
حدیث نمبر: 594
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَصْلَتَانِ هُمَا يَسِيرٌ وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ، وَلا يُحَافِظُ عَلَيْهِمَا مُسْلِمٌ إِلا دَخَلَ الْجَنَّةَ" قَالُوا: وَمَا هُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" تُسَبِّحُ دُبُرَ كُلِّ صَلاةٍ عَشْرًا، وَتُكَبِّرُ عَشْرًا، وَتَحْمَدُ عَشْرًا، وَتُسَبِّحُ عِنْدَ مَنَامِكَ ثَلاثَةً وَثَلاثِينَ، وَتَحْمَدُ ثَلاثَةً وَثَلاثِينَ، وَتُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلاثِينَ"، ثُمَّ قَالَ سُفْيَانُ: أَحَدُهُنَّ أَرْبَعًا وَثَلاثِينَ، فَذَلِكَ مِائَتَانِ وَخَمْسُونَ بِاللِّسَانِ، وَأَلْفَانِ وَخَمْسِ مِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُهَا بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ:" فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي يَوْمِهِ وَلَيْلِهِ أَلْفَيْ سَيِّئَةٍ وَخَمْسِ مِائَةِ سَيِّئَةٍ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ لا يُحَافِظُ عَلَيْهِمَا؟ قَالَ:" يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ، فَيَقُولُ لَهُ: اذْكُرْ كَذَا , اذْكُرْ كَذَا حَتَّى يَقُومَ، وَلَمْ يَقُلْهَا" . قَالَ سُفْيَانُ: هَذَا أَوَّلُ شَيْءٍ سَأَلْنَا عَطَاءً عَنْهُ، وَكَانَ أَيُّوبُ أَمَرَ النَّاسَ حِينَ قَدِمَ عَطَاءٌ الْبَصْرَةَ، أَنْ يَأْتُوهُ فَيَسْأَلُوهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”دو عادتیں ایسی ہیں جو آسان ہیں، لیکن ان پر عمل کرنے والے لوگ تھوڑے ہیں، جو بھی مسلمان ان کو باقاعدگی سے سرانجام دے گا وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ دونوں کون سی ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نماز کے بعد 10 مرتبہ «سبحان الله» پڑھنا، 10 مرتبہ «الله أكبر» پڑھنا، 10 مرتبہ «الحمد لله» پڑھنا۔ اور سوتے وقت 33 مرتبہ «سبحان الله» پڑھنا، 33 مرتبہ «الحمد لله» پڑھنا اور 34 مرتبہ «الله أكبر» پڑھنا۔“ پھر سفیان نے یہ بات بیان کی: ان میں سے کوئی ایک کلمہ 34 مرتبہ ہے، تو یوں یہ روزانہ زبان کے اعتبار سے 250 کلمات ہو جائیں گے اور نامہ اعمال میں 2500 کلمات ہوں گے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے گنتی کر کے یہ بتایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کون شخص ایسا ہے، جو روزانہ 2500 گناہ کرتا ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! انہیں باقاعدگی سے پڑھا کیوں نہیں جا سکتا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان کسی شخص کے پاس آتا ہے اور اسے کہتا ہے: فلاں چیز یاد کرو، فلاں چیز یاد کرو، یہاں تک کہ آدمی اٹھ جاتا ہے (یعنی نماز کے بعد اٹھ جاتا ہے) اور ان کلمات کو نہیں پڑھتا ہے۔“ یہ وہ پہلی روایت ہے، جس کے بارے میں ہم نے عطاء سے سوال کیا تھا۔ جب عطاء بصرہ آئے تو ایوب نے لوگوں کو یہ ہدایت کی کہ وہ ان کی خدمت میں جائیں اور ان سے اس روایت کے بارے میں دریافت کریں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 594]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 843، 2012، 2018، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2012، 2013، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1347، 1354، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1272، 1280، 10580، 10586، 10587، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1502، 5065، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3410، 3411، 3486، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 926، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3077، 3419، 3420، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 6609»
حدیث نمبر Q595
حدیث نمبر: Q595
أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْإِمَامُ الْعَالِمُ الزَّاهِدُ الْحَافِظُ تَقِيُّ الدِّينِ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الْغَنِيِّ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ سُرُورٍ الْمَقْدِسِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ سَعْدُ اللَّهِ بْنُ نَصْرِ بْنِ الدَّجَّاجِيِّ الْفَقِيهُ الْوَاعِظُ قَالَ: أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ أَبُو مَنْصُورٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ الْخَيَّاطُ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ زَيْدٍ الْمُؤَدِّبُ قِرَاءَةُ عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ فِي سَنَةِ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَأَرْبَعِمِائَةٍ، فَأَقَرَّ بِهِ قَالَ: ثنا بِشْرٌ قَالَ:
حدیث نمبر 595
حدیث نمبر: 595
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! جِئْتُ أُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَتَرَكْتُ أَبَوَيَّ يَبْكِيَانِ، قَالَ:" فَارْجِعْ إِلَيْهِمَا , وَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوا ہوں، تاکہ ہجرت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کروں۔ اور میں اپنے ماں، باپ کو روتا ہوا چھوڑ کر آیا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کے پاس واپس جاؤ اور جس طرح تم نے انہیں رلایا ہے اسی طرح انہیں ہنساؤ۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 595]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3004، 5972، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2549، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 318، 419، 420، 421، 423، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 7343، 7348، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3103، 4174، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4296، 7738، 8643، 8644، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2528، 2529، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1671، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2782 والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17900، 17901، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 6601»
حدیث نمبر 596
حدیث نمبر: 596
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مِسْعَرٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ السَّائِبِ بْنِ فَرُّوخَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، إِلا أَنَّهُ قَالَ: فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”تم ان دونوں کی اچھی طرح خدمت کرو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 596]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3004، 5972، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2549، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 318، 419، 420، 421، 423، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3103، 4174، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4296، 7738،8643، 8644، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2528، 2529، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1671، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2782، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17900، 17901، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 6601»
حدیث نمبر 597
حدیث نمبر: 597
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ 4 ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرْ , أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا، وَيَعْرِفْ حَقَّ كَبِيرِنَا" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بڑوں کے حق کو نہیں پہچانتا اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 597]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 209، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4943، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1920، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 6848»
حدیث نمبر 598
حدیث نمبر: 598
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي صُهَيْبٌ مَوْلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَتَلَ عُصْفُورَةً، فَمَا فَوْقَهَا بِغَيْرِ حَقِّهَا سَأَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْ قَتْلِهَا"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا حَقُّهَا؟ قَالَ:" يَذْبَحُهَا فَيَأْكُلَهَا، وَلا يَقْطَعُ رَأْسَهَا، فَيَرْمِيَ بِهَا" . فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: فَإِنَّ حَمَّادَ بْنَ زَيْدٍ، يَقُولُ فِيهِ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ صُهَيْبٍ الْحَذَّاءِ، فَقَالَ سُفْيَانُ: مَا سَمِعْتُ عَمْرًا قَالَ قَطُّ: صُهَيْبٌ الْحَذَّاءُ , مَا قَالَ إِلا صُهَيْبٌ مَوْلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص چڑیا یا اس سے چھوٹے کسی جانور کو ناحق طور پر مار دیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس مارنے میں اس سے حساب لے گا۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس کا حق کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ اسے ذبح کر کے اسے کھا لے اور یہ کہ اس کا سر مکمل طور پر الگ کر کے اسے پھینک نہ دے۔“ سفیان سے کہا گیا: حماد بن زید اس روایت میں یہ کہتے ہیں: سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے یہ روایت صہیب الخداء کے حوالے سے نقل کی ہے، تو سفیان بولے: میں نے عمرو کو کبھی بھی صہیب الخداء کا تذکرہ کرتے ہوئے نہیں سنا۔ وہ تو صرف یہ کہتے تھے صہیب، جو عبداللہ بن عامر کے غلام ہیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 598]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 7669، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4354، 4457، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4519، 4841، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2021، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 18201، 19197، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 6661»
حدیث نمبر 599
حدیث نمبر: 599
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ , أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُقْسِطُونَ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ , الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وُلُّوا" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”انصاف کرنے والے لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نور کے منبروں پر رحمان کے دائیں طرف ہوں گے حالانکہ اس کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو والی (یعنی حاکم یا قاضی) نہیں بنائے گئے۔ لیکن وہ اپنے فیصلے اور اپنے گھر والوں کے بارے میں انصاف سے کام لیتے ہیں۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 599]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1827، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4484، 4485، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 7098، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 5394، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5885، 5886، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 20219، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 6596»