🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 775
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 775
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ لِي:" تَخَلَّفْ يَا مُغِيرَةُ، وَامْضُوا أَيُّهَا النَّاسُ"، قَالَ: فَمَضَى النَّاسُ وَتَخَلَّفْتُ، فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ جَاءَ، فَسَكَبْتُ عَلَيْهِ مِنْ إِدَاوَةٍ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ رُومِيَّةٌ، فَذَهَبَ يُخْرِجُ يَدَهُ، فَضَاقَتْ عَلَيْهِ الْجُبَّةُ، فَأَخْرَجَهَا مِنْ تَحْتِهَا، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيْدَيْهِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ , قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ لِي إِسْمَاعِيلُ: فَحَدَّثْتُ بِهِ الزُّهْرِيَّ، فَحَدَّثَ يَوْمًا بِأَحَادِيثِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِمَّا عِنْدَهُ مِنَ الْحَدِيثِ الْتَفَتَ إِلَيَّ، فَقَالَ: وَحَدَّثَنِي عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ثُمَّ مَضَى فِي حَدِيثِي حَتَّى فَرَغَ مِنْهُ.
حمزہ بن مغیرہ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: میں ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے مغیرہ! تم پیچھے رہو۔ اے لوگو! تم لوگ چلتے رہو۔ راوی بیان کرتے ہیں: لوگ چلتے رہے میں پیچھے رہ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے، تو میں نے برتن میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی انڈیلا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رومی جبہ پہنا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بازو اس سے نکالنے کی کوشش کی لیکن وہ تنگ تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نیچے کی طرف سے بازو باہر نکالا۔ اسے دھویا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک اور دونوں بازوؤں کو دھویا۔ اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں موزوں پر بھی مسح کر لیا۔ سفیان کہتے ہیں: اسماعیل بن محمد نامی راوی نے مجھے یہ بات بتائی ہے میں نے یہ روایت زہری کو سنائی تو ایک دن وہ موزوں پر مسح کے بارے میں روایات بیان کر رہے تھے۔ جب وہ ان روایات کو بیان کر کے فارغ ہو گئے جو ان کے پاس تھیں، تو میری طرف متوجہ ہوئے اور بولے: انہوں نے حمزہ بن مغیرہ کے حوالے سے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے۔ پھر انہوں نے میری نقل کردہ روایت بیان کی اور اسے مکمل بیان کیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 775]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 182، 203، 206، 363، 388، 2918، 4421، 5798، 5799، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 274، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1326، 1342، 1346، 1347، 2224، 2225، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 17، 79، 82، 107، 108، 123، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1، 149، 150، 151، 156، 161، والترمذي فى «جامعه» برقم: 20، 98، 100، والدارمي فى «مسنده» ، برقم: 686، 687، 740، 1374، 1375، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 331، 389، 545، 1236، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 267، 268، 269، 280، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 18421 برقم: 18428»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 776
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 776
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، وَحُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ، وَيُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيَمْسَحَ أَحَدُنَا عَلَى الْخُفَّيْنِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، إِذَا أَدْخَلَهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ" .
عروہ بن مغیرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کوئی شخص موزوں پر مسح کر سکتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ جب اس نے (اپنے دونوں پاؤں موزوں میں) اس وقت داخل کیے ہوں جب وہ دونوں پاک (یعنی باوضو حالت میں) ہوں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 776]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 182،203، 206، 363، 388، 2918، 4421، 5798، 5799، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 274، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1326، 1342، 1346، 1347، 2224، 2225، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 489، 610، 5953، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 17، 79، 82، 107، 108، 109، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1، 149، 150، 151، 156، 161، والترمذي فى «جامعه» برقم: 20، 98، 100، والدارمي فى «مسنده» برقم: 686، 687، 740، 1374، 1375، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 331، 389، 545، 1236، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 267، 268، 269، 280، 391، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 18421 برقم: 18428»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 777
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 777
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: ثني زِيَادُ بْنُ عِلاقَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، يَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفَلا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا" .
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قیام کیا (یعنی بکثرت نوافل ادا کیا) کرتے تھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں ورم آلود رہنے لگے، تو عرض کی گئی: یا رسول اللہ! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گزشتہ اور آئندہ گناہوں کی مغفرت نہیں کر دی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 777]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1130، 4836، 6471، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2819، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1643، والترمذي فى «جامعه» برقم: 412، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1419، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 4807، 13398، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 18485 برقم: 18527»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 778
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 778
حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا طُعْمَةُ بْنُ عَمْرٍو الْجَعْفَرِيُّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ بَيَانٍ التَّغْلِبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ بَاعَ الْخَمْرَ فَلْيُشَقِّصِ الْخَنَازِيرَ" .
عروہ بن مغیرہ اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ جو شخص شراب فروخت کرتا ہے وہ گویا خنزیروں کا گوشت (یعنی اسے کھانے کو جائز سمجھتا ہے) [مسند الحميدي/حدیث: 778]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد، وأخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 3489، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2147، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11160، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 18501، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 735، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 22039، والطبراني فى «الكبير» برقم: 884، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 8532»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 779
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 779
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ ، وَعَبْدُ الْمَلْكِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبْجَرَ ، جَمِيعًا سَمِعَا الشَّعْبِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" أَنَّ مُوسَى سَأَلَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ أَيُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَدْنَى مَنْزِلَةً؟ فَقَالَ: رَجُلٌ يَجِيءُ بَعْدَمَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، فَيُقَالُ لَهُ: ادْخُلْ وَقَدْ نَزَلُوا مَنَازِلَهُمْ، وَأَخَذُوا أَخَذَاتِهِمْ، قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: أَتَرْضَى أَنْ يَكُونَ لَكَ مِثْلُ مَا كَانَ لِمَلِكٍ مِنْ مِلُوكِ الدُّنْيَا؟ قَالَ: فَيَقُولُ: نَعَمْ، أَيْ رَبِّ قَدْ رَضِيتُ، قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ هَذَا وَمِثْلَهُ وَمِثْلَهُ وَمِثْلَهُ وَمِثْلَهُ، قَالَ: فَيَقُولُ: رَضِيتُ أَيْ رَبِّ، قَالَ: فَيقَالَ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ هَذَا وَعَشْرَةَ أَمْثَالِهِ مَعَهُ، فَيَقُولُ: رَضِيتُ أَيْ رَبِّ، قَالَ: فَيُقَالَ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ مَعَ هَذَا مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ، وَلَذَّتْ عَيْنُكَ، قَالَ: فَقَالَ مُوسَى: أَيْ رَبَّ، فَأَيُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَرْفَعُ مَنْزِلَةً؟ قَالَ: إِيَّاهَا أَرَدْتَ، وَسَأُحَدِّثُكَ عَنْهُمْ، إِنِّي غَرَسْتُ كَرَامَتَهُمْ بِيَدِي، وَخَتَمْتُ عَلَيْهَا، فَلا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ , قَالَ: وَمِصْدَاقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ سورة السجدة آية 17" .
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے منبر تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات بیان کی: سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے سوال کیا۔ انہوں نے عرض کی۔ اے میرے پروردگار! جنت میں قدر و منزلت کے اعتبار سے سب سے کم مرتبے کا شخص کون ہوگا؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہ ایک ایسا شخص ہوگا، جو اس کے بعد آئے گا، جب اہل جنت، جنت میں داخل ہو چکے ہوں گے، تو اسے کہا جائے گا: تم جنت میں داخل ہو جاؤ۔ حالانکہ اہل جنت اپنی، اپنی جگہ پر پہنچ چکے ہوں گے۔ اور انہوں نے اپنی مخصوص جائے قیام پر پڑاؤ کر لیا ہوگا، تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہیں (جنت میں) اتنی جگہ مل جائے، جو دنیا میں کسی بادشاہ کے پاس ہوتی تھی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ وہ شخص عرض کرے گا۔ اے میرے پروردگار! جی ہاں! میں اس سے راضی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تو اس سے کہا جائے گا: تمہیں یہ اور اس کی مانند (مزید) اور اس کی مانند (مزید) اور اس کی مانند (مزید) اور اس کی مانند (مزید) جگہ ملتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: وہ شخص عرض کرے گا۔ اے میرے پروردگار! میں راضی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تو اس شخص سے کہا جائے گا۔ تمہیں یہ بھی ملتی ہے اور اس کے ساتھ اس کی دس گنا (مزید جگہ بھی) ملتی ہے، تو وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! میں راضی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ اس سے کہا جائے گا: اس کے ساتھ تمہیں وہ سب کچھ ملے گا، جس کی تمہارے نفس کو خواہش ہے اور جس سے تمہاری آنکھوں کو لذت حاصل ہوتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی۔ اے پروردگار! جنت میں سب سے بلند ترین مرتبہ کس کا ہوگا؟، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم اس کا ارادہ رکھتے ہو؟ میں تمہیں ان لوگوں کے بارے میں بتاتا ہوں۔ میں نے اپنے دست قدرت کے ذریعے ان کی کرامت کا پودا لگایا ہے اور میں نے اس پر مہر لگا دی ہے، تو کسی آنکھ نے اسے دیکھا نہیں، کسی کان نے اس کے بارے میں سنا نہیں اور کسی انسان کے ذہن میں اس کا خیال تک نہیں آیا ہوگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اس کی تائید موجود ہے (ارشاد باری تعالیٰ ہے) «فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ» (32-السجدة:14) کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ پوشیدہ رکھا گیا ہے؟ [مسند الحميدي/حدیث: 779]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 189، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6216، 7385، 7426، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3198، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 35152، والطبراني فى "الكبير" برقم: 989»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 780
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 780
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا وَرَّادًا ، كَاتِبَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، يَقُولُ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى الْمُغِيرَةِ: اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ الْمُغِيرَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولَ إِذَا قَضَى صَلاتَهُ:" لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلا مُعْطِي لِمَا مَنَعْتَ، وَلا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ" .
وراد جو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے سیکرٹری ہیں وہ بیان کرتے ہیں: سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا۔ کہ آپ مجھے کوئی ایسی حدیث لکھ کر بھجوائیں جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو، تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں جوابی خط میں لکھا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز مکمل کر لیتے تھے، تو یہ پڑھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ بادشاہی اسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ اے اللہ! جسے تو عطا کر دے اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جسے تو نہ دے اسے کوئی دینے والا نہیں ہے تیری مرضی کے مقابلے میں کسی کوشش کرنے والے کی کوشش (یا کسی صاحب حیثیت شخص کا مال و مرتبہ) اس کے کسی کام نہیں آ سکتا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 780]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 844، 1477، 2408، 5975، 6330، 6473، 6615، 7292، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 593، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2005، 2006، 2007، 5555، 5556، 5719، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1340، 1341، 1342، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1505، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1389، 2793، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3065، 3066، 11459، 11460، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 18426 برقم: 18434 برقم: 18445»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 781
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 781
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ الْعَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَمْ يَتَوَكَّلْ مَنِ اسْتَرْقَى وَاكْتَوَى" .
عقار بن مغیرہ اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ جو شخص دم، جھاڑ کرتا ہے یا داغ لگواتا ہے۔ وہ توکل نہیں کرتا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 781]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6087، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 8373، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 7561، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2055، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3489، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 19603، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 18467 برقم: 18487»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 782
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 782
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، يَقُولُ: مَا سَأَلَ أَحَدٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ، مَا سَأَلْتُهُ، قَالَ:" وَمَا مَسْأَلَتُكَ عَنْهُ؟ إِنَّكَ لَنَ تُدْرِكَهُ" .
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں کسی نے اتنے سوالات نہیں کیے جتنے میں نے کیے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اس کے بارے میں دریافت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ تم اس تک نہیں پہنچ سکو گے (یا تم اس کا زمانہ نہیں پاؤ گے)۔ [مسند الحميدي/حدیث: 782]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 7122، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2152، 2939، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6782، 6800، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4073، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 18442 برقم: 18454 برقم: 18491»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں