مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 927
حدیث نمبر: 927
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ الأَعْرَجَ يُحُدِّثُ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ ، قَالَ:" صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةً أَظُنُّ أَنَّهَا الْعَصْرُ، فَقَامَ فِي الثَّانِيَةِ، وَلَمْ يَجْلِسْ، فَلَمَّا كَانَ فِي آخِرِ صَلاتِهِ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُسَلِّمَ" ,
سیدنا ابن بحینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک نماز پڑھائی میرا خیال ہے کہ وہ عصر کی نماز تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعات ادا کرنے کے بعد کھڑے ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے نہیں، تو نماز کے آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے سے پہلے دو مرتبہ سجدہ سہو کر لیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 927]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 829، 830، 1224، 1225، 1230، 6670، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 570، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1938، 1939، 1941، 2676، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1208، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1176، 1177، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1034، والترمذي فى «جامعه» برقم: 391، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1540، 1541، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1206، 1207، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 2846، 2847 وأحمد فى «مسنده» برقم: 23385، 23386»
حدیث نمبر 928
حدیث نمبر: 928
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، إِلا أَنَّهُ قَالَ: فَقَامَ فِي الَّتِي يُسْتَرَاحُ فِيهَا، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ بُحَيْنَةَ، وَرُبَّمَا قَالَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَالِكِ ابْنِ بُحَيْنَةَ.
سیدنا ابن بحینہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس رکعت کے بعد کھڑے ہو گئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھنا تھا۔“ سفیان نامی راوی بعض اوقات راوی کا نام سیدنا عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اور بعض اوقات سیدنا عبداللہ بن مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 928]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وانظر الحديث السابق»