مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 938
حدیث نمبر: 938
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ، قَالَ: " لا تَأْكُلْ إِلا مَا ذَكَّيْتَ" .
سیدنا عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لاٹھی کے ذریعے شکار کرنے کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اسے نہ کھاؤ صرف وہ کھاؤ جسے تم نے ذبح کیا ہو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 938]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 175، 2054، 5475، 5476، 5477، 5483، 5484، 5486، 5487، 7397، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1929، وابن حبان فى ”صحيحه“: 5880، 5881 وأبو داود فى «سننه» برقم: 2847، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2045، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1465، 1468، 1469، 1470، 1471 وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3208، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19916»
حدیث نمبر 939
حدیث نمبر: 939
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ، فَقَالَ: " مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَمَا أَصَابَ بِعُرْضِهِ فَلا تَأْكُلْ، فَإِنَّهُ وَقِيذٌ" .
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لاٹھی کے ذریعے شکار کرنے کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شکار اس کی دھار کے ذریعے مرا ہو اسے کھاؤ اور چوڑائی کی سمت لگنے سے مرا ہو اسے نہ کھاؤ کیونکہ وہ چوٹ کھا کر مرا ہوا جانور ہوگا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 939]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف مجالد، ولكن الحديث متفق عليه، فقد أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 175، 2054، 5475، 5476، 5477، 5483، 5484، 5486، 5487، 7397، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1929، وابن حبان فى "صحيحه برقم: 5880، 5881، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4274، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2847، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1465، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2045، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3208، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 18934، وأحمد فى «مسنده» برقم: 18534»
حدیث نمبر 940
حدیث نمبر: 940
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَيْفَ بِكَ إِذَا أَقْبَلَتِ الظَّعِينَةُ مِنْ أَقْصَى الْيَمَنِ إِلَى قُصُورِ الْحِيرَةِ لا تَخَافُ إِلا اللَّهَ" , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ بِطَيِّئٍ مَقَانِبِهَا وَرِجَالِهَا؟ قَالَ:" يَكْفِيهَا اللَّهُ طَيِّئًا وَمَنْ سِوَاهَا" , قَالَ مُجَالِدٌ: فَلَقَدْ كَانَتِ الظَّعِينَةُ تَخْرُجُ مِنْ حَضْرَمَوْتَ حَتَّى تَأْتِيَ الْحِيرَةَ.
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا، جب ایک عورت یمن کے دور دراز کے علاقے سے چل کر ”حیرہ“ کے محلات تک آئے گی اور اسے صرف اللہ تعالیٰ کا خوف ہوگا۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس وقت طے قبیلے کے ڈاکوؤں اور (لٹیرے) افراد کا کیا بنے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس عورت کے لیے اللہ تعالیٰ طے قبیلے اور باقی سب افراد کے حوالے سے کافی ہوگا۔“ مجاہد نامی راوی کہتے ہیں: (ایک ایسا وقت بھی آیا) کہ جب کوئی عورت ”حضرموت“ سے روانہ ہوتی تھی اور ”حیرہ“ تک آ جاتی تھی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 940]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف مجالد، ولكن الحديث صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1413، 1417، 3595، 6023، 6539، 6540، 6563، 7443، 7512، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1016، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2428، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 473، 666، 2804، 6679، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2551، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2415 م، 2953 م 2، 2954، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1698، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 185، 1843، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 7837، وأحمد فى «مسنده» برقم: 18535، والطبراني فى "الصغير" برقم: 917»
حدیث نمبر 941
حدیث نمبر: 941
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ؟ فَقَالَ: " حَتَّى يَتَبَيَّنَ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ" , قَالَ عَدِيٌّ: فَأَخَذْتُ عِقَالَيْنِ أَحَدُهُمَا أَبْيَضُ وَالآخَرُ أَسْوَدُ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، قَالَ سُفْيَانُ: شَيْئًا لَمْ أَحْفَظْهُ، وَقَالَ: إِنَّمَا هُوَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ ، فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: سَمِعْتَ هَذَا عَنْ مُجَالِدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَكَانَ يُحْسِنُهُ وَلَكِنِّي لَمْ أَحْفَظْهُ كُلَّهُ.
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (یعنی یہ تلاوت کی) ”جب تک سفید دھاگے سے ممتاز نہیں ہو جاتا۔“ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے دو دھاگے لیے ان میں سے ایک سفید تھا اور دوسرا سیاہ تھا۔ میں ان دونوں کا جائزہ لیتا رہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (کچھ ارشاد فرمایا) سفیان نامی راوی کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ مجھے یاد نہیں ہیں بہرحال اس سے مراد رات اور دن تھا۔ سفیان سے دریافت کیا گیا: کیا آپ نے مجاہد کی زبانی یہ بات سنی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ انہوں نے اسے بڑے اچھے طریقے سے بیان کیا تھا، لیکن میں روایت کے مکمل الفاظ یاد نہیں رکھ سکا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 941]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف مجالد، ولكن الحديث متفق عليه، فقد أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1916، 4509، 4510، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1090، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1925، 1926، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3462، 3463، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2168، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2490، 10954، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2349، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2970، 2970 م، 2971، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1736، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 277، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8096، وأحمد فى «مسنده» برقم: 19680، 19685»
حدیث نمبر 942
حدیث نمبر: 942
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ الْمُعَلَّمِ؟ فَقَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْعَلَّمَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكَ عَلَيْكَ، فَإِنْ أَكَلَ فَلا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ خَالَطَتْ كِلابَنَا كِلابٌ أُخْرَى؟ فَقَالَ:" إِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَى كَلْبِكَ" .
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تربیت یافتہ کتے کے شکار کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم اپنے تربیت یافتہ کتے کو چھوڑتے ہوئے اس پر اللہ کا نام لے لو تو جو شکار وہ تمہارے لیے کرے اسے تم کھاؤ۔ اگر وہ خود (اس شکار میں سے کچھ) کھا لے، تو تم اسے نہ کھاؤ کیونکہ یہ شکار اس نے اپنے لیے کیا ہے۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر ہمارے کتوں کے ساتھ دوسرے کتے بھی آ کر مل جاتے ہیں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم نے اپنے کتے پر اللہ کا نام ذکر کیا تھا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 942]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 175، 2054، 5475، 5476، 5477، 5483، 5484، 5486، 5487، 7397، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1929، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5880، 5881، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4274، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2847، 2848، 2849، 2850، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1465، 1468، 1469، 1470، 1471، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2045، 2046، 2052، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3208، 3212، 3213، 3214، 3215، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 18934، وأحمد فى «مسنده» برقم: 18534»