مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 954
حدیث نمبر: 954
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَذِهِ مِنْ هَذِهِ" , وَأَشَارَ سُفْيَانُ بِالسَّبَّابَةِ، وَالْوُسْطَى.
سیدنا سہیل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مجھے اور قیامت کو اس طرح مبعوث کیا گیا ہے جیسے یہ اور یہ ہیں۔“ سفیان نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بات بیان کی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 954]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 4936، 5301، 6503، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2950، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6642، وأحمد فى «مسنده» برقم: 23259، 23298، 23326، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 7523، والطبراني فى "الكبير" برقم: 5912، 5953، 5988، والطبراني فى "الأوسط" برقم: 5801»
حدیث نمبر 955
حدیث نمبر: 955
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: قَالَ لَنَا أَبُو حَازِمٍ : سَأَلُوا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ : مِنْ أَيِّ شَيْءٍ مِنْبَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: مَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَعْلَمَ بِهِ مِنِّي، هُوَ مِنْ أَثَلِ الْغَابَةِ، عَمِلَهِ لَهُ فُلانٌ مَوْلَى فُلانَةَ،" لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَعَدَ عَلَيْهِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَكَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى فَسَجَدَ، ثُمَّ صَعَدَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى، ثُمَّ سَجَدَ" .
ابو حازم بیان کرتے ہیں: لوگوں نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر کس چیز سے بنایا گیا تھا، تو انہوں نے فرمایا: اب لوگوں میں ایسا کوئی شخص باقی نہیں رہا جو اس کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتا ہو، یہ نواحی جنگلات کی لکڑی سے بنایا گیا تھا، جسے فلاں شخص نے بنایا تھا، جو فلاں خاتون کا غلام تھا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم الٹے قدموں نیچے اترے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا پھر منبر پر چڑھ گئے، پھر تلاوت کی پھر رکوع کیا پھر الٹے قدموں نیچے اترے پھر سجدہ کیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 955]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 377، 448، 917، 2094، 2569، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 544، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2142، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 738، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 820، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1080، والدارمي فى «مسنده» برقم: 41، 1293، 1606، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1416، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5310، 5311، 5312، 5779، وأحمد فى «مسنده» برقم: 23263، 23318، 23335»
حدیث نمبر 956
حدیث نمبر: 956
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ ، يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْلِحُ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فِي شَيْءٍ وَقَعَ بَيْنَهُمْ حَتَّى تَرَامَوْا بِالْحِجَارَةِ، فَحَضَرَتِ الصَّلاةُ، فَأَذَّنَ بِلالٌ، وَاحْتُبِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَتَخَلَّلُ الصُّفُوفَ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الصَّفِّ الَّذِي يَلِي أَبَا بَكْرٍ أَخَذَ النَّاسُ فِي التَّصْفِيحِ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلا لا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلاةِ، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ الْتَفَتَ، فَأَبْصَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ اثْبُتْ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَشَكَرَ اللَّهَ وَرَجَعَ الْقَهْقَرَى، وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاتَهُ، فَقَالَ:" يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا مَنَعَكَ حِينَ أَشَرْتُ إِلَيْكَ؟"، فَقَالَ: مَا كَانَ اللَّهُ لِيَرَى ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ انْحَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّاسِ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ , مَا لَكَمْ حِينَ نَابَكُمْ فِي صَلاتِكُمْ شَيْءٌ أَخَذْتُمْ فِي التَّصْفِيحِ؟ إِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ، وَالتَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلاتِهِ، فَلْيَقُلْ: سُبْحَانَ اللَّهِ" .
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن عوف کے درمیان صلح کروانے کے لیے تشریف لے گئے کیونکہ ان کے درمیان جھگڑا ہوا تھا، یہاں تک کہ انہوں نے ایک دوسرے کو پتھر بھی مارے تھے۔ اس دوران نماز کا وقت ہو گیا، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہیں رکے رہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھ گئے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کے درمیان میں سے گزرتے ہوئے تشریف لائے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے والی صف تک پہنچے، تو لوگوں نے تالیاں بجانی شروع کیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک ایسے فرد تھے، جو نماز کے دوران ادھر ادھر توجہ نہیں کرتے تھے، جب انہوں نے تالیوں کی آواز سنی اور توجہ کی، تو انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نظر آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ تم اپنی جگہ پر رہو۔ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور الٹے قدموں پیچھے ہٹ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوبکر! جب میں نے تمہیں اشارہ کیا پھر تم کو کس بات نے روکا؟“ (کہ تم میرے حکم پر عمل کرو) تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ تعالیٰ، ابوقحافہ کے بیٹے کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے نہیں دیکھے گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! کیا وجہ ہے کہ جب نماز کے دوران تمہیں ضرورت پیش آئی تو تم نے تالیاں بجانا شروع کر دیں؟ تالیاں بجانے کا حکم خواتین کے لیے ہے، مردوں کے لیے سبحان اللہ کہنے کا حکم ہے۔ جس شخص کو نماز کے دوران (امام کو متوجہ کرنے کے لئے) کوئی ضرورت پیش آ جائے، تو وہ سبحان اللہ کہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 956]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 684، 1201، 1204، 1218، 1234، 2690، 2693، 7190، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 421، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2260، 2261، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 4485، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 783، 792، 1182، وأبو داود فى «سننه» برقم: 940، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1035، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3380، وأحمد فى «مسنده» برقم: 23264، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 7513، 7517، 7524، 7545»
حدیث نمبر 957
حدیث نمبر: 957
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ ، قَالَ: كُنْتُ فِي الْقَوْمِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ، فَرَ فِيَّ رَأْيَكَ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَنْكِحْنِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَتْ، فَقَالَتْ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِلرَّجُلِ:" هَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ تُعْطِيهَا إِيَّاهُ؟" فَقَالَ: لا، قَالَ:" فَاذْهَبْ فَاطْلُبْ شَيْئًا"، فَذَهَبَ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا وَجَدْتُ شَيْئًا، قَالَ:" اذْهَبْ فَاطْلُبْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ"، فَذَهَبَ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا وَجَدْتُ شَيْئًا وَلا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ؟" قَالَ: نَعَمْ سُورَةُ كَذَا، وَسُورَةُ كَذَا، قَالَ:" فَاذْهَبَ فَقَدْ زَوَّجْتُكُهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ" .
سیدنا سہیل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود افراد میں شامل تھا۔ ایک خاتون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں خود کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کرتی ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بارے میں اپنی رائے کا جائزہ لے لیں۔ ایک صاحب کھڑے ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس کے ساتھ میری شادی کر دیں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی ضرورت نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے وہ عورت پھر کھڑی ہوئی اس نے پھر یہی گزارش کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحب سے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے، جسے تم (مہر کے طور پر) اسے دے سکو؟ انہوں نے عرض کی: جی نہیں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور جا کر کچھ تلاش کرو!“ وہ صاحب گئے پھر واپس تشریف لائے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے کوئی چیز نہیں ملی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور تلاش کرو، اگرچہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی ہو۔“ وہ صاحب گئے پھر آئے اور عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے کوئی چیز نہیں ملی، لوہے کی کوئی انگوٹھی بھی نہیں ملی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں قرآن آتا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: جی ہاں فلاں، فلاں سورہ آتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ! تمہیں جو قرآن آتا ہے اس کی وجہ سے میں نے تمہاری شادی اس کے ساتھ کر دی۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 957]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري 5149، 2310 وأخرجه مسلم 1425، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4093، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3200، 3280، 3339، 3359، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2111، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1114، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2247، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1889، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 7521، 7522، 7539»
حدیث نمبر 958
حدیث نمبر: 958
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، قَالَ: اخْتَلَفَ النَّاسُ بِأَيِّ شَيْءٍ دُوِيَ جُرْحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ؟ فَسَأَلُوا سَهْلا ، وَكَانَ مِنْ آخِرِ مَنْ بَقِيَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَ: مَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَعْلَمَ بِهِ مِنِّي،" كَانَتْ فَاطِمَةُ تَغْسِلُ عَنْ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّمَ، وَعَلِيٌّ يَأْتِي بِالْمَاءِ فِي تُرْسِهِ، فَأُخِذَ حَصِيرٌ، فَأُحْرِقَ فَحُشِيَ بِهِ جُرْحُهُ" .
ابو حازم بیان کرتے ہیں: لوگوں کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہو گیا کہ غزوہ احد کے دن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علاج کس طرح کیا گیا تھا؟ لوگوں نے اس بارے میں سیدنا سہیل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا۔ وہ مدینہ منورہ میں باقی رہ جانے والے آخری صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ تو سیدنا سہیل رضی اللہ عنہ نے بتایا: اب کوئی ایسا شخص باقی نہیں رہا جو اس بارے میں مجھ سے زیادہ علم رکھتا ہو۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے خون دھویا تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنی ڈھال میں پانی لے کر آئے تھے، پھر چٹائی لے کر اسے جلایا گیا اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم پر لگا دیا گیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 958]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 243، 2903، 2911، 3037، 4075، 5248، 5722، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1790، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 973، 6578، 6579، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 6504، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 9191، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2085، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3464، 3465، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 2847، 2848، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 4152، 17929، وأحمد فى «مسنده» برقم: 23262، 23293»
حدیث نمبر 959
حدیث نمبر: 959
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا" .
سیدنا سہیل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جنت میں ایک کوڑا رکھنے کی جگہ دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 959]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2794، 2892، 3250، 6415، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1881، 1882، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3118، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4311، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1648، 1664، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2443، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2756، 4330، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17960، 18563، وأحمد فى «مسنده» برقم: 15800، 15804، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 7514، 7531، 7534»
حدیث نمبر 960
حدیث نمبر: 960
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِبٍ أَوْ مَارِبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ، يَقُولُ:" يُرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ" وَأَشَارَ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَمَدَّ الْحُمَيْدِيُّ يَمِينَهُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَالْمُقَصِّرِينَ؟ فَقَالَ:" يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالْمُقَصِّرِينَ؟ فَقَالَ: " يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالْمُقَصِّرِينَ؟ فَقَالَ:" وَالْمُقَصِّرِينَ" , وَأَشَارَ الْحُمَيْدِيُّ بِيَدِهِ، فَلَمْ يَمُدَّ مِثْلَ الأَوَّلِ , قَالَ سُفْيَانُ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِي عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَارِبٍ، وَحِفْظِي قَارِبٍ، وَالنَّاسُ يَقُولُونَ: قَارِبٌ كَمَا حَفِظْتُ، فَأَنَا أَقُولُ: قَارِبٌ، أَوْ مَارِبٌ.
وہب بن عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: حجۃ الوداع کے موقع پر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ سر منڈوانے والوں پر رحم کرے۔“ پھر
امام حمیدی نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اس طرح اشارہ کیا انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ کو پھیلایا۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! بال چھوٹے کروانے والوں کے لیے بھی (دعا کر دیجئے)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سر منڈوانے والوں پر رحم کرے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! بال چھوٹے کروانے والوں کے لیے بھی (دعا کر دیجئے)، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سر منڈوانے والوں پر رحم کرے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! بال چھوٹے کروانے والوں کے لیے بھی (دعا کر دیجئے) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اللہ تعالیٰ) بال چھوٹے کروانے والوں (پر بھی رحم کرے)“ اس مرتبہ حمیدی نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا لیکن انہوں نے پہلی مرتبہ کی مانند اسے نہیں پھیلایا۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے اپنی تحریر میں راوی کا نام ”مارب“ دیکھا ہے اور میری یادداشت کے مطابق ان کا نام ”قارب“ ہے۔ لوگ بھی انہیں ”قارب“ ہی بیان کرتے ہیں: جس طرح مجھے یاد ہے۔ تاہم میں یہ کہتا ہوں کہ اس کا نام یا ”قارب“ ہے یا ”مارب“ ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 960]
امام حمیدی نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اس طرح اشارہ کیا انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ کو پھیلایا۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! بال چھوٹے کروانے والوں کے لیے بھی (دعا کر دیجئے)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سر منڈوانے والوں پر رحم کرے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! بال چھوٹے کروانے والوں کے لیے بھی (دعا کر دیجئے)، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سر منڈوانے والوں پر رحم کرے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! بال چھوٹے کروانے والوں کے لیے بھی (دعا کر دیجئے) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اللہ تعالیٰ) بال چھوٹے کروانے والوں (پر بھی رحم کرے)“ اس مرتبہ حمیدی نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا لیکن انہوں نے پہلی مرتبہ کی مانند اسے نہیں پھیلایا۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے اپنی تحریر میں راوی کا نام ”مارب“ دیکھا ہے اور میری یادداشت کے مطابق ان کا نام ”قارب“ ہے۔ لوگ بھی انہیں ”قارب“ ہی بیان کرتے ہیں: جس طرح مجھے یاد ہے۔ تاہم میں یہ کہتا ہوں کہ اس کا نام یا ”قارب“ ہے یا ”مارب“ ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 960]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد، وأخرجه أحمد فى «مسنده» برقم: 27846، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: برقم: 5671، وله شواهد من حديث ابن عمر وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3880، والترمذي فى «جامعه» برقم: 913، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3044، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1263، 2718، 2476»