🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ الزَّكَاةِ فِي الْعَيْنِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ
سونے اور چاندی کی زکوٰۃ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 657B4
قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ كَانَتْ عِنْدَهُ سِتُّونَ وَمِائَةُ دِرْهَمٍ وَازِنَةً وَصَرْفُ الدَّرَاهِمِ بِبَلَدِهِ ثَمَانِيَةُ دَرَاهِمَ بِدِينَارٍ: أَنَّهَا لَا تَجِبُ فِيهَا الزَّكَاةُ، وَإِنَّمَا تَجِبُ الزَّكَاةُ فِي عِشْرِينَ دِينَارًا عَيْنًا أَوْ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: ایک شخص کے پاس ایک سو ساٹھ درہم پورے ہیں، اور اس کے شہر میں آٹھ درہ کو ایک دینار ملتا ہے، تو زکوٰۃ واجب نہ ہوگی، کیونکہ زکوٰۃ جب واجب ہوتی ہے جب اس کے پاس بیس دینار یا دو سو درہم موجود ہوں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 657B4]
تخریج الحدیث: «شركة الحروف نمبر: 534، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 7»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 657B5
قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ خَمْسَةُ دَنَانِيرَ مِنْ فَائِدَةٍ أَوْ غَيْرِهَا فَتَجَرَ فِيهَا، فَلَمْ يَأْتِ الْحَوْلُ حَتَّى بَلَغَتْ مَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ: أَنَّهُ يُزَكِّيهَا وَإِنْ لَمْ تَتِمَّ إِلَّا قَبْلَ أَنْ يَحُولَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ بِيَوْمٍ وَاحِدٍ أَوْ بَعْدَ مَا يَحُولُ عَلَيْهَا الْحَوْلُ بِيَوْمٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ لَا زَكَاةَ فِيهَا حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ مِنْ يَوْمَ زُكِّيَتْ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ایک شخص کے پاس پانچ دینار تھے، سو اس نے اس میں تجارت کی اور سال ختم نہیں ہوا تھا کہ وہ اس مقدار کو پہنچ گئے جتنے میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، تو اس کو زکوٰۃ دینا پڑے گی، اگرچہ سال کے ختم ہونے کے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد وہ دینار اس مقدار کو پہنچے ہوں، پھر اس میں زکوٰۃ نہ ہوگی جب تک دوسرا سال ختم نہ ہوگا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 657B5]
تخریج الحدیث: «شركة الحروف نمبر: 534، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 7»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 657B6
وَقَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ عَشَرَةُ دَنَانِيرَ، فَتَجَرَ فِيهَا فَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ وَقَدْ بَلَغَتْ عِشْرِينَ دِينَارًا: أَنَّهُ يُزَكِّيهَا مَكَانَهَا وَلَا يَنْتَظِرُ بِهَا أَنْ يَحُولَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ مِنْ يَوْمَ بَلَغَتْ مَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ، لِأَنَّ الْحَوْلَ قَدْ حَالَ عَلَيْهَا وَهِيَ عِنْدَهُ عِشْرُونَ ثُمَّ لَا زَكَاةَ فِيهَا حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ مِنْ يَوْمَ زُكِّيَتْ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ایک شخص کے پاس دس دینار تھے، اس میں سے اس نے تجارت کی اور سال گزرتے گزرتے وہ بیس دینار پہنچ گئے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی، یہ نہ ہوگا کہ وہ انتظار کرے ایک سال گزرنے کا جب سے بیس دینار کو پہنچے ہیں۔ کیونکہ سال اس پر جب گزرا تو اس کے پاس بیس دینار تھے، پھر دوبارہ اس میں زکوٰۃ نہ ہوگی، جب تک دوسرا سال نہ گزرے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 657B6]
تخریج الحدیث: «شركة الحروف نمبر: 534، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 7»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 657B7
قَالَ مَالِك: الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِي إِجَارَةِ الْعَبِيدِ وَخَرَاجِهِمْ وَكِرَاءِ الْمَسَاكِينِ وَكِتَابَةِ الْمُكَاتَبِ، أَنَّهُ لَا تَجِبُ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ الزَّكَاةُ قَلَّ ذَلِكَ أَوْ كَثُرَ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ مِنْ يَوْمِ يَقْبِضُهُ صَاحِبُهُ
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: ہمارے نزدیک یہ امر اجماعی ہے کہ غلاموں کی مزدوری اور کرایہ میں اور مکاتب کے بدل کتاب میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے، قلیل ہو یا کثیر، جب تک مالک کے قبضے میں یہ چیزیں نہ جائیں اور اس پر ایک سال نہ گزر جائے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 657B7]
تخریج الحدیث: «شركة الحروف نمبر: 534، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 7»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 657B8
وَقَالَ مَالِك فِي الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ: يَكُونُ بَيْنَ الشُّرَكَاءِ إِنَّ مَنْ بَلَغَتْ حِصَّتُهُ مِنْهُمْ عِشْرِينَ دِينَارًا عَيْنًا أَوْ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ، فَعَلَيْهِ فِيهَا الزَّكَاةُ وَمَنْ نَقَصَتْ حِصَّتُهُ عَمَّا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ فَلَا زَكَاةَ عَلَيْهِ، وَإِنْ بَلَغَتْ حِصَصُهُمْ جَمِيعًا مَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ، وَكَانَ بَعْضُهُمْ فِي ذَلِكَ أَفْضَلَ نَصِيبًا مِنْ بَعْضٍ، أُخِذَ مِنْ كُلِّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ بِقَدْرِ حِصَّتِهِ إِذَا كَانَ فِي حِصَّةِ كُلِّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ، وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ"
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: سونا اور چاندی میں اگر کئی حصہ دار ہوں تو جس کا حصہ بیس دینار یا دو سو درہم تک پہنچے گا اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی، اور جس کا حصہ اس سے کم ہوگا اس پر زکوٰۃ واجب نہ ہوگی، اور جو سب کے حصے نصاب ہوں لیکن کسی کا حصہ زیادہ کسی کا کم ہو تو ہر ایک سے زکوٰۃ اس کے حصے کے موافق لی جائے گی بشرطیکہ ہر ایک کا حصہ نصاب کو پہنچے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 657B8]
تخریج الحدیث: «شركة الحروف نمبر: 534، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 7»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 657B9
قَالَ مَالِك: وَهَذَا أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي ذَلِكَ
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: یہ قول مجھے بہت پسند ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 657B9]
تخریج الحدیث: «شركة الحروف نمبر: 534، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 7»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 657B10
قَالَ مَالِك: وَإِذَا كَانَتْ لِرَجُلٍ ذَهَبٌ أَوْ وَرِقٌ مُتَفَرِّقَةٌ بِأَيْدِي أُنَاسٍ شَتَّى، فَإِنَّهُ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يُحْصِيَهَا جَمِيعًا، ثُمَّ يُخْرِجَ مَا وَجَبَ عَلَيْهِ مِنْ زَكَاتِهَا كُلِّهَا
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: اگر کسی شخص کا چاندی اور سونا متفرق لوگوں کے پاس ہو تو وہ سب کو جمع کر کے اس کی زکوٰۃ نکالے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 657B10]
تخریج الحدیث: «شركة الحروف نمبر: 534، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 7»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 657B11
قَالَ مَالِك: وَمَنْ أَفَادَ ذَهَبًا أَوْ وَرِقًا إِنَّهُ لَا زَكَاةَ عَلَيْهِ فِيهَا، حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ مِنْ يَوْمَ أَفَادَهَا
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: جس شخص نے سونا چاندی کمایا تو اس پر زکوٰۃ نہیں ہے جب تک ایک سال نہ گزرے جس روز سے اس کو کمایا ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 657B11]
تخریج الحدیث: «شركة الحروف نمبر: 534، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 7»

3. بَابُ الزَّكَاةِ فِي الْمَعَادِنِ
کانوں کی زکوٰۃ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 658
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَطَعَ لِبِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ وَهِيَ مِنْ نَاحِيَةِ الْفُرُعِ فَتِلْكَ الْمَعَادِنُ لَا يُؤْخَذُ مِنْهَا إِلَى الْيَوْمِ إِلَّا الزَّكَاةُ"
کئی ایک لوگوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جاگیر کر دی تھیں سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو کانیں قبلیہ کی جو فرع کی طرف ہیں، تو اُن کانوں سے آج تک کچھ نہیں لیا جاتا سوا زکوٰۃ کے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 658]
تخریج الحدیث: «مرفوع ضعيف، أخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 3061، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 7730، 11959، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 2377، شركة الحروف نمبر: 535، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 8»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 658B1
قَالَ مَالِك: أَرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يُؤْخَذُ مِنَ الْمَعَادِنِ مِمَّا يَخْرُجُ مِنْهَا شَيْءٌ، حَتَّى يَبْلُغَ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا قَدْرَ عِشْرِينَ دِينَارًا عَيْنًا أَوْ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ، فَإِذَا بَلَغَ ذَلِكَ فَفِيهِ الزَّكَاةُ مَكَانَهُ، وَمَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ أُخِذَ بِحِسَابِ ذَلِكَ مَا دَامَ فِي الْمَعْدِنِ نَيْلٌ، فَإِذَا انْقَطَعَ عِرْقُهُ ثُمَّ جَاءَ بَعْدَ ذَلِكَ نَيْلٌ فَهُوَ مِثْلُ الْأَوَّلِ يُبْتَدَأُ فِيهِ الزَّكَاةُ كَمَا ابْتُدِئَتْ فِي الْأَوَّلِ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: میں تو یہ جانتا ہوں کہ کانوں میں سے جو مال برآمد ہو اس میں سے کچھ نہ لیا جائے جب تک قیمت اس کی بیس دینار یا دو سو درہم کو نہ پہنچے، البتہ جب اس قدر مال نکلے تو اس میں زکوٰۃ لی جائے، اور جو اس سے بھی زیادہ کا ہو تو اس کے حساب سے زکوٰۃ لی جائے جب تک کان سے آمدنی جاری ہو، اور جب آمدنی بند ہو جائے پھر شروع ہو تو زکوٰۃ بھی پھر شروع ہوگی جیسے پہلے آمدنی میں شروع ہوتی تھی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 658B1]
تخریج الحدیث: «شركة الحروف نمبر: 535، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 8»