مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
671. إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ
بے شک ہر نبی کے لیے ایک (مقبول) دعا ہوتی۔ اور بے شک میں نے اپنی اس دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کے حق میں شفاعت کرنے کے لیے چھپا کر رکھا ہے
حدیث نمبر: 1041
1041 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ، أنا الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ يَدْعُو بِهَا تُسْتَجَابُ لَهُ، وَأُرِيدُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي فِي الْآخِرَةِ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کے لیے ایک دعا ہوتی ہے جسے وہ مانگتا ہے تو قبول کی جاتی ہے اور میں یہ ارادہ رکھتا ہوں کہ اپنی اس دعا کو آخرت میں اپنی امت کے حق میں شفاعت کرنے کے لیے چھپا لوں۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1041]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6304، 7474، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 198، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6461، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3602، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2847، ومالك فى «الموطأ» برقم: 457، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4307، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7829»
حدیث نمبر: 1042
1042 - أنا أَبُو الْحَسَنِ، مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ، أنا الْقَاضِي أَبُو الطَّاهِرِ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسٍ، نا مَنْصُورٌ، نا أَبُو أُوَيْسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ، فَأُرِيدُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کے لیے ایک دعا ہوتی ہے میں ان شاء اللہ یہ ارادہ رکھتا ہوں کہ اپنی اس دعا کو اپنی امت کے حق میں شفاعت کرنے کے لیے چھپا لوں۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1042]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6304، 7474، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 198، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6461، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3602، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2847، ومالك فى «الموطأ» برقم: 457، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4307، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7829»
حدیث نمبر: 1043
1043 - أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، أنا ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، نا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، نا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً قَدْ دَعَا بِهَا فِي أُمَّتِهِ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي»
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک ہر نبی کے لیے ایک دعا ہوتی ہے جسے وہ اپنی امت کے حق میں مانگتا ہے اور بے شک میں نے اپنی اس دعا کو اپنی امت کے حق میں شفاعت کرنے کے لیے چھپا رکھا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1043]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6305، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 200، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12571، 13372»
حدیث نمبر: 1044
1044 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْغَازِي، بِالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، نا نَصْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُرَجَّى، بِالْمَوْصِلِ، نا أَبُو يَعْلَى، أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، نا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، نا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ دَعَا بِهَا، وَإِنِّي ادَّخَرْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کے لیے ایک دعا ہوتی ہے جسے وہ مانگتا ہے اور بے شک میں نے اپنی اس دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کے حق میں شفاعت کرنے کے لیے ذخیرہ کر لیا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1044]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6305، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 200، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12571، 13372»
حدیث نمبر: 1045
1045 - أنا التُّجِيبِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَامِي، نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، نا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ، وَأُرِيدُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ کہ . . .: ”ہر نبی کے لیے ایک دعا ہوتی ہے اور میں ان شاء اللہ یہ ارادہ رکھتا ہوں کہ قیامت کے دن اپنی امت کے حق میں شفاعت کرنے کے لیے اپنی اس دعا کو چھپا کر رکھوں۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1045]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6304، 7474، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 198، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6461، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3602، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2847، ومالك فى «الموطأ» برقم: 457، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4307، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7829»
وضاحت: تشریح: -
ہمارے شیخ حافظ زبیر علی زئی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
① نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت (مسلمانوں) کے لیے اللہ تعالیٰ ٰ کے اذن سے شفاعت (سفارش) کرنا برحق ہے اسے درج ذیل صحابہ نے بھی روایت کیا ہے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ [صحيح بخاري: 6305، صحيح مسلم: 200] ، سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ ( [صحيح مسلم: 201] ، سیدنا عبد الله بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ( [صحيح مسلم: 202] ، سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ [الشريعة اللآ جري: ص 338، ح780، وسنده صحيح] ، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ [أحمد: 12، 11/2، وسنده حسن، ابن ماجه: 4280، صححه الحاكم على شرط مسلم: 2/ 585 , 586] ، سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا [المستدرك للحاكم: 1/ 28 ج 227، وسنده صحيح وصححه الحاكم على شرط الشيخين و وافقه الذهبي] وغیرہ۔
بلکہ شفاعت والی حدیث متواتر ہے۔ دیکھئے نظم المتناثر للكتانی (ح: 304)
② رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت پر بے حد مہربان تھے اور اللہ نے آپ کو رحمتہ للعالمین بنا کر بھیجا۔
③ ہر نبی کی ایک دعا قطعی طور پر مقبول ہوتی رہی ہے اور نبی کو اس دعا کا علم بھی ہوتا تھا۔
④ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ ٰ نے تمام نبیوں پر فضیلت عطا فرمائی۔
⑤ جو مسلمان شرک و کفر نہ کرے اگر چہ کتنا ہی گناہگار ہو جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا [الاتحاف الباسم ص: 414، 415]
ہمارے شیخ حافظ زبیر علی زئی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
① نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت (مسلمانوں) کے لیے اللہ تعالیٰ ٰ کے اذن سے شفاعت (سفارش) کرنا برحق ہے اسے درج ذیل صحابہ نے بھی روایت کیا ہے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ [صحيح بخاري: 6305، صحيح مسلم: 200] ، سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ ( [صحيح مسلم: 201] ، سیدنا عبد الله بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ( [صحيح مسلم: 202] ، سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ [الشريعة اللآ جري: ص 338، ح780، وسنده صحيح] ، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ [أحمد: 12، 11/2، وسنده حسن، ابن ماجه: 4280، صححه الحاكم على شرط مسلم: 2/ 585 , 586] ، سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا [المستدرك للحاكم: 1/ 28 ج 227، وسنده صحيح وصححه الحاكم على شرط الشيخين و وافقه الذهبي] وغیرہ۔
بلکہ شفاعت والی حدیث متواتر ہے۔ دیکھئے نظم المتناثر للكتانی (ح: 304)
② رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت پر بے حد مہربان تھے اور اللہ نے آپ کو رحمتہ للعالمین بنا کر بھیجا۔
③ ہر نبی کی ایک دعا قطعی طور پر مقبول ہوتی رہی ہے اور نبی کو اس دعا کا علم بھی ہوتا تھا۔
④ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ ٰ نے تمام نبیوں پر فضیلت عطا فرمائی۔
⑤ جو مسلمان شرک و کفر نہ کرے اگر چہ کتنا ہی گناہگار ہو جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا [الاتحاف الباسم ص: 414، 415]
672. إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُؤْجَرُ فِي نَفَقَتِهِ كُلِّهَا
بے شک مومن کو اس کے تمام اخراجات میں اجر ملتا ہے
حدیث نمبر: 1046
1046 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى خَبَّابٍ نَعُودُهُ وَفِي بَيْتِهِ حَائِطٌ يُبْنَى، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُؤْجَرُ فِي نَفَقَتِهِ كُلِّهَا، إِلَّا شَيْئًا جَعَلَهُ فِي التُّرَابِ أَوِ الْبِنَاءِ»
ارثیٰ کہتے ہیں کہ ہم سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گئے اور ان کے گھر میں ایک دیوار تعمیر کی جا رہی تھی تو انہوں نے کہا کہ: میں نے رسول اللہ کہ سہ کہا کہ: ”بے شک مومن کو اس کے تمام اخراجات میں اجر ملتا ہے سوائے اس کے جو اس نے مٹی یا عمارت بنانے میں لگا دیا۔۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1046]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن ماجه: 4163، المعجم الكبير: 3675»
شریک نخعی مدلس و مختلط ہے اور ابواسحاق مدلس کا عنعنہ ہے۔
شریک نخعی مدلس و مختلط ہے اور ابواسحاق مدلس کا عنعنہ ہے۔
وضاحت: فائدہ: -
قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ ہم سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گئے انہوں نے اپنے پیٹ میں سات داغ لگوائے ہوئے تھے پس انہوں نے کہا: ہمارے ساتھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں وفات پا چکے وہ یہاں سے اس حال میں رخصت ہوئے کہ دنیا ان کا اجر وثواب کچھ نہ گھٹا سکی اور ان کے عمل میں کوئی کمی نہیں ہوئی جبکہ ہم نے دنیا اتنی پائی کہ جس کے خرچ کرنے کے لیے ہم نے مٹی کے سوا کوئی جگہ نہیں پائی (یعنی عمارتیں بنانے لگے) اور اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں اس کی دعا کرتا (راوی نے کہا:) پھر ہم ان کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوئے تو وہ اپنی دیوار بنا رہے تھے، کہنے لگے: ”بے شک مسلمان کو ہر اس چیز پر اجر ملتا ہے جسے وہ خرچ کرتا ہے سوائے اس چیز کے جسے وہ مٹی میں لگا دے۔“ [بخاري: 5672]
قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ ہم سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گئے انہوں نے اپنے پیٹ میں سات داغ لگوائے ہوئے تھے پس انہوں نے کہا: ہمارے ساتھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں وفات پا چکے وہ یہاں سے اس حال میں رخصت ہوئے کہ دنیا ان کا اجر وثواب کچھ نہ گھٹا سکی اور ان کے عمل میں کوئی کمی نہیں ہوئی جبکہ ہم نے دنیا اتنی پائی کہ جس کے خرچ کرنے کے لیے ہم نے مٹی کے سوا کوئی جگہ نہیں پائی (یعنی عمارتیں بنانے لگے) اور اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں اس کی دعا کرتا (راوی نے کہا:) پھر ہم ان کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوئے تو وہ اپنی دیوار بنا رہے تھے، کہنے لگے: ”بے شک مسلمان کو ہر اس چیز پر اجر ملتا ہے جسے وہ خرچ کرتا ہے سوائے اس چیز کے جسے وہ مٹی میں لگا دے۔“ [بخاري: 5672]
673. إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُجَاهِدُ بِسَيْفِهِ وَلِسَانِهِ
بے شک مومن اپنی تلوار اور اپنی زبان کے ذریعے جہاد کرتا ہے
حدیث نمبر: 1047
1047 - أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْكِنْدِيُّ، نا يَعْقُوبُ بْنُ الْمُبَارَكِ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْمُقْرِئُ، نا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ، نا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَرَى فِي الشِّعْرِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُجَاهِدُ بِسَيْفِهِ وَلِسَانِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَكَأَنَّمَا يَنْضَحُونَهُمْ بِالنَّبْلِ»
عبد الرحمن بن کعب بن مالک اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا عرض کیا ا: کہ اللہ کے رسول! صلی اللہ کہ سہ کہ شعر کے بارے کہ کہ سہ کہا: آپ کیا خیال رکھتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ کہ سہا سکتے ہیں کہ: ”بے شک مومن اپنی تلوار اور اپنی زبان کے ذریعے جہاد کرتا ہے، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان رہتی ہے، گویا وہ (ہجو کے ذریعہ سے) انھیں نیزوں سے مارتا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1047]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4707، 5786، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 21170، 21172، وأحمد فى «مسنده» برقم: 16026»
وضاحت: تشریح: -
اسلام کی سربلندی کے لیے کی جانے والی ہر کوشش کا نام جہاد ہے، جہاد کے ان گنت فضائل اور فوائد ہیں اور اس کی اقسام بھی کئی ہیں۔ مذکورہ حدیث میں جہاد کی دو قسموں کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے:
① جہاد بالسیف: یعنی تلوار وغیرہ کے ذریعے کفار سے جہاد کرنا جسے قتال بھی کہا جاتا ہے۔
② جہاد باللسان: یعنی زبان کے ذریعے جہاد کرنا، اس میں تقریر، تدریس، مناظرات اور دعوت و تبلیغ وغیرہ سب شامل ہیں، کفار کی ہجو کرنا بھی جہاد ہے۔ ایک مسلمان کو موقع ومحل کی مناسبت سے حسب استطاعت ہر طرح کے جہاد میں حصہ لینا چاہیے۔
اسلام کی سربلندی کے لیے کی جانے والی ہر کوشش کا نام جہاد ہے، جہاد کے ان گنت فضائل اور فوائد ہیں اور اس کی اقسام بھی کئی ہیں۔ مذکورہ حدیث میں جہاد کی دو قسموں کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے:
① جہاد بالسیف: یعنی تلوار وغیرہ کے ذریعے کفار سے جہاد کرنا جسے قتال بھی کہا جاتا ہے۔
② جہاد باللسان: یعنی زبان کے ذریعے جہاد کرنا، اس میں تقریر، تدریس، مناظرات اور دعوت و تبلیغ وغیرہ سب شامل ہیں، کفار کی ہجو کرنا بھی جہاد ہے۔ ایک مسلمان کو موقع ومحل کی مناسبت سے حسب استطاعت ہر طرح کے جہاد میں حصہ لینا چاہیے۔
674. إِنَّ الْحَسَدَ لِيَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ
بے شک حسد نیکیوں کو کھا جاتا ہے
حدیث نمبر: 1048
1048 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ التُّسْتَرِيُّ، أبنا أَبُو سَهْلٍ، مَحْمُودُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَعْفَرٍ الْعُكْبُرِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَفْصَةَ أَبُو حَفْصٍ الْخَطِيبُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ الْمُسْتَهِلِّ، بِحَلَبَ، ثَنِي الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1048]
تخریج الحدیث: إسناده ضعیف، عمر بن محمد بن حفصہ اور محمد بن معاذ بن مستہل کی توثیق نہیں ملی۔
حدیث نمبر: 1049
1049 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَذُو النُّونِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: نا الْعَسْكَرِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ، نا ابْنُ أَبِي دَاوُدَ، نا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، نا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ أَبِي عِيسَى الْحَنَّاطِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ»
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1049]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، وأخرجه ابن ماجه: 4210، ابويعلي: 3656، عیسٰی بن ابی عیسٰی حناط متروک ہے»
675. إِنَّ أَكْثَرَ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ الْأَجْوَفَانِ
بے شک زیادہ تر لوگوں کو جہنم میں جو چیز لے جائے گی وہ دو کھوکھلی چیزیں ہیں
حدیث نمبر: 1050
1050 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الشَّاهِدُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَدْرُونَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ؟» قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «فَإِنَّ أَكْثَرَ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ الْأَجْوَفَانِ الْفَمُ وَالْفَرْجُ، تَدْرُونَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّةَ؟» قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «فَإِنَّ أَكْثَرَ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّةَ تَقْوَى اللَّهِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ زیادہ تر لوگوں کو کون سی چیز جہنم میں لے جائے گی؟“ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔“ آپ نے فرمایا: ”بے شک زیادہ تر لوگوں کو جو چیز جہنم میں لے جائے گی وہ دو کھوکھلی چیزیں منہ اور شرمگاہ ہیں۔ جانتے ہو کہ زیادہ تر لوگوں کو کون سی چیز جنت میں لے جائے گی؟“ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک زیادہ تر لوگوں کو جو چیز جنت میں لے جائے گی وہ اللہ کا ڈر اور اچھا اخلاق ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1050]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الادب المفرد: 289، أحمد: 2 /442، الزهد لابن المبارك: 1073»
داود بن یزید اودی ضعیف ہے۔
داود بن یزید اودی ضعیف ہے۔
وضاحت: فائدہ: -
سیدنا ابوہر یرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کون سا عمل سب سے زیادہ (لوگوں کو) جنت میں داخل کرے گا؟ آپ نے فرمایا: ”تقویٰ اور اچھا اخلاق۔“ سوال کیا گیا کہ کون سی چیز سب سے زیادہ (لوگوں کو) جہنم میں لے جائے گی؟ فرمایا: ”دوکھوکھلی چیزیں منہ اور شرم گاہ۔“ [ابن ماجه: 4246، قال شيخناعلي زئي: إسناده صحيح]
سیدنا ابوہر یرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کون سا عمل سب سے زیادہ (لوگوں کو) جنت میں داخل کرے گا؟ آپ نے فرمایا: ”تقویٰ اور اچھا اخلاق۔“ سوال کیا گیا کہ کون سی چیز سب سے زیادہ (لوگوں کو) جہنم میں لے جائے گی؟ فرمایا: ”دوکھوکھلی چیزیں منہ اور شرم گاہ۔“ [ابن ماجه: 4246، قال شيخناعلي زئي: إسناده صحيح]