Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
256. باب صلاة الاستسقاء
باب: نماز استسقاء کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 515
515 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْقَى فَقَلَبَ رِدَاءَهُ
سیّدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا استسقاء کی تو اپنی چاد کو بھی الٹا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 515]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 15 كتاب الاستسقاء: 4 باب تحويل الرداء في الاستسقاء»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
257. باب رفع اليدين بالدعاء في الاستسقاء
باب: نماز استسقاء میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 516
516 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لاَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلاَّ فِي الاِسْتِسْقَاءِ، وَإِنَّهُ يَرْفَعُ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا استسقاء کے سوا اور کسی دعا کے لئے ہاتھ (زیادہ) نہیں اٹھاتے تھے اور استسقاء میں ہاتھ اتنا اٹھاتے کہ بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 516]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 15 كتاب الاستسقاء: 22 باب رفع الإمام يده في الاستسقاء»
وضاحت: ابو داؤد کی مرسل روایتوں میں یہی حدیث اس طرح ہے کہ استسقاء کے سوا پوری طرح آپ کسی دعا میں بھی ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بخاری کی اس روایت میں ہاتھ اٹھانے کے انکار سے مراد یہ ہے کہ بمبالغہ ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔ اس روایت سے یہ کسی بھی طرح ثابت نہیں ہو سکتا کہ آپ دعاؤں میں ہاتھ ہی نہیں اٹھاتے تھے۔ (راز)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
258. باب الدعاء في الاستسقاء
باب: بارش کے لیے دعا کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 517
517 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: أَصَابَتِ النَّاسَ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ، قَامَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلَكَ الْمَالُ، وَجَاعَ الْعِيَالُ، فَادْعُ اللهَ لَنَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَمَا نَرَى فِي السَّماءِ قَزَعَةً، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا وَضَعَهَا حَتَّى ثَارَ السَّحَابُ أَمْثَالَ الْجِبَالِ ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِهِ حَتَّى رَأَيْتُ الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمُطِرْنَا يَوْمَنَا ذلِكَ، وَمِنَ الْغَدِ، وَبَعْدَ الْغَدِ، وَالَّذِي يَلِيهِ، حَتَّى الْجُمُعَةِ الأُخْرَى فَقَامَ ذلِكَ الأَعْرَابِيُّ، أَوْ قَالَ غَيْرُهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ تَهَدَّمَ الْبِنَاءُ، وَغَرِقَ الْمَالُ، فَادْعُ اللهَ لَنَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: اللهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلاَ عَلَيْنَا فَمَا يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ السَّحَابِ إِلاَّ انْفَرَجَتْ وَصَارَتِ الْمَدينَةُ مِثْلَ الْجَوْبَةِ، وَسَالَ الْوَادِي قَنَاةُ شَهْرًا، وَلَمْ يَجِىءْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلاَّ حَدَّثَ بِالْجَوْدِ
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قحط پڑا آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ ایک دیہاتی نے کہا یا رسول اللہ جانور مر گئے اور اہل و عیال دانوں کو ترس گئے آپ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھائے اس وقت بادل کا ایک ٹکڑا بھی آسمان پر نظر نہیں آ رہا تھا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھوں کو نیچے بھی نہیں کیا تھا کہ پہاڑوں کی طرح گھٹا امڈ آئی اور آپ ابھی منبر سے اترے بھی نہیں تھے میں نے دیکھا کہ بارش کا پانی آپ کے ریش مبارک سے ٹپک رہا تھا اس دن اس کے بعد اور متواتر اگلے جمعہ تک بارش ہوتی رہی (دوسرے جمعہ کو) یہی دیہاتی پھر کھڑا ہوا یا کہا کہ کوئی دوسرا شخص کھڑا ہوا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ عمارتیں منہدم ہو گئیں اور جانور ڈوب گئے آپ ہمارے لئے اللہ سے دعا کیجئے آپ نے دونوں ہاتھ اٹھائے اور دعا کی کہ اے اللہ اب دوسری طرف بارش برسا اور ہم سے روک دے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ سے بادل کے لئے جس طرف بھی اشارہ کرتے ادھر مطلع صاف ہو جاتا۔ سارا مدینہ تالاب کی طرح بن گیا تھا اور قناۃ کا نالہ مہینہ بھر بہتا رہا اور ارد گرد سے آنے والے بھی اپنے یہاں بھر پور بارش کی خبر دیتے رہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 517]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 11 كتاب الجمعة: 35 باب الاستسقاء في الخطبة يوم الجمعة»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
259. باب التعوذ عند رؤية الريح والغيم، والفرح بالمطر
باب: بادل اور آندھی دیکھ کر پناہ مانگنے اور بارش کے وقت خوش ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 518
518 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا رَأَى مَخِيلَةً فِي السَّمَاءِ أَقْبَلَ وَأَدْبَرَ، وَدَخَلَ وَخَرَجَ، وَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ فَإِذَا أَمْطَرَتِ السَّمَاءُ سُرِّيَ عَنْهُ، فَعَرَّفَتْهُ عَائِشَةُ ذلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَدْرِي، لَعَلَّهُ كَمَا قَالَ قَوْمٌ (فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ) الآية
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابر کا کوئی ایسا ٹکڑا دیکھتے جس سے بارش کی امید ہوتی تو آپ کبھی آگے آتے کبھی پیچھے جاتے کبھی گھر کے اندر تشریف لاتے کبھی باہر آ جاتے اور چہرہ مبارک کا رنگ بدل جاتا لیکن جب بارش ہونے لگتی تو پھر یہ کیفیت باقی نہ رہتی ایک مرتبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے اس کے متعلق آپ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا میں نہیں جانتا ممکن ہے یہ بادل بھی ویسا ہی ہو جس کے بارے میں قوم عاد نے کہا تھا جب انہوں نے بادل کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے یہ ابراہیم پر برسنے والا ہے (نہیں) بلکہ دراصل یہ ابر وہ چیز ہے جس کی تم جلدی کر رہے تھے، ہوا ہے جس میں درد ناک عذاب ہے۔ (الاحقاف۲۴) [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 518]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 5 باب ما جاء في قوله (وهو الذي أرسل الرياح بُشْراً بين يدى رحمته»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
260. باب في ريح الصبا بالدبور
باب: دبور کے ساتھ صبا کی آندھی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 519
519 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ
سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پروا ہوا کے ذریعہ مجھے مدد پہنچائی گئی اور قوم عاد پچھوا کے ذریعہ ہلاک کر دی گئی تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 519]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 15 كتاب الاستسقاء: 26 باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم نصرت بالصبا»
وضاحت: مشرق سے آنے والی ہوا کو صبا (پروا) کہتے ہیں۔ صبا سے غزوہ احزاب کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی گئی تھی۔ جب تقریباً بارہ ہزار کے لشکر نے مدینہ کا محاصرہ کر رکھا تھا تو اللہ تعالیٰ نے سردیوں کی یخ بستہ رات میں صبا بھیج دی جس نے مشرکین کے چہروں کو غبار آلود کر دیا۔ ان کی آگ بجھ گئی اور ان کے خیمے اکھڑ گئے اور وہ لڑائی کے بغیر ہی شکست کھا گئے۔ پچھوا ہوا (مغرب کی ہوا) سخت تیز اندھی ہے۔ اسے عقیم اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس نے سیّدنا ہود علیہ السلام کی قوم کو ہلاک کر دیا اور ان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور ان کی نسل تباہ کر دی۔ (مرتبؒ)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں