Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
261. باب صلاة الكسوف
باب: نماز کسوف کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 520
520 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ، فَقَامَ فأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ مَا فَعَلَ فِي الأُولَى، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدِ انْجَلَتِ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آياتِ اللهِ، لاَ يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذلِكَ فَادْعُوا اللهَ وَكَبِّرُوا وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا ثُمَّ قَالَ: يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللهِ أَنْ يَزْنِىَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِىَ أَمَتُهُ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن ہوا تو آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی پہلے آپ کھڑے ہوئے تو بڑی دیر تک کھڑے رہے قیام کے بعد رکوع کیا اور رکوع میں بہت دیر تک رہے پھر رکوع سے اٹھنے کے بعد دیر تک دوبارہ کھڑے رہے لیکن آپ کے پہلے قیام سے کچھ کم پھر رکوع کیا تو بڑی دیر تک رکوع میں رہے لیکن پہلے سے مختصر پھر سجدہ میں گئے اور دیر تک سجدہ کی حالت میں رہے دوسری رکعت میں بھی آپ نے اسی طرح کیا جب آپ فارغ ہوئے تو گرہن کھل چکا تھا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ سورج اور چاند دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں اور کسی کی موت و حیات سے ان میں گرہن نہیں لگتا جب تم گرہن لگا ہوا دیکھو تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرو تکبیر کہو اور نماز پڑھو اور صدقہ کرو پھر آپ نے فرمایا اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی امت کے لوگو دیکھو اس بات پر اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت اور کسی کو نہیں آتی کہ اس کا کوئی بندہ یا بندی زنا کرے اے امت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) واللہ جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تمہیں معلوم ہو جائے تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة الكسوف/حدیث: 520]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 16 كتاب الكسوف: 2 باب الصدقة في الكسوف»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 521
521 صحيح حديث عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ، فَكَبَّرَ، فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ، فَرَكَع رُكوعًا طَوِيلاً، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقَامَ وَلَمْ يَسْجُدْ، وَقَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ وَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلاً، وَهُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكوعِ الأَوَّلِ؛ ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَالَ فِي الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ مِثْلَ ذلِكَ، فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكْعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ، وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ؛ ثُمَّ قَامَ فَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: هُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ لاَ يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلاَةِ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن لگا اسی وقت آپ مسجد میں تشریف لے گئے لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف باندھی آپ نے تکبیر کہی اور بہت دیر قرآن مجید پڑھتے رہے پھر تکبیر کہی اور بہت دیر لمبا رکوع کیا پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہہ کر کھڑے ہو گئے اور سجدہ نہیں کیا (رکوع سے اٹھنے کے بعد) پھر بہت دیر تک قرآن مجید پڑھتے رہے لیکن پہلی قرات سے کم پھر تکبیر کے ساتھ رکوع میں چلے گئے اور دیر تک قرآن مجید پڑھتے رہے لیکن پہلی قرات سے کم پھر تکبیر کے ساتھ رکوع میں چلے گئے اور دیر تک رکوع میں رہے یہ رکوع بھی پہلے سے کم تھا اب سمع اللہ لمن حمدہ اور ربنا و لک الحمد کہا پھر سجدہ میں گئے آپ نے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح (ان دونوں رکعات میں) پورے چار رکوع اور چار سجدے کئے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہی سورج صاف ہو چکا تھا نماز کے بعد آپ نے کھڑے ہو کر خطبہ فرمایا اور پہلے اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق تعریف کی پھر فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ کی دو نشانیاں ہیں ان میں گرہن کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں لگتا لیکن جب تم گرہن دیکھا کرو تو فورا نماز کی طرف لپکو۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة الكسوف/حدیث: 521]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 16 كتاب الكسوف: 4 باب خطبة الإمام في الكسوف»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 522
522 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَ سُورَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ بِسُورَةٍ أُخْرَى ثُمَّ رَكَعَ حَتَّى قَضَاهَا وَسَجَدَ، ثُمَّ فَعَلَ ذلِكَ فِي الثَّانِيَةِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى يُفْرَجَ عَنْكُمْ لَقَدْ رَأَيْتُ فِي مَقَامِي هذَا كُلَّ شَيْءٍ وُعِدْتُهُ، حَتَّى لَقَدْ رَأَيْتُنِي أُرِيدُ أَنْ آخُذَ قِطْفًا مِنَ الْجَنَّةِ، حِينَ رَأَيْتُمُونَي جَعَلْتُ أَتَقَدَّمُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا، حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ، وَرَأَيْتُ فِيهَا عَمْرَو بْنَ لُحَيٍّ، وَهُوَ الَّذِي سَيَّبَ السَّوَائِبَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ جب سورج گرہن لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (نماز کے لئے) کھڑے ہوئے اور ایک لمبی سورۃ پڑھی پھر رکوع کیا اور بہت لمبا رکوع کیا پھر سر اٹھایا اس کے بعد دوسری سورۃ شروع کر دی پھر رکوع کیا اور رکوع پورا کر کے اس رکعت کو ختم کیا اور سجدے میں گئے پھر دوسری رکعت میں بھی آپ نے اسی طرح کیا نماز سے فارغ ہو کر آپ نے فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں اس لئے جب ان میں گرہن دیکھو تو نماز شروع کر دو جب تک کہ یہ صاف ہو جائے اور دیکھو میں نے اپنی اسی جگہ سے ان تمام چیزوں کو دیکھ لیا ہے جن کا مجھ سے وعدہ ہے یہاں تک کہ میں نے یہ بھی دیکھا کہ میں جنت کا ایک خوشہ لینا چاہتا ہوں ابھی تم لوگوں نے دیکھا ہو گا کہ میں آگے بڑھنے لگا تھا اور میں نے دوزخ بھی دیکھی (اس حالت میں کہ) بعض آگ بعض آگ کو کھائے جا رہی تھی تم لوگوں نے دیکھا ہو گا کہ جہنم کے اس ہولناک منظر کو دیکھ کر میں پیچھے ہٹ گیا تھا میں نے جہنم کے اندر عمرو بن لحی کو دیکھا یہ وہ شخص ہے جس نے سانڈ کی رسم عرب میں جاری کی تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة الكسوف/حدیث: 522]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 21 كتاب العمل في الصلاة: 11 باب إذا تفلتت الدابة في الصلاة»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
262. باب ذكر عذاب القبر في صلاة الخسوف
باب: نماز خسوف میں قربان کے عذاب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 523
523 صحيح حديث عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ أَنَّ يَهُودِيَّةً جَاءَتْ تَسْأَلُهَا، فَقَالَتْ لَهَا: أَعَاذَكِ اللهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَسَأَلَتْ عَائَشَةُ، رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيُعَذَّبُ النَّاسُ فِي قُبُورِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَائِذًا بِاللهِ مِنْ ذلِكَ ثُمَّ رَكِبَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَاتَ غَدَاةٍ مَرْكَبًا، فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَرَجَعَ ضُحًى، فَمَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَيْنَ ظَهْرَانَي الْحُجَرِ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، وَقَامَ النَّاسُ وَرَاءَهُ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً، ثُمَّ رَكَعَ رُكوعًا طَويلاً، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَويلاً، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكوعًا طَويلاً، وَهُوَ دُونَ الرُّكوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ، ثُمَّ قَامَ، فَقَامَ قِيَامًا طَويلاً، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكوعًا طَويلاً، وَهُوَ دُونَ الرَّكوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَويلاً، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكوعًا طَويلاً، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ وَانْصَرَفَ، فَقَالَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ يَتَعَوَّذوا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ
ایک یہودی عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس مانگنے کے لئے آئی اور اس نے دعا دی کہ اللہ آپ کو قبر کے عذاب سے بچائے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا لوگوں کو قبر میں عذاب بھی ہو گا؟ اس پر آپ نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی اس سے پناہ مانگتا ہوں۔ پھر ایک مرتبہ صبح کو (کہیں جانے کے لئے) آپ سوار ہوئے اس کے بعد سورج گرہن لگا آپ دن چڑھے واپس ہوئے اور اپنی بیویوں کے حجروں سے گذرتے ہوئے (مسجد میں) نماز کے لئے کھڑے ہو گئے صحابہ نے بھی آپ کی اقتدا میں نیت باندھ لی آپ نے بہت ہی لمبا قیام کیا پھر رکوع بھی بہت طویل کیا اس کے بعد کھڑے ہوئے اور اب کی دفعہ قیام پھر لمبا کیا لیکن پہلے سے کچھ کم پھر رکوع کیا اور اس دفعہ بھی دیر تک رکوع میں رہے لیکن پہلے رکوع سے کچھ کم پھر رکوع سے سر اٹھایا اور سجدہ میں گئے اب آپ پھر دوبارہ کھڑے ہوئے اور بہت دیر تک قیام کیا لیکن پہلے قیام سے کچھ کم پھر ایک لمبا رکوع کیا لیکن پہلے رکوع سے کچھ کم پھر رکوع سے سر اٹھایا اور قیام میں اب کی دفعہ بھی بہت دیر تک رہے لیکن پہلے سے کم وقت تک (چوتھی مرتبہ) پھر رکوع کیا اور بہت دیر تک رکوع میں رہے لیکن پہلے سے مختصر رکوع سے سر اٹھایا تو سجدہ میں چلے گئے آخر آپ نے اس طرح نماز پوری کر لی اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو چاہا آپ نے فرمایا اسی خطبہ میں آپ نے لوگوں کو ہدایت فرمائی کہ عذاب قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة الكسوف/حدیث: 523]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 16 كتاب الكسوف: 7 باب التعوذ من عذاب القبر في الكسوف»
وضاحت: بعض روایتوں میں ہے کہ جب یہودیہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاسے عذاب قبر کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا چلو! قبر کا عذاب یہودیوں کو ہو گا، مسلمانوں کا اس سے کیا تعلق۔ لیکن اس یہودیہ کے ذکر پر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھااور آپ نے اس کا حق ہونا بتایا۔(راز)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
263. باب ما عرض على النبي صلی اللہ علیہ وسلم في صلاة الكسوف من أمر الجنة والنار
باب: نماز کسوف میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جنت اور دوزخ کا پیش کیا جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 524
524 صحيح حديث أَسْمَاءَ قَالَتْ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ وَهِيَ تُصَلِّي، فَقُلْتُ مَا شَأْنُ النَّاسِ فَأَشَارَتْ إِلَى السَّمَاءِ، فَإِذَا النَّاسُ قِيَامٌ، فَقَالَتْ: سُبْحَانَ اللهِ قُلْتُ: آيَةٌ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَيْ نَعَمْ فَقُمْتُ حَتَّى تَجَلاَّنِي الْغَشْيُ، فَجَعَلْتُ أَصُبُّ عَلَى رَأْسِي الْمَاءَ، فَحَمِدَ اللهَ، عَزَّ وَجَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: مَا مِنْ شَيْءٍ لَمْ أَكُنْ أُرِيتُهُ إِلاَّ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي، حَتَّى الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنونَ فِي قُبُورِكُمْ مِثْلَ أَوْ قَرِيبَ (قَالَ الرَّاوِي: لاَ أَدْرِي أَيَّ ذلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ) مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، يُقَالُ مَا عِلْمُكَ بِهذَا الرَّجُلِ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوِ الْمُوقِنُ (لاَ أَدْرِي بِأَيِّهِمَا قَالَتْ أَسْمَاءُ) فَيَقُولُ هُوَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ، جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى، فَأَجَبْنَا وَاتَّبَعْنَا، هُوَ مُحَمَّدٌ (ثَلاَثًا) ؛ فَيُقَالُ: نَمْ صَالِحًا، قَدْ عَلِمْنَا إِنْ كُنْتَ لَمُوقِنًا بِهِ؛ وَأَمَّا المُنَافِقُ أَوِ المُرْتَابُ (لاَ أَدْرِي أَيَّ ذلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ) فَيَقُولُ: لاَ أَدْرِي، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہاکے پاس آئی، وہ نماز پڑھ رہی تھیں، میں نے کہا کہ لوگوں کا کیا حال ہے؟ تو انہوں نے آسمان کی طرف اشارہ کیا (یعنی سورج کو گہن لگا ہے) اتنے میں لوگ (نماز کے لئے) کھڑے ہو گئے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے کہا، اللہ پاک ہے۔ میں نے کہا (کیا یہ گہن) کوئی (خاص) نشانی ہے؟ انہوں نے سر سے اشارہ کیا یعنی ہاں! پھر میں (بھی نماز کے لئے) کھڑی ہو گئی حتیٰ کہ مجھے غش آنے لگا، تو میں اپنے سر پر پانی ڈالنے لگی۔ پھر (نماز کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی تعریف کی اور اس کی صفت بیان فرمائی، پھر فرمایا، جو چیز مجھے پہلے دکھلائی نہیں گئی تھی آج وہ سب اس جگہ میں نے دیکھ لی، یہاں تک کہ جنت اور دوزخ کو بھی دیکھ لیا اور مجھ پر وحی کی گئی کہ تم اپنی قبروں میں آزمائے جاؤ گے، مثل یا قرب کا کونسا لفظ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں نہیں جانتی، فاطمہ کہتی ہیں (یعنی) فتنہ دجال کی طرح (آزمائے جاؤ گے) کہا جائے گا (قبر کے اندر کہ) تم اس آدمی کے بارے میں کیا جانتے ہو؟ تو جو صاحب ایمان یا صاحب یقین ہو گا، کونسا لفظ فرمایا سیدہ اسماء رضی اللہ عنہانے، مجھے یاد نہیں۔ وہ کہے گا وہ محمد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، جو ہمارے پاس اللہ کی ہدایت اور دلیل لے کر آئے تو ہم نے ان کو قبول کر لیا اور ان کی پیروی کی۔ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ تین بار (اسی طرح کہے گا) پھر (اس سے) کہہ دیا جائے گا کہ آرام سے سو جا بے شک ہم نے جان لیا کہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر یقین رکھتا تھا۔ اور بہرحال منافق یا شکی آدمی، میں نہیں جانتی کہ ان میں سے کونسا لفظ سیدہ اسماء نے کہا۔ تو وہ (منافق یا شکی آدمی) کہے گا کہ جو لوگوں کو میں نے کہتے سنا میں نے (بھی) وہی کہہ دیا۔ (باقی میں کچھ نہیں جانتا) [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة الكسوف/حدیث: 524]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 3 كتاب العلم: 24 باب من أجاب الفتيا بإرشاد اليد والرأس»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 525
525 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: انْخَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلاً نحْوًا مِنْ قِرَاءَةِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ؛ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَويلاً، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَويلاً، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ ركوعًا طَويلاً وَهُوَ دُونَ الرُّكوعِ الأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَويلاً، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَويلاً، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَويِلاً، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكوعًا طَوِيلاً، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، لاَ يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذلِكَ فَاذْكُرُوا اللهَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ كَعْكَعْتَ؛ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ عُنْقُودًا، وَلَوْ أَصَبْتُهُ لأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا، وَأُرِيتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ مَنْظَرًا كَالْيَوْمِ قَطُّ أَفْظَعَ، وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ قَالُوا: بِمَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: بِكُفْرِهِنَّ قِيلَ: يَكْفُرْنَ بِاللهِ قَالَ: يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَيَكْفُرْنَ الإِحْسَانَ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ كُلَّهُ، ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ
سیّدنا عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگا تو آپ نے نماز پڑھی تھی آپ نے اتنا لمبا قیام کیا کہ اتنی دیر میں سورہ بقرہ پڑھی جا سکتی ہے پھر آپ نے رکوع بھی لمبا کیا جو پہلے رکوع سے کچھ کم تھا پھر آپ سجدہ میں گئے سجدہ سے اٹھ کر پھر لمبا قیام کیا لیکن پہلے قیام کے مقابلے میں کم لمبا تھا پھر ایک لمبا رکوع کیا یہ رکوع بھی پہلے رکوع کے مقابلہ میں کم تھا رکوع سے سر اٹھانے کے بعد پھر آپ بہت دیر تک کھڑے رہے اور یہ قیام بھی پہلے سے مختصر تھا پھر (چوتھا) رکوع کیا یہ بھی بہت لمبا تھا لیکن پہلے سے کچھ کم پھر آپ نے سجدہ کیا اور نماز سے فارغ ہوئے تو سورج صاف ہو چکا تھا اس کے بعد آپ نے خطبہ میں فرمایا کہ سورج اور چاند دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں اور کسی کی موت و زندگی کی وجہ سے ان میں گرہن نہیں لگتا اس لئے جب تم کو معلوم ہو کہ گرہن لگ گیا ہے تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم نے دیکھا کہ آپ (نماز میں) اپنی جگہ سے کچھ آگے بڑھے اور پھر اس کے بعد پیچھے ہٹ گئے آپ نے فرمایا کہ میں نے جنت دیکھی اور اس کا ایک خوشہ توڑنا چاہا تھا اگر میں اسے توڑ سکتا تو تم اسے رہتی دنیا تک کھاتے اور مجھے جہنم بھی دکھائی گئی میں نے اس سے زیادہ بھیانک منظر کبھی نہیں دیکھا میں نے دیکھا اس میں عورتیں زیادہ ہیں کسی نے پوچھا یا رسول اللہ اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ نے فرمایا کہ اپنے کفر (انکار) کی وجہ سے پوچھا گیا کیا اللہ تعالیٰ کا کفر (انکار) کرتی ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ شوہر کا اور احسان کا انکار کرتی ہیں زندگی بھر تم کسی عورت کے ساتھ حسن سلوک کرو لیکن کبھی اگر کوئی خلاف مزاج بات آ گئی تو فوراً یہی کہے گی کہ میں نے تم سے کبھی بھلائی نہیں دیکھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة الكسوف/حدیث: 525]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 16 كتاب الكسوف: 9 باب صلاة الكسوف في جماعة»
وضاحت: بعض نے کہا کہ آپ نے اصل جنت اور دوزخ کو دیکھا کہ پردہ درمیان سے اٹھ گیا یا یہ مراد ہے کہ دوزخ اور جنت کا ایک ایک ٹکڑا بطور نمونہ آپ کو دکھلایا گیا۔ بہر حال یہ عالم برزخ کی چیز ہے۔ جس طرح حدیث میں آگیا ہمارا ایمان ہے۔ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔(راز)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
264. باب ذكر النداء بصلاة الكسوف، الصلاة جامعة
باب: کسوف کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کے لیے بلانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 526
526 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: لَمَّا كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نُودِيَ: إِنَّ الصَّلاَةَ جَامِعَةٌ، فَرَكَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ، ثُمَّ جَلَسَ، ثُمَّ جُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ قَالَ: وَقَالَتْ عَائِشَةُ: مَا سَجَدْتُ سُجُودًا قَطُّ كَانَ أَطْوَلَ مِنْهَا
سیّدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگا تو اعلان ہوا کہ نماز ہونے والی ہے (اس نماز میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت میں دو رکوع کئے اور پھر دوسری رکعت میں بھی دو رکوع کئے اس کے بعد آپ بیٹھے رہے (قعدہ میں) یہاں تک کہ سورج صاف ہو گیا سیّدنا عبداللہ نے کہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے فرمایا کہ میں نے اس سے زیادہ لمبا سجدہ اور کبھی نہیں کیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة الكسوف/حدیث: 526]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 16 كتاب الكسوف: 8 باب طول السجود في الكسوف»
وضاحت: سجدہ میں بندہ اللہ تعالیٰ کے بہت ہی قریب ہو جاتا ہے۔ اس لیے اس میں جس قدر خشوع خضوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو یاد کر لیا جائے اور جو کچھ بھی اس سے مانگا جائے کم ہے۔ سجدہ میں اس کیفیت کا حصول خوش بختی کی دلیل ہے۔ (راز)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 527
527 صحيح حديث أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، وَلكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَقُومُوا فَصَلُّوا
سیّدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورج اور چاند میں گرہن کسی شخص کی موت سے نہیں لگتا یہ دونوں تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں اس لئے اسے دیکھتے ہی کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة الكسوف/حدیث: 527]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 16 كتاب الكسوف: 1 باب الصلاة في كسوف الشمس»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 528
528 صحيح حديث أَبِي مُوسَى قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزِعًا، يَخْشَى أَنْ تَكُونَ السَّاعَةُ؛ فَأَتَى الْمَسْجِدَ فَصَلّى بِأَطْوَلِ قِيَامٍ وَرُكُوعٍ وَسُجُودٍ رَأَيْتُهُ قَطُّ يَفْعَلُهُ، وَقَالَ: هذِهِ الآيَاتُ الَّتِي يُرْسِلُ اللهُ، لاَ تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، وَلكِنْ يُخَوِّفُ اللهُ بِهِ عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِ اللهِ وَدُعَائِهِ وِاسْتِغْفَارِهِ
سیّدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دفعہ سورج گرہن ہوا تو آپ بہت گھبرا کر اٹھے اس ڈر سے کہ کہیں قیامت نہ قائم ہو جائے آپ نے مسجد میں آ کر بہت ہی لمبے قیام لمبے رکوع اور لمبے سجدوں کے ساتھ نماز پڑھی میں نے کبھی آپ کو اس طرح کرتے نہیں دیکھا تھا آپ نے نماز کے بعد فرمایا کہ یہ نشانیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے یہ کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں آتیں بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اس لئے جب تم اس طرح کی کوئی چیز دیکھو تو فوراً اللہ تعالیٰ کے ذکر سے استغفار کی طرف لپکو۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة الكسوف/حدیث: 528]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 16 كتاب الكسوف: 14 باب الذكر في الكسوف»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 529
529 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يُخْبِرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، وَلكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا
سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماروایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورج اور چاند میں گرہن کسی کی موت و زندگی سے نہیں لگتا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں اس لئے جب تم یہ دیکھو تو نماز پڑھو۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة الكسوف/حدیث: 529]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 16 كتاب الكسوف: 1 باب الصلاة في كسوف الشمس»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12»