Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
281. باب الزكاة
باب: زکوٰۃ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 567
567 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ اوقیہ سے کم (چاندی) میں زکوۃ نہیں ہے پانچ اونٹوں سے کم میں زکوۃ نہیں ہے اور پانچ وسق سے کم (غلہ) میں زکوۃ نہیں ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 567]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 4 باب ما أدى زكاته فليس بكنز»
وضاحت: وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے اور صاع چار مد کا ہوتا ہے اور مد بغدادی رطل کے مطابق ۳۳۔۱ رطل کا ہو تا ہے تو وسق ایک ہزار چھ سو رطل بغدادی ہوئے۔ اور بغدادی رطل ۷/۴۔۱۲۸درہم کا ہے۔ (مرتبؒ)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
282. باب لا زكاة على المسلم في عبده وفرسه
باب: مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام میں زکوٰۃ نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 568
568 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي فَرَسِهِ وَغُلامِهِ صَدَقَةٌ
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوۃ واجب نہیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 568]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 45 باب ليس على المسلم في فرسه صدقة»
وضاحت: فرس سے جنس مراد ہے ورنہ ایک گھوڑے میں عدم زکوٰۃ پر تو کوئی اختلاف نہیں۔ ہاں جب گھوڑے تجارت کے لیے ہوں تو ان میں بالا جماع زکوٰۃ واجب ہے۔(مرتبؒ)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
283. باب في تقديم الزكاة ومنعها
باب: زکوٰۃ دینے اور نہ دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 569
569 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّدَقَةِ، فَقِيلَ: مَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَعَبَّاسُ بْن عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؛ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ إِلاَّ أَنَّهُ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللهُ وَرَسُولُهُ وَأَمَّا خَالِدٌ، فَإِنَّكُمْ تَظْلمُونَ خَالِدًا، قَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتُدَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ؛ وَأَمَّا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَعَمُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهِيَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ وَمِثْلَهَا مَعَهَا
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوۃ وصول کرنے کا حکم دیا پھر آپ سے کہا گیا کہ ابن جمیل اور خالد بن ولید اور عباس بن عبدالمطلب نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا ہے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابن جمیل یہ شکر نہیں کرتا کہ کل تک تو وہ فقیر تھا پھر اللہ نے اپنے رسول کی دعا کی برکت سے اسے مالدار بنا دیا باقی رہے خالد تو ان پر تم لوگ ظلم کرتے ہو انہوں نے تو اپنی زرہیں اللہ تعالیٰ کے راستے میں وقف کر رکھی ہیں اور عباس بن عبدالمطلب تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ہیں اور ان کی زکوۃ انہی پر صدقہ ہے اور اتنا ہی اور انہیں میری طرف سے دینا ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 569]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 49 باب قول الله تعالى وفي الرقاب»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
284. باب زكاة الفطر على المسلمين من التمر والشعير
باب: مسلمانوں پر کھجور اور جو سے صدقہ فطر دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 570
570 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثى، مِنَ الْمُسْلِمِينَ
سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فطر کی زکوۃ آزاد یا غلام مرد یا عورت تمام مسلمانوں پر ایک صاع کھجور یا جو فرض کی تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 570]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 71 باب صدقة الفطر على العبد وغيره من المسلمين»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 571
571 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ قَالَ عَبْدُ اللهِ رضي الله عنه: فَجَعَلَ النَّاسُ عِدْلَهُ مُدَيْنِ مِنْ حِنْطَةٍ
سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو کی زکوۃ فطر دینے کا حکم فرمایا تھا سیّدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر لوگوں نے اسی کے برابر دو مد (آدھا صاع) گیہوں کر لیا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 571]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 74 باب صدقة الفطر صاعًا من تمر»
وضاحت: صحیح مسلم کی روایت میں یوں ہے کہ سیّدنا عباس رضی اللہ عنہ کی زکوٰۃ بلکہ اس کا دوگنا روپیہ میں دوں گا۔ سیّدنا عباس رضی اللہ عنہ دو برس کی زکوٰۃ پیشگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے چکے تھے۔ اس لیے انہوں نے ان تحصیل کرنے والوں کو زکوٰۃ نہ دی۔ بعض نے کہا مطلب یہ ہے کہ بالفعل ان کو مہلت دو۔ سال آئندہ ان سے دوہری یعنی دو برس کی زکوٰۃ وصول کرنا۔(مختصر ازوحیدی)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 572
572 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه، قَالَ: كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم فطر کی زکو ایک صاع اناج یا گیہوں یا ایک صاع جو یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع پنیر یا ایک صاع زبیب (خشک انگور یا انجیر) نکالا کرتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 572]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 73 باب صدقة الفطر صاعًا من طعام»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 573
573 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه، قَالَ: كُنَّا نُعْطِيَهَا، فِي زَمَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ فَلَمَّا جَاءَ مُعَاوِيَةُ وَجَاءَتِ السَّمْرَاءُ، قَالَ: أَرَى مُدًّا مِنْ هذَا يَعْدِلُ مُدَّيْنِ
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صدقہ فطر ایک صاع گیہوں یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو یا ایک صاع زبیب (خشک انگور یا خشک انجیر) نکالتے تھے پھر جب سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ دینہ میں آئے اور گیہوں کی آمدنی ہوئی تو کہنے لگے میں سمجھتا ہوں اس کا ایک مد دوسرے اناج کے دو مد کے برابر ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 573]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 75 باب صاع من زبيب»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
285. باب إثم مانع الزكاة
باب: زکوٰۃ نہ دینے کا عذاب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 574
574 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْخَيْلُ لِثَلاَثَةٍ: لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ فَأَمَّا الَّذِي لَهُ أَجْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللهِ فَأَطَالَ فِي مَرْجٍ أَوْ رَوْضَةٍ، فَمَا أَصَابَتْ فِي طِيَلِهَا ذَلِكَ مِنَ الْمَرْجِ أَوِ الرَّوْضَةِ كَانَتْ لَهُ حَسَنَاتٍ، وَلَوْ أَنَّهَا قَطَعَتْ طِيَلَهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كَانَتْ أَرْوَاثُهَا وَآثَارُهَا حَسَنَاتٍ لَهُ، وَلَوْ أَنَّهَا مَرَّتْ بِنَهَرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلَمْ يُرِدْ أَنْ يَسْقِيَهَا كَانَ ذَلِكَ حَسَنَاتٍ لَهُ؛ وَرَجُلٌ رَبَطَهَا فَخْرًا وَرِئَاءً وَنِوَاءً لأَهْلِ الإِسْلاَمِ فَهِيَ وِزْرٌ عَلَى ذلِكَ وَسُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحُمُرِ، فَقَالَ: مَا أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهَا إِلاَّ هذِهِ الآيَةُ الْجَامِعَةُ الْفاذَّةُ (مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ)
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھوڑے کے مالک تین طرح کے لوگ ہوتے ہیں بعض لوگوں کے لئے وہ باعث اجر و ثواب ہیں بعض کے لئے وہ صرف پردہ ہیں اور بعض کے لئے وبال جان ہیں جس کے لئے گھوڑا اجر و ثواب کا باعث ہے یہ وہ شخص ہے جو اللہ کے راستے میں جہاد کی نیت سے اسے پالتا ہے پھر جہاں خوب چری ہوتی ہے یا (یہ فرمایا کہ) کسی شاداب جگہ اس کی رسی کو خوب لمبی کر کے باندھتا ہے (تا کہ چاروں طرف سے چر سکے) تو گھوڑا اس کی چری کی جگہ سے یا اس شاداب جگہ سے اپنی رسی کے ساتھ بندھا ہوا جو کچھ بھی کھاتا پیتا ہے مالک کو اس کی وجہ سے نیکیاں ملتی ہیں اور اگر وہ گھوڑا اپنی رسی تڑا کر ایک زغن یا دو زغن لگائے تو اس کی لید اور اس کے قدموں کے نشانوں میں بھی مالک کے لئے نیکیاں ہیں اور اگر وہ گھوڑا نہر سے گذرے اور اس میں سے پانی پی لے تو اگرچہ مالک نے پانی پلانے کا ارادہ نہ کیا ہو پھر بھی اس سے اسے نیکیاں ملتی ہیں دوسرا شخص وہ ہے جو گھوڑے کو فخر دکھاوے اور اہل اسلام کی دشمنی میں باندھتا ہے تو یہ اس کے لئے وبال جان ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھ پر اس جامع اور منفرد آیت کے سوا ان کے متعلق اور کچھ نازل نہیں ہوا کہ جو کوئی ایک ذرہ برابر بھی نیکی کرے گا اس کا بدلہ پائے گا اور جو کوئی ذرہ برابر بھی برائی کرے گا اس کا بدلہ پائے گا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 574]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد والسير: 48 باب الخيل لثلاثة»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
286. باب تغليظ عقوبة من لا يؤدي الزكاة
باب: زکوٰۃ نہ دینے والوں کو سخت سزا دئیے جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 575
575 صحيح حديث أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ، فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ: هُمُ الأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، هُمُ الأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ قُلْتُ: مَا شَأْنِي أَيُرَى فِيَّ شَيْءٌ مَا شَأْنِي فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ، فَمَا اسْتَطَعْتُ أَنْ أَسْكُتَ، وَتَغَشَّانِي مَا شَاءَ اللهُ، فَقُلْتُ: مَنْ هُمْ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: الأَكْثَرُونَ أَمْوَالاً إِلاَّ مَنْ قَالَ هكَذَا وَهكَذَا وَهكَذَا
سیّدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا تو آپ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے فرما رہے تھے کعبہ کے رب کی قسم وہی سب سے زیادہ خسارے والے ہیں کعبہ کے رب کی قسم وہی سب سے زیادہ خسارے والے ہیں میں نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ! میری حالت کیسی ہے کیا مجھ میں (بھی) کوئی ایسی بات نظر آئی ہے؟ میری حالت کیسی ہے؟ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جا رہے تھے میں آپ کو خاموش نہیں کرا سکتا تھا اور اللہ کی مشیت کے مطابق مجھ پر عجیب بے قراری طاری ہو گئی میں نے پھر عرض کی میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں یا رسول اللہ وہ کون لوگ ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس مال زیادہ ہے لیکن اس سے وہ مستثنی ہیں جنہوں نے اس میں سے اس اس طرح (یعنی دائیں اور بائیں بے دریغ مستحقین پر) راہ خدا میں خرچ کیا ہو گا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 575]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 83 كتاب الأيمان والنذور: 8 باب كيف كانت يمين النبي صلي الله عليه وسلم»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 576
576 صحيح حديث أَبِي ذَرٍّ رضي الله عنه، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ أَوْ وَالَّذِي لاَ إِلهَ غَيْرُهُ أَوْ كَمَا حَلَفَ مَا مِنْ رَجُلٍ تَكُونُ لَهُ إِبِلٌ أَوْ بَقَرٌ أَوْ غَنَمٌ لاَ يُؤَدِّي حَقَّهَا إِلاَّ أُتِيَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا تَكُونُ وَأَسْمَنهُ، تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا، وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، كُلَّمَا جَازَتْ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولاَهَا، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ
سیّدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گیا تھا اور آپ فرما رہے تھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یا (آپ نے قسم اس طرح کھائی) اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں یا جن الفاظ کے ساتھ بھی آپ نے قسم کھائی ہو (اس تاکید کے بعد فرمایا) کوئی بھی ایسا شخص جس کے پاس اونٹ گائے یا بکری ہو اور وہ اس کا حق نہ ادا کرتا ہو تو قیامت کے دن اس (جانور) کو لایا جائے گا دنیا سے زیادہ بڑی اور موٹی تازی کر کے پھر وہ اپنے مالک کو اپنے کھروں سے روندے گی اور سینگ سے مارے گی جب آخری جانور اس پر سے گذر جائے گا تو پہلا جانور پھر لوٹ کر آئے گا (اور اسے اپنے سینگ سے مارے گا اور کھروں سے روندے گا) اس وقت تک (یہ سلسلہ برابر قائم رہے گا) جب تک لوگوں کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 576]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 43 باب زكاة البقر»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں