اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
500. باب كراء الأرض
باب: زمین کو کرایہ پر دینا
حدیث نمبر: 995
995 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَهى عَنِ الْمُزَابَنةِ وَالْمُحَاقَلَةِ؛ وَالْمُزَابَنَةُ اشْتِرَاءُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” «الْمُزَابَنَةِ» مزابنہ اور «الْمُحَاقَلَةِ» محاقلہ سے منع فرمایا“، «الْمُزَابَنَةُ» مزابنہ درخت پر موجود کھجور اتری ہوئی کھجور کے بدلے میں خریدنے کو کہتے ہیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البيوع/حدیث: 995]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 82 باب بيع المزابنة وهي بيع الثمر بالتمر»
حدیث نمبر: 996
996 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يُكْرِي مَزَارِعَهُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وعُثْمَانَ وَصَدْرًا مِنْ إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ، ثُمَّ حُدِّثَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ؛ فَذَهَبَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى رَافِعٍ فَذَهَبْتُ مَعَهُ، فَسَأَلَهُ؛ فَقَالَ: نَهى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: قَدْ عَلِمْتَ أَنَّا كُنَّا نُكْرِي مَزَارِعَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا عَلَى الأَرْبِعَاءِ وَبِشَيْءٍ مِنَ التِّبْنِ
نافع رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے کھیتوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے عہد میں اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ابتدائی عہدِ خلافت میں کرایہ پر دیتے تھے۔ پھر سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کھیتوں کو کرایہ پر دینے سے منع کیا تھا“، (یہ سن کر) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، میں بھی ان کے ساتھ تھا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کھیتوں کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ہے“، اس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ آپ کو معلوم ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہم اپنے کھیتوں کو اس پیداوار کے بدل جو نالیوں پر ہو اور تھوڑی گھاس کے بدل دیا کرتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البيوع/حدیث: 996]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 41 كتاب المزارعة: 18 باب ما كان من أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم يواسي بعضهم بعضًا في الزراعة والثمرة»
وضاحت: حدیث کا حاصل یہ ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے رافع بن خدیج کے اس اطلاق کی نفی اور انکار کیا ہے جو وہ کہتے تھے کہ زمین کو کرائے پر دینا منع ہے۔ ابن عمر فرماتے ہیں کہ منع اس صورت میں تھی جس میں لوگ ایک فاسد اور باطل شرط لگاتے تھے کہ نالیوں اور کناروں پر اور نالے کے قریبی حصے کی کھیتی مالک کی ہوگی جو کہ مجہول ہوتی تھی تو کبھی اس مشروط حصے پر آفت آتی اور کبھی مزارع کی حصے پر بیماری اترتی جن سے کسی ایک فریق کو نقصان اٹھانا پڑتا تھا اس لیے منع فرمایا ورنہ غلے کے مقرر اور معین حصے پر مزارعت پر زمین دینا اور ٹھیکے پر دینا جائز ہے۔(مرتبؒ)
501. باب كراء الأرض بالطعام
باب: کھانے کے عوض زمین کرایہ پر دینا
حدیث نمبر: 997
997 صحيح حديث ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ: لَقَدْ نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ بِنَا رَافِقًا (قَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ رَاوِي هذَا الْحَدِيثِ) قُلْتُ: مَا قَالَ رسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ حَقٌّ قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا تَصْنَعُونَ بِمَحَاقِلِكُمْ قُلْتُ: نُؤَاجِرُهَا عَلَى الرُّبُعِ وَعَلَى الأَوْسُقِ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ قَالَ: لاَ تَفْعَلُوا، ازْرَعُوهَا أَوْ أَزْرِعُوهَاَ أَوْ أَمْسِكُوهَا قَالَ رَافِعٌ، قُلْتُ: سَمْعًا وَطَاعَةً
سیدنا ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع کیا تھا جس میں ہمارا (بظاہر ذاتی) فائدہ تھا (حدیث کے راوی سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے کہا) اس پر میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ بھی فرمایا وہ حق ہے، سیدنا ظہیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا اور دریافت فرمایا: ”تم لوگ اپنے کھیتوں کا معاملہ کس طرح کرتے ہو؟“ میں نے کہا کہ ہم اپنے کھیتوں کو (بونے کے لیے) نہر کے قریب کی زمین کی شرط پر دے دیتے ہیں، اسی طرح کھجور اور جو کے چند وسق پر، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، یا خود اس میں کھیتی کیا کرو یا دوسروں سے کراؤ، ورنہ اسے یوں خالی ہی چھوڑ دو۔“ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا: (آپ کا یہ فرمان) میں نے سنا اور مان لیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البيوع/حدیث: 997]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: كتاب المزارعة: 18 باب ما كان من أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم يواسي بعضهم بعضًا في الزراعة والثمرة»
وضاحت: سیّدنا ظہیر بن رافع الحارثی رضی اللہ عنہ وس قبیلہ سے تعلق تھا۔ انصاری صحابی ہیں۔ بیعت عقبہ ثانیہ، غزوہ بدر اور دیگر غزوات میں شامل رہے۔ ان کا باپ رافع تھا جو رافع بن خدیج کے علاوہ ہے۔
502. باب الأرض تمنح
باب: زمین کا زراعت کے لیے کسی کو دینا
حدیث نمبر: 998
998 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ عَنْهُ (أَيِ الْمُخَابَرَةِ) وَلكِنْ قَالَ: أَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهِ خَرْجًا مَعْلُومًا
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے (یعنی کرایہ پر دینے سے) نہیں روکا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہ فرمایا تھا کہ: ”اگر کوئی شخص اپنے بھائی کو (اپنی زمین) مفت دے دے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ اس کا محصول لے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب البيوع/حدیث: 998]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 41 كتاب المزارعة: 10 باب حدثنا علي بن عبد الله»