Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
770. باب في معجزات النبيّ ﷺ
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1468
1468 صحيح حديث أَنسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَانَتْ صَلاَة الْعَصْرِ، فَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ، فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي ذلِكَ الإِنَاءِ يَدَهُ، وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّؤُوا مِنْهُ قَالَ: فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبَعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ، حَتَّى تَوَضَّؤُوا مِنْ عِنْدَ آخِرِهِمْ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ نماز کا وقت آ گیا، لوگوں نے پانی تلاش کیا، جب انھیں پانی نہ ملا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (ایک برتن میں) وضو کے لیے پانی لایا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا ہاتھ ڈال دیا اور لوگوں کو حکم دیا کہ اسی (برتن) سے وضو کریں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے نیچے سے پانی (چشمے کی طرح) ابل رہا تھا۔ یہاں تک کہ (قافلے کے) آخری آدمی نے بھی وضو کرلیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1468]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 32 باب التماس الوضوء إذا حانت الصلاة»
وضاحت: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا کہ ایک پیالہ پانی سے سب لوگوں نے وضو کر لیا۔ وضو کے لیے پانی تلاش کرنا اس سے ثابت ہوا۔ نہ ملے تو پھر تیمم کر لینا چاہیے۔ (راز)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1469
1469 صحيح حديث أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ فَلَمَّا جَاءَ وَادِيَ الْقُرَى، إِذَا امْرَأَةٌ فِي حَدِيقَةٍ لَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لأَصْحَابِهِ اخْرُصُوا وَخَرَصَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ فَقَالَ لَهَا: أَحْصِي مَا يَخْرُجُ مِنْهَا فَلَمَّا أَتَيْنَا تَبُوكَ، قَالَ: أَمَا إِنَّهَا سَتَهُبُّ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ، فَلاَ يَقُومَنَّ أَحَدٌ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ بَعِيرٌ فَلْيَعْقِلْهُ فَعَقَلْنَاهَا وَهَبَّتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ؛ فَقَامَ رَجُلٌ فَأَلْقَتْهُ بِجَبَلِ طَيِّء وَأَهْدَى مَلِكُ أَيْلَةَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةً بَيْضَاءَ، وَكَسَاهُ بُرْدًا وَكَتَبَ لَهُ بِبَحْرِهِمْ فَلَمَّا أَتى وَادِيَ الْقُرَى، قَالَ لِلْمَرْأَةِ: كَمْ جَاءَ حِدِيقَتُكِ قَالَتْ: عَشَرَةَ أَوْسُقٍ، خَرْصَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي مُتَعَجِّلٌ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَمَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَعَجَّلَ مَعِي فَلْيَتَعَجَّلْ فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: هذِهِ طَابَةُ فَلَمَّا رَأَى أُحُدًا، قَالَ: هذَا جُبَيْلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الأَنْصَارِ قَالُوا: بَلَى قَالَ: دُورُ بَنِي النَّجَّارِ، ثُمَّ دُورُ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ، ثُمَّ دُورُ بَنِي سَاعِدَةَ، أَوْ دُورُ بَنِي الْحارثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، وَفِي كُلِّ دُورِ الأَنْصَارِ يَعْنِي خَيْرًا
حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم غزوہ تبوک کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے، جب آپ وادی قریٰ (مدینہ منورہ اور شام کے درمیان ایک قدیم آبادی) سے گزرے تو ہماری نظر ایک عورت پر پـڑی جو اپنے باغ میں کھڑی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا کہ اس کے پھلوں کا اندازہ لگاؤ (کہ اس میں کتنی کھجور نکلے گی) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس و سق کا اندازہ لگایا، پھر اس عورت سے فرمایا کہ یاد رکھنا اس میں سے جتنی کھجور نکلے، جب ہم تبوک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج رات بڑے زور کی آندھی چلے گی اس لیے کوئی شخص کھڑا نہ رہے اور جن کے پاس اونٹ ہوں تو وہ اسے باندھ دیں، چنانچہ ہم نے اونٹ باندھ لیے اور آندھی بڑے زور کی آئی ایک شخص کھڑا ہوا تھا تو ہوا نے اسے جبل طے پر جا پھینکا اور ایلہ کے حاکم (یوحنا بن روبہ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفید خچر اور ایک چادر کا تحفہ بھیجا آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تحریری طور پر اسے اس کی حکومت پر برقرار رکھا، پھر جب وادی ٔقریٰ (واپسی میں) پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی عورت سے پوچھا کہ تمھارے باغ میں کتنا پھل آیا تھا؟ اس نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندازے کے مطابق دس و سق آیا تھا اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں مدینہ جلد جانا چاہتا ہوں، اس لیے جو کوئی میرے ساتھ جلدی چلنا چاہے وہ میرے ساتھ جلد روانہ ہو۔پھرمدینہ دکھائی دینے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ہے طابہ! پھر آپ نے احد پہاڑ دیکھا تو فرمایا کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم بھی اس سے محبت رکھتے ہیں، پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں انصار کے سب سے اچھے خاندان کی نشاندہی نہ کروں؟ صحابہ نے عرض کی کہ ضرور کیجئے۔ آپ نے فرمایا: بنو نجار کا خاندان، پھر بنو عبدالاشہل کا خاندان‘ پھر بنو ساعدہ کایا (یہ فرمایا کہ) بنو حارث بن خزرج کا خاندان اور فرمایا کہ انصار کے تمام ہی خاندانوں میں خیر ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1469]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 24 كتاب الزكاة: 54 باب خرص التمر»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
771. باب توكله على الله تعالى وعصمة الله تعالى له من الناس
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے توکل کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا لوگوں سے آپ کو محفوظ رکھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1470
1470 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ نَجْدٍ فَلَمَّا أَدْرَكَتْهُ الْقَائِلَةُ، وَهُوَ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ، فَنَزَلَ تَحْتَ شَجَرَةٍ، وَاسْتَظَلَّ بِهَا، وَعَلَّقَ سَيْفَهُ فَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الشَّجَرِ يَسْتَظِلُّونَ وَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ دَعَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجِئْنَا، فَإِذَا أَعْرَابِيٌّ قَاعِدٌ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ: إِنَّ هذَا أَتَانِي وَأَنَا نَائِمٌ فَاخْتَرَطَ سَيْفِي فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِي، مُخْتَرِطٌ صَلْتًا قَالَ: مَنْ يَمْنَعكَ مِنِّي قُلْتُ: اللهُ فَشَامَهُ، ثُمَّ قَعَدَ فَهُوَ هذَا قَالَ: وَلَمْ يُعَاقِبْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف غزوہ کے لئے گئے دوپہر کا وقت ہوا تو آپ ایک جنگل میں پہنچے جہاں ببول کے درخت بہت تھے آپ نے گھنے درخت کے نیچے سایہ کے لئے قیام کیا اور درخت سے اپنی تلوار لٹکا دی صحابہ رضی اللہ عنہ بھی درختوں کے نیچے سایہ حاصل کرنے کے لئے پھیل گئے ابھی ہم اسی کیفیت میں تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پکارا ہم حاضر ہوئے تو ایک بدوی آپ کے سامنے بیٹھا ہوا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شخص میرے پا س آیا تو میں سو رہا تھا اتنے میں اس نے میری تلوار کھینچ لی اور میں بھی بیدار ہوگیا۔ یہ میری ننگی تلوار کھینچے ہوئے میرے سر پر کھڑا تھا مجھ سے کہنے لگا آج مجھ سے تمہیں کون بچائے گا؟ میں نے کہا کہ اللہ! (وہ شخص صرف ایک لفظ سے اتنا مرعوب ہوا کہ) تلوار کو نیام میں رکھ کربیٹھ گیا اور دیکھ لو یہ بیٹھا ہوا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی سزا نہیں دی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1470]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 32 باب غزوة المصطلق من خزاعة»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
772. باب بيان مثل ما بعث النبيّ صلی اللہ علیہ وسلم من الهدى والعلم
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو ہدایت اور علم لے کر آئے ہیں اس کی مثال
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1471
1471 صحيح حديث أَبِي مُوسى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَثَلُ مَا بَعَثَنِي اللهُ بِهِ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ، كَمَثَلِ الْغَيْثِ الْكَثِيرِ، أَصَابَ أَرْضًا، فَكَانَ مِنْهَا نَقِيَّةٌ قَبِلَتِ الْمَاءَ فَأَنْبَتَتِ الْكَلأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيرَ وَكَانَ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ فَنَفَعَ اللهُ بِهَا النَّاسَ فَشَرِبُوا وَسَقَوْا وَزَرَعُوا وَأَصَابَتْ مِنْهَا طَائِفَةً أُخْرَى، إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لاَ تُمْسِكُ مَاءً، وَلاَ تَنْبتُ كَلأَ، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقِهَ فِي دِينِ اللهِ وَنَفَعَهُ مَا بَعَثَنِي اللهُ بِهِ، فَعَلِمَ وَعَلَّمَ وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذَلِكَ رَأْسًا وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللهِ الَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ وَفِي رِوَايَةٍ: وَكَانَ مِنْهَا طَائِفَةٌ قَيَّلَتِ الْمَاءَ
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جس علم و ہدایت کے ساتھ بھیجا ہے اس کی مثال زبردست بارش کی سی ہے جو زمین پر (خوب) برسے۔ بعض زمین جو صاف ہوتی ہے وہ پانی کو پی لیتی ہے اور بہت بہت سبزہ اور گھاس اگاتی ہے اور بعض زمین جو سخت ہوتی ہے وہ پانی کو روک لیتی ہے، اس سے اللہ تعالیٰ لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ وہ اس سے سیراب ہوتے ہیں اور سیراب کرتے ہیں۔ اور کچھ زمین کے بعض ایسے خطوں پر بھی پانی پڑتا ہے جو بالکل چٹیل میدان ہوتے ہیں۔ نہ پانی روکتے ہیں اور نہ ہی سبزہ اگاتے ہیں تو یہ اس شخص کی مثال ہے جو دین میں سمجھ پیدا کرے اور اس کو وہ چیز نفع دے۔ جس کے ساتھ میں مبعوث کیا گیا ہوں۔ اس نے علم دین سیکھا اور سکھایا اور اس شخص کی مثال جس نے سر نہیں اٹھایا (یعنی توجہ نہیں کی) اور جو ہدایت دے کر میں بھیجا گیا ہوں اسے قبول نہیں کیا۔ (یعنی اس سے کسی کو فائدہ نہیں پہنچتا)ایک روایت میں وکان منہا طائفۃ قیلت الماء کے لفظ ہیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1471]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 3 كتاب العلم: 20 باب فضل من علم وعلّم»
وضاحت: امام نووی صحیح مسلم کی شرح میں فرماتے ہیں اس حدیث کے معنی اور مقصود اس ہدایت کی مثال پیش کرنا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لے کر پیغمبر بنے۔ تو جس طرح زمین کی تین انواع ہیں ایسے ہی لوگوں کی بھی تین قسمیں ہیں۔ (مرتب) (۱)… زمین کی پہلی قسم یہ ہے کہ جو بارش سے نفع اٹھاتی ہے اور سر سبز ہو جاتی ہے جب کہ پہلے ویران تھی اب گھاس اگتا ہے کھیتیاں لہلہاتی ہیں جن سے لوگ اور جانور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کی پہلی قسم وہ ہے جن تک ہدایت اسلام اور علم پہنچا ہے انہوں نے اسے یاد کر لیا ہے، اپنے دل کو آباد کیا۔ خود عمل کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی تبلیغ کرتے ہیں خود بھی نفع اٹھاتے ہیں اور دوسروں کو بھی نفع پہنچاتے ہیں۔(۲)… زمین کی دوسری قسم وہ ہے جو بارش سے بذات خود تو فائدہ نہیں اٹھاتی لیکن اس کا ایک فائدہ ہے کہ وہ پانی کو غیروں کے لیے روک لیتی ہے جس سے انسان اور جانور فائدہ اٹھاتے ہیں ایسے ہی لوگوں کی دوسری قسم وہ ہے کہ ان کے دل تو ہدایت کو محفوظ کر لیتے ہیں لیکن ان کے پاس دور اندیشی اور فہم ثاقب نہیں ہے نہ عقل میں علم راسخ ہوتا ہے کہ وہ اس سے معانی اور مطالب کا استنباط کر سکیں۔ ان کے پاس اطاعت اور عمل میں قوت اجتہاد نہیں ہوتی پس وہ علم و ہدایت کو حفظ کر لیتے ہیں تو جب ان کے پاس کوئی تشنہ علم طالب ہدایت آتا ہے جو کہ علم سے مستفید ہونے اور فائدہ پہنچانے کے اہل ہوتا ہے ان سے یہ علم حاصل کر لیتا ہے۔ (۳)… زمین کی تیسری قسم وہ ہے جو شور زدہ زمین ہے کچھ بھی اگاتی ہے نہ پانی سے نفع اٹھاتی ہے اور نہ پانی کو روک کر جمع کر لیتی ہے کہ دوسرے اس سے مستفید ہوں۔ ایسے ہی لوگوں کی تیسری قسم وہ ہے جن کے پاس حافظے والے دل ہیں نہ سمجھ۔ جب علم وہدایت کو سنتے ہیں تو نہ خود فائدہ حاصل کرتے ہیں اور نہ اسے محفوظ کر کے غیروں کو فائدہ دے سکتے ہیں۔ (مرتب)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
773. باب شفقته صلی اللہ علیہ وسلم على أمته ومبالغته في تحذيرهم مما يضرهم
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت پر شفقت اور امت کو ضرر رساں چیزوں سے ڈرانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1472
1472 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ النَّاسِ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا، فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ، جَعَلَ الْفَرَاشُ وَهذِهِ الدَّوَابُّ الَّتِي تَقَعُ فِي النَّارِ يَقَعْنَ فِيهَا، فَجَعَلَ يَنْزِعُهُنَّ وَيَغْلِبُنَهُ، فَيَقْتَحِمنَ فِيهَا فَأَنَا آخُذُ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ وَهُمْ يَقْتَحِمُونَ فِيهَا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ میری اور لوگوں کی مثال ایک ایسے شخص کی ہے جس نے آگ جلائی، جب اس کے چاروں طرف روشنی ہو گئی تو پروانے اور یہ کیڑے مکوڑے جو آگ پر گرتے ہیں اس میں گرنے لگے اور آگ جلانے والا انہیں اس میں سے نکالنے لگا لیکن وہ اس کے قابو میں نہیں آئے اور آگ میں گرتے ہی رہے۔ اسی طرح میں تمہاری کمر کو پکڑ پکڑ کر تمہیں آگ سے نکالتا ہوں اور تم ہو کہ اسی میں گرتے جاتے ہو۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1472]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 26 باب الانتهاء عن المعاصي»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
774. باب ذكر كونه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خاتم النبيين
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم الانبیاء ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1473
1473 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلُ الأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنى بَيْتًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ إِلاَّ مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ، وَيَعْجَبُونَ لَهُ، وَيَقُولُونَ: هَلاَّ وُضِعَتْ هذِهِ اللَّبِنَةُ فَأَنَا اللَّبِنَةُ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اور مجھ سے پہلے کے تمام انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک گھر بنایا اور اس میں ہر طرح کی زینت پیدا کی لیکن ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹ گئی۔ اب تمام لوگ آتے ہیں اور مکان کو چاروں طرف سے گھوم کر دیکھتے ہیں اور تعجب میں پڑ جاتے ہیں لیکن یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ یہاں پر ایک اینٹ کیوں نہ رکھی گئی؟ تو میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النّبیین ہوں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1473]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 18 باب خاتم النبيين صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1474
1474 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلِي وَمَثَلُ الأَنْبِيَاءِ كَرَجُلٍ بَنى دَارًا فَأَكْمَلَهَا وَأَحْسَنَهَا إِلاَّ مَوْضِعَ لَبِنَةٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يَدْخُلُونَهَا وَيَتَعَجَّبُونَ وَيَقُولُونَ: لَوْلاَ مَوُضِعُ اللَّبِنَةِ
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری اور دوسرے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے کوئی گھر بنایا ٗ اسے خوب آراستہ پیراستہ کرکے مکمل کر دیا۔ صرف ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی۔ لوگ اس گھر میں داخل ہوتے اور تعجب کرتے اور کہتے کاش یہ ایک اینٹ کی جگہ خالی نہ رہتی تو کیسا اچھا مکمل گھر ہوتا۔ (میری نبوت نے اس کمی کو پورا کر کے قصر نبوت کو پورا کر دیا۔ اب میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا) [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1474]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 18 باب خاتم النبيين صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
775. باب إِثبات حوض نبينا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وصفاته
باب: حوض کوثر کا ثبوت اور اس کی صفات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1475
1475 صحيح حديث جُنْدَبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَنَا فَرَطكُمْ عَلَى الْحَوْضِ
حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ نے فرمایا کہ میں حوض پر تم سے پہلے موجود ہوں گا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1475]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 53 باب في الحوض وقول الله تعالى (إنا أعطيناك الكوثر»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1476
1476 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، مَنْ مَرَّ عَلَيَّ شَرِبَ، وَمَنْ شَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ وَيَعْرِفُونِي، ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اپنے حوض کوثر پر تم سے پہلے موجود رہوں گا، جو شخص بھی میری طرف سے گزرے گا وہ اس کا پانی پیئے گا اور جو اس کا پانی پیئے گا وہ پھر کبھی پیاسا نہیں ہو گا اور وہاں کچھ ایسے لوگ بھی آئیں گے جنہیں میں پہچانوں گا اور وہ مجھے پہچانیں گے لیکن پھر انہیں میرے سامنے سے ہٹا دیا جائے گا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1476]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 53 باب في الحوض وقول الله تعالى (إنا أعطيناك الكوثر»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1477
1477 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، يَزِيدُ فِيهِ فَأَقُولُ: إِنَّهُمْ مِنِّي، فَيُقَالُ إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ غَيَّرَ بَعْدِي
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں کہوں گا کہ یہ تو مجھ میں سے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جائے گا کہ آپ کو نہیں معلوم کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔ اس پر میں کہوں گا کہ دور ہو وہ شخص جس نے میرے بعد دین میں تبدیلی کر لی تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1477]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 81 كتاب الرقاق: 53 باب في الحوض وقول الله تعالى (إنا أعطيناك الكوثر»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں