Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
806. باب من فضائل أبي بكر الصديق رضی اللہ عنہ
باب: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے فضائل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1540
1540 صحيح حديث أَبِي بَكْرٍ رضي الله عنه، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا فِي الْغَارِ، لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ نَظَرَ تَحْتَ قَدَمَيْهِ لأَبْصَرَنَا فَقَالَ: مَا ظَنُّكَ، يَا أَبَا بَكْرٍ بِاثْنَيْنِ اللهُ ثَالِثُهُمَا
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہم غار ثور میں چھپے تھے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اگر مشرکین کے کسی آدمی نے اپنے قدموں پر نظر ڈالی تو وہ ضرور ہم کو دیکھ لے گا۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! ان دو کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ تعالیٰ ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1540]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 62 كتاب فضائل أصحاب النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 2 باب مناقب المهاجرين وفضلهم»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1541
1541 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: إِنَّ عَبْدًا خَيَّرَهُ اللهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَهِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ، وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ، فَاخْتَارَ مَا عِنْدَهُ فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ: فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا فَعَجِبْنَا لَهُ وَقَالَ النَّاسُ: انْظُرُوا إِلَى هذَا الشَّيْخِ، يُخْبِرُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ عَبْدٍ خَيَّرَهُ اللهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الْمُخَيّرَ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ هُوَ أَعْلَمَنَا بِه وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَمَنِّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبَا بَكْرٍ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلاً مِنْ أُمَّتِي لاَتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ، إِلاَّ خُلَّةَ الإِسْلاَمِ لا يَبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِد خَوْخَةٌ إِلاَّ خَوْخَةُ أَبِي بَكْرٍ
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے، پھر فرمایا اپنے ایک نیک بندے کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا کہ دنیا کی نعمتوں میں سے جو وہ چاہے اسے اپنے لئے پسند کرلے یا جو اللہ تعالیٰ کے یہاں ہے (آخرت میں) اسے پسند کرلے۔ اس بندے نے اللہ تعالیٰ کے ہاں ملنے والی چیز کو پسند کرلیا۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے اور عرض کیا ہمارے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں(حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) ہمیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اس رونے پر حیرت ہوئی، بعض لوگوں نے کہا ان بزرگوں کو دیکھئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو ایک بندے کے متعلق خبر دے رہے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی نعمتوں اور جواللہ کے پاس ہے اس میں سے کسی کے پسند کرنے کا اختیار دیا تھا اور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے ماں باپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو ان دو چیزوں میں سے ایک کا اختیار دیا گیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے زیادہ اس بات سے واقف تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ اپنی صحبت اورمال کے ذریعہ مجھ پر صرف ایک ابوبکر ہیں۔ اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا جاتی بناسکتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کوبناتا، البتہ اسلامی رشتہ ان کے ساتھ کافی ہے۔ مسجد میں کوئی دروازہ اب کھلا ہوا باقی نہ رکھا جائے سوائے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف کھلنے والے دروازے کے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1541]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 45 باب هجرة النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وأصحابه إلى المدينة»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1542
1542 صحيح حديث عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضي الله عنه، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعَثَهُ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلاَسِلِ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ: عَائِشَةُ فَقُلْتُ: مِنَ الرِّجَالِ قَالَ: أَبُوهَا، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ قَالَ: ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَعَدَّ رِجَالاً
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غزوۂ ذات السلاسل کے لیے بھیجا (عمرو رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ) پھر میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا کہ سب سے زیادہ محبت آپ کو کس سے ہے؟ آپ نے فرمایا کہ عائشہ رضی اللہ عنہاسے۔ میں نے پوچھا، اور مردوںمیں؟ فرمایا کہ اس کے باپ سے۔ میں نے پوچھا، اس کے بعد؟ فرمایا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے۔ اس طرح آپ نے کئی آدمیوں کے نام لئے۔ (﷢) [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1542]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 62 كتاب فضائل أصحاب النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 5 باب قول النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (لو كنت متخذًا خليلاً»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1543
1543 صحيح حديث جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمِ، قَالَ: أَتَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِع إِلَيْهِ قَالَتْ: أَرَأَيْتَ إِنْ جِئْتُ وَلَمْ أَجِدْكَ كَأَنَّهَا تَقولُ: الْمَوْتَ قَالَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ: إِنْ لَمْ تَجِدِيني فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ
حضرت جبیربن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بیان کیا کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی تو آپ نے ان سے فرمایا کہ پھرآنا۔ اس نے کہا: اگر میں آؤں اورآپ کو نہ پاؤں تو؟ گویا وہ وفات کی طرف اشارہ کر رہی تھی۔آپ نے فرمایا: اگر تم مجھے نہ پاسکو تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس چلی آنا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1543]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 62 كتاب فضائل أصحاب النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 5 باب قول النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (لو كنت متخذًا خليلاً»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1544
1544 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلاَةَ الصُّبْحِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: بَيْنَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً إِذْ رَكِبهَا فَضَرَبَهَا فَقَالَتْ: إِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهذَا؛ إِنَّمَا خُلِقْنَا لِلْحَرْثِ فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللهِ بَقَرَةٌ تَكَلَّمُ فَقَالَ: فَإِنِّي أُومِنُ بِهذَا، أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَمَا هُمَا ثَمَّ وَبَيْنَمَا رَجُلٌ فِي غَنَمِهِ إِذْ عَدَا الذِّئْبُ فَذَهَبَ مِنْهَا بَشَاةٍ، فَطَلَبَ حَتَّى كَأَنَّهُ اسْتَنْقَذَهَا مِنْهُ، فَقَالَ لَهُ الذِّئْبُ: هذَا، اسْتَنْقَذْتَهَا مِنِّي، فَمَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ، يَوْمَ لاَ رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللهِ ذِئْبٌ يَتَكَلَّمُ قَالَ: فَإِنِّي أُومِنُ بِهذَا أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَمَا هُمَا ثَمَّ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھی، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ایک شخص (بنی اسرائیل کا) اپنی گائے ہانکے لئے جا رہا تھا کہ وہ اس پر سوار ہو گیا اور پھر اسے مارا۔ اس گائے نے (بقدرت الٰہی) کہا کہ ہم جانور سواری کے لیے نہیں پیدا کئے گئے۔ ہماری پیدائش تو کھیتی کے لیے ہوئی ہے۔ لوگوں نے کہا: سبحان اللہ! گائے بات کرتی ہے۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس بات پر ایمان لاتا ہوں اور ابو بکر اور عمر بھی۔ حالانکہ یہ دونوں وہاں موجود بھی نہیں تھے۔ اسی طرح ایک شخص اپنی بکریاں چرا رہا تھا کہ ایک بھیڑیا آیا اور ریوڑ میں سے ایک بکری اٹھا کر لے جانے لگا۔ چرواہا دوڑا اور اس نے بکری کو بھڑیئے سے چھڑا لیا۔ اس پر بھیڑیا (بقدرت الٰہی) بولا: آج تو تم نے مجھ سے اسے چھڑا لیا لیکن درندوں والے دن میں (قرب قیامت) اسے کون بچائے گا جس دن میرے سوا اور کوئی اس کا چرواہا نہ ہوگا؟ لوگوں نے کہا: سبحان اللہ! بھیڑیا باتیں کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تو اس بات پر ایمان لایا اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہ بھی۔ حالانکہ وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہ تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1544]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 54 باب حدثنا أبو اليمان»
وضاحت: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرات شیخین کی قوت ایمان پر یقین تھا، اسی لیے آپ نے ان کو اس پر ایمان لانے میں شریک فرمایا۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس نے گائے اور بھیڑئیے کو کلام کرنے کی طاقت دے دی۔ اس میں دلیل ہے کہ جانوروں کا استعمال ان ہی کاموں کے لیے ہونا چاہیے جن میں بطور عادت وہ استعمال کیے جاتے ہیں۔ (فتح الباری)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
807. باب من فضائل عمر رضی اللہ عنہ
باب: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فضائل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1545
1545 صحيح حديث عَلِيٍّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: وُضِعَ عُمَرُ عَلَى سَرِيرِهِ، فَتَكَنَّفَهُ النَّاسُ، يَدْعُونَ وَيُصَلُّونَ، قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ، وَأَنَا فِيهِمْ فَلَمْ يَرُعْنِي إِلاَّ رَجُلٌ آخِذٌ مِنْكِبِي؛ فَإِذَا عَلِيٌّ، فَتَرَحَّمَ عَلَى عُمَرَ وَقَالَ: مَا خَلَّفْتَ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَى اللهَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ مِنْكَ وَايْمُ اللهِ إِنْ كُنْتُ لأَظُنَّ أَنْ يَجْعَلَكَ اللهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ، وَحَسِبْتُ أَنِّي كُنْتُ كَثِيرًا أَسْمَع النَّبِيَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ذَهَبْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَدَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَخَرَجْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو(شہادت کے بعد) ان کی چارپائی پر رکھا گیا تو تمام لوگوں نے نعش مبارک کو گھیر لیا اور ان کے لئے(اللہ سے) دعا اور مغفرت طلب کرنے لگے۔ نعش ابھی اٹھائی نہیں گئی تھی، میں بھی وہیں موجودتھا۔ اسی حالت میں اچانک ایک صاحب نے میرا شانہ پکڑ لیا، میں نے دیکھا تو وہ علی رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کے لیے دعائے رحمت کی اور (ان کی نعش کو مخاطب کرکے) کہا‘ آپ نے اپنے بعد کسی بھی شخص کو نہیں چھوڑا کہ جسے دیکھ کر مجھے یہ تمنا ہوتی کہ اس کے عمل جیسا عمل کرتے ہوئے میں اللہ سے جاملوں اور خدا کی قسم مجھے تو(پہلے سے) یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ ہی رکھے گا۔ میرا یہ یقین اس وجہ سے تھا کہ میں نے اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ الفاظ سنے تھے کہمیں ابوبکر اور عمر گئے۔میں، ابوبکر اور عمر داخل ہوئے۔میں، ابوبکر اور عمر باہر آئے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1545]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 62 كتاب فضائل أصحاب النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 6 باب مناقب عمر بن الخطاب أبي حفص»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1546
1546 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ، وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ، مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُدِيَّ، وَمِنْهَا مَا دُونَ ذَلِكَ وَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: الدِّينَ
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک دفعہ سو رہا تھا، میں نے خواب میں دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں اور وہ کرتے پہنے ہوئے ہیں، کسی کا کرتہ سینے تک ہے اور کسی کا اس سے نیچے ہے۔ (پھر) میرے سامنے عمر بن الخطاب لائے گئے۔ ان (کے بدن) پر (جو) کرتہ تھا، اسے وہ گھسیٹ رہے تھے۔ (یعنی ان کا کرتہ زمین تک نیچا تھا) صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! اس کی کیا تعبیر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (اس سے) دین مراد ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1546]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 2 كتاب الإيمان: 15 باب تفاضل أهل الإيمان في الأعمال»
وضاحت: یعنی دین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ذات اقدس میں اس طرح جمع ہو گیا کہ کسی اور کو یہ شرف حاصل نہیں ہوا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا کرتہ چونکہ سب سے بڑا تھا، اس لیے ان کا دینی فہم بھی اوروں سے بڑھ کر تھا۔ دین کی اس کمی بیشی میں ان لوگوں کی تردید ہے جو کہتے ہیں کہ ایمان کم و بیش نہیں ہوتا۔ (راز)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1547
1547 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ، فَشَرِبْتُ حَتَّى إِنِّي لأَرَى الرِّيَّ يَخْرُجُ فِي أَظْفَارِي ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: الْعِلْمَ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں سو رہا تھا۔ (اسی حالت میں) مجھے دودھ کا ایک پیالہ دیا گیا۔ میں نے خوب (اچھی طرح) پی لیا۔ حتی کہ میں نے دیکھا کہ تازگی میرے ناخنوں سے نکل رہی ہے۔ پھر میں نے اپنا بچا ہوا (دودھ) عمر بن الخطاب کو دے دیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: آپ نے اس کی کیا تعبیر لی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علم۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1547]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 3 كتاب العلم: 22 باب فضل العلم»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1548
1548 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي عَلَى قَلِيبٍ، عَلَيْهَا دَلْوٌ فَنَزَعْتُ مِنْهَا مَا شَاءَ اللهُ ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ فَنَزَعَ بِهَا ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي نَزعِهِ ضَعْفٌ، وَاللهُ يَغْفرُ لَهُ ضَعْفَهُ ثُمَّ اسْتَحَالَتْ غَرْبًا، فَأَخَذَهَا ابْنُ الْخَطَابِ، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَنْزِعُ نَزْعَ عُمَرَ، حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بَعَطَنٍ
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: میں سو رہا تھا کہ خواب میں، میں نے اپنے آپ کو ایک کنویں پر دیکھا جس پر ڈول تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جتنا چاہا میں نے اس ڈول سے پانی کھینچا، پھر اسے ابن ابی قحافہ(حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ) نے لے لیا اور انہوں نے ایک یا دو ڈول کھینچے۔ ان کے کھینچنے میں کچھ کمزوری سی معلوم ہوئی۔ اللہ ان کی اس کمزوری کو معاف فرمائے۔ پھر اس ڈول نے ایک بہت بڑے ڈول کی صورت اختیار کرلی اور اسے عمر بن خطاب نے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ میں نے ایسا شہ زور پہلوان آدمی نہیں دیکھا جو عمر کی طرح ڈول کھینچ سکتا۔ انہوں نے اتنا پانی نکالا کہ لوگوں نے اپنے اونٹوں کو حوض سے سیراب کرلیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1548]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 62 كتاب فضائل أصحاب النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 5 باب قول النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (لو كنت متخذًا خليلاً»
وضاحت: یہ خلافت اسلامی کو سنبھالنے پر اشارہ ہے۔ جیسا کہ وفات نبوی کے بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ دو اڑھائی سال خلافت کے منصب پر فائز رہے اور مختلف فتنوں کی کامیابی سے سرکوبی کی۔ بعد میں فاروقی دور شروع ہوا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خلافت کا حق ادا کر دیا کہ فتوحات اسلامی کا سیلاب دور دور تک پہنچ گیا اور خلافت کے ہر شعبہ میں ترقی کے دروازے کھل گئے۔ (راز)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1549
1549 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أُرِيتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَنْزِعُ بِدَلْوٍ بَكْرَةٍ عَلَى قَلِيبِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ، فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ نَزْعًا ضَعِيفًا، واللهُ يَغْفِرُ لَهُ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا يَفْرِي فَرِيَّهُ، حَتَّى رَوِيَ النَّاسُ وَضَرَبُوا بِعَطَنٍ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک کنویں سے ایک اچھا بڑا ڈول کھینچ رہا ہوں، جس سے جوان اونٹنی کو دودھ پلاتے ہیں۔پھر ابوبکر آئے اور انہوں نے بھی ایک یا دو ڈول کھینچے مگر کمزوری کے ساتھ اور اللہ ان کی مغفرت کرے۔ پھر عمر آئے اور ان کے ہاتھ میں وہ ڈول ایک بہت بڑے ڈول کی صورت اختیار کرگیا۔ میں نے ان جیسا مضبوط اور باعظمت شخص نہیں دیکھا جو اتنی مضبوطی کے ساتھ کام کرسکتا ہو۔ انہوں نے اتنا کھینچا کہ لوگ سیراب ہو گئے اور اپنے اونٹوں کو پلا کر ان کے ٹھکانوں پر لے گئے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1549]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 62 كتاب فضائل أصحاب النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 6 باب مناقب عمر بن الخطاب أبي حفص»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں