مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
77. باب
ترقیم عوامۃ: 37202 ترقیم الشثری: -- 38801
٣٨٨٠١ - حدثنا ابو عبد الرحمن (بقي) (١) (٢) بن مخلد قال: حدثنا عبد الله بن محمد بن ابي شيبة قال: حدثنا شريك بن عبد الله عن سماك عن جابر بن سمرة ان النبي ﷺ رجم يهوديا ويهودية (٣).
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س]: (تقي).
(٢) في [أ، ب، س]: زيادة (الدين).
(٣) حسن؛ شريك وسماك صدوقان، أخرجه أحمد (٢٠٨٥٦)، وابن ماجه (٢٥٥٧)، والترمذي (١٤٣٧)، والطيالسي (٧٧٥)، وأبو يعلى (٧٤٥١)، والطبراني (١٩٥٤).
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38801، ترقيم محمد عوامة 37202)
ترقیم عوامۃ: 37203 ترقیم الشثری: -- 38802
٣٨٨٠٢ - حدثنا ابو معاوية ووكيع عن الاعمش عن عبد الله بن مرة عن البراء ابن عازب ان رسول الله ﷺ رجم يهوديا (١).
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٧٠٠)، وأحمد (١٨٥٢٥).
حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک یہودی کو سنگسار (کرنے کا حکم) فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38802]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38802، ترقيم محمد عوامة 37203)
ترقیم عوامۃ: 37204 ترقیم الشثری: -- 38803
٣٨٨٠٣ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن (مجالد) (١) عن عامر عن جابر بن عبد الله ان النبي ﷺ رجم يهوديا ويهودية (٢).
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (مجاهد).
(٢) ضعيف؛ لضعف مجاهد، وأخرجه أبو داود (٤٤٥٢)، والحميدي (١٢٩٤)، والبزار (١٥٥٨/ كشف) والدارقطني ٤/ ١٦٩، وأبو يعلى (١٩٢٨)، وأصله عند مسلم (١٧٠١)، وأحمد (١٤٤٤٧).
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک یہودی مر د اور ایک یہودیہ عورت کو سنگسار (کرنے کا حکم) فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38803]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38803، ترقيم محمد عوامة 37204)
ترقیم عوامۃ: 37205 ترقیم الشثری: -- 38804
٣٨٨٠٤ - حدثنا ابن نمير حدثنا عبيد الله عن نافع عن ابن عمر ان النبي ﷺ رجم يهوديين انا فيمن رجمهما (١).
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٧٥٤٣)، ومسلم (١٦٩٩).
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو یہودیوں کو سنگسار (کرنے کا حکم) فرمایا اور میں نے ان یہودیوں پر سنگ باری کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38804]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38804، ترقيم محمد عوامة 37205)
ترقیم عوامۃ: 37206 ترقیم الشثری: -- 38805
٣٨٨٠٥ - حدثنا جرير عن مغيرة عن الشعبي ان النبي ﷺ رجم يهوديا ويهودية (١).
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ الشعبي تابعي، وورد الخبر من حديث الشعبي عن جابر مرفوعًا، أخرجه أبو يعلى (١٩٢٨)، والدارقطني ٤/ ١٦٩، وأبو نعيم في الحلية ٨/ ١٩٠، وابن النجار في ذيل بغداد ١٧/ ٧١.
حضرت شعبی سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک یہودی مرد اور یک یہودیہ عورت کو سنگسار (کرنے کا حکم) فرمایا۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا یہ قول ذکر کیا جاتا ہے کہ: یہودی مرد و عورت پر سنگساری کا حکم نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38805]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38805، ترقيم محمد عوامة 37206)
1. وذكر أن أبا حنيفة قال: ليس عليهما رجم
یہودی مرد اور یہودیہ عورت کو سنگسار کرنا
ترقیم عوامۃ: 37207 ترقیم الشثری: -- 38806
٣٨٨٠٦ - حدثنا ابن إدريس عن الاعمش عن عبد الله بن عبد الله عن عبد الرحمن بن ابي ليلى عن البراء بن (مالك) (١) قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ (فقال) (٢): اصلي في مرابض الغنم؟ قال:"نعم" قال: اتوضا من لحومها؟ قال:"لا" قال: فاصلي في مبارك الإبل؟ قال:"لا" قال: فاتوضا من لحومها؟ قال:"نعم" (٣).
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في النسخ: (مالك)، وصوابه: (عازب) كما تقدم برقم (٥١٥).
(٢) في [أ، ب]: (قال).
(٣) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٨٥٣٨)، وأبو داود (١٨٤)، والترمذي (٨١)، وابن ماجه (٤٩٤)، والطيالسي (٧٣٤)، وأبو يعلى (١٧٠٩)، وابن حبان (١١٢٨)، وعبد الرزاق (١٥٩٧)، وابن خزيمة (٣٢)، وابن الجارود (٢٢٦)، والطحاوي ١/ ٣٨٤، والبيهقي ١/ ١٥٩.
حضرت براء بن عازب روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔ کیا میں بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ہاں پڑھ سکتے ہو۔ اس نے دوبارہ عرض کیا۔ کیا میں بکریوں کے گوشت سے وضو کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں، اس آدمی نے پھر پوچھا: کیا میں اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں! سائل نے پوچھا: کیا میں اونٹوں کے گوشت سے وضو کروں؟ـ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہاں کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38806]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38806، ترقيم محمد عوامة 37207)
ترقیم عوامۃ: 37208 ترقیم الشثری: -- 38807
٣٨٨٠٧ - حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن عن عبد الله بن (مغفل) (١) قال: قال رسول الله ﷺ:"صلوا في مرابض الغنم، ولا تصلوا في اعطان الإبل، فإنها خلقت من (الشيطان) (٢)" (٣).
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (معقل).
(٢) في [أ، ب، جـ، س]: (الشياطين).
(٣) صحيح؛ صرح الحسن بالسماع عند ابن حبان (٥٦٥٦) وصرح هشيم بالتحديث عنده (١٧٠٢)، وأخرجه أحمد (١٦٧٨٨)، وابن ماجه (٧٦٩)، وابن حبان (١٧٠٢)، والبيهقي ٢/ ٤٤٩، وابن عبد البر في التمهيد ٥/ ٣٠٢، وعبد الرزاق (١٦٠٢)، كما أخرجه النسائي ٢/ ٥٦، وعبد بن حميد (٥٠١).
حضرت عبد اللہ بن مغفل روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو، اور تم اونٹوں کے باڑے میں نماز نہ پڑھو، کیونکہ اونٹوں کو شیاطین سے پیدا کیا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38807]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38807، ترقيم محمد عوامة 37208)
ترقیم عوامۃ: 37209 ترقیم الشثری: -- 38808
٣٨٨٠٨ - حدثنا عبيد الله بن موسى عن إسرائيل عن اشعث بن ابي الشعثاء عن جعفر بن ابي ثور عن جابر بن سمرة قال: امرنا النبي ﷺ ان نتوضا من لحوم الإبل، ولا نتوضا من لحوم الغنم، وان نصلي في دمن الغنم ولا نصلي في اعطان الإبل (١).
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ جعفر ثقة، وأخرجه مسلم (٣٦٠)، وأحمد (٢٠٨١١).
حضرت جابر بن سمرہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اونٹ کے گوشت سے وضو کرنے کا حکم فرمایا (یعنی اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد) اور بکریوں کے گوشت سے وضو نہ کرنے کا حکم فرمایا اور بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کا حکم فرمایا اور اونٹوں کے باڑے میں نماز نہ پڑھنے کا حکم فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38808]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38808، ترقيم محمد عوامة 37209)
ترقیم عوامۃ: 37210 ترقیم الشثری: -- 38809
٣٨٨٠٩ - [(حدثنا يزيد بن هارون حدثنا) (١) هشام عن محمد بن سيرين عن ابي هريرة عن النبي ﷺ قال:"إذا لم تجدوا إلا مرابض الغنم واعطان الإبل فصلوا في مرابض الغنم، ولا تصلوا في اعطان الإبل"] (٢) (٣).
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (يزيد عن).
(٢) سقط الخبر من: [أ، ب]، وفي [س]: آخره إلى ما بعد حديث: [١٧٦١٠]، وهو مثل نسخة: [جـ].
(٣) صحيح؛ أخرجه أحمد (٩٨٢٥)، والترمذي (٣٤٨)، وابن ماجه (٧٦٨)، وابن خزيمة (٧٩٥)، وابن حبان (١٣٨٤)، والدارمي (١٣٩١)، وأبو عوانة ١/ ٤٠٢، والطحاوي ١/ ٣٨٤، والبيهقي ٢/ ٤٤٩، والبغوي (٥٠٣).
حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم بکریوں اور اونٹوں کے باڑے کے سوا کوئی جگہ نہ پاؤ تو بکریوں کے باڑے میں نمازپڑھ لو، اور اونٹوں کے باڑے میں نماز نہ پڑھو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38809]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38809، ترقيم محمد عوامة 37210)
ترقیم عوامۃ: 37211 ترقیم الشثری: -- 38810
٣٨٨١٠ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) عن عبد الملك بن الربيع بن سبرة عن ابيه عن جده ان النبي ﷺ قال:"لا يصلى في اعطان الإبل" (٢).
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (الخباب).
(٢) ضعيف؛ لضعف عبد الملك بن الربيع بن سبرة، وأخرجه أحمد (١٥٣٤١)، وابن ماجه (٧٧٠)، وأبو يعلى (٩٤٠)، والدارقطني ١/ ٢٧٦، والطبراني (٦٥٤٣)، والبيهقي ٢/ ٤٤٩، والبغوي (٥٠٢).
حضرت عبد الملک کے دادا سبرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اونٹوں کے باڑے میں نماز نہیں پڑھی جائے گی۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 38810]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38810، ترقيم محمد عوامة 37211)