Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. ما ذكر في أبي يكسوم وأمر الفيل
ابو یکسوم اور ہاتھیوں کے بارے ذکر کی گئی روایات
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37689 ترقیم الشثری: -- 39293
٣٩٢٩٣ - (حدثنا ابو عبد الرحمن بقي بن مخلد قال: حدثنا ابو بكر عبد الله بن محمد بن ابي شيبة العبسي قال) (١): حدثنا ابو اسامة (٢) عن محمد بن إسماعيل (٣) قال: حدثني سعيد بن جبير قال: اقبل ابو يكسوم صاحب الحبشة ومعه الفيل، فلما انتهى إلى الحرم برك الفيل (فابى) (٤) ان يدخل الحرم، قال: فإذا وجه راجعا اسرع راجعا، وإذا اريد على الحرم (ابى) (٥)، فارسل عليهم طير صغار بيض في افواهها حجارة (امثال) (٦) الحمص، لا (تقع) (٧) على احد إلا هلك (٨).

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [أ، ب]: زيادة (قال: حدثني ابن أسامة).
(٣) كذا في النسخ، وهو: (محمد بن أبي إسماعيل).
(٤) في [ق]: (وأبى).
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) في [ب]: (مثل).
(٧) في [ي]: (يقع).
(٨) مرسل؛ سعيد بن جبير تابعي.

حضرت سعید بن جُبیر بیان فرماتے ہیں کہ حبشہ کا امیر ابو یکسوم آیا اور اس کے ساتھ ہاتھی (بھی) تھے۔ پس جب وہ حرم تک پہنچا تو (اس کا) ہاتھی بیٹھ گیا اور اس نے حرم میں داخل ہونے سے انکار کردیا۔ راوی کہتے ہیں جب ابو یکسوم ہاتھی واپسی کے لئے متوجہ کرتا تو ہاتھی خوب تیز رفتار واپس چلتا اور جب حرم کا ارادہ کیا جاتا تو ہاتھی انکار دیتا۔ پس ان پر سفید رنگ کے چھوٹے چھوٹے پرندے بھیجے گئے جن کے منہ میں چنوں کے برابر پتھر تھے وہ پتھر جس پر بھی گرتے اس کو ہلاک کردیتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39293]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39293، ترقيم محمد عوامة 37689)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37690 ترقیم الشثری: -- 39294
٣٩٢٩٤ - قال ابو اسامة: فحدثني ابو (مكين) (١) عن عكرمة قال: فاظلتهم من السماء فلما جعلهم الله كعصف ماكول ارسل الله غيثا فسال بهم حتى ذهب بهم إلى البحر (٢).

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ق]: (منين).
(٢) مرسل؛ عكرمة تابعي.

حضرت عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ ان پرندوں نے لوگوں پر آسمان سے سایہ کردیا۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے ان کو کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ایک سیلاب بھیجا۔ وہ سیلاب ان کو بہا کرلے گیا یہاں تک کہ وہ سیلاب انہیں سمندر میں لے گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39294]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39294، ترقيم محمد عوامة 37690)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37691 ترقیم الشثری: -- 39295
٣٩٢٩٥ - حدثنا وكيع عن بن عون عن ابن سيرين عن ابن عباس ﴿طيرا ابابيل﴾ قال: كان لها خراطيم كخراطيم الطير، واكف كاكف الكلاب (١).

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه ابن جرير في التفسير ٣٠/ ٢٩٧، والبيهقي في دلائل النبوة ١/ ١٢٢، وابن إسحاق في السيرة (٤٢).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے { طَیْرًا أَبَابِیلَ } کی تفسیر میں فرمایا۔ ان کے ناک پرندوں کے ناک کی طرح تھے اور ان کی ہتھیلیاں کتوں کی ہتھیلیوں کی طرح تھیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39295]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39295، ترقيم محمد عوامة 37691)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37692 ترقیم الشثری: -- 39296
٣٩٢٩٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن الاعمش عن ابي سفيان عن عبيد بن عمير قال: طير سود تحمل الحجارة بمناقيرها واظافيرها.
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ یہ سیاہ رنگ کے پرندے تھے جنہوں نے اپنی چونچوں اور پنجوں میں پتھر اٹھائے ہوئے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39296]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39296، ترقيم محمد عوامة 37692)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37693 ترقیم الشثری: -- 39297
٣٩٢٩٧ - حدثنا الحسن بن موسى عن شيبان عن يحيى قال: اخبرني ابو سلمة ان ابا هريرة اخبره ان رسول الله ﷺ ركب (راحلته) (١) فخطب فقال:"إن الله حبس عن مكة الفيل، وسلط عليهم رسوله والمؤمنين" (٢).

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (راحله).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (١١٢)، ومسلم (١٣٥٥).

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مکہ کو ہاتھیوں (والوں) سے روکے (محفوظ) رکھا اور اس مکہ پر اپنے رسول کو اور اہل ایمان کو تسلط عطا فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39297]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39297، ترقيم محمد عوامة 37693)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37694 ترقیم الشثری: -- 39298
٣٩٢٩٨ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن ابي سفيان عن عبيد بن عمير قال: لما اراد الله ان يهلك اصحاب الفيل بعث عليهم طيرا انشئت من البحر امثال الخطاطيف، كل طير منها يحمل ثلاثة احجار مجزعة: حجرين في رجليه وحجرا في منقاره، قال: فجاءت حتى صفت على رؤوسهم ثم صاحت فالقت ما في ارجلها ومناقيرها، فما يقع على راس رجل إلا خرج من دبره، ولا يقع على شيء من جسده إلا خرج (١) من الجانب الآخر قال: وبعث الله ريحا شديدة (٢) فضربت الحجارة فزادتها شدة قال: فاهلكوا جميعا (٣).

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: زيادة (من دبره لا تقع على شيء من جسده إلا خرج).
(٢) إلى هنا ينتهي سقط نسخة [ي] الذي ابتدأ من أول كتاب الرد على أبي حنيفة برقم [٣٨٨٠١].
(٣) مرسل؛ عبيد بن عمير ليس له رواية عن النبي ﷺ.

حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اصحاب الفیل کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ان پرندوں کو بھیجا جن کو سمندر سے نکالا گیا تھا اور وہ ابابیلوں کے مشابہ تھے۔ ان میں سے ہر ایک پرندہ سفید و سیاہ رنگ کے تین پتھر اٹھائے ہوا تھا۔ دو پتھر اس کے پاؤں میں تھے اور ایک پتھر اس کی چونچ میں۔ راوی کہتے ہیں۔ پس وہ پرندے آئے یہاں تک کہ انہوں نے اصحاب الفیل کے سروں پر صفیں بنالیں۔ پھر انہوں نے آواز نکالی اور جو پتھر ان کے پنجوں اور چونچوں میں تھے وہ انہوں نے پھینک دیے۔ پس کوئی پتھر کسی آدمی کے سر پر نہیں گرتا تھا مگر یہ کہ اس کی دبر سے خارج ہوتا۔ اور آدمی کے جسم کے کسی حصہ پر نہیں لگتا تھا مگر یہ کہ دوسری جانب سے نکل آتا تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تیز آندھی بھیجی اس نے (بھی) پتھر مارے پس پتھروں کی شدت بڑھ گئی۔ راوی کہتے ہیں۔ پس وہ تمام لوگ ہلاک کردیئے گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39298]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39298، ترقيم محمد عوامة 37694)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. ما رأي النبي ﷺ قبل النبوة
ان باتوں کا بیان جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے قبل دیکھا
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37695 ترقیم الشثری: -- 39299
٣٩٢٩٩ - (حدثنا ابو بكر قال) (١): حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا (مجالد) (٢) قال: حدثنا عامر قال: انطلق عمر إلى يهود فقال: انشدكم (الله) (٣) الذي انزل التوراة على موسى هل تجدون محمدا (٤) في كتبكم؟ قالوا: نعم، قال: فما يمنعكم ان تتبعوه؟ (فقالوا) (٥): إن الله لم يبعث رسولا إلا كان له من الملائكة (كفل) (٦)، (وإن) (٧) جبرائيل (كفل) (٨) محمد (٩)، وهو الذي ياتيه، وهو عدونا من بين الملائكة، وميكائيل سلمنا، فلو كان ميكائيل هو الذي (ياتيه) (١٠) اسلمنا، قال: (فإني) (١١) انشدكم بالله الذي انزل التوراة على موسى ما منزلتهما من رب العالمين؟ قالوا: جبرائيل عن يمينه وميكائيل عن يساره، قال عمر: فإني (اشهد) (١٢) ما (يتنزلان) (١٣) إلا بإذن الله، وما كان ميكائيل ⦗٣٤٨⦘ (ليسالم) (١٤) عدو جبرئيل، وما كان جبرئيل (ليسالم) (١٥) عدو ميكائيل فبينما هو عندهم إذ جاء النبي ﷺ فقالوا: هذا (صاحبك) (١٦) يا ابن الخطاب؟ فقام إليه فاتاه وقد انزل عليه: ﴿قل من كان عدوا لجبريل فإنه نزله على قلبك بإذن الله﴾ إلى قوله: ﴿فإن الله عدو للكافرين﴾ [البقرة: ٩٧، ٩٨] (١٧).

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ق، ي].
(٢) في [س]: (مجاهد).
(٣) سقط من: [جـ، ق، ي].
(٤) في [جـ، ق، ي]: زيادة ﷺ.
(٥) في [أ، ب]: (قالوا).
(٦) في [ط، هـ]: (كفيل).
(٧) في [أ]: (فإن).
(٨) في [ط، هـ]: (كفيل).
(٩) في [هـ، ي]: زيادة ﷺ.
(١٠) سقط من: [س].
(١١) سقط من: [جـ، ق].
(١٢) في [س]: (أنشد).
(١٣) في [ي]: (منزلان).
(١٤) في [أ، ب، جـ، س، ي]: (ليسال).
(١٥) في [أ، جـ، س، ي]: (ليسال)، وفي [ب]: (ليسال).
(١٦) في [ب]: (صاحبكم).
(١٧) مرسل ضعيف؛ عامر تابعي، ومجالد ضعيف، أخرجه ابن أبي حاتم (٩٦٠)، وابن جرير في التفسير ١/ ٤٣٣ و ٤٣٥، وابن شبه (١٤٦٨).

حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر یہود کے پاس گئے اور کہا میں تمہیں اس خدا کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ پر تورات اتاری۔ کیا تم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (کی صفات) کو اپنی کتابوں میں پاتے ہو؟ یہود نے کہا۔ ہاں۔ حضرت عمر نے فرمایا۔ پھر تمہیں ان کی اتباع کرنے سے کیا شئی روکتی ہے؟ یہود نے کہا: اللہ تعالیٰ نے کوئی رسول مبعوث نہیں فرمایا مگر یہ کہ فرشتوں میں سے اس کا کوئی ساتھی ہوتا ہے۔ اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھی جبرائیل ہے اور وہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتا ہے۔ اور فرشتوں میں سے یہ ہمارے دشمن ہیں۔ اور میکائیل سے ہماری مصالحت ہے۔ پس اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس میکائیل آیا کرتے تو ہم اسلام لے آتے۔ حضرت عمر نے فرمایا۔ میں تمہیں اس خدا کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ پر تورات نازل کی ہے۔ ان دونوں فرشتوں کی رب العالمین کے ہاں کیا قدر ومنزلت ہے؟ یہود نے کہا۔ جبرائیل اللہ تعالیٰ کے دائیں طرف ہے اور میکائیل اللہ تعالیٰ کے بائیں طرف ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا۔ پس بیشک میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ دونوں فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم ہی سے نازل ہوتے ہیں۔ اور میکائیل ایسا نہیں ہے جو جبرائیل کے دشمنوں سے مصالحت رکھتا ہو اور نہ ہی جبرائیل ایسا ہے کہ وہ میکائیل کے دشمنوں سے مصالحت رکھتا ہو۔ حضرت عمر، یہود کے پاس ہی موجود تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو یہود نے کہا۔ یہ تمہارے ساتھی ہیں۔ اے ابن خطاب! پس حضرت عمر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے درآنحالیکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیات نازل ہوچکی تھیں۔ { مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِیلَ فَإِنَّہُ نَزَّلَہُ عَلَی قَلْبِکَ بِإِذْنِ اللہِ …إِلَی قَوْلِہِ… فَإِنَّ اللَّہَ عَدُوٌّ لِلْکَافِرِینَ }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39299]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39299، ترقيم محمد عوامة 37695)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37696 ترقیم الشثری: -- 39300
٣٩٣٠٠ - حدثنا (قراد) (١) ابو نوح قال: (اخبرنا) (٢) يونس (بن) (٣) ابي إسحاق عن ابي بكر بن ابي موسى (عن ابيه) (٤) قال: خرج ابو طالب إلى الشام وخرج معه رسول الله صلى الله وعليه (وسلم) (٥) واشياخ من قريش، فلما اشرفوا على الراهب هبطوا فحلوا رحالهم، (فخرج) (٦) إليهم الراهب، وكانوا قبل ذلك يمرون به فلا يخرج إليهم ولا يلتفت، قال: فهم يحلون رحالهم فجعل يتخللهم حتى جاء فاخذ بيد رسول الله ﷺ فقال: هذا سيد العالين، هذا رسول رب العالمين، هذا (يبعثه) (٧) ⦗٣٤٩⦘ الله رحمة للعالمين، فقال له اشياخ من قريش: ما (علمك؟) (٨) قال: إنكم (٩) حين اشرفتم من العقبة لم (تبق شجرة) (١٠) ولا (حجر) (١١) إلا خر ساجدا، ولا (يسجدون) (١٢) إلا لنبي، وإني لاعرفه بخاتم النبوة اسفل من غضروف كتفه مثل التفاحة، ثم رجع (ووضع) (١٣) لهم طعاما، فلما اتاهم به وكان هو في (رعية) (١٤) (الإبل) (١٥) قال: ارسلوا إليه، فاقبل وعليه غمامة تظله، قال: انظروا إليه عليه غمامة تظله، فلما دنا (من) (١٦) القوم وجدهم قد سبقوا إلى فيء الشجرة (١٧)، (فلما جلس مال فيء الشجرة عليه، فقال: انظروا إلى فيء الشجرة) (١٨) (مال) (١٩) عليه، قال: فبينما هو قائم عليهم وهو يناشدهم ان لا (يذهبوا) (٢٠) به إلى الروم، (فإن الروم) (٢١) لو راوه عرفوه بالصفة فقتلوه، فالتفت فإذا هو بتسعة نفر قد اقبلوا من الروم فاستقبلهم، فقال (٢٢): ما جاء ⦗٣٥٠⦘ بكم؟ (قالوا) (٢٣): جئنا ان هذا النبي خارج في هذا الشهر، فلم يبق في طريق إلا قد بعث إليه ناس، وإنا اخبرنا خبره فبعثنا إلى طريقك هذا، فقال (لهم) (٢٤): ما خلفتم خلفكم احدا هو خير منكم؟ قالوا: (لا) (٢٥)، إنما (اخبرنا) (٢٦) خبره (٢٧) لطريقك هذا، قال: افرايتم امرا اراد الله ان يقضيه (٢٨) (هل) (٢٩) يستطيع احد من الناس رده؟ قالوا: لا، قال (٣٠): (فبايعوه) (٣١) واقاموا معه، فاتاهم فقال: انشدكم بالله ايكم وليه؟ قال ابو طالب: انا، فلم يزل يناشده حتى رده ابو طالب وبعث معه ابو بكر (بلالا) (٣٢) وزوده الراهب من الكعك والزيت (٣٣).

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (قراء).
(٢) في [ي]: (أنبأنا).
(٣) في [أ، ب، جـ، ي]: (عن).
(٤) كذا في [ق، هـ] وسقط من: [أ، ب، جـ، س، ي]، وأثبتها من مصادر التخريج، ومما تقدم ١١/ ٣٧٩ برقم [٣٣٨٩٤].
(٥) سقط من: [س].
(٦) سقط من: [س].
(٧) في [ي]: (بعثه).
(٨) في [هـ]: (عملك).
(٩) في [أ، ب]: زيادة (فيوفر بشيء ما علمك؟ قال: إنكم).
(١٠) في [أ، هـ]: (يبق شجر).
(١١) في [س]: (حجرًا).
(١٢) في [ق، هـ]: (يسجد).
(١٣) في [ق، هـ]: (صنع).
(١٤) في [س]: (رعيته)، وفي [ب]: (رغبة)، وفي [ي]: (رعية).
(١٥) سقط من: [أ، ب].
(١٦) في [ي]: (إلى).
(١٧) في [هـ]: زيادة (عليه).
(١٨) سقط من: [س].
(١٩) في [س]: (كان).
(٢٠) في [أ، ب، جـ]: (تذهبوا).
(٢١) سقط من: [س].
(٢٢) في [ق]: زيادة (لهم).
(٢٣) سقط من: [ق].
(٢٤) سقط من: [ق].
(٢٥) في [س]: (الإ).
(٢٦) في [س]: (اخترنا)، وفي [ي]: (اختبرنا).
(٢٧) في [هـ]: زيادة (فبعثنا).
(٢٨) في [س]: زيادة (له).
(٢٩) في [ق، هـ]: (وهل).
(٣٠) في [ي]: زيادة (لا).
(٣١) في بعض المصادر: (فتابعوه).
(٣٢) في [س]: (وبلالا).
(٣٣) معلول؛ قال الذهبي في تاريخ الإسلام ١/ ٥٧: "وهو حديث منكر جدًا"، وأخرجه الترمذي (٣٦٢٠)، والحاكم ٢/ ٦١٥، والبزار (٣٠٩٦)، وابن حبان في الثقات ١/ ٤٢، والبيهقي في دلائل النبوة ٢/ ٢٤، وأبو نعيم في دلائل النبوة (١٩)، والخطيب في تاريخ بغداد ٣/ ٤، وانظر الإصابة ١/ ٣٥٣.

حضرت ابوبکر بن ابو موسیٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ابو طالب شام کی طرف نکلے۔ اور ان کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قریش کے چند بڑی عمر کے لوگ تھے۔ پس جب یہ لوگ راہب کے پاس پہنچے۔ انہوں نے پڑاؤ ڈالا اور یہ اپنی سواری سے اترے۔ تو راہب ان کی طرف آیا۔ اور اس سے پہلے یہ لوگ راہب کے پاس سے گزرتے تھے لیکن وہ ان کی طرف نہیں آتا تھا اور نہ ہی ان کی طرف توجہ کرتا تھا۔ راوی کہتے ہیں: یہ لوگ اپنی سواریوں سے اتر رہے تھے تو راہب نے ان کے درمیان پھرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ راہب نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا۔ یہ جہانوں کے سردار ہیں اور یہ جہانوں کے پروردگار کے رسول ہیں۔ اور ان کو اللہ تعالیٰ نے رحمۃ للعالمین بنا کر مبعوث فرمایا ہے۔ قریش کے لوگوں نے راہب سے کہا۔ تمہیں کیا علم ہے؟ اس نے کہا۔ جب تم لوگ گھاٹی سے بلند ہوئے تو کوئی درخت اور پتھر باقی نہیں رہا مگر یہ کہ اس نے جھک کر سجدہ کیا۔ اور یہ چیزیں انبیاء ہی کو سجدہ کرتی ہیں اور میں ان کو مہر نبوت کی وجہ سے پہچانتا ہوں جو مہر ان کے کندھے کی نرم ہڈی کے نیچے مثل سیب کے ہے۔ ٢۔ پھر راہب لوٹا اور اس نے ان (قافلہ والوں) کے لئے کھانا تیار کیا۔ پس جب وہ قافلہ والوں کے پاس کھانا لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اونٹوں کی حفاظت پر (مامور) تھے۔ راہب نے کہا۔ ان کی طرف (کوئی آدمی) بھیجو۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک بادل سایہ کیے ہوئے تھا۔ راہب نے کہا۔ تم انہیں دیکھو! ان پر ایک بادل ہے جس نے ان پر سایہ کیا ہوا ہے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے قریب پہنچے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے ہی درخت کے سایہ میں تھے۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے تو درخت کا سایہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف مائل ہوگیا۔ راہب نے کہا۔ تم درخت کے سایہ کی طرف دیکھو وہ (بھی) ان کی طرف جھک گیا ہے۔ ٣۔ راوی کہتے ہیں: جب راہب قافلہ والوں کے پاس کھڑا تھا اور ان سے مطالبہ کر رہا تھا کہ قافلے والے ان کو روم لے کر نہ جائیں۔ کیونکہ رومی لوگ انہیں دیکھ لیں گے تو انہیں (ان کی) صفات کی وجہ سے پہچان جائیں گے اور انہیں قتل کردیں گے۔ اس دوران اس نے مڑ کر دیکھا تو نو (٩) افراد کا گروہ جو کہ روم سے آیا تھا، موجود تھا۔ راہب نے ان کی طرف رُخ پھیرا اور پوچھا۔ تمہیں کیا چیز یہاں لائی ہے؟ انہوں نے کہا: ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ یہ نبی اسی شہر سے نکلے گا۔ پس کوئی راستہ باقی نہیں رہا مگر یہ کہ اس کی طرف لوگوں کو بھیج دیا گیا ہے۔ اور ہمیں اس کے متعلق خبر دی گئی ہے اور ہمیں تمہارے اس راستہ کی طرف بھیجا گیا ہے۔ راہب نے ان افراد سے کہا۔ تم لوگوں نے اپنے پیچھے کسی کو خود سے بہتر چھوڑا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں! ہمیں تو ان کی خبر کے بارے میں آپ کے راستہ کی طرف ہی مطلع کیا گیا ہے۔ راہب نے کہا: تم مجھے اس معاملہ کے بارے میں خبر دو جس کو اللہ تعالیٰ نے پورا کرنے کا ارادہ کرلیا ہے تو کیا لوگوں میں سے کوئی اس کو رد کرنے کی طاقت رکھتا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں! راوی کہتے ہیں: پس ان لوگوں نے راہب کی بات مان لی اور اسی کے پاس ٹھہر گئے۔ ٤۔ پھر راہب قافلہ والوں کے پاس آیا اور کہا: میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں! اس (بچہ) کا ولی کون ہے؟ ابو طالب نے کہا: میں ان کا ولی ہوں۔ پس راہب مسلسل ابو طالب سے مطالبہ کرتا رہا یہاں تک کہ ابو طالب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو واپس کردیا اور حضرت ابوبکر نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حضرت بلال کو بھیجا۔ راہب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زاد راہ کے لئے کیک اور زیتون پیش کیے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39300]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39300، ترقيم محمد عوامة 37696)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37697 ترقیم الشثری: -- 39301
٣٩٣٠١ - حدثنا ابن (فضيل) (١) عن عطاء عن سعيد عن ابن عباس انه لم (تكن) (٢) قبيلة من الجن إلا ولهم مقاعد للسمع، قال: فكان إذا نزل الوحي ⦗٣٥١⦘ سمعت الملائكة صوتا كصوت الحديدة القيتها على الصفا، قال: فإذا سمعته الملائكة خروا سجدا فلم يرفعوا رؤوسهم حتى ينزل، فإذا نزل قال بعضهم لبعض: ماذا قال ربكم؟ فإن كان مما يكون في السماء قالوا: الحق وهو العلي الكبير، فإن كان مما يكون في الارض [من امر (الغيب) (٣) او موت او شيء مما يكون في الارض] (٤) تكلموا به (فقالوا) (٥): يكون كذا كذا، فتسمعه الشياطين فينزلونه على اوليائهم، فلما بعث الله محمدا ﷺ (٦) دحروا بالنجوم، فكان اول من علم بها ثقيف، فكان ذو الغنم منهم ينطلق إلى غنمه فيذبح كل يوم شاة، وذو الإبل ينحر كل يوم بعيرا، فاسرع الناس في اموالهم، فقال بعضهم لبعض: لا تفعلوا، فإن كانت النجوم التي يهتدى بها وإلا فإنه امر حدث، (فنظروا) (٧) فإذا النجوم التي يهتدى بها كما هي، لم يرم منها بشيء فكفوا، وصرف الله الجن فسمعوا القرآن، فلما حضروه قالوا: انصتوا، قال: وانطلقت الشياطين إلى إبليس (فاخبروه) (٨) فقال: هذا (حدث) (٩) حدث في الارض، فاتوني من كل ارض بتربة، فلما اتوه بتربة تهامة قال: هاهنا الحدث (١٠).

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ي]: (فضل).
(٢) في [ي]: (يكن).
(٣) في [أ، ب، جـ، س]: (الغيث).
(٤) في [ي]: تكرر ما بين المعكوفين.
(٥) في [أ، ب]: (فقال).
(٦) سقط من: [س، هـ].
(٧) في [ي]: (فنظر).
(٨) في [جـ]: (فأخذوه).
(٩) في [أ، ب، ق]: (حادث).
(١٠) ضعيف؛ ابن فضيل روى عن عطاء بعد اختلاطه، وأخرجه ابن جرير في التفسير ٢٣/ ٣٨، والمروزي في تعظيم الصلاة (١٩)، وأبو نعيم في دلائل النبوة (٦٧٧)، والبيهقي في دلائل النبوة ٢/ ٢٤٠، وابن عساكر ٤/ ٣٩٠.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جنات کا کوئی قبیلہ نہیں تھا مگر یہ کہ ان کے لئے (آسمانی باتیں) سُننے کے لئے نشستیں تھیں۔ فرماتے ہیں: پس جب وحی نازل ہوتی تو فرشتے ایسی آواز سنتے جیسے اس لوہے کی آواز ہوتی ہے جس کو آپ صاف پتھر پر پھینکیں۔ فرماتے ہیں: پس جب فرشتے یہ آواز سنتے تو سجدہ میں گرپڑتے۔ وحی کے نازل ہونے تک وہ اپنے سر نہ اٹھاتے۔ پھر جب وحی نازل ہو چکتی تو بعض فرشتے، بعض فرشتوں سے کہتے۔ تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟ پس اگر وحی کسی آسمانی معاملہ میں ہوتی تو فرشتے کہتے۔ حق کہا ہے اور وہ ذات بلند اور بڑی ہے اور اگر وحی کسی زمینی معاملہ میں۔ غیبی امر یا موت یا کوئی بھی زمینی معاملہ، ہوتی تو فرشتے باہم گفتگو کرتے اور کہتے کہ یوں یُوں ہوگا۔ ان باتوں کو شیاطین سُن لیتے اور پھر یہ باتیں اپنے اولیاء (دوستوں) کو آ کر کہتے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث فرمایا تو شیاطین کو ستاروں کے ذریعہ ہلاک کیا گیا۔ سب سے پہلے جس کو اس بات کا (ستارے گرنے کا) علم ہوا وہ (قبیلہ) ثقیف تھا۔ پس ان میں سے بکریوں والا اپنی بکریوں کے پاس جاتا اور ہر روز ایک بکری ذبح کردیتا۔ اور اونٹوں والا ہر روز ایک اونٹ ذبح کردیتا۔ پس لوگوں نے اپنے میں جلدی کرنا شروع کی۔ تو ان میں سے بعض نے بعض سے کہا۔ (ایسا) نہ کرو۔ اگر تو یہ راہنمائی والے ستارے ہیں (تو پھر ٹھیک) وگرنہ یہ کوئی نئے حادثہ کی وجہ سے ہے۔ پس لوگوں نے دیکھا تو راہنمائی والے ستارے تو ویسے ہی تھے۔ ان میں سے کچھ بھی نہیں پھنکاک گیا تھا۔ لوگ رُک گئے۔ اور اللہ تعالیٰ نے جنات کو پھیرا اور انہوں نے قرآن کو سُنا۔ پس جب جنات (تلاوت) قرآن پر حاضر ہوئے تو انہوں نے کہا۔ خاموش ہو جاؤ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔ شیاطین، ابلیس کے پاس گئے اور جا کر اس کو خبر دی اس نے کہا: زمین میں یہی واقعہ رونما ہوا ہے۔ پس تم میرے پاس ہر زمین کی مٹی لاؤ۔ شیاطین جب ابلیس کے پاس تہامہ کی مٹی لائے تو اس نے کہا۔ یہیں پر یہ نیا واقعہ رونما ہوا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39301]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39301، ترقيم محمد عوامة 37697)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37698 ترقیم الشثری: -- 39302
٣٩٣٠٢ - حدثنا عبد الله بن إدريس وابو اسامة وغندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد الله بن سلمة عن صفوان بن عسال قال: قال يهودي لصاحبه: اذهب بنا إلى (هذا) (١) النبي، (قال) (٢): فقال (صاحبه) (٣): لا (تقل) (٤) نبي، فإنه لو سمعك كان له اربع (اعين) (٥)، قال: فاتيا رسول الله ﷺ فسالاه عن تسع آيات بينات فقال:"لا تشركوا بالله شيئا، ولا تزنوا ولا تسرقوا، ولا تقتلوا النفس التي حرم الله إلا بالحق، ولا تمشوا ببريء إلى (ذي) (٦) سلطان فيقتله، ولا تسحروا، ولا تاكلوا الربا، ولا تقذفوا المحصنة، ولا تولوا للفرار يوم الزحف، وعليكم خاصة يهود: (لا) (٧) تعدوا في السبت"، قال: فقبلوا يديه ورجليه وقالوا: نشهد انك نبي (٨) (حق) (٩)، قال:"فما يمنعكم ان تتبعوني؟" قالوا: إن داود دعا: لا يزال في ذربته نبي، وإنا نخاف ان تقتلنا يهود (١٠).

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ق].
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [ب]: (لصاحبه).
(٤) في [ب]: (ميل).
(٥) في [س]: (أعيي).
(٦) سقط من: [ق].
(٧) في [أ، ب]: (ولا).
(٨) في [ت]: زيادة ﷺ.
(٩) سقط من: [هـ].
(١٠) حسن؛ عبد اللَّه بن سلمة صدوق، أخرجه أحمد (١٨٠٩٢)، وابن ماجه (٣٧٠٥)، والترمذي (٣١٤٤)، والنسائي ٧/ ١١١، والحاكم ١/ ٩، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٤٦٦)، وابن جرير في التفسير ١٥/ ١٧٢، والطيالسي (١١٦٤)، والطحاوي ٣/ ٢١٥، والطبرني (٧٣٩٦)، وأبو نعيم في الحلية ٥/ ٩٧، والبيهقي ١٤/ ١٨٧.

حضرت صفوان بن عسال روایت کرتے ہیں کہ ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا۔ ہمیں اس نبی کے پاس لے چلو! اس کے ساتھی نے کہا: نہیں! نبی مت کہو کیونکہ اگر انہوں نے تجھے سُن لیا تو ان کی چار آنکھیں ہوجائیں گی۔ راوی کہتے ہیں: وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نو کھلی نشانیوں کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور زنا نہ کرو اور چوری نہ کرو اور اس جان کو قتل نہ کرو جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے مگر حق کی وجہ سے۔ اور کسی قوت والے کے پاس بےگناہ کی چغلی نہ کرو کہ وہ اس بےگناہ کو قتل کر دے اور جادو نہ کرو۔ اور سود نہ کھاؤ۔ اور پاکدامن عورت پر تہمت زنی مت کرو اور جنگ کے دن بھاگنے کے لئے پیٹھ مت پھیرو۔ اور اے خواص یہود تم پر یہ بھی لازم ہے کہ ہفتہ کے دن میں تعدی نہ کرو۔ راوی کہتے ہیں: یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ، پاؤں چومے اور عرض کرنے لگے۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نبی برحق ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں کو میری اتباع سے کیا چیز مانع ہے؟ کہنے لگے: حضرت داؤد نے دعا مانگی تھی کہ ان کی ذریت میں مسلسل نبوت رہے۔ اور ہمیں اس بات کا خوف ہے کہ ہمیں یہودی قتل کردیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39302]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39302، ترقيم محمد عوامة 37698)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں