الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي تَأْخِيرِ الْغُسْلِ إِلَى آخِرِ اللَّيْلِ
رات کے پچھلے حصے تک غسلِ جنابت کو مؤخر کرنا
حدیث نمبر: 912
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُجْنِبُ ثُمَّ يَنَامُ ثُمَّ يَنْتَبِهُ ثُمَّ يَنَامُ
سیدہ ام سلمہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب جنبی ہو جاتے تو سوجاتے، پھر بیدار ہوتے اور پھر سو جاتے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 912]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شريك النخعي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26552 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27087»
الحكم على الحديث: ضعیف
17. بَابٌ فِي الِاغْتِسَالَاتِ الْمَسْنُونَةِ وَفِيهِ فُصُولٌ
مسنون غسل کی اقسام
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: Q913]
18. (الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِيمَا جَاءَ مِنْ ذَلِكَ مُجْتَمِعًا)
ایک سے زائد غسل کی وہ اقسام، جن کا احادیث میں اکٹھا ذکر کیا گیا
حدیث نمبر: 913
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُقْبَةَ بْنِ الْفَاكِهِ عَنْ جَدِّهِ الْفَاكِهِ بْنِ سَعْدٍ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَوْمَ عَرَفَةَ وَيَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ النَّحْرِ، قَالَ: وَكَانَ الْفَاكِهُ بْنُ سَعْدٍ يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالْغُسْلِ فِي هَٰذِهِ الْأَيَّامِ
سیدنا فاکہ بن سعدؓ، جو کہ صحبت یافتہ تھے، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمَعَہُ کے دن، عرفہ کے دن، عید الفطر کے دن اور عید الاضحی کے دن غسل کرتے تھے، اسی بنا پر سیدنا فاکہؓ اپنے اہل و عیال کو ان دنوں میں غسل کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 913]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، يوسف بن خالد السمتي كذبه ابن معين وابوداود، والفلاس، وقال النسائي: متروك الحديث، وقال ابن حبان: كان يضع الحديث وعبد الرحمن بن عقبة بن الفاكه مجھول۔ أخرجه ابن ماجه: 1316، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16720 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16840»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 914
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: ( (يُغْتَسَلُ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنَ الْجُمُعَةِ وَالْجَنَابَةِ وَالْحِجَامَةِ وَغُسْلِ الْمَيِّتِ) )
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چار امور سے غسل کیا جاتا ہے: جمعہ سے، جنابت سے، سینگی لگوانے سے اور میت کو غسل دینے سے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 914]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، مصعب بن شيبة، قال احمد: روي احاديث مناكير، وقال النسائي: منكر الحديث، وعد الذھبي ھذا الحديث من مناكيره، وانفرد بتوثيقه ابن معين۔ أخرجه ابوداود: 348، 3160، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25190 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25705»
وضاحت: فوائد: … یہ روایات تو ضعیف ہے، ان میں سے مسنون غسلوں کی وضاحت آ گے آ رہی ہے، مثلا غسلِ جمعہ، غسلِ جنابت، میت کو غسل دینے سے غسل کرنا۔
الحكم على الحديث: ضعیف
19. الْفَصْلُ الثَّانِي فِي الْغُسْلِ مِنْ غَسْلِ الْمَيِّتِ وَالْوُضُوءِ مِنْ حَيٍّ
میت کو غسل دینے سے غسل کرنے اور اس کو اٹھانے سے وضو کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 915
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَلْيَغْتَسِلْ وَمَنْ حَمَلَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ) )
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی میت کو غسل دے، وہ خود بھی غسل کرے اور جو اس کو اٹھائے، وہ وضو کرے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 915]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3162، وابن ماجه: 1463، والترمذي: 993، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9862 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9862»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 916
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (مِنْ غُسْلِهَا الْغُسْلُ وَمِنْ حَمْلِهَا الْوُضُوءُ) )
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میت کو غسل دینے سے غسل کرنا ہے اور اس کو اٹھانے سے وضو کرنا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 916]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7675»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 917
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَلْيَغْتَسِلْ) )
۔ (تیسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو میت کو غسل دے، وہ خود بھی غسل کرے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 917]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9862»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 918
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس قسم کی ایک حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 918]
تخریج الحدیث: «ابن اسحاق صرح بحفظه للحديث عن كثير من علماء المدينة، وجھالتھم لا تضر لامتناع تواطؤھم علي الكذب في العادة، وبقية رجاله ثقات، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18146 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18327»
وضاحت: فوائد: … میت کو غسل دینے والے کیلئے غسل کرنا مستحب ہے، جیسا کہ درج ذیل روایات سے معلوم ہوتا ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَیْسَ عَلَیْکُمْ فِیْ غُسْلِ مَیِّتِکُمْ غُسْلٌ اِذَا غَسَلْتُمُوْہُ، اِنَّ مَیِّتَکُمْ لَمُؤْمِنٌ طَاھِرٌ، وَلَیْسَ بِنَجَسٍ، فَحَسْبُکُمْ اَنْ تَغْسِلُوْا اَیْدِیَکُمْ)) … جب تم میت کو غسل دے لو تو تم پر کوئی غسل نہیں ہے، بیشک تمہارا میت مومن اور طاہر ہے اور نجس نہیں ہے، پس تمہیں ہاتھ دھو لینا ہی کافی ہے۔ (بیہقی: ۱/ ۳۹۸، حاکم: ۱/ ۳۸۶، احکام الجنائز: ص ۵۳، ۵۴، محقق بیہقی کے نزدیک یہ حدیث حسن لغیرہ ہے)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کُنَّا نَغْسِلُ الْمَیِّتَ، فَمِنَّا مَنْ یَغْتَسِلُ وَمِنَّا مَنْ لَّا یَغْتَسِلُ۔ … ہم میت کو غسل دیتے تھے، اس سے کوئی غسل کر لیتا تھا اور کوئی نہیں کرتا تھا۔ (دارقطنی: ۲/ ۷۲، تمام المنۃ: ص ۱۲۱)
سیدہ اسماء بنت عمیس ؓنے اپنے خاوند سیدنا ابو بکر صدیق ؓکو غسل دیا اور پھر مہاجرین سے پوچھا کہ آج شدید سردی ہے، کیا اس پر غسل کرنا ضروری ہے، انھوں نے کہا: جی نہیں۔ (مؤطا امام مالک: ۱ /۲۲۳، بیہقی: ۳/ ۳۹۷) اسی طرح میت کو اٹھانے والے کے لیے وضو کرنا بھی مستحب ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَیْسَ عَلَیْکُمْ فِیْ غُسْلِ مَیِّتِکُمْ غُسْلٌ اِذَا غَسَلْتُمُوْہُ، اِنَّ مَیِّتَکُمْ لَمُؤْمِنٌ طَاھِرٌ، وَلَیْسَ بِنَجَسٍ، فَحَسْبُکُمْ اَنْ تَغْسِلُوْا اَیْدِیَکُمْ)) … جب تم میت کو غسل دے لو تو تم پر کوئی غسل نہیں ہے، بیشک تمہارا میت مومن اور طاہر ہے اور نجس نہیں ہے، پس تمہیں ہاتھ دھو لینا ہی کافی ہے۔ (بیہقی: ۱/ ۳۹۸، حاکم: ۱/ ۳۸۶، احکام الجنائز: ص ۵۳، ۵۴، محقق بیہقی کے نزدیک یہ حدیث حسن لغیرہ ہے)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کُنَّا نَغْسِلُ الْمَیِّتَ، فَمِنَّا مَنْ یَغْتَسِلُ وَمِنَّا مَنْ لَّا یَغْتَسِلُ۔ … ہم میت کو غسل دیتے تھے، اس سے کوئی غسل کر لیتا تھا اور کوئی نہیں کرتا تھا۔ (دارقطنی: ۲/ ۷۲، تمام المنۃ: ص ۱۲۱)
سیدہ اسماء بنت عمیس ؓنے اپنے خاوند سیدنا ابو بکر صدیق ؓکو غسل دیا اور پھر مہاجرین سے پوچھا کہ آج شدید سردی ہے، کیا اس پر غسل کرنا ضروری ہے، انھوں نے کہا: جی نہیں۔ (مؤطا امام مالک: ۱ /۲۲۳، بیہقی: ۳/ ۳۹۷) اسی طرح میت کو اٹھانے والے کے لیے وضو کرنا بھی مستحب ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
20. الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي طَلَبِ الْغُسْلِ مِنَ الْكَافِرِ إِذَا أَسْلَمَ
مسلمان ہونے والے کافر سے غسل کرنے کا مطالبہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 919
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ ثُمَامَةَ بْنَ أُثَالٍ أَوْ أُثَالَةَ أَسْلَمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (اذْهَبُوا بِهِ إِلَى حَائِطِ بَنِي فُلَانٍ فَمُرُوهُ أَنْ يَغْتَسِلَ) )
سیدنا ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا ثمامہ بن اثال مسلمان ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: ان کو بنوفلاں کے باغ میں لے جاؤ اور ان کو حکم دو کہ یہ وہاں غسل کر لیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 919]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 462، 469، 2422، 4372، ومسلم: 1764، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8037 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8024»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 920
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) أَنَّ ثُمَامَةَ بْنَ أُثَالٍ الْحَنَفِيَّ أَسْلَمَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْطَلَقَ بِهِ إِلَى حَائِطِ أَبِي طَلْحَةَ فَيَغْتَسِلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (قَدْ حَسُنَ إِسْلَامُ صَاحِبِكُمْ) )
۔ (دوسری سند) جب سیدنا ثمامہ بن اثال حنفی ؓمسلمان ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ ان کو سیدنا ابو طلحہ ؓ کے باغ میں لے جایا جائے، تاکہ یہ غسل کر لیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ساتھی کا اسلام اچھا ہو گیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 920]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10273»
الحكم على الحديث: صحیح