Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ وُجُوبِ الْجُمُعَةِ وَالتَّغْلِيظِ فِي تَرْكِهَا وَعَلَى مَنْ تَجِبُ
جمعہ کی فرضیت اور اس کو ترک کرنے پر تشدید کا بیان، نیز یہ کن لوگوں پر واجب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2715
عَنْ جَعْفَرٍ ثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتُقَامَ ثُمَّ أَخْرُجَ بِفِتْيَانِي مَعَهُمْ حُزَمُ الْحَطَبِ فَأُحَرِّقَ عَلَى قَوْمٍ فِي بُيُوتِهِمْ يَسْمَعُونَ النِّدَاءَ ثُمَّ لَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ))، فَسُئِلَ يَزِيدُ: فِي الْجُمُعَةِ هَٰذَا أَمْ فِي غَيْرِهَا؟ قَالَ: مَا سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَذْكُرُ جُمُعَةً وَلَا غَيْرَهَا إِلَّا هَٰكَذَا
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے ارادہ کیا ہے کہ نماز کا حکم دوں، پس وہ کھڑی کر دی جائے اور میں جوانوں کے ساتھ نکل جاؤں، ان کے پاس لکڑیوں کے گٹھے ہوں، پھر میں ان لوگوں سمیت ان کے گھر جلا دوں جو اذان سنتے ہیں، لیکن نماز ادا کرنے کے لیے نہیں آتے۔ یزید راوی سے پوچھا گیا کہ یہ وعید جمعہ کے بارے میں تھی یا دوسری نمازوں کے متعلق؟ انھوں نے کہا: میں نے سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو جمعہ کا ذکر کرتے ہوئے یا کسی اور نماز کا ذکر کرتے ہوئے نہیں سنا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2715]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 651، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10101 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10975»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2716
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِقَوْمٍ يَتَخَلَّلُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ: ((لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ أُحَرِّقَ عَلَى رِجَالٍ يَتَخَلَّلُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ بُيُوتَهُمْ))
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ کی نماز سے پیچھے رہنے والے لوگوں کے بارے میں فرمایا: میں نے اس بات کا ارادہ کیا ہے کہ کسی آدمی کو نماز پڑھانے کا حکم دوں اور میں خود ان آدمیوں سمیت ان کے گھروں کو جلا دوں جو جمعہ سے پیچھے رہتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2716]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 652، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3816 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3816»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2717
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَ مِرَارٍ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ))
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے عذر کے بغیرتین جمعے چھوڑ دیئے، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2717]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 1126، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14559 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14613»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2718
عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ تَرَكَ ثَلَاثَ جُمَعٍ تَهَاوُنًا مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ طَبَعَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى قَلْبِهِ))
ابوالجعد ضمری رضی اللہ عنہ، جو صحابی تھے، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے عذر کے بغیر اور سستی کرتے ہوئے تین جمعے چھوڑ دیئے، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2718]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 1052، والنسائي: 3/ 88، والترمذي: 500، وابن ماجه: 1125، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15498 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15580»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2719
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
سیّدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2719]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الطحاوي في ’’شرح مشكل الآثار‘‘: 3184، والحاكم: 2/ 488، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22559 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22926»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2720
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَحْضُرُوا الْجُمُعَةَ وَادْنُوا مِنَ الْإِمَامِ، فَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَخَلَّلُ عَنِ الْجُمُعَةِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَتَخَلَّلُ عَنِ الْجَنَّةِ وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِهَا))
سیّدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے لیے حاضر ہوا کرو اور امام کے قریب ہو کر بیٹھا کرو، یقینا ایک آدمی جمعہ سے پیچھے رہنا شروع کر دیتا ہے، حتی کہ اسے جنت سے پیچھے کر دیا جاتا ہے، حالانکہ وہ جنتی لوگوں میں سے ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2720]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف الحكم بن عبد الملك، والحسن البصري لم يصرح بسماعه من سمرة أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 6854، وفي ’’الصغير‘‘: 346، والبيھقي: 3/ 238، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20112 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20373»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2721
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ تَرَكَ جُمُعَةً فِي غَيْرِ عُذْرٍ فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَبِنِصْفِ دِينَارٍ))
سیّدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:جو عذر کے بغیر جمعہ ترک کر دے تو وہ ایک دینار صدقہ کرے، اگر اس کے پاس اتنا نہ ہو تو نصف دینار دے دے۔
سیّدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ایک آدمی چرنے والے جانور رکھ لیتا ہے اور (شروع شروع میں) نماز باجماعت میں حاضر ہوتا ہے، پھر جب اس کے جانوروں کو (چرنے کی چیزوں کی) کمی کا شکوہ ہونے لگتا ہے، تو وہ کہتا ہے: اگر میں اپنے جانوروں کے لیے زیادہ گھاس والی کوئی جگہ تلاش کر لوں، سو وہ منتقل ہو کر (دور چلا جاتا ہے) اور صرف جمعہ کی نماز کے لیے حاضر ہوتا ہے، پھر اس کے جانور(چرنے کی چیزوں کی کمی کا) عذر پیش کرنے لگتے ہیں، پس وہ کہنے لگتا ہے: اگر میں اپنے جانوروں کے لیے اس سے زیادہ گھاس والی کوئی جگہ تلاش کر لوں، پھر وہ جگہ بدل لیتا ہے اور (اتنا دور چلا جاتا ہے کہ) جمعہ کے لیے حاضر ہوتا ہے نہ جماعت کے لیے، اس وجہ سے اس کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2721]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف عمر مولي غفرة أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 3229، 3230، والبيھقي: 3/ 247، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23678 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20347»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ جَوَازِ التَّخَلُّفِ عَنِ الْجُمُعَةِ إِذَا صَادَفَتْ يَوْمَ عِيدٍ أَوْ مَطَرٍ
عید یا بارش کے دن جمعہ ترک کرنے کے جواز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2722
عَنْ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَتَّخِذُ أَحَدُكُمُ السَّائِمَةَ فَيَشْهَدُ الصَّلَاةَ فِي جَمَاعَةٍ فَتَتَعَذَّرُ عَلَيْهِ سَائِمَتُهُ فَيَقُولُ لَوْ طَلَبْتُ لِسَائِمَتِي مَكَانًا هُوَ أَكْلَى مِنْ هَٰذَا، فَيَتَحَوَّلُ وَلَا يَشْهَدُ إِلَّا الْجُمُعَةَ، فَتَتَعَذَّرُ عَلَيْهِ سَائِمَتُهُ، فَيَقُولُ لَوْ طَلَبْتُ لِسَائِمَتِي مَكَانًا هُوَ أَكْلَى مِنْ هَٰذَا، فَيَتَحَوَّلُ فَلَا يَشْهَدُ الْجُمُعَةَ وَلَا الْجَمَاعَةَ فَيُطْبَعُ عَلَى قَلْبِهِ))
ایاس بن ابی رملہ شامی کہتے ہیں: میں سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، انہوں نے سیّدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ موجود تھے، جبکہ دو عیدیں جمع ہوئی ہوں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دن کے شروع میں نماز عید ادا کی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ کی رخصت دیتے ہوئے فرمایا: جو جمعہ ادا کرنا چاہتا ہے، وہ کر لے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2722]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لجھالة اياس بن ابي رملة الشامي أخرجه ابوداود: 1070، وابن ماجه: 1310، والنسائي: 3/ 194، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19318 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24078»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2723
عَنْ إِيَاسِ بْنِ أَبِي رَمْلَةَ الشَّامِيِّ قَالَ: شَهِدْتُ مُعَاوِيَةَ سَأَلَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ شَهِدْتَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِيدَيْنِ اجْتَمَعَا؟ قَالَ: نَعَمْ، صَلَّى الْعِيدَ أَوَّلَ النَّهَارِ ثُمَّ رَخَّصَ فِي الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: ((مَنْ شَاءَ أَنْ يُجَمِّعَ فَلْيُجَمِّعْ))
سیّدنا اسامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جمعہ کے دن بارش ہوگئی، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اور یہ اعلان کیا گیا: آج نماز یا جمعہ گھروں میں ہی ہو گا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2723]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف، ابو بشر الحلبي لايعرف حاله، لكنه قد توبع أخرجه ابوداود: 1657، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20280، 20700 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19533»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2724
عَنْ أَبِي مَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَصَابَ النَّاسَ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ يَعْنِي مَطَرًا فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنُودِيَ: أَنَّ الصَّلَاةَ الْيَوْمَ أَوِ الْجُمُعَةَ الْيَوْمَ فِي الرِّحَالِ
عمار بن ابو عمار سیّدنا عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، جبکہ وہ (بصرہ میں) ام عبد اللہ نہر پر موجود تھے، (بارش اس قدر زیادہ تھی کہ اس کا)پانی اس کے بچوں اور غلاموں کے اوپر سے بہہ رہا تھا، عمارنے کہا: ابوسعید! جمعہ ادا کرنے کے لیے جاؤ۔ انھوں نے آگے سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب زیادہ بارش والا دن ہو تو ہر کوئی اپنے گھر میں ہی نماز پڑھ لیا کرے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2724]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن خزيمة: 1862، والحاكم: 1/ 292، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20620 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20546»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں