🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ سَبَبِ مَنْعِ الْمَطَرِ عَنِ النَّاسِ
لوگوں سے بارش کے رک جانے کے سبب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2925
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ: لَوْ أَنَّ عِبَادِي أَطَاعُونِي لَأَسْقَيْتُهُمُ الْمَطَرَ بِاللَّيْلِ وَأَطْلَعْتُ عَلَيْهِمُ الشَّمْسَ بِالنَّهَارِ، وَلَمْ أَسْمَعْهُمْ صَوْتَ الرَّعْدِ) ) ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ حُسْنَ الظَّنِّ بِاللَّهِ مِنْ حُسْنِ عِبَادَةِ اللَّهِ) ) ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (جَدِّدُوا إِيمَانَكُمْ) ) ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَكَيْفَ نُجَدِّدُ إِيمَانَنَا؟ قَالَ: ( (أَكْثِرُوا مِنْ قَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا رب کہتا ہے: اگر میرے بندے میری اطاعت کریں تو میں ان پر رات کو بارش نازل کروں گا، ان کے لیے دن کو سورج طلوع کروں گا اوران کو گرج کی آواز نہیں سناؤں گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ کے بارے میں اچھا گمان رکھنا اس کی اچھی عبادت میں سے ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: اپنے ایمان کی تجدید کرتے رہا کرو۔کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اپنے ایمان کی تجدید کیسے کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا کثرت سے ذکر کیا کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2925]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، صدقة بن موسي ضعفه ابن معين وأبوداود والنسائي وغيرھم، وقال أبو حاتم: يكتب حديثه ولا يحتج به، ليس بالقوي، وسُمَير بن نھار ويقال: شُتَير جھّله الدارقطني، وقال ابن حجر: صدوق أخرجه الترمذي: 10/ 109، وأخرجه أبوداود: 4993 بلفظ: ((حُسْنُ الظَّنِّ بِاللّٰهِ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَةِ۔)) فقط، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8709 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8694»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ صِفَةِ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ وَالْخُطْبَةِ لَهَا وَالْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ فِيهَا
نمازِ استسقاء کی کیفیت، اس کے لیے خطبے اور اس میں جہری قراء ت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2926
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَسْتَسْقِي وَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ثُمَّ خَطَبَنَا وَدَعَا اللَّهَ وَحَوَّلَ وَجْهَهُ نَحْوَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا يَدَيْهِ، ثُمَّ قَلَّبَ رِدَاءَهُ فَجَعَلَ الْأَيْمَنَ عَلَى الْأَيْسَرِ وَالْأَيْسَرَ عَلَى الْأَيْمَنِ
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن بارش مانگنے کے لیے نکلے اور اذان و اقامت کے بغیر ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ سے دعا کی، اپنا چہرہ قبلہ کی طرف متوجہ کیا، اس حال میں کہ آپ ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے، پھر اپنی چادر کو الٹا کیا اور دائیں (طرف والے حصے کو) بائیں پر اور بائیں کو دائیں پر کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2926]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 1268، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8327 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8310»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2927
عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ الْمَازِنِيَّ يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُصَلَّى وَاسْتَسْقَى وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ حِينَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، قَالَ إِسْحَاقُ فِي حَدِيثِهِ: وَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَدَعَا
سیّدنا عبد اللہ بن زید مازنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید گاہ کی طرف نکلے، بارش طلب کی اور جب قبلہ رخ ہوئے تو چادر کوالٹا کیا۔ اسحاق نے اپنی حدیث میں کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ سے قبل نماز سے ابتدا کی، پھر قبلے کی طرف متوجہ ہوئے اور دعا کی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2927]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1025، ومسلم: 894، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16435، 16436، 16466 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16580»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2928
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ عَمِّهِ قَالَ: شَهِدْتُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَسْتَسْقِي فَوَلَّى ظَهْرَهُ النَّاسَ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ وَجَعَلَ يَدْعُو وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَجَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَمِّهِ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُصَلَّى فَاسْتَسْقَى وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ حِينَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ
ان کے چچے (سیّدنا عبد اللہ بن زید مازنی رضی اللہ عنہ) سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارش مانگنے کے لیے نکلے اور اپنی پشت لوگوں کی طرف پھیرلی اورقبلہ رخ ہو کر کھڑے ہو گئے اور اپنی چادر کو پلٹا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا کرنے لگے، پھر دو رکعت نماز پڑھائی اور اس میں جہری قراءت کی، (دوسری سند سے مروی ہے) وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید گاہ کی طرف نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارش کے لیے دعا کی اور جب قبلہ رخ ہوئے تو اپنی چادر کو پلٹا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2928]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق: 1715 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16549، 16553»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2929
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ عَمِّهِ قَالَ: شَهِدْتُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَسْتَسْقِي فَوَلَّى ظَهْرَهُ النَّاسَ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ وَجَعَلَ يَدْعُو وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَجَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَمِّهِ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُصَلَّى فَاسْتَسْقَى وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ حِينَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ
ان کے چچے (سیّدنا عبد اللہ بن زید مازنی رضی اللہ عنہ) سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارش مانگنے کے لیے نکلے اور اپنی پشت لوگوں کی طرف پھیرلی اورقبلہ رخ ہو کر کھڑے ہو گئے اور اپنی چادر کو پلٹا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا کرنے لگے، پھر دو رکعت نماز پڑھائی اور اس میں جہری قراءت کی، (دوسری سند سے مروی ہے) وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید گاہ کی طرف نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارش کے لیے دعا کی اور جب قبلہ رخ ہوئے تو اپنی چادر کو پلٹا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2929]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق: 1715 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16549، 16553»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2930
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مُتَخَشِّعًا مُتَضَرِّعًا مُتَوَاضِعًا مُتَبَذِّلًا مُتَرَسِّلًا فَصَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدِ لَمْ يَخْطُبْ كَخُطْبَتِكُمْ هَٰذِهِ
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ڈرتے ہوئے، گڑ گڑاتے ہوئے، عاجزی کرتے ہوئے، پرانے سے کپڑے پہنے ہوئے اور ٹھہر ٹھہر کر چلتے ہوئے نکلے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید کی طرح لوگوں کو دو رکعت نمازپڑھائی اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہارے اس خطبہ کی طرح خطبہ نہیں دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2930]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 1165، والترمذي: 558، والنسائي: 3/156، وابن ماجه: 1266، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2039»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. (بَابُ) الِاسْتِسْقَاءِ بِالدُّعَاءِ فِي خُطْبَةِ الْجُمُعَةِ وَمَنِ اسْتَسْقَا بِغَيْرِ صَلَاةٍ
جمعہ کے خطبہ میں بارش کے لیے دعا کرنے اور نماز کے بغیر یہ دعا کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2931
عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ؟ فَقَالَ: قِيلَ لَهُ يَوْمَ جُمُعَةٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَحِطَ الْمَطَرُ، وَأَجْدَبَتِ الْأَرْضُ، وَهَلَكَ الْمَالُ، قَالَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ فَاسْتَسْقَى، وَلَقَدْ رَفَعَ يَدَيْهِ وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابَةً، فَمَا قَضَيْنَا الصَّلَاةَ حَتَّى إِنَّ قَرِيبَ الدَّارِ الشَّابَّ لَيُهِمُّهُ الرُّجُوعُ إِلَى أَهْلِهِ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَتِ الْجُمُعَةُ الَّتِي تَلِيهَا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ وَاحْتَبَسَتِ الرُّكْبَانُ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ سُرْعَةِ مَلَالَةِ ابْنِ آدَمَ، وَقَالَ: ( (اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا) ) ، فَتَكَشَّطَتْ (وَفِي لَفْظٍ فَتَكَشَّفَتْ) عَنِ الْمَدِينَةِ
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (دعا کے لیے) اپنے ہاتھ اٹھاتے تھے؟ انھوں نے کہا: کسی نے جمعہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! بارش کا قحط پڑ گیا ہے،زمین خشک ہو گئی ہے اور مال مویشی ہلاک ہو رہے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے، حتیٰ کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارش کے لیے دعا مانگی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے تھے تو آسمان میں کوئی بادل نظر نہیں آ رہا تھا، لیکن ابھی تک ہم نے نماز پوری نہیں کی تھی کہ (اتنی زیادہ بارش ہوئی کہ) قریب گھر والے نوجوان کے لیے بھی اپنے گھر کو لوٹنا مشکل ہوگیا۔ جب اس کے بعد والا جمعہ آیا تو لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! گھر گرنے لگ گئے ہیں اورقافلے رک گئے ہیں، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آدم کے بیٹے کے جلدی اُکتا جانے پر مسکرانے لگے اور کہا: اَللّٰھُمَّ حَوَالَیْنَا وَلَا عَلَیْنَا۔ یعنی: اے اللہ! ہمارے ارد گرد بارش برسا، نہ کہ ہمارے اوپر۔ پس مدینہ منورہ سے بادل ہٹ گئے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2931]
تخریج الحدیث: «أخرج بنحوه البخاري: 932،1013، 1014، 1016، 1019، 3582، ومسلم: 897۔ وأخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 1029، 1030 معلقا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12019، 13016 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12042»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2932
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: إِنِّي لَقَاعِدٌ عِنْدَ الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِذْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْمَسْجِدِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! حُبِسَ الْمَطَرُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
(دوسری سند)ثابت کہتے ہیں: سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جمعہ کے دن منبر کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، مسجد والوں میں سے کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! بارش روک دی گئی ہے، … …۔ پھر سابقہ حدیث کی طرح بیان کی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2932]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13047»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2933
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا نَادَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِالْمَدِينَةِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَحَطَ الْمَطَرُ وَأَمْحَلَتِ الْأَرْضُ وَقَحَطَ النَّاسُ، فَاسْتَسْقِ لَنَا رَبَّكَ، فَنَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَاءِ وَمَا نَرَى كَثِيرَ سَحَابٍ فَاسْتَسْقَى فَنَشَا الْسَّحَابُ بَعْضُهُ إِلَى بَعْضٍ، ثُمَّ مُطِرُوا حَتَّى سَالَتْ مَثَاعِبُ الْمَدِينَةِ، وَاطَّرَدَتْ طُرُقُهَا أَنْهَارًا، فَمَا زَالَتْ كَذَلِكَ إِلَى يَوْمِ الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ مَا تُقْلِعُ، ثُمَّ قَامَ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَوْ غَيْرُهُ، وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَحْبِسَهَا عَنَّا، فَضَحِكَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: ( (اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا) ) ، فَدَعَا رَبَّهُ فَجَعَلَ الْسَّحَابُ يَتَصَدَّعُ عَنِ الْمَدِينَةِ يَمِينًا وَشِمَالًا يُمْطِرُ مَا حَوْلَهَا وَلَا يُمْطِرُ فِيهَا شَيْئًا
(تیسری سند)سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جمعہ کے دن ایک آدمی نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آواز دی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں لوگوں کو خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اور کہا: اے اللہ کے رسول! بارش رک گئی ہے،زمین نباتات سے خالی ہوگئی ہے اور لوگ قحط زدہ ہو گئے ہیں، اس لیے آپ ہمارے لیے اپنے رب سے بارش کی دعا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھا، ہم کوئی زیادہ بادل نہیں دیکھ رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی اوربادل منشتر اور زیادہ ہونے لگے، پھر بارش برسنا شروع ہوئی،مدینہ کے ندی نالے بہنے لگے اور اس کے راستے نہروں کی طرح چلنے لگے، اگلے جمعہ تک بارش اسی طرح ہوتی رہی اور نہ رکی۔ (اگلے جمعہ میں) وہی یا کوئی اور آدمی کھڑا ہوا، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اوراس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہم سے بارش کو روک دے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا پڑے اور یہ دعا کی: اے اللہ! ہمارے ارد گرد (بارش برسا)، نہ کہ ہم پر۔جونہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب سے دعا کی، بادل پھٹ کر مدینے سے دائیں اور بائیں ہونے لگ گئے اور مدینے کے ارد گرد بارش برسانے لگ گئے اور جبکہ مدینہ میں کوئی بارش نہیں ہو رہی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2933]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13779»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2934
(وَمِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: أَصَابَ النَّاسَ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلَكَ الْمَالُ، وَجَاعَ الْعِيَالُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَمَا تُرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةٌ فَثَارَ سَحَابٌ أَمْثَالُ الْجِبَالِ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِهِ حَتَّى رَأَيْنَا الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
(چوتھی سند)سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں لوگ قحط سالی میں مبتلا ہو گئے، جمعہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اتنے میں ایک خانہ بدوش آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول!مویشی ہلاک ہو گئے ہیں اور اہل و عیال بھوکے ہیں، اس لیے آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں پانی پلائے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے (اور دعا کی)، جبکہ آسمان میں بادل کا ٹکڑا بھی نظر نہیں آ رہا تھا، پھر تو پہاڑوں کی طرح بادل جمع ہو گئے اور ابھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر سے نہیں اترے تھے کہ ہم نے بارش کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی مبارک پر گرتے ہوئے دیکھا۔ (پھر بقیہ حدیث بیان کی)۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2934]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13728»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں