الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي طَوَافِ الْمُفْرِدِ
حج افراد کرنے والے کا طواف
حدیث نمبر: 4370
عَنْ وَبَرَةَ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ: أَيَصْلُحُ أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَأَنَا مُحْرِمٌ؟ قَالَ: مَا يَمْنَعُكَ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: إِنَّ فُلَانًا يَنْهَانَا عَنْ ذَلِكَ حَتَّى يَرْجِعَ النَّاسُ مِنَ الْمَوْقِفِ، وَرَأَيْتُهُ كَأَنَّهُ مَالَتْ بِهِ الدُّنْيَا وَأَنْتَ أَعْجَبُ إِلَيْنَا مِنْهُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَسُنَّةُ اللَّهِ تَعَالَى وَرَسُولِهِ أَحَقُّ أَنْ تُتَّبَعَ مِنْ سُنَّةِ ابْنِ فُلَانٍ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا
۔ وبرہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں آیا اور ان سے پو چھا: کیایہ جائز ہے کہ میں (حج افراد کے) احرام کی حالت میں بیت اللہ کا طواف کروں؟ انھوں نے کہا: تمہیں اس سے کونسی چیز مانع ہو سکتی ہے؟ اس نے کہا:فلاں آدمی ہمیں اس سے اس وقت تک منع کررہا ہے، جب تک لوگ عرفات سے واپس نہ آ جائیں، نیز میں نے اسے دیکھا ہے کہ دنیا نے اس کو فتنے میں ڈال رکھا ہے، تاہم ہماری نظر میں آپ اس سے برتر ہیں۔سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کیا تھا تو آپ نے بیت اللہ کا طوا ف اور صفا مروہ کی سعی کی تھی، اگر تمہاری بات درست ہے کہ فلاں آدمی تمہیں احرام کی حالت میں طواف کرنے سے منع کرتا ہے تو یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا طریقہ فلاں کے طریقے سے اولیٰ ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4370]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1233، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5194 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5194»
وضاحت: فوائد: … فلاں آدمی سے مراد سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں، ان کا خیالیہ تھا کہ حج افراد کرنے والا طواف نہ کرے، وگرنہ اس کو حج فسخ کرنا پڑے گا جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا تھا۔ لیکن جمہور اہل علم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس رائے سے متفق نہیں ہیں۔ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق جب اس آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں کہاکہ ”دنیا نے اس کو فتنے میں ڈال رکھا ہے“ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے تواضع اور عاجزی کرتے ہوئے کہا: وَاَیُّنَا اَوْ اَیُّکُمْ لَمْ تَفْتِنْہُ الدُّنْیَا۔ … اور ہم میں سے یا تم میں سے کون ہے، جس کو دنیا نے فتنے میں مبتلا نہیں کیا۔سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں فتنے والی بات کرنے کی بنیادیہ تھی کہ وہ والی ٔ بصرہ بن گئے تھے، جبکہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کسی قسم کی ولایت کو اختیار نہیں کیا تھا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4371
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ: أَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَقَدْ أَحْرَمْتُ بِالْحَجِّ؟ قَالَ: وَمَا بَأْسُ ذَلِكَ؟ قَالَ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ نَهَى عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ وَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ
۔ (دوسری سند)وبرہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: میں نے حج کا احرام باندھا ہوا ہے تو کیا میں اس حالت میں بیت اللہ کاطواف کرسکتا ہوں؟ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اس میں کیا حرج ہے؟اس نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے منع کیا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے خود دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کا احرام باندھا ہوا تھا اور آپ نے بیت اللہ کا طواف بھی کیااور صفا مروہ کی سعی بھی کی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4371]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4512»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4372
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ أَنَّهُ خَرَجَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ حُجَّاجًا حَتَّى وَرَدُوا مَكَّةَ فَدَخَلُوا الْمَسْجِدَ فَاسْتَلَمُوا الْحَجَرَ، ثُمَّ طُفْنَا بِالْبَيْتِ أُسْبُوعًا، ثُمَّ صَلَّيْنَا خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ فَإِذَا رَجُلٌ ضَخْمٌ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ يُصَوِّتُ بِنَا عِنْدَ الْحَوْضِ، فَقُمْنَا إِلَيْهِ وَسَأَلْتُ عَنْهُ، فَقَالُوا: ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَلَمَّا أَتَيْنَاهُ قَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قُلْنَا: أَهْلُ الْمَشْرِقِ وَثَمَّ أَهْلُ الْيَمَامَةِ، قَالَ: فَحُجَّاجٌ أَمْ عُمَّارٌ؟ قُلْتُ: بَلَى حُجَّاجٌ، قَالَ: فَإِنَّكُمْ قَدْ نَقَضْتُمْ حَجَّكُمْ، قُلْتُ: قَدْ حَجَجْتُ مِرَارًا فَكُنْتُ أَفْعَلُ كَذَا، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا مَكَانَنَا، حَتَّى يَأْتِيَ ابْنُ عُمَرَ، فَقُلْتُ: يَا ابْنَ عُمَرَ إِنَّنَا قَدِمْنَا فَقَصَصْنَا عَلَيْهِ قِصَّتَنَا وَأَخْبَرْنَاهُ، قَالَ: إِنَّكُمْ نَقَضْتُمْ حَجَّكُمْ، قَالَ: أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ أَخَرَجْتُمْ حُجَّاجًا؟ قُلْنَا: نَعَمْ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ كُلُّهُمْ فَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُمْ
۔ عبداللہ بن بدر سے روایت ہے کہ وہ اپنے چند احباب کے ساتھ حج کو روانہ ہوئے، جب یہ لوگ مکہ مکرمہ پہنچے تو مسجد حرام میں داخل ہوئے اور حجراسود کا استلام کیا، پھر ہم نے بیت اللہ کے گرد سات چکر لگائے، اس کے بعد ہم نے مقام ابراہیم کے پیچھے دورکعت نماز ادا کی، اتنے میں ہم نے دیکھا کہ ایک بھاری بھرکم آدمی، جس نے ایک چادر باندھی ہوئی تھی اور ایک چادر اوپر اوڑھ رکھی تھی، وہ حوض کے پاس بیٹھا ہمیں بلارہا تھا۔ ہم اس کی طرف چلے گئے، جب میں نے اس کے متعلق پوچھا کہ یہ کون آدمی ہے تو لوگوں نے مجھے بتایا کہ یہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں، ہم ان کی خدمت میں پہنچے تو انہوں نے پوچھا: تم کون لوگ ہو؟ ہم نے کہا: ہم اہل یمامہ ہیں، جو مشرق کی طرف سے آئے ہیں، انہوں نے پوچھا: حج کے لئے آئے ہو یا عمرہ کرنے کے لئے؟ میں نے کہا: جی حج کے لیے آئے ہیں، انھوں نے کہا: تم لوگوں نے تو اپنا حج فاسد کردیا ہے، میں نے عرض کیا: میں تو متعدد مرتبہ حج کرچکا ہوں اور ہر دفعہ ایسے ہی کرتا رہاہوں۔اس کے بعد ہم اپنی رہائش گاہ کی طرف چلے گئے، تاکہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما آئیں اور ہم ان سے یہ مسئلہ دریافت کریں۔ میں نے عرض کیا: اے عبد اللہ بن عمر! ہم حج کرنے کے لیے آئے ہیں، پھر ہم نے سارا ماجرا ان کے گوش گزار کیا اور کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے تو ہمیں کہا ہے کہ ہمارا حج فاسد ہو گیا ہے۔سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں، بتاؤ کیا تم حج کرنے آئے ہو؟ ہم نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما، ان سب نے حج کیا اور سب نے اسی طرح کیا تھا جس طرح تم نے کیا ہے، یعنی تمہارا عمل درست ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4372]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 3906، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5939 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5939»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو حج قران کر رہے تھے، بہرحال حج افراد کرنے والے کے لیے عرفہ میں وقوف کرنے سے پہلے طواف قدوم اور صفا مروہ کی سعی مشروع ہے، پھر ایسا شخص (۱۰) ذوالحجہ کو طوافِ افاضہ کرے گا اور صفا مروہ کی پہلی سعی پر اکتفا کرتے ہوئے دوبارہ سعی نہیں کرے گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
2. الْفَصْلُ الثَّانِي فِي طَوَافِ الْقَارِنِ
حج قران کرنے والے کا طواف
حدیث نمبر: 4373
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ قَرَنَ بَيْنَ حَجَّتِهِ وَعُمْرَتِهِ أَجْزَأَهُ لَهُمَا طَوَافٌ وَاحِدٌ))
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جوشخص حج قران کرے، اس کے لئے حج اور عمرہ دونوں کے لیے ایک طواف کافی ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4373]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفا بھذا اللفظ، عبد العزيز الدراوردي حديثه عن عبيد الله بن عمر منكر۔ أخرجه ابن ماجه: 2975، والترمذي: 948، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5350 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5350»
وضاحت: فوائد: … جامع ترمذی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((مَنْ اَحْرَمَ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ اَجَزَأَہٗطَوَافٌوَاحِدٌوَسَعْیٌ وَاحِدٌ عَنْھُمَا حَتّٰییَحِلَّ مِنْھُمَا جَمِیْعًا۔)) … جو آدمی حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا احرام باندھے گا، اس کو ایک طواف اور ایک سعی کفایت کریں گے اور وہ دونوں سے اکٹھا حلال ہو گا۔“ امام البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4374
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمْ يَطُفِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا طَوَافَهُ الْأَوَّلَ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفا مروہ کی ایک ہی سعی کی تھی، جو کہ شروع میں کر لی تھی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4374]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1215، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14414 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14467»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4375
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ لَمْ نَقْرَبِ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ آئے اور ہم نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کی، قربانی والے دن یعنی دس ذوالحجہ کو ہم صفامروہ کے قریب تک نہیں گئے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4375]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه اخرجه الدارقطني: 2/ 259، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15181 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15248»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4376
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي حَدِيثٍ لَهَا قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَحَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ، فَأَمَّا الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ فَطَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ اپنی طویل حدیث میں بیان کرتی ہیں کہ جن لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا ہوا تھا، وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کرکے حلال ہوگئے، لیکن انھوں نے اس کے بعد منیٰ سے واپس آکر حج کے لئے الگ سے طواف کیا اور جن لوگوں نے حج اور عمرہ کوجمع کیایعنی حج قران کا احرام باندھا ہوا تھا، انہوں نے ایک ہی طواف کیاتھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4376]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1556، 1638، 4395، ومسلم: 1211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25441 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25955»
وضاحت: فوائد: … حج قران کرنے والا طواف قدوم اور صفا مروہ کی سعی کرے گا، پھر (۱۰) ذوالحجہ کو طوافِ افاضہ کرے گا اور یہی طواف حج و عمرہ دونوں کی طرف سے کفایت کرے گا، جبکہ طواف قدوم کے ساتھ کی گئی صفا مروہ کی سعی ہی دونوں کے لیے کافی ہو گی۔ زیر مطالعہ حدیث اور دیگر صحیح صریح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قارن کے لیے صرف سعی نہیں بلکہ بیت اللہ کا طواف بھی ایک ہی کافی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیں فتح الباری: ۳/ ۴۹۴۔ التعلیقات السلفیہ: ۲/ ۳۱،۳۲۔ جائزۃ الاحوذی: ۲/ ۲۵۷۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث: صحیح
3. الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي طَوَافِ الْمُتَمَتِّعِ وَهُوَ الَّذِي أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَقَطْ
حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان،یعنی وہ آدمی جو شروع میں صرف عمرے کا احرام باندھتا ہے
حدیث نمبر: 4377
عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَيُصِيبُ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ؟ قَالَ: أَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ تَلَى: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ}
۔ عمرو بن دینا رسے روایت ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا کہ کیا کوئی آدمی صفا مروہ کی سعی کرنے سے پہلے اپنی بیوی سے مجامعت کرسکتا ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا، بعد ازاں دو رکعت نماز ادا کی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفا مروہ کی سعی کی۔ پھر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ آیت تلاوت کی: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْـوَۃٌ حَسَنَۃٌ۔} (تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل میں بہترین نمونہ ہے۔) [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4377]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 395، 396، 1623، 1624، ومسلم: 1234، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14317 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14368»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: عمرو بن دینار کہتے ہیں: ہم نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا جو عمرہ ادا کرنے کے آتا ہے اور بیت اللہ کا طواف کر لیتا ہے، تو کیا وہ صفا مروہ کی سعی کرنے سے پہلے اپنی بیوی سے ہم بستری کر سکتا ہے؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے جواب کا لب لباب یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف اور سعی کر لینے کے بعد عمرہ سے حلال ہوئے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا کرتے ہوئے حلال ہونے سے پہلے حق زوجیت ادا نہ کیا جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4378
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ طَافُوا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ طَافُوا بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ، وَالَّذِينَ قَرَنُوا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جن صحابہ نے عمرہ کا احرام باندھا تھا،انہوں نے بیت اللہ کا طواف اورصفا مروہ کی سعی کرنے کے بعد احرام کھول دیاتھا، اس کے بعد منیٰ سے واپسی پر انہوں نے حج کے لئے طواف کیاتھا اور جن لوگوں نے حج قران کا احرام باندھا تھا، انہوں نے ایک ہی طواف کیا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4378]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1556، 1638، 4395، ومسلم: 1211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25441 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25955»
وضاحت: فوائد: … حج تمتع کرنے والے صرف عمرہ کے احرام سے میقات سے داخل ہوں گے اور طواف، سعی اور حجامت سے فارغ ہو کر حلال ہوجائیں گے، پھر آٹھ ذوالحجہ کو از سرِ نو حج کا احرام باندھیں اور اس کے لیے الگ سے طوافِ افاضہ اور سعی کریں گے۔
الحكم على الحديث: صحیح
4. بَابُ طَوَافِ أَهْلِ مَكَّةَ وَأُمُورٍ جَاءَتْ فِي الطَّوَافِ وَالْكَلَامِ فِيهِ
اہل مکہ کے طواف اور طواف سے متعلقہ احکام و مسائل اور دورانِ طواف کلام کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4379
عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ الْأَوْدِيَةَ وَجَاءَ بِهَدْيٍ فَلَمْ يَكُنْ لَهُ بُدٌّ مِنْ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَيَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَبْلَ أَنْ يَقِفَ بِعَرَفَةَ، فَأَمَّا أَنْتُمْ يَا أَهْلَ مَكَّةَ فَأَخِّرُوا طَوَافَكُمْ حَتَّى تَرْجِعُوا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صورتحال تو یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادیاں تو طے کر کے آئے تھے، لیکن چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قربانی کا جانور تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تو اس کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہ تھا کہ آپ وقوفِ عرفہ سے پہلے طواف کریں اور صفا مروہ کی سعی کریں، مکہ والو! رہا مسئلہ تمہارا تو تم لوگ حج سے واپسی تک طواف کو موخر رکھا کرو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4379]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن المؤمل، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2451 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2451»
وضاحت: فوائد: … جیسے اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ عمرہ کرنے والا صرف طوافِ قدوم ہی کرے گا، یعنییہی طواف اس کے عمرے کے لیے بھی کافی ہو گا، اسی طرح اس حقیقت پر بھی ان کا اجماع ہے کہ اہل مکہ، طوافِ قدوم سے مستثنی ہیں، کیونکہیہ طواف باہر سے آنے والے کے لیے مشروع ہے، اہل مکہ آٹھ ذوالحجہ کو اپنی اپنی رہائش گاہوں سے احرام باندھ کر منیٰ کو روانہ ہوجائیں گے اور دوسرے حاجیوں کی طرح واپس آ کر طوافِ افاضہ کریں گے۔
الحكم على الحديث: ضعیف