Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ فَضْلِ الْعِتْقِ وَالْحَتْ عَلَيْهِ
آزاد کرنے اور اس پر برانگیختہ کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5207
عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السَّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَهُوَ عِدْلُ مُحَرَّرٍ وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَيُّمَا رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَجُلًا مُسْلِمًا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ وَفَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهِ عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِهِ مِنَ النَّارِ وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مُسْلِمَةً فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ وَفَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهَا عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرَّرِهَا مِنَ النَّارِ
۔ سیدنا ابو نجیح سلمی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک تیر پھینکا، اس کو آزاد شدہ غلام کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا، جس کے اللہ کے راستے میں بال سفید ہو گئے تو یہ چیز اس کے لیے قیامت والے دن نور ہو گی، جس آدمی نے کسی مسلمان غلام کو آزاد کیا، تو اللہ تعالیٰ آزاد ہونے والی کی ہر ہڈی کے عوض آزاد کنندہ کی ہر ہڈی کو آگ سے آزاد کر دے گا، اسی طرح جس عورت نے مسلمان عورت کو آزاد کیا، تو اللہ تعالیٰ آزاد شدہ کی ہر ہڈی کے عوض آزاد کنندہ خاتون کی ہر ہڈی کو آگ سے آزاد کر دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5207]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 3965، والترمذي: 1638، والنسائي: 6/ 26، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17022 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17147»
وضاحت: فوائد: … فی سبیل اللہ (اللہ کے راستے میں): عرف کا لحاظ رکھیں تو اس کا معنی جہاد ہو گا، یعنی جس نے سیاہ بالوں کی عمر سے جہاد شروع کیا اور بالوں کے سفید ہو جانے تک یہ عمل جاری رکھا، لیکن زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس سے مراد ہر نیک کام ہو، کیونکہ بعض احادیث میں مومن کے سفید بالوں کو اس کے لیے نور قرار دیا گیا ہ ے، جب کہ جہاد کی فضیلت تو سفید بالوں کی محتاج نہیں، وہ تو اس کے علاوہ بھی افضل ہے۔ واللہ اعلم۔وہ بال ہی نور بن جائیں گے یا ان کی بنا پر نور حاصل ہو گا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5208
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُسْلِمَةً كَانَتْ فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ عُضْوًا بِعُضْوٍ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مسلمان گردن کو آزاد کیا، تو اس عمل سے اس کی آ گ سے آزادی ہو گی، آزاد شدہ کے ہر عضو کے بدلے آزاد کنندہ کا ہر عضو آگ سے آزاد ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5208]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17145»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5209
عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَرْجَانَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ إِرْبٍ مِنْهُ إِرْبًا مِنَ النَّارِ حَتَّى أَنَّهُ لَيُعْتِقُ بِالْيَدِ الْيَدَ وَبِالرِّجْلِ الرِّجْلَ وَبِالْفَرْجِ الْفَرْجَ فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ سَعِيدٌ نَعَمْ فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ لِغُلَامٍ لَهُ أَفْرَهَ غِلْمَانَهُ ادْعُ لِي مُطَرِّفًا قَالَ فَلَمَّا قَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مؤمن گردن کو آزاد کیا، اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے اس کے ہر عضو کو آگ سے آزاد کر دے گا، یعنی وہ اس کے ہاتھ کے بدلے ہاتھ کو، ٹانگ کے ٹانگ کو اور شرم گاہ کے بدلے شرم گاہ کو آزاد کرے گا۔ علی بن حسین نے کہا: کیا تم نے یہ حدیث سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ سعید نے کہا: جی ہاں، پس علی بن حسین نے اپنے سب سے زیادہ چست غلام سے کہا: مطرف کو بلاؤ، جب وہ ان کے سامنے کھڑا ہوا تو انھوں نے کہا: تو چلا جا، تو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے آزاد ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5209]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه البخاري: 6715، ومسلم: 1509، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9441 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9455»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5210
عَنِ الْغَرِيفِ الدَّيْلَمِيِّ قَالَ أَتَيْنَا وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ اللَّيْثِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْنَا حَدِّثْنَا بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي صَاحِبٍ لَنَا قَدْ أَوْجَبَ فَقَالَ أَعْتِقُوا عَنْهُ يُعْتِقِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِكُلِّ عُضْوٍ عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ
۔ عریف دیلمی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے کہا: ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان کرو، جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو، انھوں نے کہا: ہم ایک ایسے آدمی کا مسئلہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، جو ایک گناہ کی وجہ سے جہنم کو اپنے حق میں واجب کر چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی طرف سے ایک غلام آزاد کر دو، اللہ تعالیٰ اس آزاد شدہ کے ہر عضو کی وجہ سے اس کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد کر دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5210]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 3964، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16012 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16108»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5211
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالَ فَلْيُعْتِقْ رَقَبَةً يُفْدِ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ
۔ (دوسری سند): اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو چاہیے کہ یہ ایک گردن آزاد کر دے، اللہ تعالیٰ اس گردن کے ہر عضو کو آگ سے اس کے ہر عضو کا فدیہ بنا دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5211]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17110»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5212
عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَعْتَقْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَرْبَعِينَ مُحَرَّرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمْتَ عَلَى مَا سَبَقَ لَكَ مِنْ خَيْرٍ
۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے جاہلیت میں چالیس غلام آزاد کیے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم خیر کے جو امور سر انجام دے چکے تھے، ان سمیت اسلام لائے ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5212]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه البخاري: 2538، ومسلم: 123، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15575 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15660»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5213
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ قَالَ إِيمَانٌ بِاللَّهِ تَعَالَى وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ قَالَ أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا وَأَغْلَاهَا ثَمَنًا قَالَ فَإِنْ لَمْ أَجِدْ قَالَ تُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ وَقَالَ فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ قَالَ كُفَّ أَذَاكَ عَنِ النَّاسِ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَنْ نَفْسِكَ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوا ب دیا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا۔ میں نے کہا: کون سی گردن کو آزاد کرنا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے مالکوں کے نزدیک قیمتی اور مہنگی ہو۔ میں نے کہا: اگر مجھ میں یہ عمل کرنے کی سکت نہ ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: تو کسی پریشان حال کی معاونت کر دیا کرو یا کسی بے ہنر انسان کا کوئی کام کر دیا کرو۔ میں نے کہا: اگر میں یہ کارِ خیر کرنے سے بھی عاجز رہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو تم لوگوں کو اپنے شرّ سے محفوظ رکھو‘ یہ بھی تمہارا اپنے آپ پر صدقہ ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5213]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2518، ومسلم: 84، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21321 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21657»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5214
عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَعْتَقْتُ جَارِيَةً لِي فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِعِتْقِهَا فَقَالَ آجَرَكِ اللَّهُ أَمَّا أَنَّكِ لَوْ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِكِ
۔ زوجہ ٔ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے اپنی ایک لونڈی آزاد کی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں نے اس کی آزادی کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھے اجر دے، لیکن اگر تونے یہ لونڈی اپنے ماموؤں کو دی ہوتی تو یہ عمل تیرے لیے بہت بڑے اجر کا باعث ہوتا۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5214]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2592، ومسلم: 999، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26817 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27354»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ماموؤں کو لونڈی کی ضرورت ہو۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5215
عَنْ سَعْدٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَكَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ خِدْمَتُهُ فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَعْتِقْ سَعْدًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا مَاهِنٌ غَيْرُهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْتِقْ سَعْدًا أَتَتْكَ الرِّجَالُ قَالَ أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي السَّبْيَ
۔ مولائے ابو بکر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ، جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کرتے تھے اور ان کی خدمت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسند بھی آتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو بکر! سعد کو آزاد کر دو۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے علاوہ ہمارا کوئی خادم نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سعد کو آزاد کر دو، تمہارے پاس کئی بندے آئیں گے۔ امام ابو داودد طیالسی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد قیدی تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5215]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي عمر الخزاز، وعنعنة الحسن، أخرجه ابويعلي: 1573،والحاكم: 2/ 213، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1717 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1717»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5216
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً فَهِيَ فِدَاؤُهُ مِنَ النَّارِ
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مومن گردن کو آزاد کیا، تو یہ جہنم سے اس کا فدیہ ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5216]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22113 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22464»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں