Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ مَنْ وُكِّلَ فِي شَرَاءِ شَيْءٍ فَاشْتَرَى بِالثَّمَنِ أَكْثَرَ مِنْهُ وَتَصْرفَ فِي الزَّيَادَةِ
اس چیز کا بیان جس میں وکیل مقرر کرنا جائز ہے ¤اس چیز کا بیان جس میں وکیل مقرر کرنا جائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6099
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْخَازِنَ الْأَمِينَ الَّذِي يُعْطِي مَا أُمِرَ بِهِ كَامِلًا مُوَفَّرًا طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ حَتَّى يَدْفَعَهُ إِلَى الَّذِي أُمِرَ لَهُ بِهِ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقِينَ
۔ سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ امانت دار منشی جو مالک کے حکم کے مطابق پورا پورا اور خوش دلی سے اس کو دے دیتا ہو، جس کے حق میں اس کو حکم دیا جاتا ہے، وہ بھی صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الوكالة/حدیث: 6099]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1438، 3219، ومسلم: 1023، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19512 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19741»
وضاحت: فوائد: … وکالت کامطلب یہ ہے کہ اپنامعاملہ دوسرے کو سونپ دینا، اس کے جواز پر کتاب وسنت کے بہت سارے دلائل موجودہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6100
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِصَدَقَةٍ قَالَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ فَأَتَيْتُهُ بِصَدَقَةِ مَالِ أَبِي فَقَالَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى
۔ سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس صدقہ لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دینے والے کے لیےیوں دعا کرتے: اے اللہ! اس آدمی پر رحمت فرما۔ ایک دفعہ میں اپنے باپ کے مال کاصدقہ لے کرآیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ!ابو اوفی کی آل پر رحم فرما۔ [الفتح الربانی/كتاب الوكالة/حدیث: 6100]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1497، 4166، 6332، ومسلم: 1078، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19115 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19325»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو اوفی رضی اللہ عنہ نے اپنے مال کی زکوۃ اپنے بیٹے کے سپرد کر دی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6101
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مَعَهُ بِهَدْيِهِ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِلُحُومِهَا وَجُلُودِهَا وَأَجِلَّتِهَا
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو قر بانیاں دے کر بھیجا تھا اور یہ حکم دیا تھا کہ ان کا گو شت، چمڑے اور جھولیں صدقہ کر دینا۔ [الفتح الربانی/كتاب الوكالة/حدیث: 6101]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1717، ومسلم: 1317، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 894 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 894»
وضاحت: فوائد: … ہر جائز امر میں وکالت درست ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی احادیث اس کے جواز پر دلالت کرتی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ مَنْ وَكَّلَ فِي التَّصَدُّقِ بِمَالِهِ فَدَفَعَهُ إِلَى وَلَدِ الْمُوَكَّلِ
اس آدمی کا بیان کہ جس کو ایک چیز خریدنے کا وکیل بنایا گیا، لیکن اس نے زیادہ چیزیں¤خرید کر اضافی چیزوں میں از خود تصرف کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6102
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ شَبِيبٍ أَنَّهُ سَمِعَ الْحَيَّ يُخْبِرُونَ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مَعَهُ بِدِينَارٍ يَشْتَرِي لَهُ أُضْحِيَّةً وَقَالَ مَرَّةً أَوْ شَاةً فَاشْتَرَى لَهُ اثْنَتَيْنِ فَبَاعَ وَاحِدَةً بِدِينَارٍ وَأَتَاهُ بِالْأُخْرَى فَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ فِي بَيْعِهِ فَكَانَ لَوِ اشْتَرَى التُّرَابَ لَرَبِحَ فِيهِ
۔ سیدنا عروہ بن ابی الجعد بارقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قربانی کا جانور یا ایک بکری خریدنے کے لیے مجھے ایک دینار دے کر بھیجا، ہوا یوں کہ میں نے اس کی دو بکریاں خرید لیں اور ان میں سے ایک کو ایک دینار کے عوض فروخت کر دیا اور ایک دینار اور ایک بکری لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے میری تجارت میں برکت کی دعا کی۔ راوی کہتا ہے: سیدنا عروہ رضی اللہ عنہ اگر مٹی بھی خرید لیتے تو ان کو اس میں نفع ہوتا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الوكالة/حدیث: 6102]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3642، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19356 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19571»
وضاحت: فوائد: … اگر وکیل سے متعلقہ تمام امور کی وضاحت کر دی جائے تو ٹھیک، وگرنہ جو معاملہ اس کو سونپا جائے گا، اس کو اس معاملے کا اور اس سے متعلقہ امور کا اختیار ہو گا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6103
عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ أَنَّ مَعْنَ بْنَ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَبِي وَجَدِّي وَخَطَبَ عَلَيَّ فَأَنْكَحَنِي وَخَاصَمْتُ إِلَيْهِ فَكَانَ أَبِي يَزِيدُ خَرَجَ بِدَنَانِيرَ يَتَصَدَّقُ بِهَا فَوَضَعَهَا عِنْدَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ وَأَخَذْتُهَا فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ وَاللَّهِ مَا إِيَّاكَ أَرَدْتُ بِهَا فَخَاصَمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَكَ مَا نَوَيْتَ يَا يَزِيدُ وَلَكَ يَا مَعْنُ مَا أَخَذْتَ
۔ سیدنا معن بن یزید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اور میرے باپ اور دادا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، پھر انھوں نے میری منگنی کی اور نکاح بھی کر دیا، ایک دن میرے و الد سیدنایزید رضی اللہ عنہ صدقہ کرنے کے لیے دینار لے کر نکلے اور مسجد میں ایک بندے کے پاس رکھ دیئے (تاکہ وہ کسی کو دے دے)، لیکن میں خود اس سے لے کر گھر آ گیا، میرے باپ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے تجھے دینے کا ارادہ تو نہیں کیا تھا، پس میں نے ان کو ساتھ لیا اور یہ جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے یزید! تو نے جو نیت کی، وہ ہو گئی، اور اے معن! تو نے جس نیت سے لیے ہیں، وہ تیرے لیے ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الوكالة/حدیث: 6103]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1422، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15860 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15954»
وضاحت: فوائد: … سیدنایزید رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ تھا کہ اس کا وکیل اس رقم کو محتاجوں میں تقسیم کر دے گا، چونکہ اس کا اپنا بیٹا محتاجوں میں شامل تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صدقے کو نافذ کر دیا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں