Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابٌ جَامِعٌ لَآدَابِ النُّقْطَةِ وَأَحْكَامِهَا
گری پڑی چیز کے آداب و احکام کا جامع بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6232
عَنْ خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَالَّةِ رَاعِي الْغَنَمِ قَالَ هِيَ لَكَ أَوْ لِلذِّئْبِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَقُولُ فِي ضَالَّةِ رَاعِي الْإِبِلِ قَالَ وَمَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا وَتَأْكُلُ مِنْ أَطْرَافِ الشَّجَرِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَقُولُ فِي الْوَرِقِ إِذَا وَجَدْتُهَا قَالَ اعْلَمْ وِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا وَعَدَدَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ وَإِلَّا فَهِيَ لَكَ أَوِ اسْتَمْتِعْ بِهَا أَوْ نَحْوَ هَذَا
۔ سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے یا کسی آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گم شدہ بکری کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تیرے لیے ہے، یا پھر بھیڑیے کے لیے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! گم شدہ اونٹ کے بارے میں آپ کیا فرمائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے تیرا کیا تعلق ہے، اس کا پینا اور جوتا اس کے پاس ہے اور وہ درختوں سے چرتا رہے گا (یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پا لے گا)۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر مجھے گم شدہ چاندی مل جائے تو اس کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی تھیلی، بندھن اور اس کی تعداد کو معلوم کر لے اور ایک سال تک اس کا اعلان کرتا رہ، اگر اس کا مالک آجائے تو اسے دے دے، وگرنہ وہ تیری ہو گی،یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وگرنہ تو اس سے فائدہ اٹھا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللقطة/حدیث: 6232]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5292، ومسلم: 1722، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17037 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17163»
وضاحت: فوائد: … ۱۷۰۴۶ میں بحث

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6233
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِلُقْطَةٍ فَقَالَ عَرِّفْهَا سَنَةً فَذَكَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ
۔ (دوسری سند) سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ ایک دیہاتی گری پڑی ایک چیز لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ پھر اوپر والی حدیث کی طرح کی روایت بیان کی۔ [الفتح الربانی/كتاب اللقطة/حدیث: 6233]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17186»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6234
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ فَغَضِبَ وَاحْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ وَقَالَ مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا الْحِذَاءُ وَالسِّقَاءُ تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَجِيءَ رَبُّهَا وَسُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ فَقَالَ خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ وَسُئِلَ عَنِ اللُّقْطَةِ فَقَالَ اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنِ اعْتُرِفَتْ وَإِلَّا فَخَالِطْهَا بِمَالِكَ
۔ (تیسری سند) سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گم شدہ اونٹ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے میں آ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رخسار سرخ ہوگئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا اس کے ساتھ کیا تعلق ہے، اس کے ساتھ ہی اس کا جوتا اور پینا موجود ہے، وہ پانی پر وارد ہوتا رہے گا اور درختوں سے چرتا رہے گا، یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پا لے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گم شدہ بکری کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے پکڑ لو، کیونکہ وہ صرف تیرے لیے ہو گی،یا تیرے بھائی کے لیے،یا بھیڑیئے کے لیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی دوسری گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی تھیلی اور بندھن کی شناخت کر لے، پھر ایک سال تک اس کا اعلان کر، اگر مالک کا پتہ چل جائے تو ٹھیک، وگرنہ اسے اپنے مال میں شامل کرلے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللقطة/حدیث: 6234]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17176»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6235
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ يَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنِ الضَّالَّةِ مِنَ الْإِبِلِ قَالَ مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا تَأْكُلُ الشَّجَرَ وَتَرِدُ الْمَاءَ فَدَعْهَا حَتَّى يَأْتِيَهَا بَاغِيهَا قَالَ الضَّالَةُ مِنَ الْغَنَمِ قَالَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ تَجْمَعُهَا حَتَّى يَأْتِيَهَا بَاغِيهَا قَالَ الْحَرِيسَةُ الَّتِي تُوجَدُ فِي مَرَاتِعِهَا قَالَ بِهَا ثَمَنُهَا مَرَّتَيْنِ وَضَرْبُ نَكَالٍ وَمَا أُخِذَ مِنْ عَطَنِهِ فَفِيهِ الْقَطْعُ إِذَا بَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالثِّمَارُ وَمَا أُخِذَ مِنْهَا فِي أَكْمَامِهَا قَالَ مَنْ أَخَذَ بِفَمِهِ وَلَمْ يَتَّخِذْ خُبْنَةً فَلَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ وَمَنِ احْتَمَلَ عَلَيْهِ ثَمَنُهُ مَرَّتَيْنِ وَضَرْبًا وَنَكَالًا وَمَا أَخَذَ مِنْ أَجْرَانِهِ فَفِيهِ الْقَطْعُ إِذَا بَلَغَ مَا يُؤْخَذُ مِنْ ذَلِكَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللُّقْطَةُ نَجِدُهَا فِي سَبِيلِ الْعَامِرَةِ قَالَ عَرِّفْهَا حَوْلًا فَإِنْ وَجَدَ بَاغِيهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ وَإِلَّا فَهِيَ لَكَ قَالَ مَا يُؤْخَذُ فِي الْخَرِبِ الْعَادِيِّ قَالَ فِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گم شدہ اونٹ کا حکم دریافت کرنے کے لیے آیا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چونکہ اس کا جوتا اور مشکیزہ اس کے پاس موجود ہے، پس وہ درختوں سے چرتا رہے گا اور پانی پیتا رہے گا، یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پا لے گا، اس لیے تو اس کو چھوڑ دے۔ اس نے کہا: گم شدہ بکری کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تیرے لیے ہے یا تیرے بھائی کے لیے ہے یا پھر بھیڑیئے کے لیے، اس لیے اس کو اپنے پاس رکھ لے، یہاں تک کہ اس کا تلاش کرنے والا آ جائے۔ اس نے کہا: اس بکری کا کیا حکم ہے، جس کو چراگاہ سے چرا لیا گیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی دوگنا قیمت لی جائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ سزا بھی دی جائے گی اور جو چیز اونٹوں کے باڑے سے چرا لی جائے اور اس کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھل کے متعلق کیا حکم ہے، نیز جو پھل شگوفوں سے ہی کھا لیا جائے، اس کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے وہیں (باغ میں) کھا لیا اور کپڑے میں اٹھا کر نہ لے گیا، تو اس پر کوئی حرج نہیں ہو گا، لیکن جو آدمی پھل اٹھا کر لے گیا، اسے اس کی دو گنا قیمت ادا کرنا ہو گی اور اس کو سزا بھی دی جائے گی، لیکن جو چیز (کھلیانوں جیسے) محفوظ مقامات سے اٹھا لی جائے گی اور وہ ڈھال کی قیمت کے برابر ہو گی تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! شارع عام میں گری پڑی چیز کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک سال تک اس کا اعلان کر، اگر اس کو تلاش کرنے والا مالک مل جائے تو اس کو دے دے، وگرنہ وہ تیری ہو جائے گی۔ اس نے کہا:جو چیز ویران ہو جانے والے قدیم مقام سے ملے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس میں اور رکاز میں پانچواں حصہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللقطة/حدیث: 6235]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 1710، والنسائي: 8/ 85، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6683 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6683»
وضاحت: فوائد: … اونٹ کے پاس اس کا جوتا اور مشکیزہ موجود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دور دور تک چل سکتا ہے اور کئی دنوں تک پانی پئے بغیر زندہ رہ سکتا ہے۔
ویران ہو جانے والا قدیم مقام اس سے مراد وہ جگہ ہے، جو کبھی آباد ہوا کرتی تھی، لیکن اب وہ ویران ہو گئی ہے اور وہاں سے ملنے والی چیز کے مالک کو نہیں پہنچایا جا سکتا۔
ان احادیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ گری پڑی چیز کا ایک سال تک اعلان کیا جائے گا، اگر مالک مل گیا تو ٹھیک، بصورت ِ دیگر وہ بندہ استعمال کر لے گا، لیکن اصل مالک کا حق برقرار رہے گا، جس دن اس سے ملاقات ہو گئی، وہ چیز اس کو واپس کرنا پڑے گی۔ اگلے باب میں تین برسوں کا ذکر ہے، جمع و تطبیق کے لیے اگلا باب ملاحظہ کریں۔ آخری حدیث میں مذکورہ دوسرے احکام کی تفصیل ان کے مقام پر بیان کی گئی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَاب مَا جَاءَ فِي نُقْطَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَمَا جَاءَ فِي مَعْنَاهُمَا مِنَ الْأَمْتِعَةِ
سونے اور چاندی کی گری پڑی چیز اور اس طرح کے دوسرے سامان کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6236
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفْلَةَ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ فَوَجَدْتُ سَوْطًا فَأَخَذْتُهُ فَقَالَا لِي اطْرَحْهُ فَقُلْتُ لَا وَلَكِنْ أُعَرِّفُهُ فَإِنْ وَجَدْتُ مَنْ يَعْرِفُهُ وَإِلَّا اسْتَمْتَعْتُ بِهِ فَأَبَيَا عَلَيَّ وَأَبَيْتُ عَلَيْهِمَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ غَزَاتِنَا حَجَجْتُ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرْتُ لَهُ قَوْلَهُمَا وَقَوْلِي لَهُمَا فَقَالَ وَجَدْتُ صُرَّةً فِيهَا مِائَةُ دِينَارٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ عَرِّفْهَا حَوْلًا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا فَقَالَ عَرِّفْهَا حَوْلًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَلَا أَدْرِي قَالَ لَهُ ذَلِكَ فِي سَنَةٍ أَوْ فِي ثَلَاثِ سِنِينَ فَقَالَ لَهُ فِي الرَّابِعَةِ اعْرِفْ عَدَدَهَا وَوِكَاءَهَا فَإِنْ وَجَدْتَ مَنْ يَعْرِفُهَا وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَزَادَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ فَلَقِيتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِمَكَّةَ فَقَالَ لَا أَدْرِي ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ أَوْ حَوْلًا وَاحِدًا
۔ سویدین بن غفلہ کہتے ہیں: میں نے زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کی معیت میں غزوہ کیا، میں نے راستے میں ایک کوڑا پایا اور اس کو اٹھا لیا، لیکن انہوں نے مجھے کہا: یہ کوڑا پھینک دے، میں نے کہا: میں اسے نہیں پھینکوں گا، بلکہ اس کا اعلان کروں گا، اگر اس کو پہچان لینے والے مالک کو پا لیا تو اسے دے دوں گا،وگرنہ خود استعمال کر لوں گا، ان دونوں نے یہ بات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور میں نے بھی ان سے اتفاق نہ کیا، جب ہم غزوہ سے واپس آئے اورمیں حج کے لئے گیا تو میں مدینہ منورہ گیا اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان کو اُن دونوں کی اور اپنی بات بتلائی، انھوں نے آگے سے کہا: عہد ِ نبوی کی بات ہے، مجھے سو دیناروں پر مشتمل ایک تھیلی ملی تھی، جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور اس کے بارے میں ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ میں نے ایسا ہی کیا، لیکن ایسا کوئی شخص نہ ملا جو اس تھیلی کو پہچانتا ہو، اس لیے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا کہ کوئی ایسا نہیں ملا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مزید ایک سال اعلان کرو۔ تین دفعہ ایسے ہی ہوا، راوی کہتا ہے: میں نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ایک سال میں (اعلان کرنے کا) کہا تھا یا تین برسوں میں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوتھی مرتبہ مجھے فرمایا: ان دیناروں کی تعداد اور اس تھیلی کے تسمے کو ذہن نشین کرلے اور اگر اس کےبعد اس کو پہچاننے والے کو پا لے تو اسے دے دینا، وگرنہ اس سے خود فائدہ اٹھا لینا۔ یہ الفاظ یحییٰ بن سعید کی حدیث کے ہیں، محمد بن جعفر نے اپنی بیان کردہ حدیث میں کہاہے کہ سیدنا شعبہ کہتے ہیں میں اس کے بعد سلمہ بن کہیل کو مکہ میں ملا اوران سے پوچھا تو انھوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں کہ تین سال مراد ہیں یا ایک سال میں تین دفعہ اعلان کرنا مراد ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللقطة/حدیث: 6236]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2426، ومسلم: 1723، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21167 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21486»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6237
وَفِي لَفْظٍ آخَرَ مِنْ طَرِيقِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قَالَ فَعَرِّفْهَا عَامَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً قَالَ اعْرِفْ عَدَدَهَا وَوِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا وَاسْتَمْتِعْ بِهَا فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَعَرَفَ عِدَّتَهَا وَوِكَاءَهَا فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ
۔ (دوسری سند) حماد بن سلمہ سے مروی ہے کہ سلمہ بن کہیل نے اپنی روایت کو اس طرح بیان کیا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو یا تین سال تک اس کا اعلان کرو۔ پھر فرمایا: وگرنہ اس چیز کی تعداد،تھیلی اور تسمے کو ذہن نشین کر لو اور اس سے فائدہ اٹھاؤ، اگر بعد میں اس کامالک آگیا اور اس کی تعداد اورتسمے کو پہنچان لیا تو اس کو دے دینا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللقطة/حدیث: 6237]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21489»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6238
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ الْتَقَطْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِائَةَ دِينَارٍ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَرِّفْهَا سَنَةً فَعَرَّفْتُهَا سَنَةً ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقُلْتُ قَدْ عَرَّفْتُهَا سَنَةً فَقَالَ عَرِّفْهَا سَنَةً أُخْرَى فَعَرَّفْتُهَا سَنَةً أُخْرَى ثُمَّ أَتَيْتُهُ فِي الثَّالِثَةِ فَقَالَ أَحْصِ عَدَدَهَا وَوِكَاءَهَا وَاسْتَمْتِعْ بِهَا
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: عہد ِ نبوی میں میں نے سو دینار اٹھا لیے (جوکہ کسی کے گم ہوئے تھے) اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک سال تک اعلان کرو۔ میں نے ایک سال تک اعلان کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر عرض کی کہ میں نے ایک سال اس کا اعلان کر دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مزید ایک سال اعلان کرو۔ پس میں نے مزید ایک سال اعلان کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر کہا کہ میں نے مزید ایک سال تک اعلان کر دیا ہے، اس بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تم ان کی تعداد شمار کر لو اور اس کا تسمہ پہچان لو اور ان سے فائدہ حاصل کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب اللقطة/حدیث: 6238]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1723، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21169 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21488»
وضاحت: فوائد: … مسند احمد کی ایک روایت میں تین سال اعلان کرنے کا ذکر ہے۔ پچھلے باب کی احادیث میں ایک سال کا اور اِن احادیث میں تین سال کا ذکر ہے، جمع و تطبیق کی صورتیںیہ ہیں:
(۱) ایک سال تک اعلان کرنا ضروری ہے اور تین سالوں تک مستحبّ ہے، یعنی ایک سال کے بعد چیز کو استعمال تو کیا جا سکتا ہے، لیکن زیادہ بہتر یہ ہے کہ مزید دو سالوں تک اعلان کیا جائے۔
(۲) عام چیز کا ایک سال تک اعلان کیا جائے گا اور قیمتی چیز کا تین سالوں تک۔
(۳) جو آدمی چیز کا استعمال کر لینے کے بعد مالک کے آ جانے کی صورت میں آسانی سے اس چیز کا اہتمام کر سکتا ہو، وہ ایک سال تک اعلان کرے اور جس کو یہ خطرہ ہو کہ اگر اس نے اس چیز کواستعمال کر لیا تو اس کا از سرِ نو اہتمام کرنا مشکل ہو جائے گا تو وہ تین برسوں تک اعلان کر لے، عام طور پر اتنے عرصے کے بعد اصل مالک کا آنا مشکل ہو جاتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب وَعِيدِ مَنْ آوَى ضَالَةٌ وَلَمْ يُعْرِفُهَا
اس شخص کی وعید کا بیان جس نے گم شدہ چیز اٹھا لی اور اس کا اعلان نہ کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6239
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ آوَى ضَالَّةً فَهُوَ ضَالٌّ مَا لَمْ يُعَرِّفْهَا
۔ سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص گم شدہ چیز اپنے گھر میں رکھ لیتا ہے اور اس کا اعلان نہیں کرتا، وہ گمراہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللقطة/حدیث: 6239]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1725، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17055 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17181»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6240
عَنْ مُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ أَبِي جَرِيرٍ بِالْبَوَازِيجِ فِي السَّوَادِ فَرَاحَتِ الْبَقَرُ فَرَأَى بَقَرَةً أَنْكَرَهَا فَقَالَ مَا هَذِهِ الْبَقَرَةُ قَالَ بَقَرَةٌ لَحِقَتْ بِالْبَقَرِ فَأَمَرَ بِهَا فَطُرِدَتْ حَتَّى تَوَارَتْ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَأْوِي الضَّالَّةَ إِلَّا ضَالٌّ
۔ عبد اللہ بجلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بوازیج مقام پر اپنے باپ سیدنا ابو جریر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، اتنے میں ایک گائے چراگاہ کی طرف نکل آئی، جب انھوں نے یہ گائے دیکھی اور اس کی شناخت نہ کی تو کہا: یہ گائے کہاں سے آ گئی ہے؟ میں نے کہا: یہ ہماری گائیوں کے ساتھ مل گئی ہے، لیکن انھوں نے حکم دیا کہ اس کو دھتکار دیا جائے، پس ایسے ہی کیا گیا،یہاں تک کہ وہ چھپ گئی، پھر انھوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی آدمی گم شدہ جانور کو اپنے گھر میں جگہ دیتا ہے، جو گمراہ ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللقطة/حدیث: 6240]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الضحاك، قال علي بن المديني: لا يعرفونه، ثم انّ ابا حيان اضطرب فيه۔ أخرجه ابوداود: 1720، وابن ماجه: 2503، والنسائي: 2/ 432، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19209 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19422»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6241
عَنِ الْجَارُودِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَفِي الظَّهْرِ قِلَّةٌ إِذْ تَذَاكَرَ الْقَوْمُ الظَّهْرَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَلِمْتُ مَا يَكْفِينَا مِنَ الظَّهْرِ فَقَالَ وَمَا يَكْفِينَا قُلْتُ ذَوْدٌ نَأْتِي عَلَيْهِنَّ فِي جُرُفٍ فَنَسْتَمْتِعُ بِظُهُورِهِنَّ قَالَ لَا ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ فَلَا تَقْرَبَنَّهَا ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ فَلَا تَقْرَبَنَّهَا ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ فَلَا تَقْرَبَنَّهَا وَقَالَ فِي اللُّقَطَةِ الضَّالَّةُ تَجِدُهَا فَانْشُدَنَّهَا وَلَا تَكْتُمْ وَلَا تُغَيِّبْ فَإِنْ عُرِفَتْ فَأَدِّهَا وَإِلَّا فَمَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ
۔ سیدنا جارود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، سواریوں کی قلت تھی، لوگ سواریوں کے بارے میں تبادلۂ خیال کر رہے تھے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے معلوم ہے کہ ہمیں سواریاں میسر آسکتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ کیسے؟ میں نے کہا: (مدینہ منورہ کی) پانی کی بہاؤ والی جگہ میں اونٹ موجود ہیں، ہم ان پر سواری کرنے کا فائدہ حاصل کر لیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں،مسلمان کا گم شدہ آگ کا شعلہ ہے، پس ہر گز اس کے قریب نہیں جانا، مسلمان کا گمشدہ آگ کا شعلہ ہے، پس ہر گز اس کے قریب نہیں جانا، مسلمان کا گمشدہ آگ کا شعلہ ہے، پس ہر گز اس کے قریب نہیں جانا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گری پڑی چیز کے بارے میں ارشاد فرمایا: جب تو گم شدہ چیز پائے تو ضرور ضرور اس کا اعلان کر اور چھپا کے نہ رکھ اور نہ اس کو غائب کر، اگر وہ پہچان لیا جائے تو متعلقہ بندے کو ادا کر دے، وگرنہ وہ اللہ تعالی کا مال ہے، وہ جسے چاہتا ہے، عطا کر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللقطة/حدیث: 6241]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الدارمي: 2602، والنسائي في ’’الكبري‘‘: 5792، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 2120، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20754 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21034»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12»