الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَشْرُوعِيَّةِ الْوَقْفِ وَفَضْلِهِ وَوَقْفِ الْمُشَاعِ وَالْمَنقُول
وقف کے جواز، اس کی فضیلت اورغیر منقسم اور منقول چیز کے وقف کا بیان
حدیث نمبر: 6312
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا مَاتَ ابْنُ آدَمَ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب ابن آدم فوت ہو جاتا ہے تو تین اعمال کے علاوہ اس کے تمام اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے، ایک صدقہ جاریہ، دوسرا وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے اور تیسرا وہ نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الوقف/حدیث: 6312]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1631، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8844 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8831»
وضاحت: فوائد: … وقف، صدقہ جاریہ کی ایک صورت ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6313
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَصَابَ أَرْضًا مِنْ يَهُودِ بَنِي حَارِثَةَ يُقَالُ لَهَا ثَمْغٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ مَالًا نَفِيسًا أُرِيدُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِ قَالَ فَجَعَلَهَا صَدَقَةً لَا تُبَاعُ وَلَا تُوهَبُ وَلَا تُورَثُ يَلِيهَا ذَوُو الرَّأْيِ مِنْ آلِ عُمَرَ فَمَا عَفَا مِنْ ثَمَرَتِهَا جَعَلَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى وَابْنِ السَّبِيلِ وَفِي الرِّقَابِ وَالْفُقَرَاءِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالضَّيْفِ وَلَيْسَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا جُنَاحٌ أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يُؤْكِلَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ مِنْهُ قَالَ حَمَّادٌ فَزَعَمَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُهْدِي إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ مِنْهُ قَالَ فَتَصَدَّقَتْ حَفْصَةُ بِأَرْضٍ لَهَا عَلَى ذَلِكَ وَتَصَدَّقَ ابْنُ عُمَرَ بِأَرْضٍ لَهُ عَلَى ذَلِكَ وَوَلِيَتْهَا حَفْصَةُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بنی حارثہ کے یہودیوں سے ثمغ نامی جو زمین حاصل کی تھی، اس کے بارے میں انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں یہ گزارش کی: اے اللہ کے رسول! مجھے بڑا نفیس اور عمدہ مال ملا ہے، میں اس کو صدقہ کرنا چاہتا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے مطابق انھوں نے اس کو اس طرح صدقہ کیا کہ نہ اس کو بیچا جائے گا، نہ ہبہ کیا جائے گا اور نہ یہ کسی کے ورثے میں آئے گی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی آل کے سمجھ دار لوگ اس کی سرپرستی کریں گے، جو مال اس کے خرچ سے زائد ہوگا، اس کو اللہ تعالیٰ کی راہ، مسافروں، غلاموں کو آزاد کرنے، فقراء، رشتہ داروں اور مہمانوں پر خرچ کیا جائے گا۔ اس کا نگران اچھے طریقے سے اس سے خود بھی کھا لے اور مہمان کو بھی کھلا لے، لیکن اس سے مال بنانے کی کوشش نہ کرے۔ حماد کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عبد اللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ کو اسی زمین سے تحفہ بھیجا کرتے تھے۔ سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اپنے باپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرح اپنی اپنی زمین صدقہ کر دی تھیں، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی زمین کی نگران خود سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہی تھیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الوقف/حدیث: 6313]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2737، 2772، 2773، ومسلم: 1632، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6078 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6078»
وضاحت: فوائد: … یہ صحابۂ کرام f کا جذبۂ انفاق تھا، عمدہ اور نفیس قسم کی زمینیں وقف کر دینا کسی سرمایہ دار کے بس کی بات نہیں ہے، ایسے عظیم عمل کے لیے اللہ تعالی پر مضبوط ایمان اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کی ضرورت ہے، بہرحال سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے احکام مرتب کر کے یہ زمینوقف کر دی۔ معین افراد پر صدقہ کرنے کے بجائے عام لوگوں کے لیے وقف کر دینے کے فوائد زیادہ ہیں، پھر بھی ایسا اقدام کرنے والے کو حکمران یا سمجھ دار لوگوں سے مشورہ کر لینا چاہیے کہ علاقے میں عام وقف کی زیادہ ضرورت ہے یا چند افراد کو خاص کر دینے کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں امور کا خیال رکھتے تھے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6314
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ أَوَّلُ صَدَقَةٍ كَانَتْ فِي الْإِسْلَامِ صَدَقَةُ عُمَرَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ احْبِسْ أُصُولَهَا وَسَبِّلْ ثَمَرَتَهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اسلا م میں سب سے پہلا صدقہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا کیا ہوا تھا، ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کھجوروں کی اصل کو روک لواور ان کے پھلوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خیرات کر دو۔ [الفتح الربانی/كتاب الوقف/حدیث: 6314]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6460 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6460»
وضاحت: فوائد: … اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود وقف ہی تھا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6315
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَمَى النَّقِيعَ لِلْخَيْلِ قَالَ حَمَّادٌ فَقُلْتُ لَهُ لِخَيْلِهِ قَالَ لَا لِخَيْلِ الْمُسْلِمِينَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نقیع کی چراگاہ کو گھوڑوں کے لئے خاص کر دیا تھا۔ حماد کہتے ہیں: میں نے پوچھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے گھوڑوں کے لئے خاص کی تھی، انھوں نے کہا: جی نہیں، مسلمانوں کے گھوڑوں کے لئے خاص کی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الوقف/حدیث: 6315]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابن حبان: 4683، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6438 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6438»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رفاہ عامہ کے لئے چراگاہ وقف کی تھی، جس سے بلا امتیاز لوگ مستفید ہو تے تھے، مسلمانوں کے خلیفہ کو ایسا کرنے کا حق حاصل ہے، بعض دیہاتی علاقوں میں دیکھا گیا ہے کہ مویشیوں کے چرنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی اور سارے چارے کا انتظام گھر میں ہی کرنا ہوتا ہے، اس سے مالکوں کا خرچ بھی زیادہ ہوتا ہے اور محنت بھی بہت کرناپڑتی ہے، ایسے علاقوں کے سرمایہ دار لوگوں کو چاہیے کہ ایک دو ایکڑ زمین خرید کر اس میں مختلف درخت لگا دیں، گھاس وغیرہ تو خود بخود اگ آتی ہے، اس سے لوگ آگ جلانے کے لیے لکڑیاں بھی کاٹ سکیں گے اور اپنے مویشی بھی چرائیں گے، یہ بہت بڑا صدقہ ہو گا، البتہ متعلقہ لوگوں کا پر خلوص ہونا ضروری ہے اور کہیں ایسا بھی نہ ہو کہ بعد میںآنے والے ان کی نسل کے لوگ احسان جتلانا شروع کر دیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6316
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ الْأَنْصَارِ بِالْمَدِينَةِ مَالًا وَكَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَاءَ وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ قَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا نَزَلَتْ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَاءَ وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِهَا بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ أَرَاكَ اللَّهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَخٍ بَخٍ ذَاكَ مَالٌ رَابِحٌ ذَاكَ مَالٌ رَابِحٌ وَقَدْ سَمِعْتُ وَأَنَا أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مدینہ کے انصاریوں میں سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ مال والے تھے اورانہیں بیرحاء والا مال سب سے زیادہ پسند تھا، یہ مسجد نبوی کے بالکل سامنے تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں جاتے اور اس کا شیریں پانی پیتے رہتے تھے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی کہ تم اس وقت تک نیکی کو نہیں پہنچ سکتے، جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز کو خرچ نہیں کرو گے۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ {لَنْ تَنَالُو الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} اور بیرحاء کا مال مجھے سب سے زیادہ پسند ہے، لہٰذا میں اسے رضائے الٰہی کے لئے صدقہ کر تا ہوں اورمجھے اس کی نیکی اور اللہ تعالی کے ہاں ذخیرۂ آخرت بننے کی امید ہے۔ اے اللہ کے رسول! جہاں آپ اللہ تعالی کی توفیق سے مناسب سمجھتے ہیں، اس کو خرچ کر دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واہ، واہ، یہ تو بہت نفع بخش مال ہے، میں نے اس کے بارے میں سن لیا تھا، اب میرا خیال یہ ہے کہ تو اس کو قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کر دے۔ یہ سن کر سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی اے اللہ کے رسول! میں ایسے ہی کروں گا، پھر اس باغ کو اپنے رشتہ داروں اور چچوں کے بیٹوں میں تقسیم کر دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الوقف/حدیث: 6316]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1461، 2318، 2752، ومسلم: 998، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12438 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12465»
وضاحت: فوائد: … اب معاشرے کی صورتحال یہ ہے کہ لوگ اپنی مالی صلاحیت کے مطابق خرچ نہیں کرتے، ہر آدمی نے پانچ دس سو پچاس کو ہی کافی سمجھ لیا ہے، بلکہ اس پر مستزاد یہ کہ محتاجوں کا بڑے سرمایہ دار تک پہنچنا ہی ناممکن ہو گیا ہے، یہ مشاہدہ شدہ بات ہے کہ جب کسی مسجد یااجتماع میں کسی محتاج کا اعلان کیا جاتا ہے تو اس پر صدقہ کرنے والے درمیانی آمدنی والے لوگ ہوتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ اس پر کیا ہوا صدقہ دس بیس بیس کے نوٹوں پر مشتمل ہوتا ہے، بڑے سرمایہ دار یوں نکلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جیسے اس محتاج پر صدقہ کرنا ان کے شایانِ شان نہیں ہے، مگر وہ جس پر میرا ربّ رحم کر دے، اگر دورِ نبوت میں ایسی حاجت محسوس کی جاتی تو صدقہ کرنے والے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر d جیسے بڑے لوگ ہوتے یا سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ جیسے سرمایہ دار۔ اب ایسی باتیں سننے کو نہیں ملتیں کہ فلاں نے کسی غریب کو گھر بنوا کر دیا ہے، فلاں نے کسی کو کاروبار دیا ہے، فلاں نے غریب کی اولاد کی تعلیم کا خرچ اٹھا لیا ہے، فلاں نے کسی کو دو چار ایکڑ زمین دی ہے، جبکہ اس سے بڑی نیکیاں کر سکنے والے کروڑ پتی اور ارب پتی موجود ہیں،یایوں کہیں کہ اب معاشرے کے کئی افراد کے پاس صحابۂ کرامf کی بہ نسبت بہت زیادہ سرمایہ موجود ہے، لیکن نیکی کے معاملے میں صحابہ کے ہزارویں حصے تک بھی نہیں پہنچا جا رہا، یہ مقدار کی بات ہو رہی ہے، معیار میں ہمارا خیر القرون کے لوگوں سے موازنہ ہی نہیں کیا جا سکتا۔
الحكم على الحديث: صحیح
2. بَابُ مَنْ وَقَفَ مَسْجِدًا أَوْ بِرًا لَا يَكُونُ لَهُ فِيهَا إِلَّا مَا لِكُلِّ مُسْلِمٍ وَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ
مسجدیا کنویں کو وقف کرنے اوراللہ تعالی پر اس کے اجر کا ثابت ہونے کا بیان، نیز¤وقف کرنے والے کا ان اشیاء میں وہی حصہ ہو گا، جو عام مسلمان کا ہوگا
حدیث نمبر: 6317
عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ شَهِدْتُ الدَّارَ يَوْمَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَطَلَعَ عَلَيْهِمْ إِطْلَاعَةً فَقَالَ ادْعُوا لِي صَاحِبَيْكُمُ اللَّذَيْنِ أَلَّبَاكُمْ عَلَيَّ فَدُعِيَا لَهُ فَقَالَ نَشَدْتُكُمَا اللَّهَ أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ ضَاقَ الْمَسْجِدُ بِأَهْلِهِ فَقَالَ مَنْ يَشْتَرِي هَذِهِ الْبُقْعَةَ مِنْ خَالِصِ مَالِهِ فَيَكُونُ فِيهَا كَالْمُسْلِمِينَ وَلَهُ خَيْرٌ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ خَالِصِ مَالِي فَجَعَلْتُهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَنْتُمْ تَمْنَعُونِي أَنْ أُصَلِّيَ فِيهَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ لَمْ يَكُنْ فِيهَا بِئْرٌ يُسْتَعْذَبُ مِنْهُ إِلَّا رُومَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَشْتَرِيهَا مِنْ خَالِصِ مَالِهِ فَيَكُونُ دَلْوُهُ فِيهَا كَدَلِيِّ الْمُسْلِمِينَ وَلَهُ خَيْرٌ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ خَالِصِ مَالِي فَأَنْتُمْ تَمْنَعُونِي أَنْ أَشْرَبَ مِنْهَا ثُمَّ قَالَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنِّي صَاحِبُ جَيْشِ الْعُسْرَةِ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ
۔ ثمامہ بن حزن قشیری کہتے ہیں: جس دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو آزمائش میں مبتلا کیا گیا، میں اس دن موجود تھا، وہ محاصرہ کرنے والوں پر جھانکے اور کہا: میرے پاس ان دو آدمیوں کو بلا کر لاؤ، جنہوں نے تمہیں میرے خلاف ابھارا ہے، (ان کی مراد محمد بن ابی بکر اور محمد بن ابی حذیفہ تھی،) چنانچہ انہیں بلایا گیا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ کیا تم کو معلوم ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تومسجد میں نمازیوں کی گنجائش نہ رہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو اپنے خالص مال میں سے یہ زمین خریدے گا اور پھر وہ عام مسلمانوں کی طرح رہے گا، تو اس کے لیے اس کے عوض لیکن اس سے بہتر گھر جنت میں ہو گا۔ پس میں نے وہ جگہ اپنے خالص مال سے خریدی اور اس کو مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا، لیکن آج تم مجھے اس میں دورکعت نمازپڑھنے سے روک رہے ہو۔پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو اس میں بئر رومہ کے سوا میٹھے پانی والا کوئی کنواں نہیں تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے خالص مال سے یہ کنواں خریدے گا اور پھر اس میں دوسرے مسلمانوں کے ڈولوں کی طرح ڈول ڈالے گا، تو اس کے لیے اس سے بہتر چیز جنت میں ہوگی۔ پھر کہا: کیا تم جانتے ہو تنگی والے لشکر یعنی غزوئہ تبوک کو تیار کرنے والا میں ہی تھا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/كتاب الوقف/حدیث: 6317]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الترمذي: 3703، والنسائي: 6/ 235، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 555 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 555»
وضاحت: فوائد: … یہ کتنی خوبصورت بات ہے کہ مسجد نبوی کی توسیع اور بئر رومہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا وہی حق تھا، جو دوسرے عام مسلمان کا تھا، جبکہ زمین اور کنویں کو خریدنے کے لیے سرمایہ خرچ کرنے والے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔ ہاں ہاں جب صرف اللہ تعالی سے اجر لینے کا اور خدمت ِ اسلام کا ارادہ ہو تو ایسی خوبصورت باتیں سننے کو مل جاتی ہیں، لیکن اب جبکہ … …، اللہ کی قسم! سمجھ نہیں آ رہی کہ کیسے اظہار ما فی الضمیر کیا جائے، اب مسجد میں ایک کرسی رکھنے والا جب تک اس پر اپنا نام نہ لکھوا لے، اس کی تسلی نہیں ہوتی، ایک ہزار روپے کی رسیدکٹوانے والے کو خصوصی پروٹوکول نہ دیا جائے یا سٹیج پر جگہ نہ دی جائے تو جناب کے نخرے …، صدقہ وصول کرنے والے صدقہ کرنے والوں کی ہنسیوں کو ترستے رہتے ہیں، مساجد و مدارس کے منتظمین کی توجہ عمارتوں کی خوبصورتی اور فنڈز دینے والوں کی رضامندی کے حصول پر مرکوز ہو کر رہ گئی ہے، کسی مسجد میں شرعی اصولوں کے مطابق سب سے بڑا عہدہ مسجد کے خادم، امام اور خطیب کا ہوتاہے، لیکن اب ان عظیم لوگوں کو تنخواہ دار طبقے کے علاوہ کچھ نہیں سمجھا جا رہا، مسجد کے ہر نمازی کو اپنے امام اور خطیب پر اعتراض کرنے کا پورا حق حاصل ہوتا ہے اور پھر سنجیدگی کے ساتھ اس کے اعتراض کا جائزہ بھی لیا جاتا ہے، اب یہ سرے سے کوئی امتیاز ہی نہ رہا کہ فلاں مسجد کے خطیبیا امام میں نیکی کا پہلو غالب ہے۔ یہ اس دور کی مذموم صفات ہیں، جس میں مادیت پرستی اور ظاہر پرستی کا غلبہ ہو اور حقیقت ِ حال کو مخفی رکھا جاتا ہو اور تزکیہ و طہارت کا فقدان ہو۔
گزارش ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ِ نبوی کی توسیع اور بئر رومہ کی خریداری کے بارے میں جو الفاظ ارشاد فرمائے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ جس انداز میں ان کا مصداق بنے، ان پر غور کیا جائے اور اپنے نیکیوں کے صلے کو آخرت تک مؤخر کر دیا جائے۔
گزارش ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ِ نبوی کی توسیع اور بئر رومہ کی خریداری کے بارے میں جو الفاظ ارشاد فرمائے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ جس انداز میں ان کا مصداق بنے، ان پر غور کیا جائے اور اپنے نیکیوں کے صلے کو آخرت تک مؤخر کر دیا جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح