🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابٌ فِي جَوَازِهِ لِلْحَاجَةِ وَكَرَاهَتِهِ مَعَ عَدْمِهَا وَطَاعَةِ الْوَالِدِ فِيهِ
ضرورت کے پیش نظرطلاق کے جائز ہونے، ضرورت کے بغیر اس کے ناجائز ہونے اور اس معاملے میں والدین کی اطاعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7147
عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَلَّقَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ثُمَّ ارْتَجَعَهَا
۔ سیدنا عاصم بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما کو طلاق دی اور پھر ان سے رجوع کر لیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطلاق/حدیث: 7147]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيرھ، أخرجه الطبراني في الكبير: 17/ 366، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15924 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16020»
وضاحت: فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کا ایک درج ذیل شاہد بھی بیان کیا: قیس بن زید کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی، ان کے دو ماموں قدامہ اور عثمان، جو مظعون کے بیٹے تھے، ان کے پاس گئے، وہ رونے لگ گئیں اور انھوں نے کہا: اللہ تعالی کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیر ہو جانے کی وجہ سے مجھے طلاق نہیں دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس آئے اور کہا: ((قَالَ لِیْ جِبْرِیْلُ علیہ السلام: رَاجِعْ حَفْصَۃَ، فَاِنَّھَا صَوَّامَۃٌ قَوَّامَۃٌ، وَاِنَّھَا زُوْجَتُکَ فِی الْجَنَّۃِ۔)) … جبریل علیہ السلام نے مجھے کہا: حفصہ سے رجوع کر لو، وہ تو بہت روزے رکھنے والی اور بہت قیام کرنے والی ہے اور جنت میں آپ کی بیوی ہے۔ (ابو نعیم نے اس کوالحلیۃ: ۲/ ۵۰ میں اور امام حاکم نے روایت کیا ہے اور یہ مرسل ہے۔)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7148
عَنْ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي امْرَأَةً فَذَكَرَ مِنْ طُولِ لِسَانِهَا وَإِيذَائِهَا فَقَالَ طَلِّقْهَا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا ذَاتُ صُبْحَةٍ وَوَلَدٍ قَالَ فَأَمْسِكْهَا وَأْمُرْهَا فَإِنْ يَكُ فِيهَا خَيْرٌ فَسَتَفْعَلُ وَلَا تَضْرِبْ ظَعِينَتَكَ ضَرْبَكَ أَمَتَكَ
۔ سیدنا لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے، پھر انھوں نے اس کی زبان درازی اور تکلیف دینے کی شکایت کی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو طلاق دے دو۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ پرانی رفیقہ حیات ہے اور اس سے میری اولاد بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اس کو اپنے پاس رکھو، البتہ تلقین کرتے رہو، اگر اس میں کوئی خیر و بھلائی ہوئی تو وہ اسے قبول کرے گی، لیکن تم نے اپنی بیوی کو اس طرح نہیں مارنا جس طرح لونڈی کو مارا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطلاق/حدیث: 7148]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه بنحوه ابوداود: 144، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16384 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16497»
وضاحت: فوائد: … ہر عورت میں خوبیوں کے ساتھ ساتھ بعض نقائص بھی پائے جاتے ہیں، اس بارے میں شرعی اصول یہ ہے کہ بیویوں کے مثبت پہلو کا زیادہ خیال رکھا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی اصلاح بھی کی جائے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7149
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا الطَّلَاقَ مِنْ غَيْرِ مَا بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جوعورت بغیر کسی مجبوری کے اپنے خاوند سے طلاق کا مطالبہ کرتی ہے، اس پر جنت کی خوشبو حرام ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الطلاق/حدیث: 7149]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 1187، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22379 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22738»
وضاحت: فوائد: … اگر کوئی شرعی عذر ہو تو عورت خلع لے سکتی ہے، یا طلاق کا مطالبہ کر سکتی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7150
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا وَلَا تَسْأَلُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا وَلْتَنْكِحْ فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهَا
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی نہ کرے، کسی خاتون سے اس کی پھوپھی اور خالہ کی موجودگی میں نکاح نہ کیا جائے، کوئی عوررت اپنی بہن کی طلاق کا سوال نہ کرے، تاکہ وہ اس کے پیالے میں جو کچھ ہے، اس کو انڈیل دے، اس کو چاہیے کہ وہ نکاح کر لے، کیونکہ اس کو وہ کچھ مل جائے گا، جو اللہ تعالیٰ نے اس کے مقدر میں لکھا ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطلاق/حدیث: 7150]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1408، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10605 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10613»
وضاحت: فوائد: … اسلام نے مرد کو چار شادیوں کا حق دیا ہے، اگر کوئی آدمی دوسری شادی کرنا چاہے تو اس خاتون کو یہ شرط نہیں لگانی چاہیے کہ وہ پہلی بیوی کو طلاق دے دے، اس کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالی پر بھروسہ کر کے نکاح کرے، اللہ تعالی حالات کو سنوارنے پر قادر ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7151
عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ أُحِبُّهَا وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُهَا فَأَمَرَنِي أَنْ أُطَلِّقَهَا فَأَبَيْتُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ امْرَأَةً كَرِهْتُهَا لَهُ فَأَمَرْتُهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَأَبَى فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَا عَبْدَ اللَّهِ! طَلِّقْ امْرَأَتَكَ) ) فَطَلَّقْتُهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے عقد نکاح میں ایک عورت تھی، مجھے اس سے بہت محبت تھی، لیکن میرے باپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کو ناپسند کرتے تھے، پس انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کو طلاق دے دوں،لیکن میں نے انکار کر دیا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی ایک بیوی ہے، مجھے وہ ناپسند ہے، میں نے اس سے کہا کہ وہ اس کو طلاق دے دے، لیکن اس نے انکار کر دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عبد اللہ! اپنی بیوی کو طلاق دے دو۔ سو میں نے اسے طلاق دے دی۔ [الفتح الربانی/كتاب الطلاق/حدیث: 7151]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه الترمذي: 1189، والنسائي: 5/339، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5011 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5011»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ والدین کا حکم نفس کی خواہشات پر مقدم ہے، جب اُن کا حکم دین کے موافق ہو گا، کیونکہ ظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس خاتون کو قلتِ دین کی وجہ سے ناپسند کرتے ہوں گے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ النَّهْي عَنِ الطَّلَاقِ فِي الْحَيْضِ وَفِي الظُّهْرِ بعد أنْ يُجَامِعَهَا مَالَمْ بَين حَمْلُهَا
حالت حیض میں اور طہر میں مجامعت کے بعد حمل کے واضح ہونے سے پہلے تک طلاق دینے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7152
عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَأَلْتُهُ عَنْ امْرَأَتِهِ الَّتِي طَلَّقَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ طَلَّقْتُهَا وَهِيَ حَائِضٌ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُمَرَ فَذَكَرَهُ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا فَإِذَا طَهُرَتْ طَلَّقَهَا فِي طُهْرِهَا لِلسُّنَّةِ) ) قَالَ: فَفَعَلْتُ، قَالَ أَنَسٌ: فَسَأَلْتُهُ هَلْ اعْتَدَدْتَّ بِالَّتِي طَلَّقْتَهَا وَهِيَ حَائِضٌ؟ قَالَ وَمَا لِي لَا أَعْتَدُّ بِهَا إِنْ كُنْتُ عَجَزْتُ وَاسْتَحْمَقْتُ
۔ انس بن سیرین سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ان کی اس بیوی کے متعلق سوال کیا، جسے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں طلاق دی تھی، انہوں نے کہا: میں نے اس کو حالتِ حیض میں طلاق دی، پھر میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے یہ بات بیان کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کر لے، پھر جب وہ حیض سے پاک ہو جائے تو سنت کے مطابق اسے طہر میں طلاق دے۔ میں نے ایسے ہی کیا، انس بن سیرین کہا: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ تم نے جو طلاق حالت حیض میں دی تھی کیاوہ شمار کی گئی تھی، انھوں نے کہا: بھلا میں اس کو شمار کیوں نہ کرتا، اگر میں عاجز آگیا اور حماقت کا مظاہرہ کر بیٹھا تو (کیا خیال ہے کہ وہ طلاق شمار نہ ہوتی)۔ [الفتح الربانی/كتاب الطلاق/حدیث: 7152]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1471، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6119 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6119»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7153
عَنْ سَلَامٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا أَوْ حَامِلًا) )
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انھوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن عمر سے کہو کہ وہ رجوع کرلے اور پھر اس کو اس حالت میں طلاق دے کہ وہ حالتِ طہر میں ہو یا حاملہ ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الطلاق/حدیث: 7153]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1471، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4789 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4789»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7154
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً وَهِيَ حَائِضٌ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَاجِعَهَا وَيُمْسِكَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ عِنْدَهُ حَيْضَةً أُخْرَى ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضَتِهَا، فَإِنْ أَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا حِينَ تَطْهُرُ قَبْلَ أَنْ يُجَامِعَهَا فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لِأَحَدِهِمْ: أَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَ امْرَأَتَكَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي بِهَا، فَإِنْ كُنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْكَ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ وَعَصَيْتَ اللَّهَ تَعَالَى فِيمَا أَمَرَكَ مِنْ طَلَاقِ امْرَأَتِكَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماما سے مروی ہے کہ انھوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں ایک طلاق دے دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ رجوع کر لے اور اس کو پاس رکھے، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر اس کے پاس ہی اسے دوسرا حیض آئے، پھر اس کو مہلت دے، یہاں تک کہ اسے حیض آئے اور وہ اس سے پاک ہو جائے، اب جبکہ وہ پاک ہوئی ہے، اگر اس کا ارادہ طلاق دینے کا ہو تو وہ قبل از جماع اسے طلاق دے دے، یہ وہ عدت ہے کہ جس کا اللہ تعالیٰ نے طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔ جب سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا جاتا تو وہ کہتے: تونے اپنی بیوی کو ایک مرتبہ طلاق دی ہے یا دو مرتبہ، مجھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رجوع کرنے کا حکم دیا تھا، اور اگر تونے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں تو وہ تجھ پر حرام ہو گئی ہے، اب اس کے حلال ہونے کی یہ صورت ہے کہ وہ تیرے علاوہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے، ہاں تو نے غلط طریقہ سے طلاق دے کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطلاق/حدیث: 7154]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5332، ومسلم: 1471، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6061 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6061»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7155
حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَقَالَ طَلَّقَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَأَتَى عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لِيُرَاجِعْهَا فَإِنَّهَا امْرَأَتُهُ) )
۔ ابوزبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس آدمی کے متعلق سوال کیا جو اپنی بیوی کو حالت ِ حیض میں طلاق دیتا ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالت ِ حیض میں طلاق دی تھی اورسیدنا عمر رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طلاق کی اطلاع دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن عمر رجوع کر لے، کیونکہ یہ اس کی بیوی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطلاق/حدیث: 7155]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبدالله بن لھيعة سييء الحفظ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15150 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15217»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7156
عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ أَيْمَنَ يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَسْمَعُ فَقَالَ: كَيْفَ فِي رَجُلٍ طَلَّقَ إِمْرَأَتَهُ حَائِضًا؟ فَقَالَ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ طَلَّقَ إِمْرَأَتَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ طَلَّقَ إِمْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لِيُرَاجِعْهَا) ) (عَلَيَّ وَلَمْ يَرَهُ شَيْئًا وَقَالَ فَرَدَّهَا) إِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْ أَوْ يُمْسِكْ) ) قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَقَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ} [الطلاق: 1] قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: وَسَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقْرَؤُهَا كَذٰلِكَ
۔ ابوزبیر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:عبد الرحمن بن ایمن نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماسے سوال کیا جا رہا تھا، جبکہ میں سن رہا تھا، انھوں نے کہا: اس آدمی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو حالت ِ حیض میں بیوی کو طلاق دیتا ہے؟ انھوں نے کہا: میں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے عہد ِ نبوی میں اپنی بیوی کو اسی طرح طلاق دی تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! عبد اللہ نے اپنی بیوی کو حالت ِ حیض میں طلاق دے دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ رجوع کر لے، پھر جب وہ پاک ہو جائے تو وہ چاہے تو طلاق دے دے اور چاہے تو اپنے پاس رکھ لے۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو مجھ پر لوٹا دیا اور اس کو کچھ خیال نہ کیا، پھر سیدنا ابن عمر کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {یَا أیُّھَا النَّبِیُّ إِذَا طَلَقَّتُمُ النِّسَائَ فَطَلِّقُوْھُنَّ فِیْ قُبُلِ عِدَّتِہِنَّ} … اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دینے لگو تو انہیں ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو۔ ابن جریج کہتے ہیں: میں نے مجاہد کو سنا کہ وہ اس آیت کو اسی طرح تلاوت کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطلاق/حدیث: 7156]
تخریج الحدیث: «صحيح دون قوله: ولم يرھا شيئا، أخرجه مسلم: 1471 دون ھذه الزيادة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5524 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5524»
وضاحت: فوائد: … طلاق کا سنت طریقہ یہ ہے کہ خاوند اس طہر میں طلاق دے، جس میں اس نے جماع نہ کیا ہو، یا حالت ِ حمل میں دے، پھر عدت گزرنے کا انتظار کرے، ممکن ہو تو عدت کے دوران میں رجوع کر لے، ورنہ پیچھے سے مزید طلاق نہ بھیجے، تاکہ اگر بعد میں اتفاق ہو جائے تو نیا نکاح کر لے۔ مزید طلاق نہ بھیجنے کی ہدایت ان اہل علم کی رائے کی روشنی میں دی گئی ہے، جو طلاق پر طلاق کے قائل ہیں، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک تو طلاق پر طلاق واقع ہی نہیں ہوتی، کیونکہ یہ بے فائدہ ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں