الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ دَمَ الْمُخْتَلِعَاتِ مِنْ غَيْرِ بَأْسٍ
بغیر ضرورت خلع لینے والیوں کی سزا
حدیث نمبر: 7172
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُخْتَلِعَاتُ وَالْمُنْتَزِعَاتُ هُنَّ الْمُنَافِقَاتُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خلع لینے والی اور خاوند سے علیحدگی کا مطالبہ کرنے والی عورتیں منافق ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلع/حدیث: 7172]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، فالحسن البصري لم يسمع من ابي ھريرة، أخرجه النسائي: 6/ 168، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9358 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9347»
وضاحت: فوائد: … منافق سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو بظاہر خاوند کا مطیع ثابت کرتی ہے، لیکن اندرونِ خانہ نافرمان ہے، لہٰذا وہ منافق ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 7173
عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَتْ حَبِيبَةُ ابْنَةُ سَهْلٍ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ الْأَنْصَارِيِّ فَكَرِهَتْهُ وَكَانَ رَجُلًا دَمِيمًا فَجَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَا أَرَاهُ فَلَوْلَا مَخَافَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَبَزَقْتُ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتُرَدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ الَّتِي أَصْدَقَكِ قَالَتْ نَعَمْ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَرَدَّتْ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا قَالَ فَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ خُلْعٍ كَانَ فِي الْإِسْلَامِ
۔ سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا، سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ خوش شکل نہ تھے، اس لیے سیدہ حبیبہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میرے سامنے اللہ تعالیٰ کا ڈر آڑے نہ آتا ہو تو میں ثابت کودیکھ کر اس کے چہرے پر تھوک دوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حبیبہ! کیا تو وہ باغ، جو ثابت نے حق مہر کے طور پر دیا تھا، وہ اسے واپس کر دو گی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کے ہاں پیغام بھیجا، وہ آئے، سیدہ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے ان کو وہ باغ لوٹا دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے درمیان جدائی کروا دی، یہ اسلام میں سب سے پہلا پیش آنے والا خلع تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلع/حدیث: 7173]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن ماجه: 2057، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16095 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16193»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7174
عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ الْأَنْصَارِيَّةِ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيَّةِ قَالَتْ إِنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الصُّبْحِ فَوَجَدَ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ عَلَى بَابِهِ بِالْغَلَسِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَذِهِ قَالَتْ أَنَا حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا لَكِ قَالَتْ لَا أَنَا وَلَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ لِزَوْجِهَا فَلَمَّا جَاءَ ثَابِتٌ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ قَدْ ذَكَرَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَذْكُرَ قَالَتْ حَبِيبَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ مَا أَعْطَانِي عِنْدِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِثَابِتٍ خُذْ مِنْهَا فَأَخَذَ مِنْهَا وَجَلَسَتْ فِي أَهْلِهَا
۔ سیدہ حبیبہ بنت سہل انصاریہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ فجر کے لیے باہر تشریف لائے تو حبیبہ کو اپنے دروازے پر پایا، جبکہ ابھی تک اندھیرا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: جی میں حبیبہ بنت سہل ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا ہو گیا ہے، خیر تو ہے؟ انھوں نے کہا:میں اور میرا خاوند ثابت، بس اب اکٹھے نہیں رہ سکتے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ثابت کو بلایا، وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ حبیبہ بنت سہل ہے، اس نے مجھے اپنی دلی کیفیت بتائی ہے، یہ تمہارے پاس نہیں رہنا چاہتی۔ اتنے میں سیدہ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! ثابت نے جو کچھ مجھے دیا ہے، وہ میرے پاس موجود ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ اپنا مال لے لو۔ پس انھوں نے اس سے مال لے لیا اور وہ اپنے گھر والوں کے پاس چلی گئیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلع/حدیث: 7174]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 2227، والنسائي: 6/ 169، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27444 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27990»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ باکردار اور بااخلاق تھے حتیٰ کہ ان کی بیوی نے اس بات کا اعتراف بھی کیا تھا کہ وہ ان کے اخلاق اور دین پر کوئی نکتہ چینی نہیں کر سکتی، لیکن اسلام نے خاوند کی ناشکری سے منع کیا ہے، ان کے خوش شکل نہ ہونے کی وجہ سے ان کی بیوی ان کے ساتھ رہنے پر آمادہ نہیں ہو رہی تھی۔
الحكم على الحديث: صحیح
2. بَابُ الْأَشْهَادِ عَلَيْهَا وَبِمَا تَحِلُّ الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ
رجوع کرتے وقت گواہ بنا نے اور اس چیز کا بیان کہ تین طلاق والی عورت پہلے خاوند کے لیے کیسے حلال ہو گی
حدیث نمبر: 7175
عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثُمَّ ارْتَحَلَ إِلَى الْمَدِينَةِ لِيَبِيعَ عَقَارًا لَهُ بِهَا وَيَجْعَلَهُ فِي السِّلَاحِ وَالْكُرَاعِ ثُمَّ يُجَاهِدَ الرُّومَ حَتَّى يَمُوتَ فَلَقِيَ رَهْطًا مِنْ قَوْمِهِ فَحَدَّثُوهُ أَنَّ رَهْطًا مِنْ قَوْمِهِ سِتَّةً أَرَادُوا ذَلِكَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَيْسَ لَكُمْ فِيَّ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ فَأَشْهَدَهُمْ عَلَى رَجْعَتِهَا ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْنَا فَأَخْبَرَنَا أَنَّهُ أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَسَأَلَهُ عَنِ الْوِتْرِ فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا جِدًّا
۔ سیدنا سعد بن ہشام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی، پھر مدینہ کی جانب سفر کیا تاکہ وہاں موجود اپنی جاگیر کو فروخت کریں اور اسے ہتھیار اورگھوڑے خریدنے پر صرف کریں اور رومیوں کے خلاف جنگ کرتے ہوئے شہید ہو جائیں، اس دوران ان کی ملاقات اپنے قبیلہ کے کچھ لوگوں کے ساتھ ہوئی، انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں چھ افراد نے اسی طرح کا عزم ظاہر کیا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ کیا تمہارے لیے میرے اندر عمدہ نمونہ نہیں ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا، یہ سن کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے انہیں گواہ بنا کر کہا کہ اس نے اپنی بیوی سے رجوع کیا، پھر وہ ہماری طرف آئے اور ہمیں بتایا کہ وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماکے پاس گئے اور ان سے وتر کے متعلق سوال کیا، پھر طویل حدیث بیان کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلع/حدیث: 7175]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، ھذا حديث طويل، أخرجه بتمامه و مختصرا ابوداود: 1343، والنسائي: 3/ 60، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24269 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24773»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَاَمْسِکُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَاَشْھِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْکُمْ وَاَقِیْمُوْا الشَّھَادَۃَ لِلّٰہِ} … پس جب یہ عورتیں اپنی عدت پوری کرنے کے قریب پہنچ جائیں تو انہیں یا تو قاعدہ کے مطابق اپنے نکاح میں رہنے دو یا دستور کے مطابق انہیں الگ کر دو اور آپس میں سے دو عادل شخصوں کو گواہ کر لو اور اللہ کی رضامندی کے لیے ٹھیک ٹھیک گواہی دو۔ (سورۂ طلاق: ۲)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7176
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فَيَتَزَوَّجُهَا آخَرُ فَيُغْلِقُ الْبَابَ وَيُرْخِي السِّتْرَ ثُمَّ يُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا هَلْ تَحِلُّ لِلْأَوَّلِ قَالَ لَا حَتَّى يَذُوقَ الْعُسَيْلَةَ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس آدمی کے بارے میں دریافت کیا گیا، جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہوں، پھر کسی دوسرے شخص نے اس سے شادی کر کے دروازہ بند کیا ہو اور پردہ لٹکا لیا ہو (یعنی خلوت میں لے گیا ہو)،لیکن پھربغیر جماع کیے اسے طلاق دے دے، تو کیا یہ عورت پہلے خاوند کے لیے حلال ہو سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتی، جب تک دوسرا شوہر اس سے جماع کرکے لطف اندوز نہ ہو لے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلع/حدیث: 7176]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 4966، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4776 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4776»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7177
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبِي وَلَمْ يَرْفَعْهُ يَعْلَى عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ فَدَخَلَ بِهَا ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يُوَافِقَهَا أَتَحِلُّ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَحِلُّ لِلْأَوَّلِ حَتَّى يَذُوقَ الْآخَرُ عُسَيْلَتَهَا وَتَذُوقَ عُسَيْلَتَهُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا،جس نے اپنی بیوی کو (تین) طلاقیں دے دیں، پھر اس عورت نے کسی دوسرے شخص سے شادی کرلی، پھر وہ اس کے پاس تو گیا لیکن جماع کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دی، اب کیا وہ پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کر سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ عورت تب تک پہلے شوہر سے نکاح نہیں کر سکتی، جب تک دوسرا شوہر اور وہ باہمی طور پرجنسی تعلق سے لطف اندوز نہ ہو لیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلع/حدیث: 7177]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 2309، والنسائي: 6/ 146، وأخرجه بنحوه واطول منه البخاري: 5260، 5792، 5825، ومسلم: 1433، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24149 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24650»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7178
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا حَتَّى يَكُونَ الْآخَرُ ذَاقَ مِنْ عُسَيْلَتِهَا وَذَاقَتْ مِنْ عُسَيْلَتِهِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں! جب تک وہ دونوں ایک دوسرے سے جنسی تعلق قائم کر کے لطف اندوز نہ ہو لیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلع/حدیث: 7178]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 41999، والبزار: 1505، والبيھقي: 7/ 375، والطبراني في الاوسط: 2393، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14024 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14069»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7179
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَتِ الْغُمَيْصَاءُ أَوِ الرُّمَيْصَاءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو زَوْجَهَا وَتَزْعَمُ أَنَّهُ لَا يَصِلُ إِلَيْهَا فَمَا كَانَ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى جَاءَ زَوْجُهَا فَزَعَمَ أَنَّهَا كَاذِبَةٌ وَلَكِنَّهَا تُرِيدُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لَكِ ذَلِكَ حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ رَجُلٌ غَيْرُهُ
۔ سیدنا عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ غمیصاء یا رمیصاء نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اپنے خاوند کی شکایت کی اور اس نے یہ تاثر بھی دیا کہ اس کا خاوند اس تک پہنچ نہیں پاتا (یعنی اس میں جماع کی صلاحیت نہیں ہے)،تھوڑی دیر تک اس کا خاوند بھی آ گیا اور اس نے بتایا کہ یہ غلط بیانی سے کام لے رہی ہے، اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ کسی طرح پہلے خاوند کے پاس چلی جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا: اس کی تجھے اس وقت تک اجازت نہیں، جب تک دوسرا مرد تجھ سے بذریعہ نکاح لطف اندوز نہ ہو جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلع/حدیث: 7179]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه النسائي: 6/ 48، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1837 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1837»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7180
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعُسَيْلَةُ هِيَ الْجِمَاعُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اَلْعُسَیْلَۃ سے مراد جماع ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلع/حدیث: 7180]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو عبد الملك المكي عليه كلام، أخرجه ابويعلي: 4881، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24331 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24835»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 7181
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ دَخَلَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ وَأَنَا وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَنِيَ الْبَتَّةَ وَإِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزُّبَيْرِ تَزَوَّجَنِي وَإِنَّمَا عِنْدَهُ مِثْلُ هُدْبَةٍ وَأَخَذَتْ هُدْبَةً مِنْ جِلْبَابِهَا وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ بِالْبَابِ لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَا تَنْهَى هَذِهِ عَمَّا تَجْهَرُ بِهِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَا زَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى التَّبَسُّمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لَا حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ کی بیوی آئی، جبکہ میں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے، وہ کہنے لگی کہ رفاعہ نے مجھے طلاق بتّہ دے دی ہے اور سیدنا عبد الرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے میری شادی ہو گئی ہے، لیکن اس کا خاص عضو تو میرے اس کپڑے کے جھالر کی طرح ہے، پھر اس نے اپنی چادر کا جھالر پکڑ کر وضاحت کی، اُدھر سیدنا خالد بن سعید رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے تھے، انہیں ابھی اندر آنے کی اجازت نہیں ملی تھی، انھوں نے باہر سے ہی کہا: اے ابوبکر! تم اس خاتون کو منع کیوں نہیں کرتے، یہ کس طرح کھلے انداز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس قسم کی باتیں کر رہی ہے، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بس زیر لب مسکرا دیا اور کچھ نہ کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرا ارادہ یہ ہے کہ تو دوبارہ رفاعہ کے پاس چلی جائے، نہیں، بالکل نہیں، تو اس وقت تک نہیں جا سکتی، جب تک کہ تو اس خاوند سے مزہ نہ اٹھا لے اور وہ تجھ سے لطف اندوز نہ ہو لے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلع/حدیث: 7181]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5260، 5792، 5825، ومسلم: 1433، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24058 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24559»
الحكم على الحديث: صحیح