الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ وُجُوبِ نَفْقَةِ الزَّوْجَةِ بِاعْتِبَارِ حَالِ الْزَوج وَأَنَّهَا مُقَدَّمَةٌ عَلَى الْأَقَارِبِ وَ ثَوَابِ الزَّوْجِ عَلَيْهَا
خاوند کی حیثیت کے مطابق بیوی کا نان و نفقہ واجب ہے، دوسرے رشتہ داروں پر اس کا حق مقدم ہے اور اس خدمت میں خاوند کا اجر و ثواب
حدیث نمبر: 7256
عَنْ وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ ابْنُ مَوْلَى لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَهُ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُقِيمَ هَذَا الشَّهْرَ هَاهُنَا بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ فَقَالَ لَهُ تَرَكْتَ لِأَهْلِكَ مَا يَقُوتُهُمْ هَذَا الشَّهْرَ قَالَ لَا قَالَ فَارْجِعْ إِلَى أَهْلِكَ فَاتْرُكْ لَهُمْ مَا يَقُوتُهُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ
۔ وہب بن جابر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہماسے ان کے ایک غلام کے بیٹے نے کہا: میرا ارادہ ہے کہ میں یہ ماہِ رمضان یہاں بیت المقدس میں گزاروں۔ انہوں نے کہا: کیا تم اپنے بیوی بچوں کے لیے اس ماہ مبارک کی خوراک چھوڑ آئے ہو؟ اس نے کہا: جی نہیں، انہوں نے کہا: تو پھر اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جا اور ان کی خوراک کا بندوبست کر کے آ، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ آدمی کے لیے یہی گناہ کافی ہے کہ وہ جن کی خوراک کا ذمہ دار ہے، ان کو ضائع کر دے۔ [الفتح الربانی/كتاب النفقات/حدیث: 7256]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطيالسي: 2281، والبيھقي: 7/ 467، وأخرجه مختصرا ابوداود: 1692، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6842 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6842»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں بڑا اہم نقطہ بیان کیا گیا ہے، خاص طور پر علمائ، خطباء اور مبلغین حضرات کے لیے، کیونکہ بسا اوقات آدمی افراط و تفریط میں اس طرح مبتلا ہو جاتا ہے کہ وہ ایک فرض کو اتنی زیادہ اہمیت دے دیتا ہے کہ دوسرے فرائض سے مکمل طور پر غافل ہو جاتا ہے، بیوی بچوں اور والدین کی خدمت بھی دوسرے فرائض و واجبات کی طرح انتہائی اہم ذمہ داری ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7257
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ دِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَدِينَارٌ فِي الْمَسَاكِينِ وَدِينَارٌ فِي رَقَبَةٍ وَدِينَارٌ فِي أَهْلِكَ أَعْظَمُهَا أَجْرًا الدِّينَارُ الَّذِي أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک وہ دینار جسے تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہے،ایک وہ دینار جسے تو مسکینوں پر خرچ کرتا ہے،ایک وہ دینار جسے تو گردن آزاد کرنے پر خرچ کرتا ہے اور ایک وہ دینار جسے تو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے، ان سب میں سے اجر کے لحاظ سے وہ دینار بڑھ کر ہے، جسے تونے اپنے اہل و عیال پر خرچ کیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب النفقات/حدیث: 7257]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 995، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10119 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10123»
وضاحت: فوائد: … آج کل اکثر راہِ اعتدال سے ہٹے ہوئے ہیں، دوستوں کی مجلسوں میں بیٹھ کر اور رسم و رواج میں پڑ کر بڑے بڑے اخراجات برداشت کر لیے جاتے ہیں، جبکہ گھروں میں بیوی بچے اہم ضروریات کے لیے ترس رہے ہوتے ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7258
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَصَدَّقُوا قَالَ رَجُلٌ عِنْدِي دِينَارٌ قَالَ تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى نَفْسِكَ قَالَ عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ قَالَ تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى زَوْجِكَ قَالَ عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ قَالَ تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى وَلَدِكَ قَالَ عِنْدِي آخَرُ قَالَ تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى خَادِمِكَ قَالَ عِنْدِي آخَرُ قَالَ أَنْتَ أَبْصَرُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صدقہ کرو۔ ایک آدمی نے کہا: میرے پاس ایک دینار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنی ذات پر خرچ کر۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور دنیار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو اپنی بیوی پر خرچ کر۔ اس نے کہا: ایک اور دینار بھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی اولاد پر خرچ کر۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور دینار بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو اپنے خادم پر خرچ کر۔ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور دینار بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو خود اپنی بصیرت کی روشنی میں فیصلہ کر لے (کہ کون زیادہ مستحق ہے)۔ [الفتح الربانی/كتاب النفقات/حدیث: 7258]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي،أخرجه ابوداود: 1691، والنسائي: 5/ 62، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7419 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7413»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7259
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَأَلَهُ رَجُلٌ مَا حَقُّ الْمَرْأَةِ عَلَى الزَّوْجِ قَالَ تُطْعِمُهَا إِذَا طَعِمْتَ وَتَكْسُوهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ وَلَا تَضْرِبِ الْوَجْهَ وَلَا تُقَبِّحْ وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ
۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ بیوی کا اپنے خاوند پر کیا حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو کھائے تو اسے بھی کھلائے، جب تو پہنے تو اسے بھی پہنائے اس کو چہرے پر نہ مار، اس سے مکروہ بات نہ کر، اور (ناراضگی کی صورت میں) اس کو نہ چھوڑ مگر اپنے گھر میں ہی۔ [الفتح الربانی/كتاب النفقات/حدیث: 7259]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن ماجه: 1850، والترمذي: 2192، 2424، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20013 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20262»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7260
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ مَهْمَا أَنْفَقْتَ عَلَى أَهْلِكَ مِنْ نَفَقَةٍ فَإِنَّكَ تُؤْجَرُ فِيهَا حَتَّى اللُّقْمَةِ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ
۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: جتنا بھی (رضائے الٰہی کے لیے) اپنی بیوی پر خرچ کرو گے، تمہیں اس کا اس پر اجر ملے گا حتیٰ کہ وہ لقمہ بھی، جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے۔ [الفتح الربانی/كتاب النفقات/حدیث: 7260]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2744، ومسلم: 1628، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1480 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1480»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7261
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا أَنْفَقَ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةً وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةً
۔ سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان جب ثواب کی نیت سے اپنی بیوی پر خرچ کرتا ہے تو یہ اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب النفقات/حدیث: 7261]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 55، 4006، 5351، ومسلم: 1002، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17082 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17210»
وضاحت: فوائد: … بیوی پر خرچ کرنا محض کوئی بوجھ نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ تعالی اور اس کے رسول کی طرف سے عائد ہونے والا حق ہے، اس کو اچھی طرح نبھانے کی کوشش کرنی چاہیے، حسب ِ استطاعت اور عرف اور معاشرے کے مطابق بیوی کے لباس، خوراک اور خوشی غمی کا خیال رکھنا چاہیے اور اس کو اس پر خرچ کیے ہوئے کا احسان بھی نہیں جتلانا چاہیے، جواباً بیوی کو خاوند کے حقوق کی ادائیگی کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔
الحكم على الحديث: صحیح
2. بَابُ جَوَازِ إِنْفَاقِ الْمَرْأَةِ مِنْ مَالِ زَوْجِهَا بِغَيْرِ عِلْمِهِ إِذَا مَنْعَهَا الْكِفَايَةُ
اگر خاوند خرچہ پورا نہ دے تو بیوی بغیر پوچھے خاوند کے مال سے پورا لے سکتی ہے
حدیث نمبر: 7262
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ جَاءَتْ هِنْدٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ خِبَاءٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ يُذِلَّهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ وَمَا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ الْيَوْمَ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ يُعِزَّهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَيْضًا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مُمْسِكٌ فَهَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ أَنْ أُنْفِقَ عَلَى عِيَالِهِ مِنْ مَالِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا حَرَجَ عَلَيْكِ أَنْ تُنْفِقِي عَلَيْهِمْ بِالْمَعْرُوفِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ ہند رضی اللہ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! روئے زمین کے خیموں میں سے آپ کے خیمے سے بڑھ کر کوئی خیمہ ایسا نہ تھا جس کی ذلت مجھے پسند تھی، یعنی سب سے زیادہ آپ کے خیمہ والے تھے جنہیں میں ذلیل دیکھنا چاہتی تھی کہ اللہ انہیں ذلیل کرے، لیکن آج روئے زمین پر کوئی خیمے والے ایسے نہیں جن کے متعلق میں پسند کرتی ہوں کہ انہیں اللہ تعالیٰ عزت دے یعنی اب آپ کے خیمے والے ہی معزز دیکھنا چاہتی ہوں، اس کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، یہی کیفیت دونوں طرف سے تھی، اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! پھر ہند نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابو سفیان کنجوس آدمی ہیں، بچوں کا پورا خرچہ نہیں دیتے، اس میں کوئی حرج تو نہیں اگر ان کی اجازت کے بغیر میں بچوں کی عیالداری کے لیے ان کے مال میں سے کچھ لے کر خرچ کر دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر آپ اچھے طریقہ سے خرچ کرنے کے لیے لے لیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب النفقات/حدیث: 7262]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2460، 5359، ومسلم: 1714، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25888 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26413»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7263
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ عَائِشَةَ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ وَلَيْسَ يُعْطِينِي وَوَلَدِي مَا يَكْفِينِي إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْ مَالِهِ وَهُوَ لَا يَعْلَمُ قَالَ خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ
۔ (دوسری سند)سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی روایت ہے کہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا خاوند ابو سفیان رضی اللہ عنہ ایک کنجوس آدمی ہے، وہ مجھے اتنا خرچہ نہیں دیتا جو میری اولاد کے لیے کافی ہو، کفایت اس صورت میں کرتا ہے کہ میں اس کو بتلائے بغیر ہی ان کے مال میں سے کچھ لے لوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تجھے اور تیری اولاد کے لیے کافی ہو اسے اچھے طریقہ سے لے سکتی ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب النفقات/حدیث: 7263]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24735»
وضاحت: فوائد: … ایسی خاتون کے لیے انتہائی ضروری احتیاط یہ ہے کہ وہ جو خرچ لے، وہ عرف اور معتدل معاشرے کے مطابق ہو، مثلا اس کی خاوند کی حیثیت کے لوگون کا کھانا پینا، لباس، بچوں کی تعلیم وغیرہ کیسے ہے، اگر اس نے معروف طریقے سے زیادہ خرچ لیا تو وہ خائن قرار پائے گی، بہتر ہے کہ ایسی خاتون کسی سمجھدار اور راز دار آدمی سے مشورہ کر لے۔
الحكم على الحديث: صحیح
3. بَابُ ثَوَابِ مَنْ أَنْفَقَتْ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ وَوَعِيدِ مَنْ أَفْسَدَتْ
بغیر فساد اور اسراف کے خاوند کے گھر سے خرچ کرنے والی بیوی کے ثواب¤اور اسراف کرنے والی کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 7264
عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَنْفَقَتْ وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ إِذَا أَطْعَمَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ إِذَا أَنْفَقَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا أَجْرُهَا وَلَهُ مِثْلُ ذَلِكَ بِمَا كَسَبَ وَلَهَا بِمَا أَنْفَقَتْ وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی عورت اپنے خاوند کے گھر سے کسی پر خرچ کرے یا اسے کھلائے، لیکن بیچ میں فساد اور اسراف کا ارادہ نہ ہو توجتنا اجر اس عورت کو ملے گا، اتنا اجر اس کے خاوند کو ملے گا، کیونکہ اس نے کمایا ہے اور اس عورت کو اجر اس بنا پر ثواب ملے گا کہ اس نے خرچ کیا ہے، اس طرح خزانچی کو بھی ثواب ملے گا اور کسی کی وجہ سے کسی کے اجر میں کمی واقع نہیں ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب النفقات/حدیث: 7264]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1024، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24171 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24673»
وضاحت: فوائد: … اصل کمائی تو خاوند کی ہی ہے، چونکہ اس عمل میں اس کی بیوی اور خزانچی بھی شریک ہیں، اس لیے وہ بھی اپنے حصے کا ثواب لیںگے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7265
عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي عَلَى ضَرَّةٍ فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ أَتَشَبَّعَ مِنْ زَوْجِي بِمَا لَمْ يُعْطِنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک سوکن ہے، کیا اس میں کوئی حرج والی بات تو نہیں کہ میں تکلف سے اس چیز کی کثرت کا اظہار کروں جو کہ مجھے خاوند نے نہ دی ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس چیز کا تکلف سے اظہار کرنے والا، جو وہ دیا نہیں گیا، اسی طرح ہے جس طرح جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب النفقات/حدیث: 7265]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5219، ومسلم: 2130، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26921 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27460»
وضاحت: فوائد: … یہ عورت خود سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا تھیں اور اور ان کی سوکن سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا تھیں، یہ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی بیویاں تھیں۔
الحكم على الحديث: صحیح