Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب مَا جَاءَ فِي النَّظَّافَةِ وَإظْهَارِ نِعْمَةِ اللَّهِ باللباسِ الْحَسَنِ وَمَا يَسْتَحِبُّ لُبْسُهُ
صاف ستھرا رہنے کا، اچھے لباس کے ذریعے اللہ تعالی کی نعمت کا اظہار کرنے کا¤اور مستحب ملبوسات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7898
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَائِرًا فِي مَنْزِلِنَا فَرَأَى رَجُلًا شَعِثًا فَقَالَ أَمَا كَانَ يَجِدُ هَذَا مَا يُسَكِّنُ بِهِ رَأْسَهُ وَرَأَى رَجُلًا عَلَيْهِ ثِيَابٌ وَسِخَةٌ فَقَالَ أَمَا كَانَ يَجِدُ هَذَا مَا يَغْسِلُ بِهِ ثِيَابَهُ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے گھر ہم سے ملنے کے لئے تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا، جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے پاس سر کے بالوں کو سنوارنے کے اسباب نہیں ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اور آدمی کو دیکھا، اس نے میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے، جس کے ذریعے یہ اپنا لباس دھو سکے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7898]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد، أخرجه ابوداود: 4062، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19850 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14911»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7899
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ ابْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّكُمْ قَادِمُونَ عَلَى إِخْوَانِكُمْ فَأَصْلِحُوا رِحَالَكُمْ وَأَصْلِحُوا لِبَاسَكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابن حنظلیہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے بھائیوں کے پاس آنے والے ہو، پس اپنی سواریاں اور اپنے لباس درست کر لو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ بدگوئی اور بدزبانی کو ناپسند کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7899]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين، أخرجه ابوداود: 4089، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17622 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17770»
وضاحت: فوائد: … دوسرے لوگوں سے ملتے وقت اچھی ہیئت اختیار کرنی چاہیے، جیسا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا تھا کہ جمعہ کے روز اور مختلف وفود سے ملاقات کے وقت پہننے کے لیے فلاں ریشمی پوشاک خرید لیں، آگے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریشم ہونے کی وجہ تردید کی تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مقصد کی تردید نہیں کی تھی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7900
عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ شَمْلَةٌ أَوْ شَمْلَتَانِ وَفِي رِوَايَةٍ فَرَآنِي رَثَّ الْهَيْئَةِ فَقَالَ لِي هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ قُلْتُ نَعَمْ قَدْ آتَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ كُلِّ مَالِهِ مِنْ خَيْلِهِ وَإِبِلِهِ وَغَنَمِهِ وَرَقِيقِهِ فَقَالَ فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالًا فَلْيَرَ عَلَيْكَ نِعْمَتَهُ فَرُحْتُ إِلَيْهِ فِي حُلَّةٍ وَفِي لَفْظٍ فَغَدَوْتُ عَلَيْهِ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ
۔ سیدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، میں نے اپنے اوپر ایک یا دو چادریں اوڑھ رکھی تھیں اور میری حالت پراگندہ سی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس مال ہے؟ میں نے کہا: جی بالکل، اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر قسم کا مال عطاء کر رکھا ہے، گھوڑے ہیں، اونٹ ہیں، بکریاں ہیں اور غلام ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال دے رکھا ہے تو پھر اس کی نعمت کے اثرات تجھ پر نظر آنے چاہئیں۔ میں یہ سن کر پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا تو میں نے سرخ رنگ کا حلہ پہن رکھا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7900]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه مطولا ومختصرا ابوداود: 4063، والنسائي: 8/ 180، 181، 196، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17229 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17361»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7901
عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعَطَارِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَلَيْهِ مِطْرَفٌ مِنْ خَزٍّ لَمْ نَرَهُ عَلَيْهِ قَبْلَ ذَلِكَ وَلَا بَعْدَهُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ نِعْمَةً فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَ نِعْمَتِهِ عَلَى خَلْقِهِ وَفِي لَفْظٍ عَلَى عَبْدِهِ
۔ سیدنا ابو رجاء عطاردی کہتے ہیں ہمارے سامنے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے اون اور ریشم سے بنی چادر زیب ِ تن کر رکھی تھی، ہم نے اس سے پہلے اور اس کے بعد ایسی چادر نہیں دیکھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھ کر فرمایا: جس کو اللہ تعالیٰ نے نعمتیں عطا کر رکھی ہوں، تو وہ اللہ یہ بھی پسند کرتا ہے کہ اپنی مخلوق پر اپنی نعمت کا اثر دیکھے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7901]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني: 18/ 218، والبيھقي: 3/ 271، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19934 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20176»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ اس چادر میں ریشم کی اتنی معمولی مقدار ہو، جتنی کی شرعاً جائز ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ریشم کی حرمت سے پہلے کا واقعہ ہو۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7902
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سفید لباس زیب تن بھی کیا کرو اور اس میں مردوں کو کفن بھی دیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7902]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه النسائي:4/ 34، وابن ماجه: 3567، والترمذي: 2810، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20140 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20402»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7903
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَفِيهِ الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی قسم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: تم اپنے کپڑوں میں سے سفید کپڑے پہنا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7903]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابوداود: 3878، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2219 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2219»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7904
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُمَرَ ثَوْبًا أَبْيَضَ فَقَالَ أَجَدِيدٌ ثَوْبُكَ أَمْ غَسِيلٌ فَقَالَ فَلَا أَدْرِي مَا رَدَّ عَلَيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبَسْ جَدِيدًا وَعِشْ حَمِيدًا وَمُتْ شَهِيدًا أَظُنُّهُ قَالَ وَيَرْزُقُكَ اللَّهُ قُرَّةَ عَيْنٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر سفید رنگ کا کپڑا دیکھ کر پوچھا: یہ نیا ہے یا دھویا ہوا ہے۔ ابن عمر کہتے ہیں: مجھے یہ معلوم نہیں ہوا کہ سیدنا عمر نے کیا جواب دیا تھا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو یہ دعا دی: اِلْبَسْ جَدِیْدًا وَعِشْ حَمِیْدًا وَمُتْ شَہِیْدًا: (تم نیا لباس پہنو، قابل تعریف حالت میں زندگی گزارواور شہادت کی موت پاؤ)۔ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا بھی دی تھی: اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا و آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7904]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابن ماجه: 3558، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5620 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5620»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی روایات سے معلوم ہوا کہ آدمی کو اپنی حیثیت کے مطابق لباس اور وضع قطع کا خیال رکھنا چاہیے، یہ اللہ تعالی کی نعمت اور اس پر شکر ادا کرنے کا تقاضا ہے، ہاں اس وجہ سے فخرو مباہات، نمود و نمائش، ریاکاری اور تکبر سے بچنا چاہیے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْإِزَارِ وَالْقَمِيصِ وَآدَابِ تَتَعَلَّقُ بذلك
تہبند اور قمیص اور ان سے متعلقہ آداب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7905
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ مِنْ أَنْصَافِ السَّاقَيْنِ فَأَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ إِلَى مَا فَوْقَ الْكَعْبَيْنِ فَمَا كَانَ مِنْ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فَفِي النَّارِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن کا تہبند پنڈلی کے نصف تک ہوتا ہے، اس سے نیچے بھی کر سکتا ہے، لیکن ٹخنوں سے اوپر اوپر تک، ٹخنوں کا جو حصہ تہبند میں آیئے گا، وہ آگ میں ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7905]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابويعلي: 6648، وابوعوانة: 5/ 484، والنسائي في الكبري: 9712، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10555 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10562»
وضاحت: فوائد: … مردوں کے لباس میں ٹخنوں کو ازار، شلوار اور پینٹ میں چھپانے کی قطعا اجازت نہیں ہے، اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت وعید بیان کی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7906
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْإِزَارِ فَهُوَ فِي الْقَمِيصِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو تہبند کا حکم دیا ہے، وہی قمیص کے بارے میں حکم ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7906]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه ابوداود: 4095، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5801 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5891»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7907
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمْ يَكُنْ ثَوْبٌ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَمِيصٍ
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ لباس میں سب سے زیادہ پسندیدہ لباس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں قمیص کا پہننا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7907]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، والدة عبد الله ن بريدة لم نقف لھا علي ترجمة، أخرجه ابوداود: 4026، والترمذي: 1763، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26695 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27230»
وضاحت: فوائد: … قمیص بہت باپردہ اور خوبصورت لباس ہے، ایک دفعہ پہن کر آدمی بے فکر ہو جاتا ہے، یہ لباس نہ دوڑنے سے متاثر ہوتے ہیں اور نہ اس سے کوئی کام کرنے میں حرج محسوس ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں