الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ فَضْلِ قِرَائَةِ الْقُرْآنِ وَالتَّعَبدِ بِهِ وَالْعَمَلِ بِمَا فِيهِ
(قرآن پاک پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی فضیلت)
حدیث نمبر: 8345
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُهُ فِي الْحَقِّ آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صرف دو آدمیوں پر رشک کرنا درست ہے، ایک وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن دیا ہو اور وہ رات اور دن کی گھڑیوں میں اس پر عمل کرتا ہو اور دوسرا وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ مال عطا کرے اور وہ دن رات اس کو حق میں خرچ کرتا ہو۔ [الفتح الربانی/القسم الثالث من الكتاب فيما يختص بالقرآن الكريم/حدیث: 8345]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7529، ومسلم: 815، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4924 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4924»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں حسد سے مراد رشک ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ دوسرے شخص پر نظر آنے والی نعمت کے بارے میں یہ خواہش کرنا کہ وہ اس کو بھی دی جائے لیکن بیچ میں یہ خواہش نہ ہو کہ یہ نعمت اس شخص سے زائل ہو جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8346
عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَخْنَسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَنَافُسَ بَيْنَكُمْ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ وَيَتَّبِعُ مَا فِيهِ فَيَقُولُ رَجُلٌ لَوْ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَعْطَانِي مِثْلَ مَا أَعْطَى فُلَانًا فَأَقُومَ بِهِ كَمَا يَقُومُ بِهِ وَرَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُ وَيَتَصَدَّقُ فَيَقُولُ رَجُلٌ لَوْ أَنَّ اللَّهَ أَعْطَانِي مِثْلَ مَا أَعْطَى فُلَانًا فَأَتَصَدَّقَ بِهِ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ النَّجْدَةَ تَكُونُ فِي الرَّجُلِ وَسَقَطَ بَاقِي الْحَدِيثِ
۔ سیدنایزید بن اخنس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی خواہش اور رغبت نہیں ہے، مگر دو آدمیوں کے مابین، ایک وہ جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن عطا کیا ہے اور وہ دن رات کی گھڑیوں میں اس کے ساتھ قیام کرتا ہے اور اس کے احکام کی پیروی کرتا ہے، دوسرا آدمی اس پر رشک کرتے ہوئے کہتا ہے: اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی یہ نعمت عطا کی ہوتی تو میں بھی اس کا اسی طرح اہتمام کرتا، جیسے وہ کرتا ہے۔دوسرا وہ آدمی کہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو وہ اسے خرچ کرتا ہے اور صدقہ کرتا ہے، دوسرا آدمی کہتا ہے: اگر اللہ تعالیٰ مجھے بھی یہ نعمت دے دے تو میں بھی اس کی طرح صدقہ کروں گا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! دلیری اور بہادری کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، اگر وہ کسی آدمی میں ہو، … حدیث کا باقی حصہ ضائع ہو گیا۔ [الفتح الربانی/القسم الثالث من الكتاب فيما يختص بالقرآن الكريم/حدیث: 8346]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، دون ذكر النجدة، وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه، سليمان بن موسي لم يدرك كثير بن مرة۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 22/ 626، وفي الاوسط: 2205، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16966 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17091»
وضاحت: فوائد: … باقی نیک اعمال میں رشک اور ریس کرنا بھی درست ہے، لیکن اس معاملے میں یہ دو نیکیاں بہت بڑی ہیں، صاحب ِ قرآن اور صاحب ِ مال لوگوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8347
عَنْ سَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ نُبِتَ لَهُ غَرْسٌ فِي الْجَنَّةِ وَمَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَأَكْمَلَهُ وَعَمِلَ بِمَا فِيهِ أُلْبِسَ وَالِدَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَاجًا هُوَ أَحْسَنُ مِنْ ضَوْءِ الشَّمْسِ فِي بُيُوتٍ مِنْ بُيُوتِ الدُّنْيَا لَوْ كَانَتْ فِيهِ فَمَا ظَنُّكُمْ بِالَّذِي عَمِلَ بِهِ
۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ کہتا ہے، اس کے لئے جنت میں ایک پودا لگا دیا جاتا ہے اور جو قرآن پاک پڑھتا ہے، اسے مکمل کرتا ہے اور اس کے احکام پر عمل کرتا ہے تو اس کے والدین کو روزِ قیامت ایسا تاج پہنایا جائے گا کہ جس کی روشنی تمہارے اس دنیوی گھر سے بہتر ہو گی، جس میں سورج آ جائے، (یہ تو والدین کا مرتبہ ہے) اور جو اس پر عمل کرے گا، اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الثالث من الكتاب فيما يختص بالقرآن الكريم/حدیث: 8347]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره دون قوله: من قرأ القرآن فأكمله۔ وھذا اسناد ضعيف لضعف زبان بن فائد، وابنُ لھيعة سييء الحفظ، أخرجه مختصرا ابوداود: 1453، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15645 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15730»
وضاحت: فوائد: … فضیلت ِ قرآن پر دلالت کرنے والی درج ذیل حدیث بڑی خوبصورت ہے:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَجِيْئُ الْقُرْآنُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَالرَّجُلِ الشَّاحِبِ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہِ: ھَلْ تَعْرِفُنِيْ؟ اَنَا الَّذِيْ کُنْتُ أُسْھِرُ لَیْلَکَ، وَاُظْمِیُٔ ھَوَاجِرَکَ، وَاِنَّ کُلَّ تَاجِرٍ مِنْ وَرَائِ تِجَارَتِہِ، وَاَنَا لَکَ الْیَوْمَ مِن وَرَائِ کُلِّ تاَجِرٍ، فَیُعْطٰی الْمُلْکَ بِیَمِیْنِہِ، وَالْخُلْدَ بِشِمَالِہِ، وَیُوْضَعُ عَلٰی رَاْسِہِ تَاجُ الْوَقَارِ، وَیُکْسٰی وَالِدُہُ حُلَّتَیْنِ لَا تَقُوْمُ لَھُمُ الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا، فَیَقُوْلَانِ: یَا رَبِّ! اَنّٰی لَنَا ھٰذَا؟ فَیُقَالُ: بِتَعْلِیْمِ وَلَدِکُمَا الْقُرْآنَ۔ وَاِنَّ صَاحِبَ الْقُرْآنِ یُقَالُ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: اِقْرَأْ وَارْقَ فِي الدَّرَجَاتِ، وَرَتِّلْ کَمَا کُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْیَا، فَاِنَّ مَنْزِلَکَ عِنْدَ آخِرِ آیَۃٍ مَعَکَ۔))
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآنِ مجید روزِ قیامت اجنبی آدمی کے روپ میں آئے گا اور صاحبِ قرآن سے پوچھے گا: کیا تو مجھے پہچانتا ہے؟ (پھر قرآن مجید اپنا تعارف پیش کرتے ہوئے کہے گا:) میں وہی ہوں جو تجھے راتوں کو بیدار اور دوپہروں کو پیاسا رکھتا تھا۔ آج ہر تاجر اپنی تجارت کے پیچھے ہے اور آج میں تیری خاطر ہر تاجر کے پیچھے ہوں۔ پھر اسے دائیں ہاتھ میں بادشاہت اور بائیں ہاتھ میں ہمیشگی دی جائیگی، اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جائے گا، اور اس کے والدین کو دو عمدہ پوشاکیں پہنائیجائیں گی، وہ اس قدر بیش قیمت ہوں گی کہ دنیا ومافیہا (کی قیمت) ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
وہ کہیں گے: اے ہمارے ربّ! یہ سب کچھ ہمارے لیے کہاں سے؟ جواباً کہا جائے گا: تمہارے اپنے بیٹے کو قرآن مجید سکھانے کی وجہ سے۔ صاحبِ قرآن کوروزِ قیامت کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور جنت کے درجے چڑھتا جا اور اس طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جس طرح تو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا تھا، پس تیرا مقام وہ ہو گا جہاں تیری آخری آیت (کی تلاوت ختم ہو گی)۔ (معجم اوسط للطبرانی: ۲/۵۳/۱ـ ۲/۵۸۹۴، صحیحۃ:۲۸۲۹)
اس میں صاحب ِ قرآن کی فضیلت کا بیان ہے۔ لیکن آجکل صرف حافظِ قرآن کو ان احادیث کا اولین مصداق ٹھہرایا جاتا ہے۔
قطع نظر اس سے کہ آیا وہ قرآن مجید سمجھتا ہے یا نہیںیا اس کا اس کتابِ قانون پر عمل بھی ہے یا نہیں۔ خود اس حدیث میں صاحب ِ قرآن کییہ صفات بیان کی گئی ہیں کہ وہ رات کے قیام کو نیند پر ترجیح دیتا ہے اور اس کے احکام کے مطابق عمل کرتا ہے، جس کی صرف ایک مثال روزہ کا ذکر کیا گیاہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَجِيْئُ الْقُرْآنُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَالرَّجُلِ الشَّاحِبِ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہِ: ھَلْ تَعْرِفُنِيْ؟ اَنَا الَّذِيْ کُنْتُ أُسْھِرُ لَیْلَکَ، وَاُظْمِیُٔ ھَوَاجِرَکَ، وَاِنَّ کُلَّ تَاجِرٍ مِنْ وَرَائِ تِجَارَتِہِ، وَاَنَا لَکَ الْیَوْمَ مِن وَرَائِ کُلِّ تاَجِرٍ، فَیُعْطٰی الْمُلْکَ بِیَمِیْنِہِ، وَالْخُلْدَ بِشِمَالِہِ، وَیُوْضَعُ عَلٰی رَاْسِہِ تَاجُ الْوَقَارِ، وَیُکْسٰی وَالِدُہُ حُلَّتَیْنِ لَا تَقُوْمُ لَھُمُ الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا، فَیَقُوْلَانِ: یَا رَبِّ! اَنّٰی لَنَا ھٰذَا؟ فَیُقَالُ: بِتَعْلِیْمِ وَلَدِکُمَا الْقُرْآنَ۔ وَاِنَّ صَاحِبَ الْقُرْآنِ یُقَالُ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: اِقْرَأْ وَارْقَ فِي الدَّرَجَاتِ، وَرَتِّلْ کَمَا کُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْیَا، فَاِنَّ مَنْزِلَکَ عِنْدَ آخِرِ آیَۃٍ مَعَکَ۔))
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآنِ مجید روزِ قیامت اجنبی آدمی کے روپ میں آئے گا اور صاحبِ قرآن سے پوچھے گا: کیا تو مجھے پہچانتا ہے؟ (پھر قرآن مجید اپنا تعارف پیش کرتے ہوئے کہے گا:) میں وہی ہوں جو تجھے راتوں کو بیدار اور دوپہروں کو پیاسا رکھتا تھا۔ آج ہر تاجر اپنی تجارت کے پیچھے ہے اور آج میں تیری خاطر ہر تاجر کے پیچھے ہوں۔ پھر اسے دائیں ہاتھ میں بادشاہت اور بائیں ہاتھ میں ہمیشگی دی جائیگی، اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جائے گا، اور اس کے والدین کو دو عمدہ پوشاکیں پہنائیجائیں گی، وہ اس قدر بیش قیمت ہوں گی کہ دنیا ومافیہا (کی قیمت) ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
وہ کہیں گے: اے ہمارے ربّ! یہ سب کچھ ہمارے لیے کہاں سے؟ جواباً کہا جائے گا: تمہارے اپنے بیٹے کو قرآن مجید سکھانے کی وجہ سے۔ صاحبِ قرآن کوروزِ قیامت کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور جنت کے درجے چڑھتا جا اور اس طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جس طرح تو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا تھا، پس تیرا مقام وہ ہو گا جہاں تیری آخری آیت (کی تلاوت ختم ہو گی)۔ (معجم اوسط للطبرانی: ۲/۵۳/۱ـ ۲/۵۸۹۴، صحیحۃ:۲۸۲۹)
اس میں صاحب ِ قرآن کی فضیلت کا بیان ہے۔ لیکن آجکل صرف حافظِ قرآن کو ان احادیث کا اولین مصداق ٹھہرایا جاتا ہے۔
قطع نظر اس سے کہ آیا وہ قرآن مجید سمجھتا ہے یا نہیںیا اس کا اس کتابِ قانون پر عمل بھی ہے یا نہیں۔ خود اس حدیث میں صاحب ِ قرآن کییہ صفات بیان کی گئی ہیں کہ وہ رات کے قیام کو نیند پر ترجیح دیتا ہے اور اس کے احکام کے مطابق عمل کرتا ہے، جس کی صرف ایک مثال روزہ کا ذکر کیا گیاہے۔
الحكم على الحديث: صحیح