الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَا جَاءَ مِنْ ذلِكَ عَامَّا وَاخْتِلَافِ الصَّحَابَةِ فيه
قراء توں کے بارے میں عام روایات اور اس مسئلہ میں صحابہ کے اختلاف کا بیان
حدیث نمبر: 8416M
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ عَلِيمًا حَكِيمًا غَفُورًا رَحِيمًا
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن حکیم سات قراء ات پر نازل ہوا، اسی لیے عَلِیْمًا حَکِیْمًا کے بجائے غَفُوْرًا رَحِیْمًا پڑھا جا سکتا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان تفصيل القراءات واختلاف الصحابة فيها/حدیث: 8416M]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار: 3101، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8390 ترقیم بيت الأفكار الدولية: غير محدد»
وضاحت: فوائد: … علامہ سندھی نے کہا: اس حدیث کے دوسرے حصے کا معنییہ ہے کہ عَلِیْمًا حَکِیْمًا کی جگہ پر غَفُوْرًا رَحِیْمًا یا اس کے برعکس پڑھنا جائز ہے۔ واللہ اعلم۔ طبری اور ابن عبد البر کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَنَّ ھٰذَا الْقُرْآنَ عَلٰی سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ، فَاقْرَؤُوْا وَلاَ حَرَجَ، وَلٰکِنْ لاَ تَخْتِمُوا ذِکْرَ رَحْمَۃٍ بِعَذَابٍ، وَلاَ ذِکْرَ عَذَابٍ بِرَحْمَۃٍ۔)) … بیشکیہ قرآن سات قسم کی لغات پر نازل ہوا، پس تم کسی بھی لغت میں اس کی تلاوت کر سکتے ہو، اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا، البتہ اتنا خیال رکھو کہ رحمت کے ذکر کو عذاب کے ذکر کے ساتھ اور عذاب کے ذکر کو رحمت کے ذکر کے ساتھ ختم نہ کرو۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8417
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقَدْ جَلَسْتُ أَنَا وَأَخِي مَجْلِسًا مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهِ حُمْرَ النَّعَمِ أَقْبَلْتُ أَنَا وَأَخِي وَإِذَا مَشْيَخَةٌ مِنْ صَحَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ عِنْدَ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِهِ فَكَرِهْنَا أَنْ نُفَرِّقَ بَيْنَهُمْ فَجَلَسْنَا حَجْرَةً إِذْ ذَكَرُوا آيَةً مِنَ الْقُرْآنِ فَتَمَارَوْا فِيهَا حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا قَدِ احْمَرَّ وَجْهُهُ يَرْمِيهِمْ بِالتُّرَابِ وَيَقُولُ مَهْلًا يَا قَوْمِ بِهَذَا أُهْلِكَتِ الْأُمَمُ مِنْ قَبْلِكُمْ بِاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ وَضَرْبِهِمُ الْكُتُبَ بَعْضَهَا بِبَعْضٍ إِنَّ الْقُرْآنَ لَمْ يَنْزِلْ يُكَذِّبُ بَعْضُهُ بَعْضًا بَلْ يُصَدِّقُ بَعْضُهُ بَعْضًا فَمَا عَرَفْتُمْ مِنْهُ فَاعْمَلُوا بِهِ وَمَا جَهِلْتُمْ مِنْهُ فَرُدُّوهُ إِلَى عَالِمِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص علیہ السلام سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے اور میرے بھائی کے مابین ایک مجلس ہوئی، اس میں بیٹھنامیرے لئے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ قیمتی ہے، تفصیل یہ ہے کہ میں اور میرا بھائی آئے اور بزرگ صحابہ کی ایک جماعت کو پایا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے، ہم نے ان میں تفریق ڈالنا مناسب نہ سمجھا اور ایک کونے میں بیٹھ گئے، انہوں نے ایک آیت کا ذکر کیااور پھر اس میں جھگڑا کرنے لگے، یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہو گئیں، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس آ گئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصہ کی حالت میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرۂ مبارک سرخ ہو گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان صحابہ پر مٹی پھینکی اور فرمایا: لوگو! رک جاؤ، تم میں سے پہلے والی امتیں اسی اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئی تھیں،انہوں نے اپنے انبیاء پر اختلاف کیا اور کتاب کے بعض حصے کو بعض سے ٹکرایا، بیشک قرآن مجید اس طرح نازل نہیں ہوا کہ اس کا بعض بعض کی تکذیب کر رہا ہو، بلکہ اس کا بعض بعض کی تصدیق کرتا ہے، پس جس حصے کا تمہیں علم ہو جائے، اس پر عمل کرو اور جس حصے کا علم نہ ہو سکے، اس کو اس کے جاننے والے کے سپرد کر دو۔ [الفتح الربانی/بيان تفصيل القراءات واختلاف الصحابة فيها/حدیث: 8417]
تخریج الحدیث: «صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6702 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6702»
وضاحت: فوائد: … قرآن مجید میں ممنوعہ جھگڑے سے کیا مراد ہے؟ درج ذیل بحث پر توجہ کریں: کتنی قابل غور بات ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مجلس کو ختم کر دینے کا حکم دیا ہے، جس میں اختلافِ قرآن پر بحث شروع ہونے لگے،سیدنا جندب بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِقْرَؤُوْا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَیْہِ قُلُوْبُکُمْ، فَاِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُوْمُوْا عَنْہُ۔)) … قرآن مجید اس وقت تک پڑھا کرو، جب تک تمھارے دل اس (کے معانی) پر متفق رہیں، جب تم میں (اس کے مفاہیم سمجھنے میں) اختلاف پڑ جائے تو کھڑے ہو جا یاکرو۔ (بخاری، مسلم) یعنی اس مجلس میں بیٹھنا ہی منع ہے، جو قرآن مجید میں اختلاف کرنے پر مشتمل ہو۔ لیکن اس کتاب میں جھگڑا کرنے سے مراد کیا ہے؟ شارح ابوداود علامہ عظیم آبادی نے کہا: قرآن مجید کے کلام اللہ ہونے میں شک کرنا، یا اس موضوع پر غور و خوض کرنا کہ یہ کتاب محدَث ہے یا قدیم،یا متشابہ آیات میں مجادلانہ انداز میں بحث مباحثہ کرنا۔ ان سب امور کا نتیجہ انکار اور کفر کی صورت میں نکلتا ہے۔ یا قرآن مجید کی سات قراء ات پر مناظرہ کرنا اور کسی ایک قراء ت کو حق تسلیم کر لینا اوردوسری کو باطل یا تقدیر والیآیات پر غیر ضروری بحث کرنا یا ان آیات کو موضوعِ بحث بنا کر مضامینِ قرآن میں ٹکراؤ پیدا کرنا، جن کے معانی میں ظاہری طورپر تضاد پایا جاتا ہے۔ (عون المعبود: ۴۶۰۳ کے تحت، مفہوم پیش کیا گیا)
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: ابن عبد البر نے سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کی حدیث کے بعد کہا: اس کا معنییہ ہے کہ دو افراد ایک آیت کے بارے میں مجادلانہ گفتگو کریں، نتیجتاً ایک اس کا انکار کر دے، یا اس کو ردّ کرے یا اس کے بارے میں شک میں پڑ جائے۔ ایسا جھگڑا کرنا کفر ہے۔ (صحیحہ: ۳۴۴۷)
ملا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: جھگڑنے سے مراد ایک دوسرے کا ردّ کرنا ہے، مثلا ایک آدمی ایک آیت سے ایک استدلال پیش کرتا ہے، جبکہ دوسرا آدمی کسی دوسری آیت سے اس کے الٹ استدلال کر کے اس پر ٹوٹ پڑتا ہے، حالانکہ قرآن کا مطالعہ کرنے والے کو چاہیے کہ ایسی آیات میں جمع و تطبیق کی کوئی صورت پیدا کرے، تاکہ یہ نقطہ واضح ہو جائے کہ قرآن کا بعض بعض کی تصدیق کرتا ہے، اگر وہ مختلف آیات میں توافق نہ دے سکے تو اس کو اپنی سمجھ کی کوتاہی سمجھے اور ان آیات کو اللہ تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کر دے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے: {فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَئْیٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ} (سورۂ نسائ: ۵۹) پھر انھوں نے ایک مثال دی: ارشادِ باری تعالی ہے: {قُلْ کُلُّ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ} … کہہ دیجئے کہ ہر چیز اللہ تعالی کی طرف سے ہے۔ جبکہ دوسرے مقام پر فرمایا: {وَمَا اَصَابَکَ مِنْ حَسَنَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ وَمَا اَصَابَکَ مِنْ سَیِّئَۃٍ فَمِنْ نَفْسِکَ} (سورۂ نسائ: ۹۷) تجھے جو بھلائی ملتی ہے، وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے، اور جو برائی پہنچتی ہے تو وہ تیرے اپنے نفس کی طرف سے ہے۔
تناقض: … پہلی آیت میں ہر چیز کو اللہ تعالی کی طرف منسوب کیا گیا اور دوسری آیت میں برائی کو بندے کی طرف منسوب کیا گیا۔ (اگر دوسری آیات، احادیث اور اجماعِ امت کو دیکھا جائے تو سب سے بہترین جمع و تطبیقیہ ہے کہ برائی بھی اللہ تعالی کی مشیت سے ہوتی ہے، لیکنیہ برائی نفس کے گناہ کی عقوبت یا اس کا بدلہ ہوتی ہے، اس لیے اس کو نفس کی طرف منسوب کیا گیا،یعنییہ نفس کی غلطیوں کا نتیجہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے دوسرے مقام پر فرمایا: {وَمَا اَصَابَکُمْ مِنْ مُصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْ عَنْ کَثِیْرٍ} (سورۂ شوری: ۳۰) تمہیں جو مصیبت پہنچتی ہے، وہ تمہارے اپنے عملوں کا نتیجہ ہے، اوربہت سے گناہ تو (اللہ) معاف ہی فرما دیتا ہے۔) لیکن اگر تقدیر کا منکر اس بات پر ڈٹ جائے کہ برائی کا خالق انسان خود ہے اور اس قسم کی آیات کو انکارِ تقدیر پر بطورِ دلیل پیش کرے، تو یہی مجادلہ ہو گا، جس سے منع کیا گیا۔ (مرقاۃ المفاتیح: ۱/ ۴۹۳، مفہوم لکھا گیا، بریکٹ والا پیراگراف راقم الحروف کی طرف سے لکھا گیا)
اگر کوئی مسلمان بعض آیات کو نہ سمجھ پا رہا ہو تو وہ درج ذیل حدیث کو مدنظر رکھے۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو سنا، وہ قرآن میں اختلاف کر رہے تھے اور ایک دوسرے کا ردّ کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّمَا ھَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِھٰذَا: ضَرَبُوْا کِتَابَ اللّٰہِ بَعْضَہٗبِبَعْضٍ،وَاِنَّمَانَزَلَکِتَابُاللّٰہِیُصَدِّقُ بَعْضُہٗبَعْضًا،فَلَاتُکَذِّبُوْابَعْضَہٗبِبَعْضٍ،فَمَا عَلِمْتُمْ مِنْہُ فَقُوْلُوْا، وَمَا جَھِلْتُمْ فَکِلُوْہُ اِلٰی عَالِمِہٖ۔)) … تمسے پہلے لوگ اس وجہ سے ہلاک ہو گئے کہ وہ کتاب اللہ کے بعض حصے کو اس کے دوسرے حصے سے ٹکراتے تھے، حالانکہ اللہ تعالی کی کتاب اس طرح نازل ہوئی کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کی تصدیق کرتا ہے، پس تم اس کے بعض حصے کی وجہ سے اس کے بعض حصے کونہ جھٹلاؤ۔ جتنا تم جان لو وہ بیان کرو، اور جو نہ جان سکو اس کو اس کے عالم کی طرف سپرد کر دو۔ (احمد: ۶۷۴۱، ابن ماجہ)
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: ابن عبد البر نے سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کی حدیث کے بعد کہا: اس کا معنییہ ہے کہ دو افراد ایک آیت کے بارے میں مجادلانہ گفتگو کریں، نتیجتاً ایک اس کا انکار کر دے، یا اس کو ردّ کرے یا اس کے بارے میں شک میں پڑ جائے۔ ایسا جھگڑا کرنا کفر ہے۔ (صحیحہ: ۳۴۴۷)
ملا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: جھگڑنے سے مراد ایک دوسرے کا ردّ کرنا ہے، مثلا ایک آدمی ایک آیت سے ایک استدلال پیش کرتا ہے، جبکہ دوسرا آدمی کسی دوسری آیت سے اس کے الٹ استدلال کر کے اس پر ٹوٹ پڑتا ہے، حالانکہ قرآن کا مطالعہ کرنے والے کو چاہیے کہ ایسی آیات میں جمع و تطبیق کی کوئی صورت پیدا کرے، تاکہ یہ نقطہ واضح ہو جائے کہ قرآن کا بعض بعض کی تصدیق کرتا ہے، اگر وہ مختلف آیات میں توافق نہ دے سکے تو اس کو اپنی سمجھ کی کوتاہی سمجھے اور ان آیات کو اللہ تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کر دے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے: {فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَئْیٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ} (سورۂ نسائ: ۵۹) پھر انھوں نے ایک مثال دی: ارشادِ باری تعالی ہے: {قُلْ کُلُّ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ} … کہہ دیجئے کہ ہر چیز اللہ تعالی کی طرف سے ہے۔ جبکہ دوسرے مقام پر فرمایا: {وَمَا اَصَابَکَ مِنْ حَسَنَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ وَمَا اَصَابَکَ مِنْ سَیِّئَۃٍ فَمِنْ نَفْسِکَ} (سورۂ نسائ: ۹۷) تجھے جو بھلائی ملتی ہے، وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے، اور جو برائی پہنچتی ہے تو وہ تیرے اپنے نفس کی طرف سے ہے۔
تناقض: … پہلی آیت میں ہر چیز کو اللہ تعالی کی طرف منسوب کیا گیا اور دوسری آیت میں برائی کو بندے کی طرف منسوب کیا گیا۔ (اگر دوسری آیات، احادیث اور اجماعِ امت کو دیکھا جائے تو سب سے بہترین جمع و تطبیقیہ ہے کہ برائی بھی اللہ تعالی کی مشیت سے ہوتی ہے، لیکنیہ برائی نفس کے گناہ کی عقوبت یا اس کا بدلہ ہوتی ہے، اس لیے اس کو نفس کی طرف منسوب کیا گیا،یعنییہ نفس کی غلطیوں کا نتیجہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے دوسرے مقام پر فرمایا: {وَمَا اَصَابَکُمْ مِنْ مُصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْ عَنْ کَثِیْرٍ} (سورۂ شوری: ۳۰) تمہیں جو مصیبت پہنچتی ہے، وہ تمہارے اپنے عملوں کا نتیجہ ہے، اوربہت سے گناہ تو (اللہ) معاف ہی فرما دیتا ہے۔) لیکن اگر تقدیر کا منکر اس بات پر ڈٹ جائے کہ برائی کا خالق انسان خود ہے اور اس قسم کی آیات کو انکارِ تقدیر پر بطورِ دلیل پیش کرے، تو یہی مجادلہ ہو گا، جس سے منع کیا گیا۔ (مرقاۃ المفاتیح: ۱/ ۴۹۳، مفہوم لکھا گیا، بریکٹ والا پیراگراف راقم الحروف کی طرف سے لکھا گیا)
اگر کوئی مسلمان بعض آیات کو نہ سمجھ پا رہا ہو تو وہ درج ذیل حدیث کو مدنظر رکھے۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو سنا، وہ قرآن میں اختلاف کر رہے تھے اور ایک دوسرے کا ردّ کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّمَا ھَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِھٰذَا: ضَرَبُوْا کِتَابَ اللّٰہِ بَعْضَہٗبِبَعْضٍ،وَاِنَّمَانَزَلَکِتَابُاللّٰہِیُصَدِّقُ بَعْضُہٗبَعْضًا،فَلَاتُکَذِّبُوْابَعْضَہٗبِبَعْضٍ،فَمَا عَلِمْتُمْ مِنْہُ فَقُوْلُوْا، وَمَا جَھِلْتُمْ فَکِلُوْہُ اِلٰی عَالِمِہٖ۔)) … تمسے پہلے لوگ اس وجہ سے ہلاک ہو گئے کہ وہ کتاب اللہ کے بعض حصے کو اس کے دوسرے حصے سے ٹکراتے تھے، حالانکہ اللہ تعالی کی کتاب اس طرح نازل ہوئی کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کی تصدیق کرتا ہے، پس تم اس کے بعض حصے کی وجہ سے اس کے بعض حصے کونہ جھٹلاؤ۔ جتنا تم جان لو وہ بیان کرو، اور جو نہ جان سکو اس کو اس کے عالم کی طرف سپرد کر دو۔ (احمد: ۶۷۴۱، ابن ماجہ)
الحكم على الحديث: صحیح
2. مَا جَاءَ فِي سُوْرَةِ الْمَائِدَةِ
سورۂ مائدہ میں قراء توں کے اختلاف کا بیان
حدیث نمبر: 8418
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَرَأَهَا وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ [سورة المائدة: ٤٥] نَصَبَ النَّفْسَ وَرَفَعَ الْعَيْنَ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: {وَکَتَبْنَا عَلَیْہِمْ فِیْہَا اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَیْنُ بِالْعَیْنِ} آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے النَّفْسَ کے آخر پر زبر پڑھی اور الْعَیْنُ کے آخر پر پیش۔ [الفتح الربانی/بيان تفصيل القراءات واختلاف الصحابة فيها/حدیث: 8418]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو علي بن يزيد، جھّله ابو حاتم، وذكره ابن حبان في الثقات۔ أخرجه ابوداود: 3976، 3977، والترمذي: 2929، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13249 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13282»
وضاحت: فوائد: … متواتر قراء ت میں الْعَیْن پر بھی نصب ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
3. مَا جَاءَ فِي سُوْرَةِ هُوْدَ
سورۂ ہود کی قراء ت کا بیان
حدیث نمبر: 8419
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ وَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا وَلَا يُبَالِي إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ [سورة الزمر: ٥٣]
۔ سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں تلاوت کرتے ہوئے سنا: {اِنَّہُ عَمِلَ غَیْرَ صَالِحٍ} اور {یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا وَلَا یُبَالِیْ اِنَّہُ ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ}۔ [الفتح الربانی/بيان تفصيل القراءات واختلاف الصحابة فيها/حدیث: 8419]
تخریج الحدیث: «الشطر الاول محتمل للتحسين بشاھده، وھذا اسناد ضعيف۔ أخرجه ابوداود: 3982،والترمذي: 3237، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27569 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28121»
وضاحت: فوائد: … دونوں آیات کی متواتر قراء ت یوں ہے: {اِنَّہُ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ} {قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا اِنَّہ ہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ۔}
الحكم على الحديث: صحیح
4. مَا جَاءَ فِي سُورَةِ مريم
سورۂ مریم کی قراء ات کا بیان
حدیث نمبر: 8420
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ حَفِظْتُ السُّنَّةَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنِّي لَا أَدْرِي أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ أَمْ لَا وَلَا أَدْرِي كَيْفَ كَانَ يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عُتِيًّا [سورة الشورى: ٤٧] أَوْ عُسِيًّا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے تمام سنتیں یاد کی ہیں، البتہ مجھے یہ علم نہ ہو سکا کہ رسول اللہ ظہر اور عصر کی نمازوں میں قراء ت کرتے تھے یا نہیں، نیز میں یہ بھی نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم {وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْکِبَرِ عُتِیًّا} والی آیت میں لفظ {عُتِیًّا} پڑھتے تھے یا{عُسِیًّا} (دونوں الفاظ کے معانی بڑھاپے اور عمر رسیدگی کے ہیں) [الفتح الربانی/بيان تفصيل القراءات واختلاف الصحابة فيها/حدیث: 8420]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري۔ أخرجه ابوداود: 809، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2246 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2246»
وضاحت: فوائد: … قرآن مجید کی متواتر قراء ت یوں ہے: {وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْکِبَرِ عِتِیًّا}
الحكم على الحديث: صحیح
5. مَا جَاءَ فِي سُوْرَةِ الفُرْقَانِ
سورۂ فرقان کی قراء ت کا بیان
حدیث نمبر: 8421
عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ مَرَرْتُ بِهِشَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَمَعْتُ قِرَاءَتَهُ فَإِذَا هُوَ يَقْرَأُ عَلَى حُرُوفٍ كَثِيرَةٍ لَمْ يُقْرِئْنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكِدْتُ أَنْ أُسَاوِرَهُ فِي الصَّلَاةِ فَنَظَرْتُ حَتَّى سَلَّمَ فَلَمَّا سَلَّمَ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ فَقُلْتُ مَنْ أَقْرَأَكَ هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي تَقْرَؤُهَا قَالَ أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ لَهُ كَذَبْتَ فَوَاللَّهِ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَهُوَ أَقْرَأَنِي هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي تَقْرَؤُهَا قَالَ فَانْطَلَقْتُ أَقُودُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى حُرُوفٍ لَمْ تُقْرِئْنِيهَا وَأَنْتَ أَقْرَأْتَنِي سُورَةَ الْفُرْقَانِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْسِلْهُ يَا عُمَرُ اقْرَأْ يَا هِشَامُ فَقَرَأَ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا أُنْزِلَتْ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ يَا عُمَرُ فَقَرَأْتُ الْقِرَاءَةَ الَّتِي أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَكَذَا أُنْزِلَتْ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مِنْهُ مَا تَيَسَّرَ
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ہشام بن حکیم بن حزام کے پاس سے گزرا جو سورۂ فرقان پڑھ رہے تھے، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ کی بات ہے، جب میں نے ان کی قراء توں کو غو رسے سنی تو سمجھا کہ وہ ایسی قراء توں پر قرآن مجید پڑھ رہے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے نہیں پڑھائی،قریب تھا کہ میں نماز میں ہی ان کی طرف لپک پڑتا، لیکن میں نے انتظار کیا،یہاں تک کہ انھوں نے سلام پھیرا، جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کے گلے میں چادر ڈال کر ان کو پکڑ لیا اور کہا: تم کو کس نے یہ سورت پڑھائی ہے؟ انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پڑھائی ہے، میں نے کہا: تم جھوٹ بول رہے ہو، پھر میں ان کو کھینچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے گیا اورکہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ان سے سورۂ فرقان سنی ہے، یہ ان قراء توں کے مطابق پڑھتے ہیں، جو آپ نے مجھے نہیں پڑھائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انہیں چھوڑ دو، اے عمر! اے ہشام پڑھو۔ انہوں نے آپ پر وہی قراء ت کی، جو میں نے سنی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ سورت اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! تم پڑھو۔ پس میں نے وہی قراء ت پڑھی، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پڑھائی تھی، وہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا قرآن مجید سات قراء توں پر نازل ہوا ہے، جو بھی میسر آئے اس کے مطابق پڑھ لو۔ [الفتح الربانی/بيان تفصيل القراءات واختلاف الصحابة فيها/حدیث: 8421]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4992، 6936، ومسلم: 818، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 296 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 296»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8422
وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا عُمَرُ إِنَّ الْقُرْآنَ كُلَّهُ صَوَابٌ مَا لَمْ يُجْعَلْ عَذَابٌ مَغْفِرَةً أَوْ مَغْفِرَةٌ عَذَابًا
۔ سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس کے آخر میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! قرآن مجید سارے کا سارا درست ہے، جب تک کہ عذاب کی جگہ مغفرت کا اور مغفرت کی جگہ عذاب کا لفظ نہ بولا جائے۔ [الفتح الربانی/بيان تفصيل القراءات واختلاف الصحابة فيها/حدیث: 8422]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16366 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16479»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حق کے معاملے میںانتہائی محتاط تھے، اس لیے جب انھیںیہ گمان ہوا کہ یہ آدمی قرآن کی تلاوت صحیح نہیں کر رہا تو انھوں نے اس پر سختی کی۔
الحكم على الحديث: صحیح
6. مَا جَاءَ فِي سُوْرَةِ الرُّوْمِ
سورۂ روم کی قراء ت کا بیان
حدیث نمبر: 8423
عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا [سورة الروم: ٢-٤] فَقَالَ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا ثُمَّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمَا قَرَأْتَ عَلَيَّ فَأَخَذَ عَلَيَّ كَمَا أَخَذْتُ عَلَيْكَ
۔ عطیہ عوفی کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پر یہ آیت تلاوت کی:{الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّۃً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّۃٍ ضَعْفًا} لیکن انھوں نے کہا: اس آیت کے الفاظ یوں ہیں: {اللّٰہُ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ ضُعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضُعْفٍ قُوَّۃً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّۃٍ ضُعْفًا}، پھر کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اسی طرح قراء ت کی تھی، جس طرح تم نے مجھ پر کی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اسی طرح ٹوکا تھا، جس طرح میں نے تجھے ٹوکا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان تفصيل القراءات واختلاف الصحابة فيها/حدیث: 8423]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عطية بن سعد العوفي۔ أخرجه ابوداود: 3978، والترمذي: 2936، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5227 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5227»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جو الفاظ بیان کیے ہیں، وہ متواتر ہیں۔
الحكم على الحديث: ضعیف
7. مَا جَاءَ فِي سُورَةِ الزَّمَرِ
سورۂ زمر کی قراء ت کا بیان
حدیث نمبر: 8424
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا وَلَا يُبَالِي أَنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ [سورة الزمر: ٥٣]
۔ سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ قراء ت کرتے ہوئے سنا: {یَاعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُالذُّنُوْبَ جَمِیْعًا وَلَا یُبَالِیْ اَنَّہٗھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ} [الفتح الربانی/بيان تفصيل القراءات واختلاف الصحابة فيها/حدیث: 8424]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27606 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28158»
وضاحت: فوائد: … اس آیت کی متواتر قراء ت یوں ہے: {قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا اِنَّہ ہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ۔} یعنی وَلَا یُبَالِیْ کے الفاظ اس قراء ت میں نہیں ہیں اور اَنَّہُ کی جگہ إِنَّہُ (ہمزہ کے فتحہ کی جگہ کسرہ) ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
8. مَا جَاءَ فِي سُوْرَةِ الْأَحْقَافِ
سورۂ احقاف کی قراء ت کا بیان
حدیث نمبر: 8425
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا يَقْرَأُ حٰمٓ الثَّلَاثِينَ يَعْنِي الْأَحْقَافَ فَقَرَأَ حَرْفًا وَقَرَأَ رَجُلٌ آخَرُ حَرْفًا لَمْ يَقْرَأْهُ صَاحِبُهُ وَقَرَأْتُ أَحْرُفًا فَلَمْ يَقْرَأْهَا صَاحِبَيَّ فَانْطَلَقْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْنَاهُ فَقَالَ لَا تَخْتَلِفُوا فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِاخْتِلَافِهِمْ ثُمَّ قَالَ انْظُرُوا أَقْرَأَكُمْ رَجُلًا فَخُذُوا بِقِرَاءَتِهِ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی کو سنا، وہ سورۂ احقاف کی تلاوت کر رہا تھا،اس نے ایک قراء ت پڑھی، جبکہ ایک دوسرے آدمی نے دوسری قراء ت پڑھی جو اِس نے نہیں پڑھی تھی اور پھر میں نے ایسی قراء ت پڑھی جو ان دونوں نے نہیں پڑھی تھی، سو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساری بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اختلاف میں نہ پڑو، بیشک تم سے پہلے والے لوگ اختلاف ہی کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جائزہ لے لو، جو آدمی تم میں زیادہ پڑھا ہوا، اس کی قراء ت سے پڑھ لیا کرو۔ [الفتح الربانی/بيان تفصيل القراءات واختلاف الصحابة فيها/حدیث: 8425]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3803 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3803»
الحكم على الحديث: صحیح