الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بابُ وَقْتِ نُزُولِ الْقُرْآنِ وَغَيْرِهِ مِنَ الْكُتُبِ لسَّمَاوِيَّةِ وَخَوْفِ الصَّحَابَةِ مِنْ نُزُولِ الْقُرْآنِ فِيْهِمْ
قرآن مجید اور دوسری آسمانی کتابوں کے نزول کے وقت کا بیان اور صحابہ کا اس بات سے ڈرنا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے بارے میں قرآن مجید نازل ہو جائے
حدیث نمبر: 8432
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا نَتَّقِي كَثِيرًا مِنَ الْكَلَامِ وَالِانْبِسَاطِ إِلَى نِسَائِنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَخَافَةَ أَنْ يَنْزِلَ فِينَا الْقُرْآنُ فَلَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَكَلَّمْنَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں اپنی بیویوں سے زیادہ باتیں کرنے اور زیادہ کھل کر ہنسنے سے گریز کرتے تھے، اس ڈر سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے بارے میں قرآن مجید نازل ہو جائے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی تو تب ہم کھل کر بات کرنے لگے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8432]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5187، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5284 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5284»
وضاحت: فوائد: … بعض صحابہ کرام کے گھریلو مسائل کی وجہ سے قرآن مجید کے بعض حصے نازل ہوئے، اس لیے دوسرے صحابہ محتاط ہو گئے۔
الحكم على الحديث: صحیح
2. بَابُ أَوَّلِ مَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْآن
قرآن کے سب سے پہلے نازل ہونے والے حصے کا بیان
حدیث نمبر: 8433
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ فِي النَّوْمِ وَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ فَكَانَ يَأْتِي غَارَ حِرَاءَ فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَتُزَوِّدُهُ لِمِثْلِهَا حَتَّى فَجِئَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءَ فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فِيهِ فَقَالَ اقْرَأْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ حَتَّى بَلَغَ مَا لَمْ يَعْلَمْ قَالَ فَرَجَعَ بِهَا تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ فَقَالَ زَمِّلُونِي فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ فَقَالَ يَا خَدِيجَةُ مَا لِي فَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ قَالَ وَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي فَقَالَتْ لَهُ كَلَّا أَبْشِرْ فَوَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَقْرِي الضَّيْفَ وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ ثُمَّ انْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِيجَةَ أَخِي أَبِيهَا وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعَرَبِيَّ فَكَتَبَ بِالْعَرَبِيَّةِ مِنَ الْإِنْجِيلِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكْتُبَ وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ فَقَالَتْ خَدِيجَةُ يَا ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ فَقَالَ وَرَقَةُ يَا ابْنَ أَخِي مَا تَرَى فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَا رَأَى فَقَالَ وَرَقَةُ هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا أَكُونُ حَيًّا حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوَمُخْرِجِيَّ هُمْ فَقَالَ وَرَقَةُ نَعَمْ لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا عُودِيَ وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرُكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا ثُمَّ لَمْ يَنْشَبْ وَرَقَةُ أَنْ تُوُفِّيَ وَفَتَرَ الْوَحْيُ فَتْرَةً حَتَّى حَزِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَلَغَنَا حُزْنًا غَدَا مِنْهُ مِرَارًا كَيْ يَتَرَدَّى مِنْ رُءُوسِ شَوَاهِقِ الْجِبَالِ فَكُلَّمَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ لِكَيْ يُلْقِيَ نَفْسَهُ مِنْهُ تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا فَيُسْكِنُ ذَلِكَ جَأْشَهُ وَتَقَرُّ نَفْسُهُ فَيَرْجِعُ فَإِذَا طَالَتْ عَلَيْهِ فَتْرَةُ الْوَحْيِ غَدَا لِمِثْلِ ذَلِكَ فَإِذَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف وحی کی ابتداء نیند میں سچے خوابوں کی صورت میں ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو خواب بھی دیکھتے، وہ صبح کے پھٹنے کی طرح پورا ہو جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خلوت کو پسند کرنے لگے اور غارِ حرا میں جا کر چند راتیں عبادت کرتے اور ان دنوں کا توشہ لے جاتے، پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی طرف لوٹتے اور اتنے دنوں کے لیے پھر زاد لے جاتے، یہاں تک کہ ایک دن اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حق آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غارِ حرا میں ہی تھے، فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: پڑھئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں پڑھنے والا نہیں ہوں، چنانچہ اس نے مجھے پکڑ کر اس قدر دبایا کہ مجھے مشقت محسوس ہوئی، پھر اس نے مجھے چھوڑا اور کہا: پڑھو، میں نے کہا: میں پڑھنے والا نہیں ہوں، اس نے پھر مجھے پکڑ لیا اور دبایا، حتی کہ مجھے مشقت محسوس ہوئی، پھر اس نے مجھے چھوڑا اور پھر کہا: پڑھیں، میں نے کہا: میں پڑھنے والا نہیں ہوں، اس نے مجھے پکڑ کر تیسری دفعہ دبایا اور مجھے مشقت محسوس ہوئی، پھر اس نے کہا: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ … … مَا لَمْ یَعْلَمْ} پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر کو لوٹے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں کا گوشت کانپ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے اور فرمایا: مجھے کپڑا اوڑھاؤ۔ پس انھوں نے کپڑا اوڑھا دیا،یہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گھبراہٹ ختم ہو گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خدیجہ! مجھے کیا ہو گیا؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ کو سارا واقعہ سنا دیا اور فرمایا: میں اپنے بارے میں ڈر رہا ہوں۔ لیکن سیدہ نے کہا: ہر گز نہیں، آپ خوش رہیں، پس اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا، کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، لوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، مہمانوں کی ضیافت کرتے ہیں اور امورِ حق میں مدد کرتے ہیں، پھر سیدہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئی، وہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچے کا بیٹا تھا، جاہلیت میں عیسائیت کو اختیار کر چکا تھا، چونکہ یہ عربی زبان لکھ سکتا تھا، اس لیے انجیل کو عربی زبان میں لکھتا تھا، یہ بزرگ آدمی تھا اور اب نابینا ہو چکا تھا، سیدہ نے اس سے کہا: اے میرے چچے کے بیٹے! اپنے بھتیجے کی بات سنو، ورقہ نے کہا: بھتیجے! تو کیا دیکھ رہا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ساری تفصیل بیان کی، ورقہ نے کہا: یہ تو وہی ناموس ہے، جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا گیا، کاش میں اس وقت مضبوط ہوتا، جب آپ کی قوم آپ کو نکال دے گی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا: جی ہاں، جو چیز آپ لائے ہیں، جو آدمی بھی ایسی لے کر آیا ہے، اس سے دشمنی کی گئی ہے اور اگر آپ کے اُس وقت نے مجھے پا لیا تو میں آپ کی خوب مدد کروں گا، لیکن جلد ہی ورقہ وفات پاگیا اور وحی رک گئی، اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غمگین تھے، بلکہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غم اس قدر بڑھ گیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی بار چاہا کہ پہاڑوں کے چوٹیوں سے گر پڑیں، جب کبھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہاڑ کی چوٹی پر چڑتے تاکہ اپنے آپ کو وہاں سے گرا دیں تو جبریل علیہ السلام سامنے آتے اور کہتے: اے محمد! بیشک آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دل پر سکون ہو جاتا اور نفس مطمئن ہو جاتا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوٹ آتے، جب پھر مدت طول پکڑتی اور وحی رکی رہتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر اسی طرح کرتے اور جب پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جاتے تو جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ظاہر ہوتا اور پہلے والی بات دوہراتا۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8433]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4956، 6982، ومسلم: 160،وقوله: حتي حزن رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم فيما بلغنا حزنا، الخ۔ انما ھو من بلاغات الزھري، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25959 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26486»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سب سے پہلے سورۂ علق کی درج ذیل ابتدائی پانچ آیات نازل ہوئیں: {اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ۔ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔ اقْرَئْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ۔ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ۔ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ}صبح کے پھٹنے سے مراد یہ ہے وہ خواب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیداری میں واضح طور پر پورا ہوتا ہوا نظر آتا، خوابوں کا سلسلہ فرشتے اور وحی کے لیے تمہید ہوتا ہے، اس سلسلے کی وجہ سے بشری قوتیں وحی کا بار برداشت کرنے کے لیے تیار ہو جاتی ہیں۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مکارم اور خصائل کا ذکر کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تسلی دینا، اس سے معلوم ہوا کہ مکارمِ اخلاق اور خصائل خیریہ برے انجام سے سلامتی کا سبب ہوتے ہیں۔
وحی کا نزول نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو انسانیت میں سب سے بڑا منصب عطا کرنے کے لیے تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں کے گوشت کا کانپنا، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطالبے پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کپڑا اوڑھا دینا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانا کہ خدیجہ! مجھے کیا ہو گیا؟ میں اپنے بارے میں ڈر رہا ہوں۔ پھر جب کچھ دیر تک وحی رکی رہی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حدیث کے آخری حصے میں بیان کی گئی کیفیت میں مبتلا ہو جانا۔ ان امور میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے، جس کی وجہ سے احادیث ِ مبارکہ یا ان کے ثقہ راویوں پر اعتراض کیا جا سکے، اسی قسم کی کیفتوں کو ہلکا کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غارِ حراء میں جانے کی توفیق بخشی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے خوابوں کاسلسلہ شروع کیا گیا۔ دراصل ابتداء میں بارِ نبوت کو برداشت کرنا بشری قوتوں کے لیے خاصا مشکل مرحلہ ہوتا ہے، بعد میں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبریل علیہ السلام کی تاخیر کی وجہ سے پریشان ہو جاتے تھے، جبکہ یہ ہمارا اندازہ ہے، حقیقت میں انبیاء و رسل ہی بہتر جانتے ہیں کہ وصولِ نبوت کا بوجھ کیسا ہوتا ہے، سخت سردی میں نزول وحی کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی مبارک سے پسینہ ٹپکنے لگتا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود فرمایا کہ جب وحی گھنٹی کی آواز میں آتی ہے تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بڑی سختی اور شدت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ صحابۂ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس شدت کی کیفیت کا سوال نہیں کیا، دیکھیں جب موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالی کی تجلی کی وجہ سے پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے ہوئے دیکھا تو وہ بیہوش ہو کر گر پڑے، جبکہ چند لمحے پہلے وہی اللہ تعالی کے دیدار کا اصرار کر رہے تھے۔ آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو اضطراب بیان کیا گیا ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ جب کم و بیش تین سالوں کے لیے وحی کا سلسلہ رکا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خدشہ ہونے لگا کہ کہیں ایسے تو نہیں ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی ایسا فعل یا سبب سرزد ہوگیا ہو، جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سزا مل رہی ہو، یایہ کیفیت اس غم کی وجہ سے تھے،جو وحی کی تاخیر کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر طاری ہو گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ اطلاع تو نہیں دی گئی تھی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور آپ کو بندوں کی طرف بھیجا گیا ہے۔ غور کریں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابلے میں ورقہ بن نوفل کی حیثیت کیاتھی لیکن وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تسلی دلا رہا ہے، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ انبیاء کے ساتھ ایسے ہی ہوتا ہے۔بہتر یہ ہے کہ اس حدیث ِ مبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جو احساسات بیان کیے گئے ہیں، ان کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طبعی تقاضا سمجھا جائے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارِ نبوت اٹھا لیا اور اپنے منصب تک پوری رسائی حاصل کر لی تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قابل ہو گئے کہ وحی کی مختلف مجلسوں میں پورا قرآن مجید وصول کر سکیں، قرآن مجید کے علاوہ وحی کی دوسری اقسام کے ذریعے اللہ تعالی کے پیغامات موصول کر سکیں، جنت و جہنم کے مناظر دیکھ سکیں، اسراء و معراج کی صورت میں آسمانوں کیسیر کر سکیں، جہنم میں پتھر گرنے اور آسمان کے دروازے کھلنے کی آواز سن سکیں، قبروں میں عذاب میں مبتلا لوگوں کے عذاب کی کیفیت دیکھ سکیں، کثرت ِ عبادت میں اپنی جسمانی غذاکو محسوس کر سکیں، علی ہذا القیاس۔واللہ اعلم بالصواب
وحی کا نزول نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو انسانیت میں سب سے بڑا منصب عطا کرنے کے لیے تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں کے گوشت کا کانپنا، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطالبے پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کپڑا اوڑھا دینا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانا کہ خدیجہ! مجھے کیا ہو گیا؟ میں اپنے بارے میں ڈر رہا ہوں۔ پھر جب کچھ دیر تک وحی رکی رہی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حدیث کے آخری حصے میں بیان کی گئی کیفیت میں مبتلا ہو جانا۔ ان امور میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے، جس کی وجہ سے احادیث ِ مبارکہ یا ان کے ثقہ راویوں پر اعتراض کیا جا سکے، اسی قسم کی کیفتوں کو ہلکا کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غارِ حراء میں جانے کی توفیق بخشی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے خوابوں کاسلسلہ شروع کیا گیا۔ دراصل ابتداء میں بارِ نبوت کو برداشت کرنا بشری قوتوں کے لیے خاصا مشکل مرحلہ ہوتا ہے، بعد میں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبریل علیہ السلام کی تاخیر کی وجہ سے پریشان ہو جاتے تھے، جبکہ یہ ہمارا اندازہ ہے، حقیقت میں انبیاء و رسل ہی بہتر جانتے ہیں کہ وصولِ نبوت کا بوجھ کیسا ہوتا ہے، سخت سردی میں نزول وحی کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی مبارک سے پسینہ ٹپکنے لگتا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود فرمایا کہ جب وحی گھنٹی کی آواز میں آتی ہے تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بڑی سختی اور شدت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ صحابۂ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس شدت کی کیفیت کا سوال نہیں کیا، دیکھیں جب موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالی کی تجلی کی وجہ سے پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے ہوئے دیکھا تو وہ بیہوش ہو کر گر پڑے، جبکہ چند لمحے پہلے وہی اللہ تعالی کے دیدار کا اصرار کر رہے تھے۔ آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو اضطراب بیان کیا گیا ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ جب کم و بیش تین سالوں کے لیے وحی کا سلسلہ رکا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خدشہ ہونے لگا کہ کہیں ایسے تو نہیں ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی ایسا فعل یا سبب سرزد ہوگیا ہو، جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سزا مل رہی ہو، یایہ کیفیت اس غم کی وجہ سے تھے،جو وحی کی تاخیر کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر طاری ہو گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ اطلاع تو نہیں دی گئی تھی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور آپ کو بندوں کی طرف بھیجا گیا ہے۔ غور کریں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابلے میں ورقہ بن نوفل کی حیثیت کیاتھی لیکن وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تسلی دلا رہا ہے، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ انبیاء کے ساتھ ایسے ہی ہوتا ہے۔بہتر یہ ہے کہ اس حدیث ِ مبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جو احساسات بیان کیے گئے ہیں، ان کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طبعی تقاضا سمجھا جائے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارِ نبوت اٹھا لیا اور اپنے منصب تک پوری رسائی حاصل کر لی تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قابل ہو گئے کہ وحی کی مختلف مجلسوں میں پورا قرآن مجید وصول کر سکیں، قرآن مجید کے علاوہ وحی کی دوسری اقسام کے ذریعے اللہ تعالی کے پیغامات موصول کر سکیں، جنت و جہنم کے مناظر دیکھ سکیں، اسراء و معراج کی صورت میں آسمانوں کیسیر کر سکیں، جہنم میں پتھر گرنے اور آسمان کے دروازے کھلنے کی آواز سن سکیں، قبروں میں عذاب میں مبتلا لوگوں کے عذاب کی کیفیت دیکھ سکیں، کثرت ِ عبادت میں اپنی جسمانی غذاکو محسوس کر سکیں، علی ہذا القیاس۔واللہ اعلم بالصواب
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8434
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاوَرْتُ بِحِرَاءَ شَهْرًا فَلَمَّا قَضَيْتُ جِوَارِي نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ بَطْنَ الْوَادِي فَنُودِيتُ فَنَظَرْتُ أَمَامِي وَخَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ثُمَّ نُودِيتُ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ثُمَّ نُودِيتُ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا هُوَ عَلَى الْعَرْشِ فِي الْهَوَاءِ وَفِي رِوَايَةٍ فَإِذَا هُوَ قَاعِدٌ عَلَى عَرْشٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَأَخَذَتْنِي وَجْفَةٌ شَدِيدَةٌ فَأَتَيْتُ خَدِيجَةَ فَقُلْتُ دَثِّرُونِي دَثِّرُونِي وَصَبُّوا عَلَيَّ مَاءً فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے غارِ حراء میں ایک ماہ تک مجاورت اختیار کی، جب میں نے یہ مدت پوری کی اوروہاں سے اتر کر وادی کی ہموار جگہ پر آیا تو مجھے آواز دی گئی، میں نے اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں دیکھا، لیکن مجھے کوئی چیز نظر نہیں آئی، اتنے میں پھر مجھے آواز دی گئی، میں نے پھر اسی طرح دیکھا، لیکن کسی کو نہ دیکھ سکا، پھر مجھے آواز دی گئی، پس اب کی بار جب میں نے سر اٹھایا تو وہ فرشتہ فضا میں تخت پر بیٹھا ہوا تھا، ایک روایت میں ہے: وہ آسمان اور زمین کے مابین تخت پر بیٹھا ہوا تھا، اس سے مجھ پر شدید کپکپی طاری ہو گئی، میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا: مجھے کمبل اوڑھاؤ، پس انھوں نے مجھے کمبل اوڑھا دیا اور مجھ پر پانی ڈالا، پھر اللہ تعالی نے یہ آیات نازل کیں: {یَا أَ یُّھَا الْمُدَّثِّرْ قُمْ فَأَ نْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ} اے کمبل اوڑھنے والے، کھڑا ہو جا، پس ڈرا اور اپنے ربّ کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک کر۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8434]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4922، ومسلم: 161، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14287 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14338»
وضاحت: فوائد: … جمہور اہل علم کے نزدیک پہلی وحی {اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ } والی آیات ہی ہیں، سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے مراد دوسری وحی ہے، جو فترۂ وحی کے بعد نازل ہوئی تھی، اس حدیث کے درج ذیل سیاق پر غور کریں، حافظ ابن کثیر نے اسی حدیث کے سیاق کو محفوظ قرار دیاہے، اس سے صاف پتہ چلتاہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی:
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8434M
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ثُمَّ فَتَرَ الْوَحْيُ عَنِّي فَتْرَةً فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ فَرَفَعْتُ بَصَرِي قِبَلَ السَّمَاءِ فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءَ الْآنَ قَاعِدٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَجُئِثْتُ مِنْهُ فَرَقًا حَتَّى هَوَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ فَجِئْتُ أَهْلِي فَقُلْتُ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي فَزَمَّلُونِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ الرُّجْزُ الْأَوْثَانُ ثُمَّ حَمِيَ الْوَحْيُ بَعْدُ وَتَتَابَعَ
۔ (دوسری سند)سیدنا جابر بن عبدا للہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر وحی رک گئی، پس ایک دن میں چل رہا تھا کہ میں نے آسمان کی طرف سے ایک آواز سنی،جب میں نے نگاہ اٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس غار حراء میں آیا تھا، اب وہی آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے، میں اس کے خوف سے کپکپانے لگا، یہاں تک کہ میں زمین کی طرف جھکا، پھر میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا اور کہا: مجھے کمبل اوڑھاؤ، مجھے کمبل اوڑھاؤ، مجھے کمبل اوڑھا دو۔ پس انہوں نے مجھے چادر اوڑھا دی، پس اللہ تعالی نے آیات نازل کیں: {یَا أَ یُّھَا الْمُدَّثِّرْ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ} اے کمبل اوڑھنے والے، کھڑا ہو جا، پس ڈرا اور اپنے ربّ کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک کر اور پلیدی کو چھوڑ دے۔ ابو سلمہ نے کہا: پلیدی سے مراد بت ہیں، اس کے بعد وحی پے در پے اور کثرت سے نازل ہونے لگی۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8434M]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14537»
الحكم على الحديث: صحیح
3. بَابُ نُزُولِ الْقُرْآنِ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ
قرآن مجید کے سات قراء توں میں نازل ہونے کا مطلب
حدیث نمبر: 8435
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ يَا مُحَمَّدُ اقْرَأِ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ وَفِي لَفْظٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَانِي جِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ فَقَالَ جِبْرِيلُ اقْرَأِ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ قَالَ مِيكَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ اسْتَزِدْهُ فَاسْتَزَادَهُ قَالَ اقْرَأْهُ عَلَى حَرْفَيْنِ قَالَ مِيكَائِيلُ اسْتَزِدْهُ فَاسْتَزَادَهُ حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ قَالَ كُلٌّ شَافٍ كَافٍ مَا لَمْ تَخْتِمْ آيَةَ عَذَابٍ بِرَحْمَةٍ أَوْ آيَةَ رَحْمَةٍ بِعَذَابٍ نَحْوَ قَوْلِكَ تَعَالَ وَأَقْبِلْ وَهَلُمَّ وَاذْهَبْ وَأَسْرِعْ وَاعْجَلْ
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جبریل علیہ السلام نے کہا: اے محمد! قرآن مجید ایک قراء ت کے مطابق پڑھو۔ ایک روایت میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریل اور میکائیل میرے پاس آئے، جبریل نے مجھ سے کہا: قرآن مجید کو ایک قراء ت پر پڑھو، لیکن میکائیل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: زیادہ گنجائش کا سوال کریں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زیادہ گنجائش کی درخواست کی، تو جبریل نے کہا: دو قراء توں پر پڑھ لو، لیکن میکائیل نے پھر کہا: اور زیادہ مطالبہ کرو، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید گنجائش کا مطالبہ کیا،یہاں تک کہ سات قراء ات تک پہنچ گئے، اور پھر انھوں نے کہا: ہر قراء ت شافی اور کافی ہے، جبکہ تک تم عذاب والی آیت کو رحمت والی آیت کے ساتھ اور رحمت والی آیت کو عذاب والی آیت کے ساتھ ختم نہ کر، یہ قراء ت کا معاملہ ایسا ہی ہے، جیسےیہ الفاظ ہیں: تَعَالَ اور أَ قْبِل، ہَلُمَّ اور اِذْہَبْ اور أَ سْرِعْ اور اِعْجَلْ۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8435]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله في آخره نحو قولك: تعال، واقبل، وھلم الخ، وھذا اسناد ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20514 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20788»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8436
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ عَلَى أَيِّ حَرْفٍ قَرَأْتُمْ فَقَدْ أَصَبْتُمْ فَلَا تَمَارَوْا فِيهِ فَإِنَّ الْمِرَاءَ فِيهِ كُفْرٌ
۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید سات قراء توں پر نازل کیا گیا ہے، جس قراء ت کے مطابق بھی پڑھو گے، تو درست پڑھو گے، اس میں جھگڑا مت کرو، کیونکہ قرآن مجید میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8436]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17819 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17972»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8437
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَرَأْتُ آيَةً وَقَرَأَ ابْنُ مَسْعُودٍ خِلَافَهَا جَاءَ فِي رِوَايَةٍ وَقَرَأَ رَجُلٌ خِلَافَهَا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أَلَمْ تُقْرِئْنِي آيَةَ كَذَا وَكَذَا قَالَ بَلَى فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَلَمْ تُقْرِئْنِيهَا كَذَا وَكَذَا فَقَالَ بَلَى كِلَاكُمَا مُحْسِنٌ مُجْمِلٌ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ فَضَرَبَ صَدْرِي فَقَالَ يَا أُبَيُّ بْنَ كَعْبٍ إِنِّي أُقْرِئْتُ الْقُرْآنَ فَقِيلَ لِي عَلَى حَرْفٍ أَوْ عَلَى حَرْفَيْنِ قَالَ فَقَالَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعِي عَلَى حَرْفَيْنِ فَقُلْتُ عَلَى حَرْفَيْنِ فَقَالَ عَلَى حَرْفَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ فَقَالَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعِي عَلَى ثَلَاثَةٍ فَقُلْتُ عَلَى ثَلَاثَةٍ حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ لَيْسَ مِنْهَا إِلَّا شَافٍ كَافٍ إِنْ قُلْتَ غَفُورًا رَحِيمًا أَوْ قُلْتَ سَمِيعًا عَلِيمًا أَوْ عَلِيمًا سَمِيعًا فَاللَّهُ كَذَلِكَ مَا لَمْ تَخْتِمْ آيَةَ عَذَابٍ بِرَحْمَةٍ أَوْ آيَةَ رَحْمَةٍ بِعَذَابٍ زَادَ فِي رِوَايَةٍ بَعْدَ قَوْلِهِ فَضَرَبَ فِي صَدْرِي ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْ أُبَيٍّ الشَّكَّ فَفِضْتُ عَرَقًا وَامْتَلَأَ جَوْفِي فَرَقًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أُبَيُّ إِنَّ مَلَكَيْنِ أَتَيَانِي فَقَالَ أَحَدُهُمَا اقْرَأْ عَلَى حَرْفٍ فَقَالَ الْآخَرُ زِدْهُ فَقُلْتُ زِدْنِي فَقَالَ اقْرَأْ عَلَى حَرْفَيْنِ فَقَالَ الْآخَرُ زِدْهُ فَقُلْتُ زِدْنِي فَقَالَ اقْرَأْ عَلَى ثَلَاثَةٍ فَقَالَ الْآخَرُ زِدْهُ فَقُلْتُ زِدْنِي فَقَالَ اقْرَأْ عَلَى أَرْبَعَةِ أَحْرُفٍ فَقَالَ الْآخَرُ زِدْهُ قُلْتُ زِدْنِي فَقَالَ اقْرَأْ عَلَى خَمْسَةِ أَحْرُفٍ فَقَالَ الْآخَرُ زِدْهُ قُلْتُ زِدْنِي فَقَالَ اقْرَأْ عَلَى سِتَّةٍ فَقَالَ الْآخَرُ زِدْهُ فَقَالَ اقْرَأْ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ایک آیت پڑھی اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی آیت پڑھی، لیکن ان کی آیت میری آیت سے مختلف تھی، پس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: کیا آپ نے مجھے فلاں فلاں آیت اس طرح نہیں پڑھائی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ نے مجھے یہ ایسے ایسے نہیں پڑھائی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں نے درست پڑھا ہے۔ میں (ابی) نے کہا: دونوں کس طرح درست ہو سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: اے ابی! مجھے قرآن پڑھایا گیا اور کہا گیا کہ ایک یادو قراء توں پر؟ جو فرشتہ میرے ساتھ تھا، اس نے کہا: دو قراء توں پر، میں نے کہا: دو قراءتوں پر۔ لیکن اس نے پھر کہا: دو قراء توں پر یا تین پر؟ جو فرشتہ میرے پاس تھا، اس نے کہا: تین قراء توں پر، میں نے کہا: تین قراء توں پر، حتیٰ کہ سات قراء توں تک پہنچ گئے، ہر ایک تسلی بخش اور کفایت کرنے والی ہے، اگر تم کہو غَفُورًا رَحِیمًا،یا کہو سَمِیعًا عَلِیمًا،یا کہو عَلِیمًا سَمِیعًا، پس اللہ تعالیٰ تو ایسے ہی ہے نا۔ ایک روایت میں ہے: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سینہ پر مارا اور فرمایا: اے اللہ! ابی سے شک دور کر دے۔ ابی کہتے ہیں: میں پسینہ سے شرابور ہوگیا اور میرا پیٹ خوف سے بھر گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابی! دو فرشتے میرے پاس آئے، ان میں سے ایک نے کہا: ایک قراء ت پر قرآن پڑھو، دوسرے نے کہا: زیادہ کردو، میں نے بھی کہا: زیادہ کردو، اس نے کہا چار قراء توں پر پڑھ لو، دوسرے نے کہا: اور زیادہ کردو، میں نے بھی کہا: میرے لئے اور اضافہ کرو، اس نے کہا: پانچ قراء توں پر پڑھ لو، دوسرے نے کہا: اور زیادہ کر دو۔ میں نے بھی کہا: اور زیادہ کردو۔ چھ قراء توں پر پڑھ لو، دوسرے نے کہا: اور اضافہ کردو، اس نے کہا: سات قراء توں پر پڑھ لو۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8437]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 1477، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21149 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21467»
وضاحت: فوائد: … یہ دو فرشتے جبریل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام تھے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8438
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَقِيتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَاءِ فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ إِنِّي أُرْسِلْتُ إِلَى أُمَّةٍ أُمِّيَّةٍ الرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ وَالْغُلَامُ وَالْجَارِيَةُ وَالشَّيْخُ الْفَانِي الَّذِي لَا يَقْرَأُ كِتَابًا قَطُّ قَالَ إِنَّ الْقُرْآنَ نَزَلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ
۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں احجار المراء جگہ پر حضرت جبریل علیہ السلام سے ملا اور میں نے کہا: اے جبریل! میں اُمّی امت کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا گیاہوں، جس میں مرد، عورتیں، غلام، لونڈیاں اور انتہائی بوڑھے لوگ بھی ہیں، جنھوں نے کبھی کوئی تحریر نہیں پڑھی، انہوں نے کہا: قرآن مجید سات قراء توں پر نازل کیا گیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8438]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه البزار: 2908، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23389 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23790»
وضاحت: فوائد: … اُمّی ایسے شخص کو کہتے ہیں، جو روایتی پڑھنا لکھنا نہ جانتا ہو۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8438M
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ لَقِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَاءِ فَقَالَ إِنَّ أُمَّتَكَ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَمَنْ قَرَأَ مِنْهُمْ عَلَى حَرْفٍ فَلْيَقْرَأْ كَمَا عَلِمَ وَلَا يَرْجِعْ عَنْهُ قَالَ أَبُو وَقَالَ ابْنُ مَهْدِيٍّ إِنَّ مِنْ أُمَّتِكَ الضَّعِيفَ فَمَنْ قَرَأَ عَلَى حَرْفٍ فَلَا يَتَحَوَّلْ مِنْهُ إِلَى غَيْرِهِ رَغْبَةً عَنْهُ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احجار المراء مقام پر جبریل علیہ السلام سے ملے، حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا:آپ کی امت سات قرائتوں میں قرآن مجید پڑھ سکتی ہے، جس کسی نے ایک قرائت پڑھ لی ہے، تو وہ اپنے علم کے مطابق پڑھتا رہے اور اس سے رک نہ جائے۔ ابن مہدی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: جبریل علیہ السلام نے کہا: بیشک آپ کی امت میں کمزور لوگ بھی ہیں، لہٰذا جو ایک قراء ت پر پڑھ لے، وہ اس سے بے رغبتی کرتے ہوئے دوسری قراء ت کی طرف نہ جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8438M]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابراهيم بن مهاجر ليس بذاك القوي، ولم يتابع عليه بھذا اللفظ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:23273 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23662»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8439
عَنْ أُبَيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيلَ إِنِّي بُعِثْتُ إِلَى أُمَّةٍ أُمِّيِّينَ فِيهِمُ الشَّيْخُ الْعَاسِي وَالْعَجُوزَةُ الْكَبِيرَةُ وَالْغُلَامُ قَالَ فَمُرْهُمْ فَلْيَقْرَءُوا الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جبریل علیہ السلام کی احجاز المراء کے پاس ملاقات ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبریل علیہ السلام سے کہا: مجھے اُمّی امت کی طرف بھیجا گیا ہے، اس میں بہت بوڑھے خواتین و حضرات اور غلام بھی ہیں، انہوں نے کہا: چلو، آپ ان کو حکم دیں کہ وہ قرآن مجید کو سات قراء توں پر تلاوت کرلیں۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8439]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الترمذي: 2944، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21204 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21523»
الحكم على الحديث: صحیح