الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. بابُ: «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ»
سورۃ الانفال کی تفسیر: {یَسْاَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ}
حدیث نمبر: 8606M
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْأَنْفَالِ فَقَالَ فِينَا مَعْشَرَ أَصْحَابِ بَدْرٍ نَزَلَتْ حِينَ اخْتَلَفْنَا فِي النَّفْلِ وَسَاءَتْ فِيهِ أَخْلَاقُنَا فَانْتَزَعَهُ اللَّهُ مِنْ أَيْدِينَا وَجَعَلَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ عَنْ بَوَاءٍ يَقُولُ عَلَى السَّوَاءِ
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبادہ بن صامت سے انفال والی آیت کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: ہم بدر والوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، جب ہم نے مالِ غنیمت میں اختلاف کیا اور اس بارے میں ہم سے بداخلاقی ہونے لگی تو اللہ تعالی نے ہمارے ہاتھوں سے یہ چیز چھین لی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سپرد کر دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کے درمیان برابر برابر تقسیم کر دیا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8606M]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22753 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23133»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8607
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ قُتِلَ أَخِي عُمَيْرٌ وَقَتَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ وَأَخَذْتُ سَيْفَهُ وَكَانَ يُسَمَّى ذَا الْكَتِيفَةِ فَأَتَيْتُ بِهِ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اذْهَبْ فَاطْرَحْهُ فِي الْقَبَضِ قَالَ فَرَجَعْتُ وَبِي مَا لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ مِنْ قَتْلِ أَخِي وَأَخْذِ سَلَبِي قَالَ فَمَا جَاوَزْتُ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى نَزَلَتْ سُورَةُ الْأَنْفَالِ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَخُذْ سَيْفَكَ
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بدر کے دن جب میرا بھائی عمیر قتل ہوا اور میں نے سعید بن عاص کو قتل کیا اور اس کی تلوار پکڑ لی، اس تلوار کا نام ذُوْ الْکَتِیفَۃِ تھا۔ میں وہ تلوار لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اس کو مال غنیمت میں رکھ دو۔ پس میں لوٹا، لیکن میرے بھائی کے قتل کی وجہ سے مجھے صدمہ تھا، وہ صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا تھا اور میرا مخالف سے چھینا ہوا مال بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لے لیا، بس میں تھوڑی دیر ہی آگے چلا تھا کہ سورۂ انفال نازل ہو گئی اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: سعد جائو اپنی تلوار لے لو۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8607]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 370، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1556 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1556»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8607M
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ شَفَانِي اللَّهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَهَبْ لِي هَذَا السَّيْفَ قَالَ إِنَّ هَذَا السَّيْفَ لَيْسَ لَكَ وَلَا لِي ضَعْهُ قَالَ فَوَضَعْتُهُ ثُمَّ رَجَعْتُ قُلْتُ عَسَى أَنْ يُعْطَى هَذَا السَّيْفُ الْيَوْمَ مَنْ لَمْ يُبْلِ بَلَائِي قَالَ إِذَا رَجُلٌ يَدْعُونِي مِنْ وَرَائِي قَالَ قُلْتُ قَدْ أُنْزِلَ فِيَّ شَيْءٌ قَالَ كُنْتَ سَأَلْتَنِي السَّيْفَ وَلَيْسَ هُوَ لِي وَإِنَّهُ قَدْ وُهِبَ لِي فَهُوَ لَكَ قَالَ وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ [سورة الأنفال: ١]
۔ (دوسری سند) سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! مجھے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی جانب سے شفا دے دی ہے، پس آپ یہ تلوار مجھے عطا کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تلوار تمہاری ہے نہ میری،یہ مال غنیمت ہے، لہٰذا اس کو رکھ دو۔ میں نے اس رکھ دیا اور پھر واپس آ گیا، لیکنیہ خیال آ رہا تھا کہ ممکن ہے کہ یہ تلوار ایسے شخص کو دے دی جائے، جو میری طرح کے جوہر نہ دکھا سکے، اتنے میں مجھے میرے پیچھے سے کوئی آدمی بلا رہا تھا، میں نے سوچھا کہ میرے بارے میں کوئی چیز نازل ہوئی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھے تلوار کا سوال کیا تھا، لیکن وہ میری نہیں تھی، اب وہ مجھے بطورِ ہبہ دی جا چکی ہے، لہٰذا اب یہ تیری ہے۔ یہ آیت نازل ہوئی تھی: {یَسْأَلُونَکَ عَنْ الْأَ نْفَالِ قُلْ الْأَ نْفَالُ لِلَّہِ وَالرَّسُولِ} [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8607M]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 2740، والترمذي: 3079، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1538 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1538»
وضاحت: فوائد: … ان آیات و احادیث میں بیان شدہ احکام و مسائل کے لیے ملاحظہ ہو: حدیث نمبر(۵۰۲۴) والا باب۔
الحكم على الحديث: صحیح
2. بَابُ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: «إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ»
{اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8608
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ قَالَ نَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَنَيِّفٌ وَنَظَرَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ فَإِذَا هُمْ أَلْفٌ وَزِيَادَةٌ فَاسْتَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ ثُمَّ مَدَّ يَدَهُ وَعَلَيْهِ رِدَاؤُهُ وَإِزَارُهُ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ أَيْنَ مَا وَعَدْتَنِي اللَّهُمَّ أَنْجِزْ مَا وَعَدْتَنِي اللَّهُمَّ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ فَلَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ أَبَدًا قَالَ فَمَا زَالَ يَسْتَغِيثُ رَبَّهُ وَيَدْعُوهُ حَتَّى سَقَطَ رِدَاؤُهُ فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ فَرَدَّاهُ ثُمَّ الْتَزَمَهُ مِنْ وَرَائِهِ ثُمَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ كَفَاكَ مُنَاشَدَتُكَ رَبَّكَ فَإِنَّهُ سَيُنْجِزُ لَكَ مَا وَعَدَكَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ [سورة الأنفال: ٩] فَلَمَّا كَانَ يَوْمَئِذٍ وَالْتَقَوْا فَهَزَمَ اللَّهُ الْمُشْرِكِينَ فَقُتِلَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ رَجُلًا وَأُسِرَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ رَجُلًا
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بدر کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کی جانب دیکھا، وہ تین سو سے کچھ اوپر تھے، پھرمشرکوں کی طرف دیکھا اور وہ ایک ہزار سے کچھ زیادہ تھے،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبلہ رخ ہوگئے اور ہاتھ اٹھا لئے، آپ نے تہبند باندھا ہوا تھا اور چادر اوڑھی ہوئی تھی، پھر یہ دعا کی: میرے اللہ! جو تو نے مجھ سے مدد کا وعدہ کیا تھا، وہ کہاں ہے، اے میرے اللہ! جو تونے مجھ سے وعدہ کیا ہے، وہ پورا کردے، اے میرے اللہ! اگر اسلام والوں کی یہ جماعت تو نے ہلاک کر دی تو زمین میں کبھی بھی تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔ آپ اپنے رب سے مدد طلب کرتے رہے اور اسے پکارتے رہے، یہاں تک کہ آپ کی چادر گر پڑی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر پکڑ کر اوپر اوڑھائی اورکمر کی جانب سے ساتھ چمٹ گئے اور پھر کہا: اے اللہ کے نبی! اپنے رب سے جو آپ نے التجاء کی ہے، یہ کافی ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ سے جو وعدہ کیا ہوا ہے، وہ اسے پورا کرے گا، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: {إِذْ تَسْتَغِیثُوْنَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ أَ نِّی مُمِدُّکُمْ بِأَلْفٍ مِنْ الْمَلَائِکَۃِ مُرْدِفِینَ۔} … جب تم اپنے رب سے مدد طلب کر رہے تھے، پس اس نے تمہاری دعا قبول فرمائی اور کہا: میں تمہارے لئے پے در پے ایک ہزار فرشتے نازل کرنے والا ہوں۔ پھر جب اس دن جنگ ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو شکست دی، ان میں سے ستر (۷۰) آدمی مارے گئے اور ستر (۷۰) ہی قیدی بن گئے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8608]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه مسلم: 1763، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 208 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 208»
الحكم على الحديث: صحیح
3. بَابُ: «وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَّا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنكُمْ خَاصَّةً»
{وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَاصَّۃً} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8609
عَنْ مُطَرِّفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْنَا لِلزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَا جَاءَ بِكُمْ ضَيَّعْتُمْ الْخَلِيفَةَ حَتَّى قُتِلَ ثُمَّ جِئْتُمْ تَطْلُبُونَ بِدَمِهِ قَالَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّا قَرَأْنَاهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً [سورة الأنفال: ٢٥] لَمْ نَكُنْ نَحْسَبُ أَنَّا أَهْلُهَا حَتَّى وَقَعَتْ مِنَّا حَيْثُ وَقَعَتْ
۔ مطرف کہتے ہیں: ہم نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابو عبداللہ! کون سی چیز تم کو یہاں لائی ہے، تم نے خلیفہ راشد کو ضائع کر دیا ہے، حتیٰ کہ انہیں مظلوم شہید کردیا گیا ہے۔ اور پھر تم ان کے خون کا مطالبہ کرنے بیٹھ گئے ہو؟ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے عہد ِ نبوی، سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان کی خلافتوں میں یہ آیت پڑھی تھی: {وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَا تُصِیبَنَّ الَّذِینَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَاصَّۃً} … اس فتنہ سے ڈرو جو خاص طور پر صرف انہی لوگوں کو ہی نہیں پہنچے گا جو تم میں سے ظالم ہیں۔ یہ خیال تو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ہم اس کی زد میں آ جائیں گے، بہرحال یہ واقع ہوا اور ہم پر واقع ہوا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8609]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد۔ أخرجه البزار: 976، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1414 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1414»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8609M
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَنَحْنُ مُتَوَافِرُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً [سورة الأنفال: ٢٥] فَجَعَلْنَا نَقُولُ مَا هَذِهِ الْفِتْنَةُ وَمَا نَشْعُرُ أَنَّهَا تَقَعُ حَيْثُ وَقَعَتْ
۔ (دوسری سند) حسن بصری کہتے ہیں:سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خاصی تعدادمیں موجود تھے: {وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَا تُصِیبَنَّ الَّذِینَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَاصَّۃً} … اور اس فتنے سے بچ جاؤ جو لازماً ان لوگوں کو خاص طور پر نہیں پہنچے گا جنھوں نے تم میں سے ظلم کیا۔ اس وقت ہم نے کہا: یہ فتنہ کیا ہوتا ہے،پھر ہمیںپتہ بھی نہ چلا، لیکنیہ فتنہ واقع ہو گیا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8609M]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي في الكبري: 11206، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1438 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1438»
وضاحت: فوائد: … برائیوں سے نہ روکنا عذاب الٰہی کا سبب ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈرا رہا ہے کہ اس امتحان،اس محنت اور فتنے کا خوف رکھو جو صرف گنہگاروں اور بدکاروں پر ہی نہیں رہے گا، بلکہ اس بلا کی وبا عام ہوگی۔ اس سے مراد یا تو بندوں کا ایک دوسرے پر تسلط ہے، جو بلاتخصیص، عام و خاص پرظلم کرتے ہیں،یا وہ عام عذاب ہیں جو کثرت ِ بارش یا سیلاب وغیرہ ارضی و سماوی آفات کی صورت میں آتے ہیں اور نیک و بد سب ہی ان سے متاثر ہوتے ہیں،یا بعض احادیث میں نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے ترک کی وجہ سے عذاب کی جو وعید بیان کی گئی وہ مراد ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈرا رہا ہے کہ اس امتحان،اس محنت اور فتنے کا خوف رکھو جو صرف گنہگاروں اور بدکاروں پر ہی نہیں رہے گا، بلکہ اس بلا کی وبا عام ہوگی۔ اس سے مراد یا تو بندوں کا ایک دوسرے پر تسلط ہے، جو بلاتخصیص، عام و خاص پرظلم کرتے ہیں،یا وہ عام عذاب ہیں جو کثرت ِ بارش یا سیلاب وغیرہ ارضی و سماوی آفات کی صورت میں آتے ہیں اور نیک و بد سب ہی ان سے متاثر ہوتے ہیں،یا بعض احادیث میں نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے ترک کی وجہ سے عذاب کی جو وعید بیان کی گئی وہ مراد ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
4. باب: «وَاذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا»
{وَاِذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا …} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8610
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ [سورة الأنفال: ٣٠] قَالَ تَشَاوَرَتْ قُرَيْشٌ لَيْلَةً بِمَكَّةَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا أَصْبَحَ فَأَثْبِتُوهُ بِالْوَثَاقِ يُرِيدُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلِ اقْتُلُوهُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ أَخْرِجُوهُ فَأَطْلَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ عَلَى ذَلِكَ فَبَاتَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى فِرَاشِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى لَحِقَ بِالْغَارِ وَبَاتَ الْمُشْرِكُونَ يَحْرُسُونَ عَلِيًّا يَحْسِبُونَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصْبَحُوا ثَارُوا إِلَيْهِ فَلَمَّا رَأَوْا عَلِيًّا رَدَّ اللَّهُ مَكْرَهُمْ فَقَالُوا أَيْنَ صَاحِبُكَ هَذَا قَالَ لَا أَدْرِي فَاقْتَصُّوا أَثَرَهُ فَلَمَّا بَلَغُوا الْجَبَلَ خَلَطَ عَلَيْهِمْ فَصَعِدُوا فِي الْجَبَلِ فَمَرُّوا بِالْغَارِ فَرَأَوْا عَلَى بَابِهِ نَسْجَ الْعَنْكَبُوتِ فَقَالُوا لَوْ دَخَلَ هَاهُنَا لَمْ يَكُنْ نَسْجُ الْعَنْكَبُوتِ عَلَى بَابِهِ فَمَكَثَ فِيهِ ثَلَاثَ لَيَالٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت {وَاِذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْکَ}کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: قریشیوں نے مکہ میں ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں آپس میں مشورہ کیا، کسی نے کہا: جب صبح ہو تو اس (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیڑیوں سے باندھ دو، کسی نے کہا: نہیں، بلکہ اس کو قتل کردو، کسی نے کہا: بلکہ اس کو نکال دو، اُدھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ان باتوں پر مطلع کر دیا، پس سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بستر پر وہ رات گزاری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے نکل کر غارِ ثور میں پناہ گزیں ہوگئے، مشرکوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر پہرہ دیتے ہوئے رات گزاری، ان کا خیال تھا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پہرہ دے رہے ہیں، جب صبح ہوئی تو وہ ٹوٹ پڑے، لیکن انھوں نے دیکھا کہ یہ تو علی ہیں، اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کا مکر ردّ کر دیا، انھوں نے کہا: علی! تیرا ساتھی کہاں ہے؟ انھوں نے کہا: میں تو نہیں جانتا، پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں کے نشانات کی تلاش میں چل پڑے، جب اُس پہاڑ تک پہنچے تو معاملہ ان پر مشتبہ ہوگیا، پس یہ پہاڑ پر چڑھے اور غارِ ثور کے پاس سے گزرے، لیکن جب انھوں نے اس کے دروازے پر مکڑی کا جالہ دیکھا تو انھوں نے کہا: اگر وہ (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس غار میں داخل ہوا ہوتا تو مکڑی کا یہ جالہ تو نہ ہوتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی غار میں تین دن تک ٹھہرے رہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8610]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعف، عثمان الجزري، قال احمد: روي احاديث مناكير زعموا انه ذھب كتابه۔ أخرجه عبد الرزاق: 9743، والطبراني: 12155، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3251 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3251»
وضاحت: فوائد: … ہجرت ِ مدینہ کی تفصیل کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۶۱۳)
الحكم على الحديث: ضعیف
5. باب: «وَاعِدُوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّة»
{وَاَعِدُّوْا لَہُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّۃٍ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8611
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ [سورة الأنفال: ٦٠] أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، جبکہ آپ منبر پر تھے: {وَاَعِدُّوْا لَھُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّۃٍ} … اور دشمن کے لئے جتنی طاقت ہو تیار رکھو۔ خبر دار! طاقت سے مراد تیر اندازی ہے، خبردار! قوت سے مراد تیر اندازی ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8611]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1918، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17432 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17568»
وضاحت: فوائد: … عصر حاضر میں جدید جنگی صلاحیتوں کی مہارت حاصل کرنا، جدید اسلحہ تیار کرنا اور ہر میدان میں لڑنے والی فوجیں تیار کر کے رکھنا اس حدیث ِ مبارکہ کا اولین تقاضا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
6. بَابُ: «مَا كَانَ لِنَبِيُّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسرى .... الخ»
{مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَکُوْنَ لَہٗ اَسْرٰی … الخ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8612
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَذَكَرَ رَجُلًا عَنِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ فِي الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَمْكَنَكُمْ مِنْهُمْ قَالَ فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ قَالَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثُمَّ عَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمْكَنَكُمْ مِنْهُمْ وَإِنَّمَا هُمْ إِخْوَانُكُمْ بِالْأَمْسِ قَالَ فَقَامَ عُمَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثُمَّ عَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِلنَّاسِ مِثْلَ ذَلِكَ فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ تَرَى أَنْ تَعْفُوَ عَنْهُمْ وَتَقْبَلَ مِنْهُمُ الْفِدَاءَ قَالَ فَذَهَبَ عَنْ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ فِيهِ مِنَ الْغَمِّ قَالَ فَعَفَا عَنْهُمْ وَقَبِلَ مِنْهُمُ الْفِدَاءَ قَالَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ [سورة الأنفال: ٦٨]
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ بدر کے دن قیدیوں کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کیا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان پر قدرت دی ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول!ان کی گردنیں اڑا دیتے ہیں، آپ نے ان کی بات سے اعراض کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ مشورہ طلب کیا اور فرمایا: اے لوگو! بیشک اللہ تعالیٰ نے یہ تمہارے قابو میں دے دئیے ہیں اور یہ کل تمہارے بھائی بننے والے ہیں۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ان کی گردنیں اڑا دیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے کی طرح اعراض کیا اور پھر لوگوں سے وہی بات ارشاد فرما کر مشورہ طلب کیا، اس بار سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا:اے اللہ کے رسول! میرا خیال ہے کہ آپ انہیں معاف کر دیں اور ان سے فدیہ قبول کر لیں۔ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک سے غم چھٹ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فدیہ لے کر ان کو معاف کر دیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کردی: {لَوْلَا کِتٰبٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔} … اگر اللہ کی طرف سے لکھی ہوئی بات نہ ہوتی، جو پہلے طے ہو چکی تو تمھیں اس کی وجہ سے جو تم نے لیا بہت بڑا عذاب پہنچتا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8612]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13555 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13590»
وضاحت: فوائد: … اس آیت سے پہلے والی آیتیہ تھی: {مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٓ اَسْرٰی حَتّٰییُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَاللّٰہُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ۔} … کسی نبی کے لیےیہ زیبا نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک کہ وہ زمین میں دشمنوں کو اچھی طرح کچل نہ دے۔ تم لوگ دنیا کے فائدے چاہتے ہو، حالانکہ اللہ کے پیشِ نظر آخرت ہے، اور اللہ ہر طرح غالب اور حکیم ہے۔ (سورۂ انفال: ۶۷)جنگ بدر میں ستر کافر مارے گئے اور ستر ہی قیدی بنا لیے گئے، غزوۂ بدر چونکہ کفر و اسلام کا پہلا معرکہ تھا، اس لیے قیدیوں کے بارے میں میں کیاطرز عمل اختیار کیا جائے؟ ان کی بابت احکام پوری طرح واضح نہیں تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشورہ کیا تو جواز کی حد تک تو دونوں صورتیں جائز تھیں کہ قیدیوں کو قتل کر دیا جائے یا فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ کفر کی قوت و شوکت توڑنے کے لیے ضروری ہے کہ ان قیدیوں کو قتل کر دیا جائے، کیونکہیہ کفر اور کافروں کے سرغنے ہیں، جبکہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ فدیہلے کر ان کو چھوڑ دیا جائے، مزید وضاحت اگلی حدیث میں آ رہی ہے۔ اس فیصلے کے بعد جو آیات نازل ہوئیں، ان سے پتہ چلتا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے زیادہ بہتر تھی،یعنی بدر کے قیدیوں کو قتل کر دینا چاہیے تھا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8613
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ قَالَ نَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَنَيِّفٌ وَنَظَرَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ فَإِذَا هُمْ أَلْفٌ وَزِيَادَةٌ فَاسْتَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ ثُمَّ مَدَّ يَدَيْهِ وَعَلَيْهِ رِدَاؤُهُ وَإِزَارُهُ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ أَيْنَ مَا وَعَدْتَنِي اللَّهُمَّ أَنْجِزْ مَا وَعَدْتَنِي اللَّهُمَّ إِنَّكَ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ فَلَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ أَبَدًا قَالَ فَمَا زَالَ يَسْتَغِيثُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدْعُوهُ حَتَّى سَقَطَ رِدَاؤُهُ فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ فَرَدَّاهُ ثُمَّ الْتَزَمَهُ مِنْ وَرَائِهِ ثُمَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ كَفَاكَ مُنَاشَدَتُكَ رَبَّكَ فَإِنَّهُ سَيُنْجِزُ لَكَ مَا وَعَدَكَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ [سورة الأنفال: ٩] فَلَمَّا كَانَ يَوْمَئِذٍ وَالْتَقَوْا فَهَزَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمُشْرِكِينَ فَقُتِلَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ رَجُلًا وَأُسِرَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ رَجُلًا فَاسْتَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ وَعَلِيًّا وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَؤُلَاءِ بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِيرَةِ وَالْإِخْوَانُ فَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُمُ الْفِدْيَةَ فَيَكُونُ مَا أَخَذْنَا مِنْهُمْ قُوَّةً لَنَا عَلَى الْكُفَّارِ وَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُمْ فَيَكُونُوا لَنَا عَضُدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا أَرَى مَا رَأَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَكِنِّي أَرَى أَنْ تُمَكِّنَنِي مِنْ فُلَانٍ قَرِيبٍ لِعُمَرَ فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ وَتُمَكِّنَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ عَقِيلٍ فَيَضْرِبَ عُنُقَهُ وَتُمَكِّنَ حَمْزَةَ مِنْ فُلَانٍ أَخِيهِ فَيَضْرِبَ عُنُقَهُ حَتَّى يَعْلَمَ اللَّهُ أَنَّهُ لَيْسَتْ فِي قُلُوبِنَا هَوَادَةٌ لِلْمُشْرِكِينَ هَؤُلَاءِ صَنَادِيدُهُمْ وَأَئِمَّتُهُمْ وَقَادَتُهُمْ فَهَوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَمْ يَهْوَ مَا قُلْتُ فَأَخَذَ مِنْهُمُ الْفِدَاءَ فَلَمَّا أَنْ كَانَ مِنَ الْغَدِ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ غَدَوْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ قَاعِدٌ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَإِذَا هُمَا يَبْكِيَانِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي مَاذَا يُبْكِيكَ أَنْتَ وَصَاحِبَكَ فَإِنْ وَجَدْتُ بُكَاءً بَكَيْتُ وَإِنْ لَمْ أَجِدْ بُكَاءً تَبَاكَيْتُ لِبُكَائِكُمَا قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّذِي عَرَضَ عَلَيَّ أَصْحَابُكَ مِنَ الْفِدَاءِ لَقَدْ عُرِضَ عَلَيَّ عَذَابُكُمْ أَدْنَى مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ لِشَجَرَةٍ قَرِيبَةٍ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ إِلَى قَوْلِهِ لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ [سورة الأنفال: ٦٧-٦٨] مِنَ الْفِدَاءِ ثُمَّ أُحِلَّ لَهُمُ الْغَنَائِمُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ عُوقِبُوا بِمَا صَنَعُوا يَوْمَ بَدْرٍ مِنْ أَخْذِهِمُ الْفِدَاءَ فَقُتِلَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ وَفَرَّ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَّتُهُ وَهُشِمَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِهِ وَسَالَ الدَّمُ عَلَى وَجْهِهِ وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْهَا الْآيَةَ [سورة آل عمران: ١٦٥] بِأَخْذِكُمُ الْفِدَاءَ
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بدر کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کی طرف دیکھا،جبکہ وہ تین سوسے کچھ زائد تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکوں کی طرف دیکھا اور وہ ایک ہزار سے زائد تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے، اپنے دونوں ہاتھوں کو لمبا کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چادر اور ایک ازار زیب ِ تن کیا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا کی: اے اللہ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا، وہ کہاں ہے، اے اللہ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا، اس کو پورا کر دے، اے اللہ! اگر تو نے اہل اسلام کی اس جماعت کو ختم کر دیا تو زمین میں کبھی بھی تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ربّ سے مدد طلب کرتے رہے اور دعا کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر گر گئی، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے، انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر اٹھائی اور اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ڈال کر پیچھے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکڑ لیا اور پھر کہا: اے اللہ کے نبی! آپ نے اپنے ربّ سے جو مطالبہ کر لیا ہے، یہ آپ کو کافی ہے، اس نے آپ سے جو وعدہ کیا ہے، وہ عنقریب اس کو پورا کر دے گا، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {إِذْ تَسْتَغِیثُونَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ أَ نِّی مُمِدُّکُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ مُرْدِفِینَ۔} … اس وقت کو یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے تمہاری سن لی کہ میں تم کو ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا، جو لگاتار چلے آئیں گے۔ (سورۂ انفال: ۹) پھر جب اس دن دونوں لشکروں کی ٹکر ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو اس طرح شکست دی کہ ان کے ستر افراد مارے گئے اور ستر افراد قید کر لیے گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو بکر، سیدنا علی اور سیدنا عمر سے قیدیوں کے بارے میں مشورہ کیا، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ لوگ ہمارے چچوں کے ہی بیٹے ہیں، اپنے رشتہ دار اور بھائی ہیں، میرا خیال تو یہ ہے کہ آپ ان سے فدیہ لے لیں، اس مال سے کافروں کے مقابلے میں ہماری قوت میں اضافہ ہو گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو بعد میں ہدایت دے دے، اس طرح یہ ہمارا سہارا بن جائیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن خطاب! اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ انھو ں نے کہا: اللہ کی قسم! میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے سے اتفاق نہیں کرتا، میرا خیال تو یہ ہے کہ فلاں آدمی، جو میرا رشتہ دار ہے، اس کو میرے حوالے کریں، میں اس کی گردن اڑاؤں گا، عقیل کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کریں، وہ اس کو قتل کریں گے، فلاں شخص کو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کریں، وہ اس کی گردن قلم کریں گے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کو علم ہو جائے کہ ہمارے دلوں میں مشرکوں کے لیے کوئی رحم دلی نہیں ہے، یہ قیدی مشرکوں کے سردار، حکمران اور قائد ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے پسند کی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کو پسند نہیں کیا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فدیہ لے لیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب اگلے دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا تو آپ اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ دونوں بیٹھے ہوئے رو رہے تھے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے اس چیز کے بارے میں بتائیں جو آپ کو اور آپ کے ساتھی کو رُلا رہی ہے؟ اگر مجھے بھی رونا آ گیا تو میں بھی روؤں گا اور اگر مجھے رونا نہ آیا تو تمہارے رونے کی وجہ سے رونے کی صورت بنا لوں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ساتھیوں نے فدیہ لینے کے بارے میں جو رائے دی تھی، اس کی وجہ سے مجھ پر تمہارا عذاب پیش کیا گیا ہے، جو اس درخت سے قریب ہے۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد قریب والا ایک درخت تھا، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں: {مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗٓ اَسْرٰی حَتّٰییُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَاللّٰہُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ وَاللّٰہُ عَزِیْز’‘ حَکِیْم’‘۔ لَوْ لَا کِتٰب’‘ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَاب’‘ عَظِیْم’‘} نبی کے ہاتھ قیدی نہیں چاہییں جب تک کہ زمین میں اچھی خونریزی کی جنگ نہ ہو جائے، تم تو دنیا کے مال چاہتے ہو اور اللہ کا ارادہ آخرت کا ہے اور اللہ زور آور باحکمت ہے، اگر پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس بارے میں تمہیں کوئی بڑی سزا ہوتی۔ (سورۂ انفال:۶۷) پھر ان کے لیے مالِ غنیمت حلال کر دیا گیا، جب اگلے سال غزوۂ احد ہوا تو بدر والے دن فدیہ لینے کی سزا دی گئی اور ستر صحابہ شہید ہو گئے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھاگ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دانت شہید کر دئے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر پر خود کو توڑ دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر خون بہنے لگا، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: {اَوَلَمَّآ اَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَۃ’‘ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْھَا قُلْتُمْ اَنّٰی ھٰذَا قُلْ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِکُمْ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر’‘۔} (کیا بات ہے کہ جب احد کے دن)تمہیں ایک ایسی تکلیف پہنچی کہ تم اس جیسی دو چند پہنچا چکے، تم یہ کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آگئی؟ آپ کہہ دیجئے کہ یہ خود تمہاری طرف سے ہے، بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ (سورۂ آل عمران: ۱۶۵) یعنی فدیہ لینے کی وجہ سے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8613]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1763، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 208 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 208»
وضاحت: فوائد: … غزوۂ بدر میں مسلمانوں کی تعداد (۳۱۳) اور کافروں کی تعداد ایک ہزار کے قریب تھی، پھر مسلمان نہتے اور بے سرو سامان تھے، جبکہ کافروں کے پاس اسلحہ کی بھی فراوانی تھی، ان حالات میں مسلمانوں کا سہارا صرف اللہ تعالی کی ذات تھی، جس سے وہ گڑگڑا کر مدد کی فریادیں کر رہے تھے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الگ ایک خیمے میں نہایت الحاح و زاری سے مصروف دعا تھے، چنانچہ اللہ تعالی نے دعا قبول کی اور ایک ہزار فرشتے ایک دوسرے کے پیچھے مسلسل لگاتار مسلمانوں کی مدد کے لیے آ گئے۔ بدر کے قیدیوں کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جو مشورہ دیا تھا، وہی اللہ تعالی کو پسند تھا، اللہ تعالی کی طرف سے نرم فیصلہ کرنے کی وجہ سے عتاب نازل ہوا۔ آخری آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اگر احد کے دن ستر صحابہ شہید ہو گئے تو تم اس سے پہلے بدر والے معرکے میں ستر کافر قتل کر چکے ہو اور ستر قیدی بند چکے ہے، جبکہ غزوۂ احد کی شکست کی وجہ تم خود ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تاکیدی حکم کے باوجود تم نے پہاڑی موچہ چھوڑ دیا اور کافروں کو اسی درّے سے دوبارہ حملہ کرنے کا موقع مل گیا۔
الحكم على الحديث: صحیح