Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي النِيَّةِ
نیت کے بارے میں باب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8884
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: صرف اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کے لیے وہی کچھ ہے جو اس نے نیت کی، پس جس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی، سو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہو گی اور جس کی ہجرت دنیا کے لیے ہو گی، وہ اس کو پا لے گا اور جس کی ہجرت کسی عورت کے لیے ہو گی، وہ اس سے شاد ی کر لے گا، (غرضیکہ) مہاجر کی ہجرت اسی چیز کے لیے ہو گی، جس (کی نیت سے) وہ ہجرت کرے گا۔ [الفتح الربانی/الإخلاص فى النية والعمل/حدیث: 8884]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1، ومسلم: 1907، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 168 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 168»
وضاحت: فوائد: … یہ اتنہائی اہم اور جامع حدیث ہے اور ہر نیکی کے کرنے اور ہر برائی سے بچنے میں اس حدیث ِ مبارکہ کا دخل ہو گا، نیت کی دو قسمیں ہیں، ایک نیت اعمالِ صالحہ کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے، مثلا ظہر کی چار رکعتیں، عصر کی چار رکعتیں، اِن سے پہلے والی چار چار سنتیں، فرضی روزہ، نفلی روزہ وغیرہ، ہر عمل کو شروع کرتے وقت اس کو دوسرے اعمال سے ممتاز کیا جائے گا۔
نیت کی دوسری قسم عامل کے مقصد کا تعین کرتی ہے کہ وہ عمل اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لیے کیا جا رہا ہے یا اس کی غرض و غایت ریاکاری، نمودو نمائش یا کسی غیر اللہ کا ڈر خوف ہے۔
اس باب میں نیت کی دوسری قسم کو واضح کرنا مطلوب ہے، یہ دعوی کرنا ممکن ہے کہ سب سے مشکل عمل نیت اور ارادے کو اخلاص پر برقرار رکھنا ہے۔ جہاد، سخاوت اور حج جیسے بیش قیمت اعمال نیت کے فتور کی وجہ سے تباہ ہو جاتے ہیں۔
امام سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: مَا عَالَجْتُ شَیْئًا اَشَدَّ عَلَیَّ مِنْ نِیَّتِیْ، لِاَنَّھَا تَتَقَلَّبُ عَلَیَّ۔ … میں نے کسی چیز کا علاج نہیں کیا، جو میرے لیے سب سے زیادہ مشکل ہو، ما سوائے نیت کے، یہ نیت تو مجھ پر الٹ پلٹ ہو جاتی ہے۔
امام عبد اللہ بن مبارک رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: رُبَّ عَمَلٍ صَغِیْرٍ تُعَظِّمُہٗالنِّیَّۃُ وَرُبَّ عَمَلٍ کَبِیْرٍ تُصَغِّرُہُ النِّیَّۃُ۔ … کتنے ہی چھوٹے چھوٹے عمل ہیں کہ نیت ان کو بڑا بنا دیتی ہے اوربہت سارے بڑے بڑے عمل ہیں کہ نیت ان کو چھوٹا بنا دیتی ہے۔
یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا: تَعَلَّمُوْا النِّیَّۃَ فَاِنَّھَا اَبْلَغُ مِنَ الْعَمَلِ۔ … نیت کو بھی سیکھو، کیونکہیہ عمل سے زیادہ اہمیت والی ہے۔
کسی نے نافع بن حبیب سے کہا: کیا آپ فلاں جنازے میں حاضر نہیں ہوں گے؟ انھوں نے کہا: ذرا ٹھیرو، میں نیت کر لو، پھر انھوں نے کچھ دیر سوچا اور کہا: جی چلیے۔ (ان اقوال کے لیے ملاحظہ ہو: جامع العلوم والحکم: ۱/ ۱۳)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8885
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُبْعَثُ النَّاسُ وَرُبَمَا قَالَ شَرِيكٌ يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى نِيَّاتِهِمْ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو (قیامت والے دن) ان کی نیتوں کے مطابق اٹھایا جائے گا۔ [الفتح الربانی/الإخلاص فى النية والعمل/حدیث: 8885]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 4229، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9090 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9079»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کی وضاحت درج ذیل حدیث سے ہو گی: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو عذاب میں مبتلا کرنے کا ارادہ کرتا ہے، تو اس قوم کے سارے افراد اس عذاب میں مبتلا ہو جاتے ہیں، پھر ان کو ان کے اعمال کے مطابق اٹھایا جائے گا۔
(صحیح بخاری: ۷۱۰۸، صحیح مسلم: ۲۸۷۹)
یعنی ایسے عذاب کا لازمی نتیجہیہ نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ سب سے ناراض ہوتا ہے، بلکہ ایسی بستی میں بعض لوگ نیک ہوتے ہیں، بعض زیادہ برے، بعض کم برے، بعض مجبور، بعض رضامند، اس لیے ہر ایک کو قیامت والے دن اس کی عملی صلاحیت اور نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8886
عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ مَعْنَ بْنَ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَبِي وَجَدِّي وَخَطَبَ عَلَيَّ فَأَنْكَحَنِي وَخَاصَمْتُهُ إِلَيْهِ فَكَانَ أَبِي يَزِيدُ خَرَجَ بِدَنَانِيرَ يَتَصَدَّقُ بِهَا فَوَضَعَهَا عِنْدَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ فَأَخَذْتُهَا فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ وَاللَّهِ مَا إِيَّاكَ أَرَدْتُ بِهَا فَخَاصَمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَكَ مَا نَوَيْتَ يَا يَزِيدُ وَلَكَ يَا مَعْنُ مَا أَخَذْتَ
۔ سیدنا معن بن یزید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ اور دادا کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، انھوں نے میرے لیے منگنی کا پیغام بھیجا اور میرا نکاح بھی کر دیا۔ میں ان کے پاس جھگڑا لے کر گیا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ میرے باپ سیدنایزید رضی اللہ عنہ کچھ دیناروں کا صدقہ کرنے کے لیے نکلے اور مسجد میں ایک شخص کو دے کر آ گئے (تاکہ وہ ان کی طرف سے صدقہ کردے)، لیکن ہوا یہ ہے کہ میں نے اس سے وہ دینار لے لیے اور لے کر گھر آ گیا، پس انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے تجھے دینے کا ارادہ تو نہیں کیا تھا، پس میں یہ جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے یزید! تیرے لیے تیری نیت ہے اور اے معن! جو کچھ تو نے لے لیا ہے، وہ تیرے لیے ہے۔ [الفتح الربانی/الإخلاص فى النية والعمل/حدیث: 8886]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1422، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15860 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15954»
وضاحت: فوائد: … سیدنایزید رضی اللہ عنہ نے محتاج پر صدقہ کرنے کی نیت سے ایک آدمی کو وکیل بنا کراپنے دینار اس کے پاس رکھ دیئے اور اس کو مطلق طور پر اجازت دے دی، جب وہی رقم بیٹے نے وصول کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی وصولی کو نافذ کر دیا، کیونکہ وہ فقراء میں داخل تھا۔
مسند احمد کی ایک روایت کے مطابق، معن نے یہ بھی بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے حق میں فیصلہ دیا۔ (بلوغ الامانی، زیر مطالعہ حدیث)
حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا: اس جھگڑے سے مراد معن اور اس کے باپ یزید کے درمیان صدقہ کے حوالے سے ہونے والی بحث ہے۔ جس میں آپ نے معن کے ضرورت مند ہونے کی وجہ سے اس کے صدقہ پکڑنے کو درست قرار دیا۔ (فتح الباری ج۳، ص ۲۹۲) (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8887
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَجُلٌ (وَفِي رِوَايَةٍ كَانَ ابْنُ عَمٍّ لِي) مَا أَعْلَمُ مِنَ النَّاسِ مِنْ إِنْسَانٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِمَّنْ يُصَلِّي إِلَى الْقِبْلَةِ أَبْعَدَ بَيْتًا مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْهُ قَالَ فَكَانَ يَحْضُرُ الصَّلَوَاتِ كُلَّهُنَّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ لَوِ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا تَرْكَبُهُ فِي الرَّمْضَاءِ وَالظَّلْمَاءِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَيَقِيكَ مِنْ هَوَامِّ الْأَرْضِ) قَالَ وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ بَيْتِي يَلْزَقُ بِمَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي رِوَايَةٍ فَقَالَ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ بَيْتِي مُطَنَّبٌ بِبَيْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَمَا سَمِعْتُ كَلِمَةً أَكْرَهَ إِلَيَّ مِنْهَا) قَالَ فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لِكَيْمَا يُكْتَبَ أَثَرِي وَرُجُوعِي إِلَى أَهْلِي وَإِقْبَالِي إِلَيْهِ قَالَ أَنْطَاكَ اللَّهُ ذَلِكَ كُلَّهُ وَفِي لَفْظٍ إِنَّ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ دَرَجَةً وَفِي رِوَايَةٍ فَقَالَ لَكَ مَا نَوَيْتَ أَوْ قَالَ لَكَ أَجْرُ مَا نَوَيْتَ
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرا ایک چچا زاد بھائی تھا، میرا خیال ہے کہ مدینہ منورہ کے تمام مسلمانوں میں اس کا گھر سب سے زیادہ دور تھا، لیکن اس کے باوجود وہ تمام نمازوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حاضر ہوتا تھا، ایک دن میں نے اسے کہا: اگر تم کوئی گدھا خرید لو، تاکہ گرمی اور اندھیرے میں اس پر سوار ہو سکو اور کیڑے مکوڑوں سے بچ سکو، لیکن اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو یہ بھی نہیں چاہتا کہ میرا گھر مسجد ِ نبوی کے ساتھ ملا ہوا ہو، ایک روایت میں ہے: مجھے تو یہ بات بھی خوش نہیں کرتی کہ میرا گھر اللہ کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کے ساتھ ملا ہوا ہو۔ اس کی یہ بات مجھے سب سے زیادہ بری لگی، بہرحال میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ساری بات بتلا دی، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اس کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! (میں چاہتا ہوں کہ جب میں مسجد کی طرف) آؤں اور پھر اپنے اہل کی طرف واپس جاؤں تو میرے قدموں کے یہ سارے نشانات لکھے جائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تجھے یہ سارا کچھ عطا کر دیا ہے۔ ایک روایت میں ہے: بیشک اس شخص کے لیے ہر قدم کے بدلے درجہ ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: تیرے لیے وہی کچھ ہے، جو تونے نیت کی ہے، یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس اجر کی تو نے نیت کی ہے، وہ تیرے لیے ہے۔ [الفتح الربانی/الإخلاص فى النية والعمل/حدیث: 8887]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 663، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21214 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21533»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8888
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ إِذْ ضَحِكَ فِي مَنَامِهِ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِمَّ ضَحِكْتَ قَالَ إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَؤُمُّونَ هَذَا الْبَيْتَ لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَدِ اسْتَعَاذَ بِالْحَرَمِ فَلَمَّا بَلَغُوا الْبَيْدَاءَ خُسِفَ بِهِمْ وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ عَلَى نِيَّاتِهِمْ قُلْتُ وَكَيْفَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نِيَّاتِهِمْ وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى قَالَ جَمَعَهُمُ الطَّرِيقُ مِنْهُمُ الْمُسْتَبْصِرُ وَابْنُ السَّبِيلِ وَالْمَجْبُورُ يَهْلِكُونَ مَهْلَكًا وَاحِدًا وَيَصْدُرُونَ مَصَادِرَ شَتَّى
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو رہے تھے کہ اچانک نیند میں ہی مسکرانے لگے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو میں نے پوچھا: ا ے اللہ کے رسول! آپ کیوں مسکرائے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ اس بیت اللہ (پر چڑھائی کرنے کا) قصد کریں گے، ان کا ہدف وہ قریشی شخص ہو گا، جو حرم میں پناہ لے چکا ہو گا، یہ لوگ جب بیداء مقام تک پہنچیں گے تو اِن سب کو دھنسا دیا جائے گا، لیکن (قیامت والے دن) ان کے نکلنے کی جگہیں الگ الگ ہوں گی، اللہ تعالیٰ ان کا ان کے نیتوں کے مطابق حشر کرے گا۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ ا ِن کو ان کی نیتوں کے مطابق اٹھائے گا اور ان کی نکلنے کے مقامات الگ الگ ہوں گے، یہ کیسے ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بات یہ ہے کہ یہ لوگ ایک راستے پر جمع ہو گئے ہوں گے، وگرنہ ان میں بعض بصیرت والے ہوں گے، بعض مسافر ہوں گے اور بعض مجبور ہوں گے، لیکن سب ایک ہلاکت گاہ میں ہلاک ہو جائیں گے اور مختلف مقامات سے نکلیں گے۔ [الفتح الربانی/الإخلاص فى النية والعمل/حدیث: 8888]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه بنحوه مسلم: 2884، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24739 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25245»
وضاحت: فوائد: … مسافر سے مراد وہ آدمی ہے، جو اس لشکر کا حصہ نہیں ہو گا، بلکہ ویسے وہاں سے گزر رہا ہو گا یا راستہ ایک ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ چل رہا ہو گا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ظالم، باغی اور گمراہ لوگوں کی مجلسوں سے دور رہنا چاہیے، تاکہ ان کے برے اثر سے محفوظ رہا جا سکے، البتہ دین کی تبلیغیا کسی اشد ضرورت کے وقت ان کے پاس جانا جائز ہے، لیکن مقصود پورا ہونے کے بعد واپس چلا جانا چاہیے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8889
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِقَوْمٍ عَذَابًا أَصَابَ مَنْ كَانَ فِيهِمْ ثُمَّ بُعِثُوا عَلَى أَعْمَالِهِمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب نازل کرتے ہیں، تو اس میں جو افراد بھی ہوں، سب اس عذاب میں مبتلا ہو جاتے ہیں، پھر ان کو ان کے اعمال کے مطابق اٹھایا جائے گا۔ [الفتح الربانی/الإخلاص فى النية والعمل/حدیث: 8889]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7108، ومسلم: 2879، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5890 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5890»
وضاحت: فوائد: … دراصل ان احادیث میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے: { وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَاصَّۃً} … اور تم ایسے وبال سے بچو کہ جو خاص کر صرف ان ہی لوگوںپرواقع نہیں ہو گا، جو تم میں سے گناہوں کے مرتکب ہوں گے۔:(سورۂ انفال: ۲۵) ان نصوص کا مفہوم یہ ہے کہ جب فرمانبردار لوگ عذاب کے آنے تک نافرمانوں میں ٹھہرے رہتے ہیں تو پھر وہ آنے والے عذاب سے بچ نہیں سکتے، ہاں اگر وہ اِس عذاب کے آنے سے پہلے نکل جائیں تو وہ بچ جائیں گے، یہ ایسے ہی ہے، جیسے سابقہ انبیاء پر ایمان لانے والے لوگ عذاب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی وحی کی روشنی میں اپنے نبیوں کے ساتھ نکل جاتے تھے۔ واللہ اعلم

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8890
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يُصَابُ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ إِلَّا أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ يَحْفَظُونَهُ فَقَالَ اكْتُبُوا لِعَبْدِي كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ مَا كَانَ يَعْمَلُ مِنْ خَيْرٍ مَا كَانَ فِي وِثَاقِي
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی کسی جسمانی مصیبت میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ (نیکیاں) لکھنے والے فرشتوں سے کہتے ہیں: میرا بندہ جب تک میری (آزمائش کی) قید میں ہے، تم اس وقت تک اس کے شب و روز کے نیکیوں کے معمولات لکھتے رہو۔ [الفتح الربانی/الإخلاص فى النية والعمل/حدیث: 8890]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 230، والدارمي: 2/ 316، والحاكم: 1/ 348، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6482 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6482»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8891
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ رَجُلٍ تَكُونُ لَهُ سَاعَةٌ مِنَ اللَّيْلِ (وَفِي رِوَايَةٍ صَلَاةٌ مِنَ اللَّيْلِ) يَقُومُهَا فَيَنَامُ عَنْهَا إِلَّا كُتِبَ لَهُ أَجْرُ صَلَاتِهِ وَكَانَ نَوْمُهُ عَلَيْهِ صَدَقَةً تُصُدِّقَ بِهَا عَلَيْهِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی رات کو کچھ وقت کے لیے قیام کرتا ہو، جب وہ اس قیام سے سو جائے تو اس کے لیے اس کی نماز کا اجر لکھ دیا جاتا ہے اور اس کی نیند (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) اس پر صدقہ ہوتی ہے، جو صدقہ اس پر کر دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/الإخلاص فى النية والعمل/حدیث: 8891]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 1314، والنسائي: 3/ 257، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24341 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24845»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو درداء سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ أَتٰی فِرَاشَہُ وَہُوَ یَنْوِی أَنْ یَقُومَ فَیُصَلِّیَ مِنْ اللَّیْلِ فَغَلَبَتْہُ عَیْنُہُ حَتّٰییُصْبِحَ کُتِبَ لَہُ مَا نَوٰی وَکَانَ نَوْمُہُ صَدَقَۃً عَلَیْہِ مِنْ رَبِّہِ۔)) … جو آدمی اپنے بستر پر آیا، جبکہ اس کی نیتیہ ہو کہ وہ رات کو اٹھ کر نماز پڑھے گا، لیکن اس کی آنکھ اس پر غالب آگئی،یعنی وہ سویا رہا، یہاں تک کہ صبح ہو گئی، تو اس نے قیام کے بارے میں جو نیت کی تھی، اس کا ثواب اس کے لیے لکھ دیا جائے گا، اور یہ نیند اس کے ربّ کی طرف سے اس پر صدقہ ہو گی۔ (ابن ماجہ: ۲۴۴)
یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے، لیکنیہ اس شخص کے لیے ہے جس کی اتفاقاً آنکھ لگ گئییا کسی شرعی عذر کی وجہ سے اس کا قیام رہ گیا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8892
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ رَبِّ ذَاكَ عَبْدُكَ يُرِيدُ أَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةً وَهُوَ أَبْصَرُ بِهَا فَقَالَ ارْقُبُوهُ فَإِنْ عَمِلَهَا فَاكْتُبُوهَا لَهُ بِمِثْلِهَا وَإِنْ تَرَكَهَا فَاكْتُبُوهَا لَهُ بِحَسَنَةٍ إِنَّمَا تَرَكَهَا مِنْ جَرَّايَ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فرشتے کہتے ہیں: اے میرے ربّ! تیرا فلاں بندہ برائی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جب کہ وہ زیادہ جاننے والا ہوتا ہے، پس وہ کہتا ہے: انتظار کرو، اگر وہ اس برائی کا ارتکاب کر تو تم اس کے لیے ایک برائی لکھ لو اور اگر وہ اس کو ترک کر دے تو اس وجہ سے تم اس کے لیے ایک نیکی لکھ دو، اس نے صرف میری وجہ سے اسے ترک کیا ہے۔ [الفتح الربانی/الإخلاص فى النية والعمل/حدیث: 8892]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم 129، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8219 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8203»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَخْلَاصِ فِي الْعَمَلِ وَمُضَاعَفَةِ الآخر بِسَبِهِ
عمل میں اخلاص اور اس کی وجہ سے اجر کے بڑھ جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8893
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَخْلَصَ قَلْبَهُ لِلْإِيمَانِ وَجَعَلَ قَلْبَهُ سَلِيمًا وَلِسَانَهُ صَادِقًا وَنَفْسَهُ مُطْمَئِنَّةً وَخَلِيقَتَهُ مُسْتَقِيمَةً وَجَعَلَ أُذُنَهُ مُسْتَمِعَةً وَعَيْنَهُ نَاظِرَةً فَأَمَّا الْأُذُنُ فَقِمْعٌ وَالْعَيْنُ مُقِرَّةٌ لِمَا يُوعِي الْقَلْبُ وَقَدْ أَفْلَحَ مَنْ جَعَلَ قَلْبَهُ وَاعِيًا
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی کامیاب ہو گیا، جس نے ایمان کے لیے دل میں اخلاص پیدا کر لیا اور اپنے دل کو صحیح و سالم، زبان کو سچا، نفس کو (اعمال صالحہ پر) ثابت قدم رہنے والا، اپنے طریقے کو راہِ راست والا، اپنے کان کو سننے والا اور اپنی آنکھ کو دیکھنے والا بنا لیا۔ صورتحال یہ ہے کہ کان (دل کی معلومات کا) ذریعہ ہے اور آنکھ دل کے یاد کیے ہوئے امور کو برقرار رکھنے والی ہے، اور تحقیق وہ آدمی کامیاب ہو گیا، جو اپنے دل کو یاد کرنے والا بنا لیتا ہے۔ [الفتح الربانی/الإخلاص فى النية والعمل/حدیث: 8893]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، بقية بن الوليديدلس تدليس التسوية، وخالد بن معدان كان يرسل، ولم يذكروا في الرواة عن ابي ذر، ولم يصرح بسماعه من ابي ذر، أخرجه البيھقي في الشعب: 108، والطبراني في مسند الشاميين: 1141، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21310 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21635»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں