Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَعْرِيفِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ
نیکی اور گناہ کی تعریف کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8985
عَنْ وَابِصَةَ يَعْنِي ابْنَ مَعْبَدٍ الْأَسَدِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ لَا أَدَعَ شَيْئًا مِنَ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ إِلَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ وَحَوْلَهُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَسْتَفْتُونَهُ فَجَعَلْتُ أَتَخَطَّاهُمْ فَقَالُوا إِلَيْكَ يَا وَابِصَةُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ فَقُلْتُ دَعُونِي فَأَدْنُوَ مِنْهُ فَإِنَّهُ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ أَنْ أَدْنُوَ مِنْهُ فَقَالَ دَعُوا وَابِصَةَ ادْنُ يَا وَابِصَةُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى قَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ يَا وَابِصَةُ أُخْبِرُكَ أَوْ تَسْأَلُنِي قُلْتُ لَا بَلْ أَخْبِرْنِي فَقَالَ جِئْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ فَقَالَ نَعَمْ فَجَمَعَ أَنَامِلَهُ فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِهِنَّ فِي صَدْرِي وَيَقُولُ يَا وَابِصَةُ اسْتَفْتِ قَلْبَكَ وَاسْتَفْتِ نَفْسَكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ الْبِرُّ مَا اطْمَأَنَّتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي النَّفْسِ وَتَرَدَّدَ فِي الصَّدْرِ وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ وَأَفْتَوْكَ
۔ سیدنا وابصہ بن معبد الاسدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پا س آیا، میرا ارادہ یہ تھا کہ نیکی اور گناہ کی ہر صورت کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کروں، مسلمانوں کی ایک جماعت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، وہ لوگ مختلف سوال کر رہے تھے، میں ان کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آگے بڑھنے لگا، انھوں نے مجھے کہا: وابصہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور ہٹ جا، لیکن میں نے کہا: مجھے چھوڑ دو، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہونا چاہتا ہوں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے تمام لوگوں میں محبوب ترین ہیں، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وابصہ کو چھوڑ دو، وابصہ! آؤ میرے قریب ہو جاؤ۔ دو تین دفعہ یہ ارشاد فرمایا، پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوا اور آپ کے سامنے جا کر بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وابصہ! میں از خود تمہیں کچھ بتلا دو یا تم سوال کرو گے؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ خود کچھ فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کرنے کے لیے آئے ہو، میں نے کہا: جی ہاں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو اکٹھا کیا اور وہ میرے سینے پر لگانے لگے اور فرمایا: وابصہ! اپنے دل سے پوچھ لیا کرو، اپنے دل سے پوچھ لیا کرو، تین بار فرمایا، نیکی وہ ہے جس پر نفس مطمئن ہو جائے اور گناہ وہ ہے جو نفس میں کھٹکے اور اس کے بارے میں سینے میں تردّد پیدا ہو، اگرچہ لوگ تجھے فتووں پر فتوے دیتے رہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 8985]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف من اجل الزبير ابي عبد السلام، ثم ھو منقطع بينه و بين ايوب، أخرجه الدارمي: 2533، وابويعلي: 1586، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18006 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18169»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8986
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ فَقَالَ جِئْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ فَقُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنْ غَيْرِهِ فَقَالَ الْبِرُّ مَا انْشَرَحَ لَهُ صَدْرُكَ وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ وَإِنْ أَفْتَاكَ عَنْهُ النَّاسُ
۔ (دوسری سند)وہ کہتے ہیں: میں نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھنے آئے ہو؟ میں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، میں اس کے علاوہ کوئی سوال کرنے کے لیے نہیں آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نیکی وہ ہے، جس پر تجھے انشراح صدر ہو جائے اور گناہ وہ ہے، جو تیرے سینے میں کھٹکنے لگ جائے، اگرچہ لوگ تجھے فتوی دیتے رہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 8986]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18162»
وضاحت: فوائد: … جب کسی کام کے بارے میں انشراح صدر نہ ہو، بلکہ شک وشبہ سا پیدا ہو رہا ہو اور اس کے گناہ ہونے کا وہم پڑ رہا ہو تو اس کو ترک کر دینا چاہیے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8987
عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِمَا يَحِلُّ لِي وَيُحَرَّمُ عَلَيَّ قَالَ فَصَعَّدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَصَوَّبَ فِي النَّظَرِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبِرُّ مَا سَكَنَتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ وَاطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ وَالْإِثْمُ مَا لَمْ تَسْكُنْ إِلَيْهِ النَّفْسُ وَلَمْ يَطْمَئِنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ وَإِنْ أَفْتَاكَ الْمُفْتُونَ وَقَالَ لَا تَقْرَبْ لَحْمَ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ وَلَا ذَا نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ
۔ سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ان چیزوں کے بارے میں بتلائیں جو میرے لیے حلال اور مجھ پر حرام ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف نگاہ بلند کی اور پھر پست کی اور فرمایا: نیکی وہ ہے، جس پر نفس کو تسکین ملے اور دل کو اطمینان ہو اور برائی وہ ہے کہ جس پر نہ نفس کو سکون ملے اور نہ دل مطمئن ہو، اگرچہ فتوی دینے والے فتوی دیتے رہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: گھریلوں گدھے کے گوشت اور کچلی والے درندے کے قریب نہ جا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 8987]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 22/ 585، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17742 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17894»
وضاحت: فوائد: … مطلع ہونے والے لوگوں سے مراد معاشرے کے وہ باوقار اور فاضل لوگ ہیں، جن سے شرم محسوس کی جاتی ہے۔
بلا شک و شبہ شریعت ِ اسلامیہ میں نیکی اور گناہ والے امور کا وضاحت کے ساتھ تعین کر دیا گیا ہے۔ ان احادیث ِ مبارکہ میں جو قانون پیش کیا گیا ہے، یہ انتہائی سلیم الفطرت اور خدا شناس لوگوں سے متعلقہ ہے، نہ کہ عوام الناس سے، کیونکہ عام لوگوں کے پاس اتنی معرفت ِ الٰہییا اتنا شعور یا اتنا ذوق ہی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے نفس کی روشنی میں نیکییا برائی کا تعین کر سکیں۔ جیسا کہ علامہ عبیداللہ مبارکپوری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اس حدیث کا تعلق ان لوگوں سے ہے، جن کے باطن آلائشوں سے صاف اور دل گناہوں سے پاک ہوتے ہیں،یہ حدیث عوام الناس سے متعلقہ نہیں ہے، بالخصوص گنہگار لوگ، کیونکہ وہ بیچارے تو بسا اوقات گناہ کو نیکی اور نیکی کو گناہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ (مرعاۃ المفاتیح: ۱/ ۱۱۷) عصر حاضر میں لوگوں کی کیفیت نے مبارکپوری صاحب کے مفہوم کی بہت حد تک تائید کی ہے۔ ہر ایک نے اپنی زندگی کے لیے نیکی و بدی کے خود ساختہ معیار بنا رکھے ہیں، جو عالم ان کی کسوٹی کی مخالفت میں فتوییا دلائل پیش کرے گا، اسے یا تو اتنی اہمیت ہی نہیں دی جائے گی کہ اس کی بات پر توجہ کی جائے یا پھر اسے کہا جائے گا کہ اسلام میں اتنی سختی نہیں ہے۔
ایک مثال یہ ہے کہ ایک آدمی بہت کم بولتا تھا، دوسروں کے بارے میںتبصرہ نہیں کرتا ہے اور بے ضرر سا انسان تھا، لیکن بے نماز تھا، تلاوتِ کلام پاک سے بعید تھا، عورتوں کے پردے والے معاملات کی پابندی نہیں کرتا تھا، ہلکا ہلکا نشہ بھی کرتا تھا اور داڑھی مونڈتا تھا۔ صرف اس کی خاموشی کو دیکھ کر دنیوی سطح کے مطابق پڑھے لکھے لوگوں نے کہا کہ وہ تو کوئی فرشتہ ہے، کیونکہ وہ خاموش رہتا ہے اور کسی دوسرے آدمی کے معاملے میں کوئی دخل نہیں دیتا۔ یہ کسی کو نیکیا بد کہنے کا عوام الناس کا معیار ہے کہ بے نماز کو فرشتہ کہا جا رہا ہے، جائز حد تک خاموشی اچھا وصف ہے، لیکن سارے کا سارا اسلام اسی خصلت میں پنہاں نہیں ہے۔
عوام الناس کے لیے معیار قرآن اور حدیث ہیں، ان کو چاہیے کہ وہ قرآن و حدیث کی روشنی میں نیکیوں اور گناہوں کو سمجھیں اور پھر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے تقاضے پورے کریں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8988
عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ فَقَالَ الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ النَّاسُ عَلَيْهِ
۔ سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو یہ جواب دیا: نیکی تو حسنِ اخلاق ہے اور گناہ وہ ہے، جو تیرے سینے میں کھٹکے اور یہ بات تجھے ناپسند لگے کہ لوگ اس پر مطلع ہو جائیں۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 8988]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الترمذي: 2389، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17633 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17783»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي بِرُ الْوَالِدَيْنِ وَحُقُوقِهَا وَالتَّرْغِيْبِ فِي ذلِكَ
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8989
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُمَدَّ لَهُ فِي عُمْرِهِ وَأَنْ يُزَادَ لَهُ فِي رِزْقِهِ فَلْيَبَرَّ وَالِدَيْهِ وَلْيَصِلْ رَحِمَهُ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کی عمر بڑھا دی جائے اور اس کے رزق میں اضافہ کر دیا جائے تو وہ اپنے والدین سے نیکی کرے اور صلہ رحمی کرے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 8989]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13401 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13434»
وضاحت: فوائد: … عمر بڑھنے سے مراد برکت ہے، مزید دیکھیں حدیث نمبر (۹۰۴۹)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8990
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بچہ اپنے باپ یا ماں کو بدلہ نہیں دے سکتا، الا یہ کہ وہ اس کو غلام پائے اور اسے خرید کر آزاد کر دے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 8990]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1510، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7570 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7560»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کی فقہ یہ ہے کہ اس اعتبار سے غلام بھی میت کی طرح ہوتا ہے کہ اس کو تصرف کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہوتا، اس لیے اس کی آزادی اس کی زندگی کی طرح ہے، پس جس آدمی نے اپنے باپ کو آزاد کیا، تو گویا اس نے اپنے باپ کو زندہ کر دیا، جیسے اس کا باپ اس کی زندگی کا سبب بنا تھا، گویا اس نے باپ کے احسان کا جواب دے دیا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8991
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْصَاهُ بِعَشْرِ كَلِمَاتٍ (مِنْهَا) وَلَا تَعُقَّنَّ وَالِدَيْكَ وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دس کلمات کی وصیت کی، ان میں سے ایک وصیت یہ تھی: اور تو نے ہر گزاپنے والدین کی نافرمانی نہیں کرنی، اگرچہ وہ تجھے حکم دیں کہ تو اپنے اہل اور مال سے دور ہو جائے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 8991]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، عبد الرحمن بن جبير بن نفير لم يدرك معاذا، أخرجه بنحوه ابن ماجه: 3371، 4034، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22075 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22425»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8992
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ جِئْتُ لِأُبَايِعَكَ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عَلَى الْهِجْرَةِ) وَتَرَكْتُ أَبَوَيَّ يَبْكِيَانِ قَالَ فَارْجِعْ إِلَيْهِمَا فَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا وَأَبَى أَنْ يُبَايِعَهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں ہجرت پر آپ کی بیعت کرنے کے لیے آپ کے پاس آیا ہوں، لیکن میں نے اپنے والدین کو اس حال میں چھوڑا ہے کہ وہ رو رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو ان کی طرف لوٹ جا اور جیسے تو نے ان کو رلایا ہے، اسی طرح ان کو ہنسا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بیعت لینے سے انکار کر دیا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 8992]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، عبد الرحمن بن جبير بن نفير لم يدرك معاذا، أخرجه بنحوه ابن ماجه: 3371، 4034، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22075 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6833»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8993
وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ هَذِهِ الشَّجَرَةِ إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ هَذَا الشِّعْبِ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ أَرَدْتُ الْجِهَادَ مَعَكَ أَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ تَعَالَى وَالدَّارَ الْآخِرَةَ قَالَ هَلْ مِنْ أَبَوَيْكَ أَحَدٌ حَيٌّ قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كِلَاهُمَا قَالَ فَارْجِعْ ابْرَرْ أَبَوَيْكَ قَالَ فَوَلَّى رَاجِعًا مِنْ حَيْثُ جَاءَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس درخت کے نیچے دیکھا، اچانک ایک آدمی اس گھاٹی سے آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا اور کہا: میں آپ کے ساتھ مل کر جہاد کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، میرا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور آخرت کے گھر کو حاصل کرنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تیرے والدین میں کوئی ایک زندہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! دونوں زندہ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو لوٹ جا اور اپنے والدین کے ساتھ نیکی کر۔ پس وہ جہاں سے آیا تھا، اُدھر ہی لوٹ گیا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 8993]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2549، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6525 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6525»
وضاحت: فوائد: … جہاد اہم فریضۂ اسلام اور بڑا مشکل عمل ہے، لیکن جہاد کی رغبت رکھنے والے کو چاہیے کہ وہ پہلے امیر کو اپنے گھر والوں کی صورتحال سے آگاہ کرے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8994
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ أَحَيٌّ وَالِدَاكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ
۔ (دوسری سند) ایک آدمی جہاد کی اجازت طلب کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تیرے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر ان کی خدمت کر کے جہاد کر۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 8994]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6544»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کو بعض اہل علم نے صحیح اور بعض نے حسن کہا ہے۔ لیکن اس کی سند میں ابن لہیعۃ راوی ضعیف ہے اور دراج، ابو الہیثم سے بیان کرتا ہے اور یہ سند بھی اہل علم کے ہاں ضعیف ہوتی ہے۔ ہاں بعض میں ابن لہیعہ نہیں ہے۔ بہرحال اگر یہ روایت صحیحیا حسن ہے تو مذکورہ وجہ ضعف کا انجبار ہونا چاہیے ورنہ اسے صحیحیا حسن کہنا ٹھیک نہیں۔(عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں