Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءَ الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الصَّالِحُونَ
اس چیز کا بیان کہ انبیاء سب سے زیادہ آزمائش والے ہوتے اور پھر دوسرے نیکوکار
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9344
عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً قَالَ الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الصَّالِحُونَ ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صَلَابَةٌ زِيدَ فِي بَلَائِهِ وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ خُفِّفَ عَنْهُ وَمَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَمْشِي عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ لَيْسَ عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ
۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے لوگوں کی آزمائش سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انبیائے کرام اور پھر دوسرے نیکوکار، اور پھر وہ جو دوسروں سے افضل اور بہتر ہو، دراصل آدمی کو اس کے دین کے مطابق آزمایا جاتا ہے، پس اگر اس کے دین میں سختی اور پابندی ہو گی تو اس کی آزمائش بھی سخت ہو جائے گی اور اگر اس کے دین میں نرمی اور سستی ہو گی تو اس کی آزمائش میں بھی ہلکا پن آجائے گا اور ایسے بھی ہوتا ہے کہ ایک بندہ آزمائشوں میں مبتلا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ روئے زمین پر چل رہا ہوتا ہے اور اس کے ذمہ کوئی گناہ باقی نہیں رہتا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9344]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الدارمي: 2783، والطيالسي: 215، والبزار: 1155، وابن ابي شيبة: 3/233، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1481 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1481»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے اور راضی رکھنے کا سب سے بڑا ہتھیار صبر ہے، اس باب کی احادیث اور آخر میں بیان کی گئی شرح پر غور کریں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. باب
باب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: Q9345]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9345
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنَةِ فِي جَسَدِهِ وَفِي مَالِهِ وَفِي وَالِدِهِ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ وَمَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤمن مرد و زن کے جسم، مال اور والدین میں آزمائشوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کو ملتا ہے تو اس کا کوئی گناہ باقی نہیں ہوتا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9345]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الدارمي: 2783، والطيالسي: 215، والبزار: 1155، وابن ابي شيبة: 3/233، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1481 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7846»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9346
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الزَّرْعِ لَا تَزَالُ الرِّيحُ تَمِيلُهُ وَلَا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصِيبُهُ الْبَلَاءُ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَشَجَرَةِ الْأَرْزِ لَا تَهْتَزُّ حَتَّى تُحْصَدَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن کی مثال اس کھیتی کی طرح ہے، جس کو ہوا کبھی اِدھر جھکاتی ہے اور کبھی اُدھر، یہ حدیث سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9346]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الدارمي: 2783، والطيالسي: 215، والبزار: 1155، وابن ابي شيبة: 3/233، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1481 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7192»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9347
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ خَامَةِ الزَّرْعِ مِنْ حَيْثُ انْتَهَى الرِّيحُ كَفَتْهَا فَإِذَا سَكَنَتِ اعْتَدَلَتْ وَكَذَلِكَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ يَتَكَفَّأُ بِالْبَلَاءِ وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَمَثَلِ الْأَرْزَةِ صَمَّاءُ مُعْتَدِلَةٌ يَقْصِمُهَا اللَّهُ إِذَا شَاءَ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن کی مثال ابتدائی نرم کھیتی کی مانند ہے، جب اس تک ہوا پہنچتی ہے تو وہ جھک جاتی ہے اور جب ہوا تھم جاتی ہے تو وہ سیدھی ہو جاتی ہے، بالکل اسی طرح مؤمن کی مثال ہے، جو آزمائشوں کی وجہ سے ہچکولے کھاتا رہتا ہے، اور منافق کی مثال صنوبر کے اس درخت کی طرح ہے، جو ٹھوس اور سخت ہونے کی وجہ سے ایک حالت پر برقرار رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو توڑ دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9347]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10785»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ مومن اپنے نفس کو بطور عاریہ لی ہوئی ایک چیز سمجھے، اس کو لذات و شہوات سے دور رکھے، مصائب و حوادث کا محور سمجھے، نیز اسے یہیقین ہونا چاہیے کہ اس کے نفس کو تو آخرت کے لیے پیدا کیاگیا ہے، اس طرح سے آزمائشیں اس کے حق میں بہت آسان ہو جائیں گی۔ رہا مسئلہ منافق کا تو سرے سے اس پر نازل ہونے والے امتحانات ہی کم ہوتے ہیں، تاکہ آخرت میں اس کے عذاب میں کوئی کمی نہ ہونے پائے۔ مومن اور منافق دونوں کے حق میں ہواؤں کی طرح آزمائشوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے، لیکن ان سے متأثر ہونے والا اور عبرت حاصل کرنے والا صرف مؤمن ہوتا ہے، جب بھی اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بلا آپڑتی ہے تو وہ اپنے طرزِ حیات کا جائزہ لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰکی کوئی نافرمانی تو نہیں ہو گئی کہ وہ مجھے سزا دے رہا ہو۔ ہر جسمانی، ذہنی اور مالی آزمائش اس کے لیےیہی پیغام لاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرو اور اس سے دور نہ ہو۔ نیز وہ ہر آزمائش پر صبر کرتا ہے اور اسلامی احکام کے مطابق اس کے تقاضے پورا کرتا ہے، اس طرح اس کے درجات بلند ہوتے ہیں۔
لیکن منافق مضبوط تنے والے درخت کی طرح ان آزمائشوں سے متأثر نہیں ہوتا، وہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کی پروا کرتا ہے نہ اس کے عذابوں کی پروا۔ حتی کہ ایک دن اچانک کوئی بڑی آفت آتی ہے، جو اس کی زندگی کو ختم کر دیتی ہے۔
یک لخت گرا اور جڑیں تک نکل آئیں
وہ پیڑ جسے آندھی میں ہلتے نہیں دیکھا

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9348
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ
۔ سیدنا ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس آدمی کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو آزمائشوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9348]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5645، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7235 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7234»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9349
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَضَعَ رَجُلٌ يَدَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا أُطِيقُ أَنْ أَضَعَ يَدِي عَلَيْكَ مِنْ شِدَّةِ حُمَّاكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّا مَعْشَرَ الْأَنْبِيَاءِ يُضَاعَفُ لَنَا الْبَلَاءُ كَمَا يُضَاعَفُ لَنَا الْأَجْرُ إِنْ كَانَ النَّبِيُّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يُبْتَلَى بِالْقُمَّلِ حَتَّى يَقْتُلَهُ وَإِنْ كَانَ النَّبِيُّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ لَيُبْتَلَى بِالْفَقْرِ حَتَّى يَأْخُذَ الْعَبَاءَةَ فَيَجُوبَهَا وَإِنْ كَانُوا لَيَفْرَحُونَ بِالْبَلَاءِ كَمَا تَفْرَحُونَ بِالرَّخَاءِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنا ہاتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رکھا اور کہا: اللہ کی قسم! آپ کا بخار اس قدر تیز ہے کہ میں آپ پر ہاتھ رکھنے کی طاقت نہیں پاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم انبیاء کی جماعت ہیں، جیسے ہمارے لیے اجر و ثواب کو بڑھا دیا جاتا ہے، اس طرح ہمارے لیے آزمائشوں کو سخت کر دیتا ہے، انبیاء میں ایک ایسا نبی بھی تھا کہ اس کو جوؤں سے اس طرح آزمایا گیا کہ قریب تھا کہ وہ اس کو قتل کر دیں، ایسے نبی بھی تھے کہ جن کو فقر و فاقہ کے ذریعے اس طرح آزمایا گیا کہ وہ چوغہ لے کر اس کو کاٹتے تھے، اور وہ انبیاء آزمائشوں کی وجہ سے اس طرح خوش ہوتے تھے، جیسے تم خوشحالی کی وجہ سے خوش ہوتے ہو۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9349]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن ابي سعيد، أخرجه ابن ماجه: 4024، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11893 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11915»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9350
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ أُوذِيتُ فِي اللَّهِ تَعَالَى وَمَا يُؤْذَى أَحَدٌ وَأُخِفْتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُخَافُ أَحَدٌ وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَيَّ ثَلَاثَةٌ (وَفِي رِوَايَةٍ ثَلَاثُونَ) مِنْ بَيْنِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ وَمَا لِي وَلِعِيَالِي طَعَامٌ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ إِلَّا مَا يُوَارِي إِبْطُ بِلَالٍ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ کی وجہ سے تکلیف دی گئی اور اتنی تکلیف کسی کو نہیں دی گئی اور مجھے اللہ تعالیٰ کے بہ سبب ڈرایا گیا اور اتنا کسی کو نہیں ڈرایا گیا اور مجھ پر ایسے تین دن بھی آئے کہ پورا دن اور رات گزر جاتے تھے، جبکہ میرے اور میرے اہل و عیال کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی تھی، جس کو جاندار کھا سکے، ما سوائے اس کے جو بلال اپنی بغل میں چھپا کر لاتے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9350]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابن ماجه: 151، والترمذي: 2472، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12212 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12236»
وضاحت: فوائد: … خاص طور پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکلیف دینے کے لیے نشانہ بنایا جاتا تھا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو بتوں کی پوجاپاٹ سے منع کرتے اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے، کوئی قتل کی دھمکی دیتا، کوئی سوشل بائیکاٹ کرتا، کوئی کسی سزا کی وعید سناتا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9351
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ عَنْ عَمَّتِهِ فَاطِمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعُودُهُ فِي نِسَاءٍ فَإِذَا سِقَاءٌ مُعَلَّقٌ نَحْوَهُ يَقْطُرُ مَاؤُهُ عَلَيْهِ مِنْ شِدَّةِ مَا يَجِدُ مِنْ حَرِّ الْحُمَّى قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ دَعَوْتَ اللَّهَ فَشَفَاكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءَ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ
۔ ابو عبیدہ اپنی پھوپھی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیمار داری کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیویوں میں تشریف رکھتے تھے، ہم نے دیکھا کہ ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا اور اس کا پانی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ٹپک رہا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بخار کی گرمی کی شدت محسوس ہو رہی تھی، بہرحال ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور وہ آپ کو شفا دے دیتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ آزمائش والے انبیاء ہوتے ہیں، پھر وہ لوگ جو (نیکی اور تقوی میں) ان سے کم ہوتے ہیں، اور پھر وہ لوگ جو اُن سے کم ہوتے ہیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9351]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 24/626، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27079 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27619»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9352
عَنْ صُهَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَجِبْتُ مِنْ أَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَ الْمُؤْمِنِ كُلَّهُ لَهُ خَيْرٌ وَلَيْسَ ذَلِكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ فَشَكَرَ كَانَ ذَلِكَ لَهُ خَيْرًا وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ فَصَبَرَ كَانَ ذَلِكَ لَهُ خَيْرًا
۔ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے مؤمن کے معاملے پر تعجب ہے، بیشک اس کا سارے کا سارا معاملہ خیر پر مشتمل ہے اور یہ چیز صرف اور صرف مؤمن کو حاصل ہے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب اس کو خوشی ملتی ہے اور وہ شکر ادا کرتا ہے تو اس میں بھی اس کی بہتری ہے اور اگر اس کو کوئی تکلیف لاحق ہوتی ہے اور وہ صبر کرتا ہے تو اس میں بھی اس کے لیے بہتری ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9352]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2999، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18934 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19142»
وضاحت: فوائد: … وہ مومن اس حدیث کا مصداق ہے جو اللہ تعال کے احسانات پر اس کا شکر ادا کرتاہے اور اس کی آزمائشوں پر صبر کے تمام تقاضے پورے کرتا ہے۔
اگر اللہ تعالیٰ مومن کے لیے کسی نعمت کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہے اور اس کے حق میں عرش والے کی طرف سے کوئی صبرآزمافیصلہ کیا جاتا ہے تو وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھے اور دونوں حالتوںمیں اللہ تعالیٰ کے فیصلے سے غفلت نہ برتے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں